primekunst.com

Category: دیسی طب

دیسی طب اور جڑی بوٹیاں
زمانہ قدیم سے انسان اپنا علاج کرتا چلا آیا ہے. اور یہ علاج عام طور پر جڑی بوٹیوں سے ہوا کرتا ہے. قدرت نے بے شمار پھل اور جڑی بوٹیاں ہمارے فائدہ کے لیے پیدا کی ہوئی ہیں:
اس دور میں عام طور پر ایلوپیتھک دوائیاں کھانے کا رواج عام ہو گیاہے۔ لیکن انسان اگر دوبارہ قدرت کی طرف واپس لوٹے تو  قدرت کی بنائی ہوئی چیزوں سے ہی صحت مند زندگی حاصل کر سکتاہے۔

  • عینک توڑ مچھلی کا سوپ ماخوذ

    وہ انوکھا راز مچھلی کا سر ہے یعنی مچھلی کے سر صاف کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اور حسب معمول ہلکا مرچ مصالحہ ڈال کر
    اس کا سوپ بنالیں یعنی شوربہ۔ ایک پیالی صبح ناشتے کے بعد ہلکا نیم گرم چسکی چسکی پئیں۔ بہت اچھا ذائقہ ہوتا ہے لیکن اگر
    آپ کو ناپسند ہو تو دوا سمجھ کر ضرور پی لیں۔ ہر تین دن کے بعد ایک پیالی پئیں چند دن چند ہفتے چند مہینے۔ ایک صاحب نے
    صرف تین پیالیاں ہی پی تھیں تو ان کی عینک اتر گئی۔ بعض لوگ تھوڑا عرصہ استعمال کرنے کے بعد اس کے سوفیصد رزلٹ
    پاتے ہیں۔ بہرحال جتنا پرانا مرض اتنا کچھ عرصے کا استعمال۔ ای ڈی او ماحولیات کو ساڑھے چار نمبر کی عینک لگی ہوئی تھی
    انہوں نے صرف تین بار استعمال کیا عینک سے ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی۔

    ویسے بھی ہماری طب کی کتابوں میں مچھلی کے سر کا شوربہ فالج‘ لقوہ‘ لنگڑی کا درد‘ یعنی شاٹیکا‘ اعصابی کمزوری‘
    پٹھوں کی کمزوری‘ قبل ازوقت بڑھاپا‘ جوڑوں کا پرانا اور دیرینہ درد‘ جسمانی اور اعصابی کھچائو اور یادداشت کی کمی
    کیلئے نہایت آزمودہ اور ٹانک چیز۔ ایسے لوگ جو اپنی یادداشت بالکل کھوچکے ہوںیا جن کی یادداشت ختم ہونے کے
    قریب ہو‘ جوانی میں یا بڑھاپے میں‘ وہ یہ شوربہ ضرور استعمال کریں۔ بعض طبیعت موسم گرما میں برداشت نہیں کر
    سکتی تو موسم سرما اس کیلئے نہایت بہترین ہے۔ آپ کو ان تمام بیماریوں میں کوئی بیماری نہیں لیکن آپ اگر کچھ عرصہ
    مچھلی کے سر کے سوپ استعمال کرلیں تو ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری آپ کو چھو بھی نہیں سکتی۔ مجھے انڈیا
    کی ریاست کیرالہ کے ایک صاحب نے بیرون ملک ایک بات بتائی کہ وہاں کے لوگ ریاضی‘ سائنس اور دنیا کے مشکل
    سے مشکل ترین علوم میں بہت باکمال ہیں‘ میں نے اس کی وجہ پوچھی کہنے لگے مچھلی اور مچھلی کے سر کا استعمال۔
    مچھلی کا سر عقل کی آخری سرحدوں سے دانائیوں اور دانشمندیوں کو نکال کر انسان کے وجود میں نکھر کر معاشرے میں
    اس کی صلاحیتوںکو بکھیردیتا ہے۔ یہ وجود لاکھوں کروڑوں کی خیروں اور برکتوں کا ذریعہ بنتا ہے۔ آئیے! ہم مچھلی کے سر
    سے فائدہ اٹھائیں اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔ بس اتنا کرلیں کہ بڑوں کیلئے ایک پیالی اور بچوں کیلئے آدھی پیالی ہر دو یا تین
    دن کے بعد چند دن چند ہفتے یا چند مہینے استعمال کریں۔ میرا تو مشورہ یہی ہوگا کہ یہ تجربہ آپ اور لوگوں تک بھی پھیلائیں
    اور اسے عام سے عام کریں‘ سستا بے ضرر اور نہایت کارآمد ٹوٹکا ہے۔

