primekunst.com

Category: دیسی طب

دیسی طب اور جڑی بوٹیاں
زمانہ قدیم سے انسان اپنا علاج کرتا چلا آیا ہے. اور یہ علاج عام طور پر جڑی بوٹیوں سے ہوا کرتا ہے. قدرت نے بے شمار پھل اور جڑی بوٹیاں ہمارے فائدہ کے لیے پیدا کی ہوئی ہیں:
اس دور میں عام طور پر ایلوپیتھک دوائیاں کھانے کا رواج عام ہو گیاہے۔ لیکن انسان اگر دوبارہ قدرت کی طرف واپس لوٹے تو  قدرت کی بنائی ہوئی چیزوں سے ہی صحت مند زندگی حاصل کر سکتاہے۔

  • کریلے کی شفا یابی

    کریلے کی شفا یابی

    کریلے کی شفا یابی

    پروفیسر عنایت اللہ
    ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبداللہ شاہ آیا کر تے تھے۔ عمر میں سو سال سے اوپر تھے ، مگر چست اور توانا۔ روزانہ تین چار میل پیدل چلتے۔ ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی، باریک لفظوں والا قرآن پاک پڑھتے ، کمر جھکی نہیں تھی۔ دانت بالکل سلامت تھے ، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جا تی۔ دوپہر کے کھا نے میں شاہ صاحب صرف کر یلے کھا تے۔ طرح طر ح کے پکو ان کریلوں سے بنائے جا تے۔ با زار میں دستیاب نہ ہوتے تو ان کے لیے تلاش کر کے لائے جا تے۔ کچھ معتقد تو ایسے تھے کہ ہر مو سم میں کریلے اگا تے تاکہ شاہ صاحب کو کھانے میں کو ئی شکایت نہ ہو۔ شاہ صاحب کہا کرتے :” صحت کا راز کریلوں میں ہے۔ آج تک میرے بدن پر گرمی کے مو سم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی، خارش نہیں ہوئی۔ میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے۔ میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کر تا صرف دن میں ایک بار کریلے ضرور کھا تا ہوں۔ مجھے شو گر یا گنٹھیا کا عارضہ بھی نہیں ، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چا ر میل تک گرمی میں چل سکتا ہوں۔ ”
    موسم گرما میں کریلے بازار میں آسانی سے مل جاتے ہیں۔ انسانی جسم کے اندر فاسد مادے جمع ہوتے رہتے ہیں جو بعد میں نقصان کے جسم سے خارج کر دیتا ہے اور انتڑیاں صاف کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی خوبی ہے کہ پیٹ میں درد اور مروڑ نہیں ہونے دیتا۔ کریلوں کی کڑواہٹ دور کر نے کے لیے عموماً ان کی چھیل اور نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے۔ بیج پھینک دیے جا تے ہیں۔ بڑی بوڑھیاں آج بھی کر یلوں کو چھری سے کھر چ کر ان کے چھلکوں میں نمک لگا کر دھو لیتی ہیں۔ اور پھر تیل یا گھی میں تل کر چنے کی دال میں ملا دیتی ہیں۔ بھنی ہو ئی چنے کی دال اور کریلے کے چھلکے بڑے مزے کے بنتے ہیں۔ ان میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے مگر وہ جسم انسانی کے لیے بہت مفید ہے۔ اب تو ڈاکٹر بھی کریلے کا پانی تجویز کر نے لگے ہیں۔ پہلے طبیعت ایک یا دو تازہ کر یلے دھو کر آسمان کے نیچے رات بھر کے لیے رکھوا دیتے تھے اور صبح انہیں ثابت کوٹ کر ان کا پانی نہار منہ پلا تے تھے۔ معدہ خراب رہتا ہو، بھو ک کھل کر نہ لگتی ہو، گیس بہت زیادہ ہو، ہر وقت جسم میں ناتوانی کا احساس رہے یا ذرا سا کام کرنے سے تھکن ہو جائے اور ہا تھ پاؤں گرمی سے جلتے رہیں۔ صبح انھیں تو پنڈلیاں پتھر کی طر ح بھا ری اور بوجھل لگیں ، شوگر کی ابتدا ہو تو کریلے کا پانی پینے سے شفا مل جا تی ہے۔ جن کا مزاج بلغمی ہو، ان کے لیے کریلے بہت مفید ہیں۔ یرقان کے مریضوں کو بھی کھلائے جا تے ہیں۔ پتھری کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔ پیٹ میں کیڑے ہوں تو کریلے کھانے سے دور ہو جا تے ہیں۔ گنٹھیا کا مریض بھی انہیں کھا کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دمے کے عارضے والے بھی اس انتہائی عمدہ سبزی کے استعمال سے صحت یاب ہو جا تے ہیں۔ کریلا بلغم خارج کر کے مریض کو سکون دیتا اور اعصابی کمزوری دور کر تا ہے۔ لقوہ اور فالج کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں۔
    آج کل گرمیوں ، خصوصاً بر سات کے مو سم میں جلد پر دانے اور پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مختلف قسم کے پر کلی ہیٹ پاؤڈر وقتی طور پر سکون دیتے ہیں۔ اسی طر ح لوشن لگانے سے ٹھنڈک تو پڑ جا تی ہے مگر آرام نہیں آتا۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار کریلے پکا کر اس کا علاج گھریلو طور پر کر سکتی ہیں۔ ان کے استعمال سے چہرے کی جلد بھی صاف ہو جاتی ہے۔ کریلے کھا نے سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔ پیٹ میں پانی بھر جائے ، جگر بڑھ جائے تو دوا کے ساتھ ساتھ کریلے کھانے اور ان کا پانی اور کلو کا پانی پینے سے جلد ی فرق پڑتا ہے۔ جن لو گوں کا مزاج بہت گرم ہو ان کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ وہ کریلوں میں دہی ڈال کر اور ہرا دھنیا ملا کر پکائیں۔ کریلے میں وٹامن بی اور سی کے علاوہ فو لاد کیلشیم، فاسفورس اور پروٹین پائے جا تے ہیں۔ یہ ساری چیزیں انسانی صحت اور زندگی کے لیے بڑی اہم ہیں۔ خواتین یہ بات پڑھ کر بہت حیران ہوں گی کہ کریلا موٹاپے کو دور کرتا ہے۔ آپ اس کی سبزی بنا کر ہفتے میں تین بار کھائیں۔ بھا رت کے کچھ علاقوں میں کریلے سکھا کر ان کا سفوف طبیب کی ہدایت کے مطابق روزانہ کھلا یا جا تا ہے۔ اس کے استعمال سے وزن کم ہو تا ہے اور جلد چمکدار اور شفاف ہونے لگتی ہے۔ مختلف قسم کے جلد ی امراض خود بخود دور ہو جا تے ہیں۔ جن لو گوں کو ذیابیطس ہو، ان کے لیے کریلا موسمی اعتبار سے بہترین غذا ہے۔ اس میں انسولین قدرتی طور پر مو جود ہو تی ہے۔ کریلے کھانے سے خون میں شکر کی بڑھتی ہو ئی سطح نا رمل ہو جا تی ہے۔ اس کے رس میں تھوڑا سا شہد ملا کر پینے سے جگر کے امراض میں فائدہ ہو تا ہے۔ کریلے کا رس زیادہ کڑوا لگے تو تھوڑے بھنے ہوئے چنے کھانے سے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جا تا ہے۔ شوگر کے مریض بکرے کا قیمہ بھون کر علیٰحدہ رکھیں اور دو کریلے لے کر ان کا ہلکا سا کھرچ اور دھو کر توے پر برگر کی طر ح ہلکی آنچ پر سینک لیں۔ دونوں طرف سے سینک کر قیمے کے ساتھ کھائیں۔ اس سے فائدہ ہو گا۔ بعض جگہ خالص کریلے پکا نے کا رواج بھی ہے۔ کڑوے بہت ہو تے ہیں مگر صحت کے لیے نہایت مفید خیال کیے جا تے ہیں۔ کریلے پکا نے میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ گھی میں تلنے کے بعد اس میں پانی نہ ڈالیں۔ ذراسا پانی پڑ گیا تو ساری ہنڈیا کڑوی ہو جائے گی۔ سوکھے کریلے کا سفوف دو گرام سے زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔ ویسے بھی اپنے ڈاکٹر یا طبیب سے مشورہ کر نے کے بعد کھائیے۔
    ٭٭٭