  • 1بواسیر کا علاج

    بواسیر کا علاج

    ہر قسم کی بواسیر میں مفید
    بھنگ کے پتے خشک ایک کلو
    گیرو (لال مٹی) ایک پاوء
    ست پودینہ3 تولہ
    بھنگ کے پتے اور گیرو کو پیس کے مکس کر لیں اور ست پودینہ کو ہاتھ سے مسل کر مکس کر دیں
    ترکیب استعمال: ایک چمچ کھانے والا صبح نہار پیٹ ایک چھٹانک مکھن کے ساتھ.. سات دن تک استعمال کریں .
    . عندالضرورت 1 2 دن زیادہ بھی استعمال کر سکتے ہیں
    پرہیز: نمک ،مرچ ،گڑ ،شکر ،
    سات دن دھی اور دودھ کا استعمال کریں روٹی بھی دودھ کے ساتھ کھائیں انشاءاللہ پرانی سے پرانی بواسیر بھی ختم ہو جائے گی،
    بشکریہ منیر احمد صاحب

  • 1 سنیاسی راز

    سنیاسی راز

    سَن + یا + سی (سنسکرت)
    سنسکرت سے اردو میں ماخوذ اسم کیفیت سنیاس کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت ی بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے سنیاسی بنا۔
    اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے 1639ء کو “طوطی نامہ” میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
    صفت نسبتی (مذکر)
    جنسِ مخالف: سَنْیاسَن {سَن + یا + سَن}
    جمع ندائی: سَنْیاسِیو {سَن + یا + سِیو (و مجہول)
    جمع غیر ندائی: سَنْیاسِیوں {سَن + یا + سِیوں (و مجہول)

    وہ شخص جو دنیا سے الگ تھلگ رہے، تارک الدنیا، جوگی، سادھو،
    مترادفات:
    تِیاگی، جوگی، زاہِد، راہِب۔
    ﮨﻨﺪﻭﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯼ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﻮﮒ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺱ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺳﻨﯿﺎﺳﻨﯽ ﯾﺎ ﺳﻨﯿﺎﺳﻦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

    طب کی اصطلاح میں وہ شخص جو قدرتی جڑی بوٹیوں کے مرکب سے نسخہ جات بنا کر لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے یا مختلف دھاتوں یا معدنیات کو کشتہ کرکے علاج کرتا ہے
    سنیاسی کہلاتا ہے, اور اس طریقہ علاج کو سنیاس کہتے ہیں, سنیاسیوں کی پہچان اکسیری کشتہ جات ھیں اور انکو ظاھری علوم میں کوئی دلچسپی نہیں ھوتی،
    سنیاسیوں کو علم سینہ بہ سینہ بزرگان سے ملتا رھتا ھے۔ علمِ کیمیا میں انکو خاص دسترس حاصل ھوتی ھے۔ سنیاس کے علم کے لیے کسی مذہب یا زبان کی کوئی قید نہیں
    یہ علم برصیغر پاک و ہند میں بہت مقبول ہے جہاں تک سنیاسی نسخہ جات کی افادیت کی بات ہے تو انتہائی ذود اثر اور بہت ہی خطرناک بیماریوں کی شفایابی کا
    باعث بنی ھیں۔ ایک انتہائی کٹھن شعبہ طب جس میں سنیاسی کی زندگی بوٹیوں کی تلاش اور تجربات میں جنگلوں بیانوں اور ویرانوں میں گزرتی ہے,
    انکا پنسار قدرت کا بنا ھوا یہ سارا جہان ھے۔ معاشرتی ناانصافیوں اور حرص و لالچ کی وجہ سے اب یہ عظیم فن ختم ہوتا جا رہا ہے، یہ بھی ایک وجہ کم یابی ہے
    کہ اس عظیم فن کی کوئی عملی درسگاہ نہیں،
    حقیقت یہ ھے کہ سنیاسی لوگ وہ ھوتے ھیں جو دُنیا کی سیاست اور ڈرامے بازیوں سے متنفر ھوکر اپنی زندگی پہاڑوں، بیابانوں اور جنگلوں میں گذارتے ھیں
    جہاں وہ قدرتی چیزوں پر تجربات کرتے ھیں اور اپنے کام میں لاتے ھیں، انکے تجربات میں معمولی سے معمولی حشرات الارض سے لیکر ھر قسم کے جنگلی جانور اور جنگلی جڑی بوٹیاں شامل ھوتی ھیں،
    حتی کہ بعض جانوروں کے فضلے اور انکے اندرونی اعضاء کو بھی کام میں لاتے ھیں، مختلف درندوں کی چربیاں، جنگل کے بادشاہ شیر کی چربی سے لیکر رینگنے والے
    جانور سانڈے کی چربی تک بہت سے جانوروں کے دل، گردوں، پِتوں، آنتوں، خصیوں، ھڈیوں، حتی کہ انکے ناخنوں اور جِلد تک کو کام میں لاتے ھیں،
    مختلف درختوں کی گوندوں اور ان درختوں سے نکلنے والے پانیوں اور دودھ وغیرہ میں مختلف دھاتوں کے کشتہ جات بناتے ھیں، پھر پہاڑوں پر مختلف پتھروں اور ان سے
    نکلنے والی قیمتی چیزوں پر تجربات کرتے ھیں، آپ لوگ حیران ھونگے کہ پہاڑوں سے بھی مختلف پتھروں سے رِسنے والی رطوبات جن میں مختلف معدنیات کی تاثیر شامل ھوتی ھے،
    انکو بھی اپنے کام میں لاتے ھیں، غرضیکہ قدرت نے جو بھی چیزیں زمین پر پیدا کی ھیں ان سب کو کسی نہ کسی طریق سے کام میں لاتے ھوئے اور ان پر تجربات کرتے ھوئے ان کی عمر گذر جاتی ھے،
    سنیاسی لوگ اپنے تجربات کرتے ھوئے دنیا کے کسی قاعدے قانون کو نہیں مانتے اور نہ یہ لوگ دُنیاوی علوم کو مانتے ھیں، نہ انکو مفتیوں کی پرواہ ھوتی ھے کہ جو چیزیں استعمال کرتے ھوئے
    حرام و حلال کا فتوای لگاتے ھیں، اسلیئے یہ لوگ ایسے ماحول میں دنیا والوں سے دور نکل جاتے ھیں جہاں انکو کوئی ڈسٹرب نہ کرسکے، یہ لوگ کسی کو تنگ نہیں کرتے اور نہ ھی چاھتے ھیں کہ کوئی انکو تنگ کرے،

    تحریر : لقمان بن سلطان

  • 1کمردرد اور دائمی زکام

    1کمردرد اور دائمی زکام

    backache
    backache
  • دیسی جڑی بوٹیوں سے علاج

    سیر میں برلبِ سٹرک خودرو بوٹیوں کی طرف اشارہ کرکے اور حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کو مخاطب کرکے حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
    یہ دیسی بوٹیاں بہت کار آمد ہوتی ہیں مگر افسوس کہ لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔
    حضرت مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ بوٹیاں بہت مفید ہیں۔ گندلوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ہندو فقیر لوگ بعض اسی کو جمع کر رکھتے ہیں اور اسی پر گذارا کرتے ہیں۔ یہ بہت مقوی ہے اور اس کے کھانے سے بواسیر نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کنڈیاری کے فائدے بیان کئے جو پاس ہی تھی۔
    حضرت نے فرمایا کہ :۔
    ہمارے ملک کے لوگ اکثر اُن کے فوائد سے بے خبر ہیں اور اس طرح توجہ نہیں کرتے کہ اُن کے ملک میں کیسی عمدہ دوائیں موجود ہیں جو کہ دیسی ہونے کے سبب اُن کے مزاج کے موافق ہیں۔
    (ملفوظات جلد 9 صفحہ 254-255)

  • بلغمی مزاج

    بلغمی مزاج

    پیارے دوستو کیسے مزاج شریف ھیں آپ کے؟
    خدا کرے کہ آپ سب کے مزاج ھمیشہ درست رھیں، کیونکہ مزاج بگڑ جائیں تو طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ھوجاتا ھے، بیماری آ گھیرتی ھے اور پھر مزاج کی اصلاح کیلئے ایسے بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ھے جیسے شدید گرمی میں کوئی اپنے خراب یو پی ایس کیلئے بھاگ دوڑ کرتا ھے، جیسے سفر میں بندے کی جوتی ٹوٹ جائے تو وہ موچی کو ڈھونڈنے کیلئے بھاگ دوڑ کرتا ھے،،،،

    لیکن میرے عزیزو ! یہ ھو ھی نہیں سکتا کہ زندگی کے سفر میں بھاگ دوڑ نہ کرنی پڑے، آپ اپنی زندگی کے سفر میں اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر مقصدِ حیات کے حصول کیلئے خطرات سے پُر پگڈنڈیوں پر اس طرح بھاگتے ھیں جیسے موت کے کنویں میں موٹرسائیکلسٹ بھاگم بھاگ کرتے ھیں،،،،
    آپ کی اس مصروف اور فارغ زندگی میں کبھی کبھی میں آپ کو ریلیکس کرنے کیلئے کبھی کوئی تحریر بھیج دیتا ھوں تاکہ آپ الف انار اور ب بکری کا کچھ نہ کچھ سبق پڑھ لیں اور میرے یہ بنیادی اسباق بعض دفعہ آپکو بڑے اسباق کیطرف لے جاتے ھیں کہ سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا، لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا،،،
    لیکن آپ میں سے ھی بعض مجھ میسج کرتے ھیں کہ کس سبق کی بات کرتے ھو ؟
    ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﺎ ھی ﻧﮩﯿﮟ
    ﺟـﻮ ﭘـﮍﮬـﺎﯾﺎ ﺳـﺒـﻖ ﺯﻣـﺎﻧﮯ ﻧﮯ ،،،،،،،،
    تو میں عرض کرتا ھوں کہ صدقےجاواں میرے مضامین میں تو تمہیں کتابوں کے اسباق کم اور زمانے کے پڑھائے ھوئے اسباق زیادہ ملتے ھیں، اور میری تحریرات پڑھنے والے جانتے ھیں کہ زمانے کے سکھائے ھوئے تجربات میں زمانے کو بتاتا ھوں لیکن کچھ زمانے بعض لوگوں کی طرح بڑے مطلبی ھوتے ھیں جیسے مطلبی ھیں لوگ یہاں پر مطلبی زمانہ، سوچا سایہ ساتھ دے گا نکلا وہ بـےگانہ ،،،،، اپنوں میں مَیں بیگانہ ،،،،،
    اور بعض دفعہ ایسا بھی ھوتا ھے کہ
    میں ڈھونڈنے کو زمانے میں پھر وفا نکلا
    پتہ چلا کہ غلط لے کے میں پتہ نکلا ،،،،