  • سرسوں دوا بھی شفا بھی

    سرسوں دوا بھی شفا بھی

    سرسوں دوا بھی شفا بھی

    (شکیل احمد، مانسہرہ)
    عربی : حرف الابیض
    فارسی: شف
    انگریزی: Mustard
    سرسوں کے بیج چھوٹے چھوٹے اور گول تلخ دانے ہوتے ہیں۔ جن کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں مثلاً سرخ، سیاہ، زرد اور سفید۔ اس کا مزاج گرم خشک درجہ سوم ہے۔ ان دانوں کا تیل نکالا جاتا ہے جسے سرسوں کا تیل کہتے ہیں۔ سرسوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
    -1سرسوں ثقیل اور ریاح پیدا کرتی ہے۔ -2پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔ -3سرسوں کے بیج پیشاب آور اور محرک باہ ہیں۔ -4کھجلی اور جسمانی خارش میں سرسوں کے پتے پکا کر کھانا اور سرسوں کا تیل لگانا مفید ہوتا ہے۔ -5اس کا ساگ پکا کر کھاتے ہیں۔ جو پیٹ کے کیڑے نکالتا ہے اور بلغم کو اور ریح کو دور کرتا ہے (جبکہ صرف سرسوں کے بیج ریح پید ا کرتے ہے۔ ) ساگ قبض کشا ہے اور مصفی خون بھی ہے۔ -6سرسوں کو تنہا یا ابٹن میں شامل کر کے جسم پر ملنے سے جلد صاف ہو جاتی ہے۔ -7یہ ورموں کو تحلیل کرتا ہے۔ وزن اور قد جلد بڑھاتا ہے۔ -8سرسوں کے بیج باہ کو طاقت دیتے ہیں۔ ان کو اگر آدھے ابلے ہوئے انڈے کے ساتھ کھایا جائے تو حد درجہ کے مقوی باہ ہیں۔

    سرسوں کے تیل کے فوائد:۔

    ٭ سرسوں کا تیل گھی کی بجائے کھانا پکانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ٭ مختلف مراہم تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ ٭ بال گرنے کی صورت میں نہانے سے پہلے سرسوں کے تیل سے سر کی مالش کرنی چاہئے اور پھر ایک گھنٹہ بعد غسل کرنا چاہئے۔ بعد میں بالوں کو ہاتھوں سے رگڑنا چاہئے۔ بال چند دنوں میں گرنا بند ہو جائیں گے۔ ٭ تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ سرسوں کا تیل جراثیم کش ہے۔ ٭ اس کو بدن پر مل لینے سے پسو کبھی نزدیک نہیں آتے۔ ٭ جہاں پرسرسوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے وہاں پر طاعون کا حملہ نہیں ہوتا۔ ٭ سرسوں کے تیل کی دو بوندیں اگر بطور نسوار ناک میں ڈال دی جائیں تو زکام اور نزلہ کی شکایت دور ہو جائے گی۔ ٭ اگر اس کی چند سلائیاں آنکھوں میں ڈال لی جائیں تو آنکھوں کے امراض کے لئے بے حد مفید ہے۔ ٭ جسم پر سرسوں کا تیل لگا لینے سے مچھروں کا ڈنک جسم پر اثر نہیں کرتا، بلکہ مچھر اور پسو قریب نہیں آتے۔
    ٭٭٭