    بات انسانی مزاج کی ھو رھی تھی جو زمانے کے مزاج تک جا پہنچی، لیکن مطمئن رھیئے ھم اپنی بات پوری کریں گے اور اس تحریر میں بھی فقیر آپ کو کچھ نہ کچھ دے کر ھی جائے گا،
    انسانی مزاج کی جب ھم بات کرتے ھیں تو ایک مزاج ھوتا ھے بلغمی مزاج جس میں بعض انسانوں کی بلغم کـثرت سے بنتی ھے اور اس کی وجہ سے وہ مختلف تکالیف کا شکار رھتے ھیں ،
    کبھی بلغمی سر درد ستاتا ھے ، کبھی حلق میں کیرا گرتا رھتا ھے، کبھی ناک اور گلے کی الرجی، لیکن اسے ذرا آسان لفظوں میں سمجھ لیتے ھیں ، شائد کسی کا بھلا ھو جاۓ ، ھماری غذاؤں کا کافی حصہ چکنائيوں سے بھرپور ہوتا ہے ، پراٹھہ شریف ، تری والے سالن ، بریانیاں ، اور دیگر پکوان تیل یا گھی میں نہاتے نظر آتے ھیں ، چکنائیوں کو ھضم کرنا ھر جسم کے بس کا روگ نہیں ، آئيل کو ہضم کرنے کیلۓ جگر کو بہت مشققت کرنا پڑتی ھے ، بائيل اور دیگر ہاضم خامرے اسے ٹھکانے لگانے کی پوری کوشش کرتے ہیں ، لیکن چار خلتیں ضرور پیدا ہوتی ھیں ، خون سودا ، صفراء ، بلغم، جی یہی بلغم اپنے مروجہ راستوں سے سفر کرتا ھوا جب ھماری کنپٹیوں میں پہنچتا ھے تو کئی بار زیادہ گاڑھا ھونے کی وجہ سے آگے سفر کرنے سے قاصر ھو جاتا ہے ، اس کے رکنے سے دماغ میں آنکھوں کے پیچھے اور اوپر ماتھے میں شدید درد اٹھنے لگتا ھے ، بات کرنا ، کھانسنا تک مشکل ھو جاتا ھے ، نازک طبع لوگوں میں قے بھی دیکھنے میں آتی ھے ، لیکن قے کے بعد بلغم کا دباؤ اس لیئے کم ھو جاتا ھے کہ بلغم کی کچھ مقدار اپنی جگہ سے آگے سائينس کی طرف جا کر گلے میں گر جاتی ہے ، اکثر مائيں ، بہنیں سر کپڑے سے کس کر باندھے نظر آتی ہیں ، پیراسیٹامول اور ڈسپرین کی گولیاں کھانے کے باوجود درد ختم ہونے میں نہیں آتا ، در اصل جب تک دماغ میں گاڑھی بلغم موجود رھے گی اس مصیبت سےبچنا محال ھے ایلوپتھک ادویات کے مقابلے میں طب کے ایک سادہ سے نسخے کو آزمائيں ، اور دیکھیں کہ پہلے ھی دن کیسے سکون ملتا ھے ، اس میں ایک بوٹی “اسطخودوس” ھے ، یہ عربی کا لفظ ھے جس کے معنی دماغ کی جھاڑو کے ہیں ، یعنی یہ دوا جھاڑو کی طرح دماغ سے بلغم کی صفائی کرتی ھے ، آپ میں سے کافی لوگ اس عارضہ میں مبتلا ھو سکتے ھیں ، وہ اپنے طور پر روانہ اس سے جان چھڑانے کےکئی ہتھکنڈے آزماتے ھوں گے ، آج کے بعد کسی ایسے ہتھکنڈے کی ضرورت نہ رھے گی ، یہ سادہ سا نسخہ بنا لیں اور پھر اس کا کمال دیکھیں ۔۔
    اسطخودوس میں قدرت نے بہت سی خصوصیات رکھی ھیں ، یہ صرف دماغی بلغم سے ھی نجات نہیں دیتا بلکہ نیند کی کمی ، مائيگرین درد شقیقہ یعنی آدھے سر کا درد ، ذہنی دباؤ ،عضلاتی اینٹھن ، میں سکون کے علاوہ اینٹی بیکٹریل بھی ھے ، آپ لوگ اسے ھمیشہ بنا کر گھر میں رکھیں رات سوتے وقت ایک دو گرام پوڈر پانی سے کھا لیا کریں ، آنے والی صبح طبیعت انتہائی خوشگوار ھو گی ، سردرد بلغمی کا صفحہ بند ملے گا ، جن لوگوں کو ایسے سر درد سے اکثر واسطہ پڑتا ھے وہ چکنائياں زیادہ استعمال کرتے ہیں ، پانی کم پیتے ہیں ، دن بھر بھوکا رھنے سے بھی بلغم گاڑھی ھو کر دماغ میں رک جاتی ھے ، جس سے سردرد کا طوفان کھڑا ھو جاتا ھے ، کبھی کبھی کان بند ھو جاتے ھیں، بعض لوگ ماتھے پر بام مل کر اسے سونگھتے ھیں جس سے بلغم قدرے پھسلتی ھے ، کچھ لوگ ناک میں پانی یا چٹکی بھرنسوار کھینچتے ھیں تا کہ چھینکیں آ کر بلغم کو آگے دھکیلا جاۓ ، ان سب ہتھکنڈوں سے اگر بچنا ھے تو یہ نسخہ بنا لیں ، کل صبح کا سورج بہت خوشگوار موڈ سے طلوع ھو گا ، دوستو ، یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کی زندگی اجیرن بنا دیتی ھیں ۔ گھر میں اگر کوئی سردرد بلغمی کا مریض موجود ھے تو آج ہی یہ دوا بنائيـے ،
    نسخہ حاضر ھے جو لوگ بتاتے نہیں لیکن ھم بتا دیتے ھیں:
    اسطخودوس 100 گرام
    دھنیا خشک 50 گرام
    مرچ سفید 10 گرام
    کوٹ چھان کر سفوف بناکر ایک بند ڈبـے میں محفوظ رکھیں ، بوقت ضرورت ایک یا دو گرام سفوف پانی سے کھا لیا کریں
    رات سونے سے قبل اس کا استعمال زیادہ مناسب ھے،
    آپکی صحتمند زندگی کیلئے دعا گو
    لقمان احمد سلطان

  • طلسمی قہوہ

    طلسمی قہوہ

    طلسمی قہوہ

    دوستوں کی خدمت میں ایک نہایت شاندار قہوہ کا نسخہ پیش کر رھا ھوں، جو ھاضمے اور جسم کو ایکـٹـِیو رکھنے نیز عام زبان میں چُست اور چاک و چوبند رھنے کے لئے بہترین چیز ھے، کھانے کے بعد کولڈ ڈرنکس یا چائے وغیرہ پـینے کی بجائے یہ قہوہ استعمال کریں، علاوہ ازیں امراضِ پـیٹ، اعصابی کمزوری، پٹھوں کی کمزوری، معدے اور آنتوں کی کمزوری، امراضِ سینہ اور دماغ کے لئے لاجواب چیز ھے، اسکے علاوہ آپ جب استعمال کریں گے تو آپکو پتہ چلے گا کہ جسم کے باقی اعضاء کیلئے کیسی اعلی چیز ھے، میرا مشورہ ھے کہ جو لوگ کثرت سے چائے پـیتے ھیں اور چائے پر خرچہ کرتے ھیں وہ چائے چھوڑ کر اس سستے اور طلسمی قہوے کو استعمال کریں، خالی پـیٹ اور خالی منہ بلکہ خالی جیب بھی استعمال کرسکـتے ھیں یعنی اس سے سستا اور فوائد میں قیمتی قہوہ شاید اور کوئی نہ ھو،
    اسے معمولی سمجھ کر ڈیلیٹ کرنے کی ٹوکری میں نہ پھـینکیں ورنہ آپکا اپنا نقصان ھے اور اس اھم نسخے سے ہاتھ دھو بـیٹھـیں گے، بعض دفعہ ایک چیز سے انسان اگر ہاتھ دھو بـیٹھـے تو پھر سینکڑوں دفعہ ہاتھ منہ دھونے کے بعد بھی وہ چیز نہیں ملـتی اسلیئے اسے سنبھال کر رکھیں اور استعمال کریں، میرا ذاتی مجرب نسخہ ھے، اس کے ایک ایک جـُز پر ناچیز نے تحقیق کرکے خود ان اجزاء کو ترتیب دیا ھے،
    میں اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع اس لذیذ قہوہ سے کرتا ھوں، دوست حیران ھوکر کہتے ھیں کہ اتـنا خوشبودار اور مزیدار قہوہ کبھی نوش نہیں فرمایا، جب یہ پک رھا ھوتا ھے تو سارا گھر اسکی خوشبو سے مہک اُٹھـتا ھے،
    میرا خیال ھے اس قہوۂ عظیمہ کی تعریف کافی ھوگـئی لیکن سب سے بڑھ کر تعریف اس خدا کی جس نے ایسی زبردست نعمـتـیں پـیدا کرکے ھم کمزوروں کی راھنمائی فرمائی، اُسی پاک ذات کی صفتِ شافی کا واسطہ دے کر ھمیں اپنی بیماریوں کیلئے دُعا کرنی چاھیئے،
    ھوالشافی
    بادیان خطائی 100 گرام
    دارچینی 50 گرام
    لونگ 20 گرام
    الائچی خورد 20 گرام
    سونٹھ 20 گرام
    پودینہ 20 گرام،
    تمام اجزاء اچھی قسم کے لےکر سب کو باریک کرکے خشک اور صاف ستھرے ڈبـے میں محفوظ رکھیں، اگر ایک کپ قہوہ بنانا ھو تو ڈیڑھ کپ پانی ایک ساس پین میں ڈال کر دو چٹکیاں مقدار سے یہ سفوف ڈال دیں اور آگ پر پکائیں، پکـتے ھوئے حسبِ توفیق و حسبِ ذائقہ چینی، گـڑ ، شکر یا شہد ڈال لیں، ایک کپ رہ جانے پر بغیر چھانے نوش فرمائیں، شوگر کے مریض بغیر چینی کے استعمال کریں،
    دعاؤں میں یاد رکھیں،
    آپکی صحتمند زندگی کیلئے دعا گو
    لقمان احمد سلطان