  • عنبرambergris

    عنبرambergris

    عنبرambergris

    ﻋﻨﺒﺮ ﺟَﻌﻔَﺮ ﮐﮯ ﻭﺯﻥ ﭘﺮ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ھے ‏( ۱ ‏) ۔ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﻥ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﮯﻣﯿﻢ ‏( ﻋﻤﺒﺮ ‏) ﭘﮍﮬﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‏( ۲ ‏) ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﻤﻊ ﻋﻨﺎﺑﺮ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻧﺎﻡ ’’Ambergris ﺍﯾﻤﺒﺮ ﮔﺮﺱ ‘‘ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭﻧﺎﻡ AmbraGrasea: ﮨﮯ۔ اس نام کی دوائی ھومیوپیتھی میں بھی مستعمل ھے، اور اسی عنبر کی پوٹینسی بناکر امبراگریسیا نام دیا جاتا ھے،
    یہ خاکستری رنگ کا ایک خوشبو دار مادہ ھوتا ھے جو عنبر نامی وھیل مچھلی کے پیٹ سے نکل کر سطح آب پر جمع ھو جاتا ھے بعض وقت اس مچھلی کا شکار کرکے اس کے پیٹ سے بھی نکال لیتے ہیں، عمدہ خوشبو ھوتی ھے،

    عنبر مچھلی کا ذکر حدیث کی کتابوں میں بھی ملتا ھے، یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
    ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﯿﺶ ﺍﻟﺨﺒﻂ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﺘﮯ ﺟﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﺎ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺮ ‏( ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ‏) ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ‏( ﺟﺐ ‏) ھم ﺳﺨﺖ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ‏( ﺳﻤﻨﺪﺭ ‏) ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ‏( ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ‏) ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ھم ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﻋﻨﺒﺮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺗﮏ ‏( ﺑﮍﯼ ﻓﺮﺍﺧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ‏) ﮐﮭﺎﯾﺎ ، پھر ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﮉﯼ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺴﻠﯽ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﻧﭧ ﺳﻮﺍﺭ ‏( ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ‏) ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ، یعنی اتنی بڑی مچھلی تھی، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﮨﻢ ‏( ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻭﺍﭘﺲ ‏) ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ، ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ” ﺟﺲ ﺭﺯﻕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﺅ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺯﻕ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﺅ ‏) ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ حصہ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ‏( ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺎ ‏) ﮨﻮ ﺗﻮ ھمیں ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻼﺅ، ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ” ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ پیش کیا ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﯾﺎ ۔ ” ‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭﻣﺴﻠﻢ ‏)

    محققین بتاتے ھیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کو نگلنے والے مچھلی بھی عنبر کی قسم کی تھی،
    عنبر دواؤں اور قیمتی خوشبويات مين استعمال هوتا ھے ۔۔۔ عنبر وہیل مچھلی کا فضلہ ہے لیکن وہیل مچھلی ہر وقت اپنے فضلہ میں عنبر خارج نہیں کرتی۔۔۔۔ بلکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہیل مچھلی جب ایک خاص قسم کی مچھلی کٹل فش کھا لیتی ہے تو اس کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے س کے نتیجے میں وہیل کے پیٹ میں عنبر نامی مادہ بنتا ہے جو خارج ہوتا ہے اور سمندر کی سطح پر بڑے بڑے موم کے ٹکڑوں جیسا تیرتا نظر آتا ہے۔جس کو مل جائے اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ انگریزی کاشہرہ آفاق ناول موبی ڈک بھی اسی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔
    عنبر صرف اور صرف اسپرم وہیل سے حاصل ہوتا ہے جو کہ زمین پر سب سے بڑا جانور ہے۔ یہ مچھلی دوسری بڑی مچھلیوں کا شکار کر کے کھاتی ہے۔ جو سخت اشیا ناقابل ہضم ہوتی ہیں ان کو یہ اگل دیتی ہے لیکن اگر کوئی سخت شے معدے سے گزر کر آنتوں میں پہنچ جائے تو اس کو ہضم کرنے کے لئے اس کے صفرا کی تھیلی سے ایک خاص قسم کا مادہ صفرا کی نالی سے آنتوں میں خارج ہوتا ہے اور یہی عنبر ہوتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ وہیل اس کو قے کی شکل میں خارج کرتی ہے اور یہ سطح سمندر پر بڑے بڑے مومی ٹکڑوں کی صورت میں تیرتا رہتا ہے۔ اس لہز سے اگر دیکھئے تو عنبر مشک سے بھی زیادہ عنقہ اور قیمتی ہو گیا کہ مشک تو اب چین میں مشکی ہرن کی فارمنگ کر کے بھی حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ عنبر صرف اور صرف ایک وہیل ہی اس وقت خارج کرتی ہے جب اس کو بد ہضمی ہو۔ نہ ہی وہیل کی فارمنگ کی جا سکتی ہے۔