  • میتھی دانے کے فائدے

    میتھی دانے کے فائدے

    میتھی قدرت کا بہترین تحفہ

    سارہ اسماعیل

    میتھرے یا میتھی دانے ہمارے کچن میں روزمرہ استعمال ہونے والا قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے جو دوائی کے طور پر ہزاروں سال سے استعمال ہو رہا ہے۔ کئی وٹامنز اور منرلز پر مشتمل اس کم قیمت لیکن بے بہا فوائد رکھنے والی چیز کا اصل وطن افریقہ ہے ، لیکن اب یہ ساری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔ قدیم یونان میں گھوڑے جب بیمار ہوتے اور کسی خوراک کو منہ نہ لگاتے تو یہ اس کے پتے کھانے کے بعد تندرست ہونے لگتے تھے۔ اطباء کہتے ہیں کہ اگر اس کی افادیت کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں میتھی دانہ موجود نہ ہو۔

    نزلہ و زکام کے لیے

    نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال از حد مفید ہے۔ صبح و شام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کر کے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

    بالوں کی خوبصورتی کے لیے

    لمبے ، گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ، اس مقصد کے حصول کے لیے (ایلوویرا) کو درمیان سے اس طرح کاٹیں کہ دونوں سرے جڑے رہیں۔ اس گھیکوار میں میتھرے بھر کر دھاگے سے باندھ کر ہفتہ، دس دن فریج میں رکھ دیں ، اس کے بعد میتھرے گھیکوار سے نکال کر کڑوے تیل میں جلالیں۔ یہ تیل انشاء اللہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ آزمودہ اور آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جو بھی تیل آپ بالوں کے لیے استعمال کرتی ہیں ، اس میں میتھرے ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور پندرہ دن بعد وہ تیل استعمال کرنا شروع کریں ، بالوں کو سیٹ کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے میتھرے کا ابلا ہوا پانی لگا کر رول کرنے سے بالوں میں گھنگھریالا پن آ جاتا ہے اور بال سیاہ چمکدار، گھنے اور لمبے ہو جاتے ہیں۔

    کھانے میں اس کا استعمال

    اس کو اچار میں استعمال کریں یا پیس کر آٹے میں شامل کر کے روٹی بنا لیں یا سبزیوں اور دالوں میں ملائیں۔ غرض ہر ڈش میں اس کی خوشبو بہت اچھی لگتی ہے۔ کڑھائی گوشت یا ٹماٹر گوشت میں میتھرے اور ثابت دھنیا ایک ایک چمچ بھون کر پیس کر ڈالیں (جب کہ ہنڈیا تیار ہو چکی ہو) اور ایک نئے لذیذ ذائقہ کا لطف اٹھائیں۔ مصالحہ والی بریانی میں بھی چند دانے پیس کر ڈال کر دیکھیں اور اچار گوشت تو اس کے بغیر بنتا ہی نہیں۔

    سوجن اور بادی کے لیے

    جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاؤں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے یعنی چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھرے ضرور استعمال کریں۔ عورتوں میں سن یاس کے بعد پائے جانے والا ڈپریشن اور پسینے کی زیادتی کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے لیے یا تو اس کا پانی ابال کر پی لیں یا چاول بناتے وقت اس کی پوٹلی ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیں۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض اگر 25 گرام میتھی دانہ اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیں تو اس سے شوگر لیول اور کولیسٹرول اعتدال پر آ جاتا ہے۔
    ٭٭٭

  • پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    راحت نسیم سوہدروی

    کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پودینہ کی چائے ، دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے ، دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے ، بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔
    پودینہ جسے ہمارے ہاں عام طور پر کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پودینہ کی چٹنی کو بطور ہاضم و لذت موسم گرما میں متوسط و غریب گھرانوں میں بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پودینہ قدرت کی عطا کردہ بہت سی خصوصیات سے مالا مال ہے۔