    یہ مومی مادہ ہے، جو سرد پانی میں حل نہیں ہوتا اور سمندر میں سطح آب پر تیرتا ہوا ساحل پر آجاتاہے۔یہ تین قسم کا ہوتاہے۔لیکن رنگت کے لحاظ سے بہترین عنبراشہب ہوتاہے۔جوکہ سفید زردی مائل اور بہت خوشبودار ہوتاہے اور اشہب اس سیاہ رنگ کو کہتے ہیں جس کی سفیدی غالب ہو۔
    استعمال :-
    عنبر خوشبو میں بھی ایک اعلیٰ قسم ہے‘ مشک کے بعد اس کی خوشبو کا شمار ہوتا ھے.
    عنبر کی بہت سی قسمیں ہیں اور اس کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں عنبر سفید‘ سیاہی مائل سفید‘ سرخ‘ زرد‘ سبز‘ نیلگوں‘ سیاہ اور دو رنگا‘ ان میں سب سے عمدہ سیاہ مائل بہ سفید ہوتا ہے پھر نیلگوں‘اس کے بعد زرد رنگ کا ہوتا ہے اور سب سے خراب سیاہ ہوتا ہے….

    اس کا مزاج گرم خشک ھے، دل و دماغ‘ حواس‘ اعضائے بدنی کے لئے تقویت بخش ھے فالج اور لقوہ میں مفید ھے بلغمی بیماریوں کے لئے اکسیر ہے ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والے معدہ کے دردوں اور ریاح غلیظ کے لئے بہترین علاج ہے‘ اور اس کے پینے سے سدے کھلتے ہیں‘ اور بیرونی طور پر اس کا ضماد نفع دیتا ہے‘ اس کا بخور زکام سر درد کے لئے نافع ھے اور برودت سے ہونے والے آدھا سیسی کے لئے شافی علاج ہے۔
    سے خوشبو یات(Perfumes) بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے
    عنبر کو زیادہ تر اعصاب دماغ اور قلب کے امراض باردہ میں استعمال کیاجاتاہے۔ چنانچہ فالج لقوہ رعشہ کزاز خدر ضعف دماغ واعصاب ضعف قلب خفقان وغیرہ میں مفرحات میں شامل کرکے کھلایا ہے۔ محرک باہ ہونے کے باعث ضعف باہ مبہی دواؤں میں شامل کرتے ہیں ۔ حرارت غریزی کے ضعف کے وقت اس کو برانگیختہ کرنے کیلئے کھلایا جاتاہے۔ عنبر کا کھانا بوڑھوں کیلئے مفید ہے۔
    ضعف اور زخم معدہ کو زائل کرنے کیلئے بھی استعمال کرایا جاتاہے۔
    خالص عنبر پہچان ۔
    ۱۔
    مُلّانفیس نے بتائی ہے کہ عنبر کو شیشی میں ڈال کر کوئلوں کی آگ پر رکھیں اگر تیل یا موم کی طرح پگھل جائے تو اصلی ہے ورنہ نہیں ۔
    ۲۔
    ذراسا آگ پر ڈالیں تو خوشبودار دھواں دے گا۔
    تحقیق:
    لقمان احمد سلطان

  • میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی کے بے شمار فوائد

    میتھی دنیاپھر میں استعمال ہونے والی ایک بوٹی ہے۔ جسے عام طور  پر لوگ خوشبو کے لے استعمال کرتے ہیں۔ میتھی خوشبو کےساتھ ساتھ صحت کے لے بے شمار فوائد لیے ہوئے ہے۔
    میتھی کاشت کی جاتی ہے۔ میتھی جب تازہ ہو تو زیادہ خوشبو نہہں ہوتی۔ لیکن جب خشک ہو جاتی ہےتو اس کی خوشبو بہت بڑھ جاتی ہے۔احادیث میں بھی میتھی کا ذکر ملتاہے.
    میتھی کا استعمال صرف خوشبو اور ذائقہ کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ بے پناہ طبی فوائد بھی رکھتی ہے۔ میتھی پتوں کی صورت میں ہو یا بیج کی، یہ اپنے اندر متعدد مفید نیوٹرنٹس رکھتی ہے
    حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا. ’’میتھی سے شفا حاصل کرو ‘‘ایک اور حدیث میں حضرت محمد ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
    ’’میری امت اگر میتھی کے فوائد سمجھ لے تو وہ اسے سونے کے ہم پلہ خریدنے سے بھی گریز نہیں کرے گی‘‘۔

    ہندی ‘ اُردو ‘بنگالی ‘گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ، فارسی میں شملیت، پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے۔
    لا طینی زبان میں اس کا نام Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اچار کے مسالے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ یونانی اور آیورویدک دوائوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سالن پیشاب آور ہے۔ میتھی موسم سرما کے امراض ‘ کمر درد ‘تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔
    میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں۔ چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کے لیے اکثر اُبٹنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔
    × میتھی شوگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے. اس مقصد کے لیے آدھا چمچ روزانہ صبح شام استعمال کرین.
    ×میتھی پشاب آور ہے.
    × اگر گلہ درد کررہا ہو اور سوجن بھی ہو تو میتھی کا جوشاندہ پینے سے ٹھیک ہو جاتاہے.
    ×سانس کی تنگی کو ٹھیک کرتی ہے. اور کھانسی کی شدت کو بھی کم کرتی ہے.
    × پیٹ سے ہوا خارج کرتی ہے اور بواسیر کو کم کرتی ہے.
    × میتھی کے پتوں‌کو پستان پر لیپ کرنے سے دودھ بالکل منقطع ہو جاتاہے.
    ×میتھی کھانے سےحیض اور پیشاب کھل کر آتاہے اور مثانہ کو طاقت دیتی ہے.
    ×مثانہ کی سردی میں میتھی سب سے کامیاب دوا اور غذاہے.
    ×جوڑوں کا درد،ذیابطیس کا مرض دور کرتی ہے.
    ×اسے لگاتار کھانے سے سردی سے بخار اور اعصابی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے
    ×اس کے بیجوں کا سفوف ہاضمہ کے تمام امراض کو ختم کر دیتا ہے.
    ×درد کمر اور جگر کے درد کو ختم کرتی ہے اور شفاحاصل ہوتی ہے.
    ×اعصاب کو طاقت دیتی ہے اور جسم سے رعشہ ختم کر دیتی ہے.
    ×میتھی مسلسل کھانے سے سر درد ہو سکتی ہے.
    × میتھی گرم مزاج والوں کے لیے نقصاں دہ ہے. مگر اسے پالک ملا کر پکائے جائے تواس کی اصلاح ہو جاتی ہے.
    ×میتھی کے بیج کے سفوف کی پٹیاں باندھنے سے رسولی پھٹ جاتی ہے اور جذب ہوجاتی ہے.
    ×روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ 329 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ بھوک کو کم کرتا ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ابھی آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔
    ×میتھی کو شہد کے ساتھ ملاکر استعمال کرنے سے اسہال شروع ہوجاتے ہیں۔
    ×میتھی کے طبی خواص میں سب سے بڑا فائدہ ذیابیطس کے علاج میں مضمر ہے۔ اگر میتھی کے بیجوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح کے وقت اس کا عرق استعمال کیا جائے تو ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کا تناسب کم ہوجاتا ہے۔ –