    افعال و خواص

    اطباء نے پودینہ پر بہت تحقیقات کی ہیں اور اس کے درج ذیل غذائی و دوائی فوائد کی نشاندہی کی ہے۔ پودینہ نظام ہضم سے متعلقہ امراض میں مفید ہے۔ غذا کو ہضم کرتا ہے اور ریاح کو خارج کرتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔ پیٹ پھولنا، درد ہونا، کھٹی ڈکاریں آنا، جی متلانا اور قے ہونا میں فائدہ مند ہے۔ پودینہ الرجی( زود حساسیت) میں بہت موثر تدبیر ہے ، پتی اچھلنا(چھپاکی) الرجی کی ایک قسم ہے جس میں جسم میں کسی جگہ یا کئی جگہ خارش ہوتی ہے پھر سرخ دھبے ( دھپڑ) بن جاتے ہیں جو تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس تکلیف میں پودینہ سبز دس پتے ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر روزانہ رات سونے سے قبل، بیس یوم تک استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پودینہ خون سے فاسد مواد کو خارج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یرقان میں بھی استعمال کرایا جاتا ہے۔ جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت و جگر کا فعل سست ہو اور اس سبب بھوک اچھی طرح نہ لگتی ہو ، رنگت زرد رہتی ہو یا ان عوامل کے سبب خون کا دباؤ( بلند فشار خون) بڑھ جاتا ہو۔ ان کے لئے یہ جوشاندہ بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ یہ نسخہ محترم شہید پاکستان حکیم محمد سعید کا معمول مطب بھی تھا۔
    ہوالشافی: ریان (سونف) چھ گرام، پودینہ خشک چھ گرام، مویز منقی نو گرام، آلو بخارا خشک پانچ دانہ، آدھے گلاس پانی میں ڈال کر جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے۔ اگر موسم گرما ہو تو یہ نسخہ رات کو پانی میں بھگو دیں صبح مل چھان کر نوش جاں کریں۔ یہ عمل بیس یوم تک کافی رہے گا۔
    اسہال (دست آنا) اور ہیضہ میں پودینہ کے پتوں کو نمک لگا کر کھانا یا اس کی چٹنی کا استعمال مفید ہے اور اس کا جوشاندہ بھی اچھی تدبیر ثابت ہوا ہے۔ پودینہ سبز 60 گرام یا پودینہ خشک 10 گرام، دارچینی 3 گرام ، الائچی کلاں 3 گرام ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیا جائے۔
    پودینہ میں تریاقی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ خصوصاً بچھو، بھڑ، چوہے وغیرہ کے کاٹنے پر پودینہ پیس کر لیپ کیا جا سکتا ہے۔ جو خواتین ماہانہ ایام کی کمی کے عارضہ میں مبتلا ہوں وہ پودینہ کی چائے استعمال کریں۔ پودینہ بلغم کو پتلا کرتا ہے اور مسکن ہے۔ پودینہ سے طب کے کئی مرکبات تیار کئے جاتے ہیں جن میں جوارش پودینہ، قرص پودینہ، جوارش انارین اور عرق پودینہ شامل ہیں۔ یہ مرکبات اور ادویہ معدہ کی خرابی کے امراض میں بہت موثر ہیں۔

    پودینہ کی چائے

    پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے۔ دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے۔ گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔ بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔ نظام ہضم کی اصلاح کرتی ہے۔ متلی کی صورت میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں۔ پودینہ کی چائے سانس کی نالی کی سوجن، برونکائٹس ، درد سر اور کھانسی زکام میں مفید ہے۔ ایک کپ چائے دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، آنتوں کو صاف کرتی ہے جس سے سانس میں ناگوار بو کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔

    جی متلانا یا قے آنا

    جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت ہو جائے وہ پودینہ دس پتے اور چھوٹی الائچی دو عدد کے ساتھ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیں ، شکایت جاتی رہے گی(انشاء اللہ)روغنی اور دیر ہضم ثقیل اشیاء کے استعمال کے بعد ٹھنڈی بوتلوں کی جگہ پودینہ اور لیموں کی چائے مفید ہے۔

    بد ہضمی

    بد ہضمی، اپھارہ، ریاحوں کی صورت میں پودینہ کا رس پانی میں ملا کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔

    پتھری گردہ و مثانہ

    بتھوے کی سبزی میں پودینہ ڈال کر کھانے سے پتھری کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا ایک ماہ تک کریں یا فائدہ ہونے تک۔

    پودینہ کا شربت

    پودینہ کی بڑی گڈی دھو لیں۔ اس کے بعد ایک کپ شکر اور پانچ عدد لیموں کا رس نچوڑ لیں اور اس آمیزے کو دو گھنٹہ تک اسی طرح رکھا رہنے دیں پھر جگ میں بھر لیں اور برف ڈال کر اس میں ادرک کا سرکہ20گرام اور پودینہ کی چند پتیاں ڈال کر پیس لیں یہ نہایت خوش ذائقہ شربت ہو گا جو دل و دماغ کے لئے مفید ہے۔