  • ٹماٹر کے فوائد

    ٹماٹر کے فوائد

    لائکوپین زیادہ تر معاملات میں محفوظ ہے۔ لیکن لائکوپین سپلیمنٹس حمل کے دوران محفوظ نہیں ہو سکتے۔ لائکوپین پروسٹیٹ کینسر کی علامات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔لائکوپین کو ان مریضوں کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے جن کے پیٹ کے السر اور معدے کے دیگر مسائل ہوں۔ یہ مرکب کم بلڈ پریشر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات لینے والے افراد کو لائکوپین سے دور رہنا چاہیے۔ لائکوپین خون بہنے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے اور خون بہنے کی خرابی میں مبتلا لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

    ٹماٹر کے حسب ذیل فوائد ہیں:


    ٭ یہ بھوک لگتا ہے اور کھانے کو ہضم کرتا ہے۔
    ٭ قبض کشا ہے۔
    ٭ اگر بچوں کے ہاتھ پائوں ٹیڑھے ہوجائیں تو ٹماٹر کا رس متواتر پلاتے رہنے سے جلد آرام آجاتا ہے۔
    ٭ خون کی کمی‘ یرقان‘ ورم گردہ‘ ذیابیطس اور موٹاپے میں صبح نہار منہ ایک بڑا سرخ ٹماٹر استعمال کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ یعنی ٹماٹر پھل کی شکل میں استعمال کیا جائے۔
    ٭ ٹماٹر خون کو صاف کرتا ہے۔ جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے۔
    ٭ وہم اور وحشت کو ختم کرتا ہے۔
    ٭ قوت باہ کو بڑھاتا ہے۔
    ٭ طبیعت کو فرحت دیتا ہے۔
    ٭ گرمیوں میں اس کا استعمال گرمی اور حرارت کو ختم کردیتا ہے اس لیے اس کا گرمیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
    ٭ گرم سبزیوں کی تاثیر بدلنے کیلئے اس میں ٹماٹر کا اضافہ کیا جاتا ہے جس سے ان کی گرمی زائل ہوجاتی ہے۔
    ٭ مریض اور کمزور افراد کوٹماٹر کا استعمال بے حد مفید ہے۔
    ٭ دانتوں کو مضبوط بنانے اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ٹماٹر کا استعمال بہت ضروری ہے۔
    ٭ ٹماٹر کے جوس میں وہ تمام اجزاءپائے جاتے ہیں جو بچوں کی پرورش کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو روزانہ صبح ایک ٹماٹر دھو کر کھلانا بہت مفید ہوتا ہے۔
    ٹماٹر کا رس بچوں کی پرورش اور دانتوں کی حفاظت کرتا ہے۔
    ان مائوں کیلئے ٹماٹر کھانا بے حد نفع بخش ہوتا ہے جن کے بچے شیرخوار ہوتے ہیں۔ اس سے ماں کا خون صاف ہوجاتا ہے اور نتیجتاً اس کا اچھا اثر بچے کی صحت پر پڑتا ہے۔
    لہٰذا انہیں ہر صبح ٹماٹر ضرور کھانا چاہیے۔
    ٭ حاملہ خواتین کیلئے صبح صبح ایک ٹماٹر کا جوس بہت مفید ہے۔ اس سے ان کا معدہ درست کام کرتا رہتا ہے اور قے اور متلی وغیرہ کی شکایت بھی دور ہوجاتی ہے۔
    ٭ ہمیشہ صحت مند رہنے کیلئے ضروری ہے کہ دوپہر کے کھانے کے ساتھ مولی‘ چقندر‘ سلاد اور ٹماٹر کا استعمال ضرور کیا جائے۔
    ٭ کچا ٹماٹر کھانے کی صورت میں کچھ دیر پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے تاکہ ٹماٹر میں موجود تیزابی مادے معدے میں بغیر پانی پیئے اپنا کام بخوبی سرانجام دے سکیں۔
    مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ ٹماٹر کے چند نقصانات بھی ہیں۔
    ٭ ٹماٹر بادی اور بلغم پیدا کرتا ہے۔
    ٭ تپ دق کے مریضوں کیلئے ٹماٹر مفید نہیں ہے۔
    ٭ سینے اور گلے کے امراض والے مریض کیلئے ٹماٹر فائدہ مند نہیں۔
    ٭ گردہ کی پتھری والے مریض بھی ٹماٹر استعمال نہ کریں۔
    ٹماٹر زکام پیدا کرتا ہے۔
    ٭ پیٹ میں ٹماٹر سے نفخ پیدا ہوتی ہے۔

  • سبز چائے کے بے شمار فوائد

    سبز چائے کے بے شمار فوائد

    آج کل سبز چائے کا استعمال نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں لیکن اس کا زیادہ استعمال نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے- سبز چائے میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہمارے لئے فائدہ مند ہیں اس کے علاوہ اس میں ایسی غذائی اجزاء ہیں جو ہر عمر کے افراد کے لئے فائدہ مند ہیں-
    سبز چائے کا استعمال کرنے والے افراد کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں سبز چائے کا زیادہ استعمال نہ کریں دن میں ایک سے دو کپ چائے پئیں اس سے زیادہ استعمال صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے- سونے سے پہلے کم از کم تین گھنٹے پہلے چائے پی لیں سبز چائے ہمیشہ کسی اچھے برانڈ کی ہی استعمال کریں اب ہم پہلے سبز چائے کے طبعی فوائد کو جاننے کی کوشش کریں گے اور اس کے بعد میں آپ کو اس کے کچھ نقصانات سے بھی آگاہ کروں گا ۔

    سبز چائے کے فوائد

    کینسر کے خلاف لڑتی ہے۔
    کولیسٹرول کو کم کرتی ہے۔
    دل کی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہے۔
    کھوڑ کو لگنے سے روکتی ہے۔
    ذیابیطس کو روکتی ہے۔
    وائرس کے خلاف لڑتی ہے۔
    ایک صحت مند خون کے سسٹم کو برقرار رکھتی ہے۔
    جسمانی کمیکل تبدیلیوں کو صحیح رکھتی ہے۔
    دانتوں کے خول کو مضبوط کرتی ہے۔
    الزائمر کی روک تھام کرتی ہے۔
    منہ کا میل اور بیکٹیریا کم کرتی ہے۔
    جلد صحت مند رکھتی ہے۔
    بدبودار سانس کو روکتی ہے۔
    جسم میں زہر پیدا کرنے والے جراثیم کو ختم کرتی ہے۔
    معدہ تیزابیت وجوہات اور علاج

    سبز چائے کے نقصانات:
    ٭اگر سبز چائے کو خالی پیٹ پیا جائے تو اس سے معدے کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ سینے کی جلن اور تیزابیت بھی ہو جاتی ہے سبز چائے کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بیس منٹ بعد ہی پیا کریں
    ٭سبز چائے کا استعمال حاملہ خواتین ہر گز نہ کریں
    ٭سبز چائے کے زیادہ استعمال سے جسم میں آئرن کی کمی ہو جاتی ہے کیونکہ یہ آئرن کو جسم میں جذب ہونے سے روکے رکھتی ہے
    ٭سبز چائے کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں کیفین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو نیند کے لئے نقصان دہ ہے ٭سبز چائے کا زیادہ استعمال سردرد کا سبب بھی بن سکتا ہے۔