    گیس ریاح

    بو علی سینا نے پودینہ کا کھانا اور چبانا ریاح و گیس کے لئے مفید قرار دیا ہے۔

    ایک حکایت

    پودینہ کے متعلق درج ذیل حکایت سے اس کی تاریخی حیثیت واضح ہوتی ہے نیز یہ کہ قدیم حکماء بھی اس سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ قدیم یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ نتھا ایک یونانی دوشیزہ کا نام تھا جس کا حسن و جمال قابل رشک تھا وہ یونانی دولت کے دیوتا (پلوٹو) کی محبوبہ تھی اور اسے پلوٹو کی اہلیہ پروسہ پائن ( ہندو عقائد کے مطابق دولت کی دیوی) نے حسد اور رشک کی بناء پر ایک نبات میں بدل دیا تھا اور اسی نبات کو لاطینی میں نتھا جبکہ اردو میں پودینہ کہتے ہیں۔ یونانی اطباء میں سے حکیم ساؤ فرطس نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اہل چین و جاپان بھی دو ہزار سال سے پودینہ کے خواص سے واقف ہیں۔ ماہرین طب نے جو تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق یہ ایک اہم نبات ہے جو دوائی کے اعتبار سے استعمال ہوتی ہے اور بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں کثیر مقدار میں غذائی استعمال ہے اور اس کا سالن و سلاد خوشبو دار اور ہاضم چٹنی کے طور پر موسم گرما کی دوپہروں میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔

    محافظ حسن

    پودینہ حسن کا محافظ بھی ہے۔ چہرے کے داغ دھبے ، کیل مہاسوں سے نجات کے لئے تازہ پودینہ خالص سلاد کے ساتھ پیس کر متاثرہ مقامات پر لیپ کیا جاتا ہے۔ چند دنوں میں داغ دھبے ، کیل مہاسے صاف ہو کر جلد کا رنگ نکھار دیتے ہیں۔ اتنی خصوصیات کا حامل عطیہ خداوندی پودینہ دعوت دیتا ہے کہ اس کے غذائی اور دوائی فوائد حاصل کریں۔
    ٭٭٭

  • 1لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    1لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    علی، لاہور
    عربی لیبک /لیبو
    فارسی لیبک /لیبو
    سندھی لیمو
    انگریزی Lemon

    اس کا رنگ زرد اور کچے لیموں کا رنگ سبز ہو تا ہے۔ اس کا ذائقہ تر ش ہو تا ہے۔ اس میں سٹرک ایسڈ پا یا جا تا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے اعلیٰ قسم کاغذی لیموں کی ہے جس کا چھلکا کاغذ کی طر ح پتلا ہو تا ہے۔ اس کا مزاج سرد دوسرے درجے اور تر پہلے درجے ہو تا ہے۔ اس کی مقدار خوراک چھ ما شہ لیموں کا رس ہے جبکہ روغن لیموں کی مقدار ایک سے تین قطرے تک ہے۔ لیموں کے بے شمار فوائد ہیں

    لیموں کے فوائد

    (1) وٹامن بی اور سی اور نمکیات کی بہترین ما خذ ہے اس میں وٹامن اے معمولی مقدار میں پا یا جاتا ہے –
    (2 ) اس کا گودا اور رس دونوں مفید ہو تے ہیں –
    (3) یہ مفر ح اور سردی پہنچا تا ہے –
    (4 )دافع صفرا ہوتا ہے –
    (5 ) بھوک لگا تا ہے اور پیاس کو تسکین دیتا ہے –
    (6 ) متلی اور صفرا وی قے کو بے حد مفید ہے –
    (7) تا زہ لیموں کی سکنجبین بنا کر بخار میں پلا نے سے افاقہ ہوتا ہے –
    (8) ملیریا بخار کی صورت لیموں کو نمک اور مر چ سیاہ لگا کر چو سنا بخار کی شدت کو کم کر تا ہے –
    (9 )ہیضہ میں لیموں کا رس ایک تولہ، کا فو ر ایک رتی، پیا ز کار س ایک تولہ ملا کر دن میں تین یا چار دفعہ استعمال کرنے سے صحت ہو تی ہے (یہ ایک خوراک ہے )
    (10) خون کے جو ش کو ٹھیک کر تا ہے۔
    (11) معدہ اور جگر کو قوت دیتا ہے اور خاص طور پر جگر کے گرم مواد کا جاذب ہے –
    (12) لیموں کو کاٹ کر اگر چہرے پر ملا جائے تو چھائیاں اور کیل مہا سے ٹھیک ہو جا تے ہیں –
    (13)یر قان میں لیموں کے رس کا استعمال بے حد مفید ہے سکنجبین بنا کر دن میں تین بار استعمال کریں –
    (14)لیموں کے بیج اگر بریاں کر کے کھائے جائیں تو قے اوردستوں کو فور ی بند کرتے ہیں۔ لیکن بیجوں کو ہمیشہ چھیل کر استعمال کرنا چاہیے۔ بچوں کی قے اور دستوں میں بھی بے حد مفید ہے۔ اس کی خورا ک دو سے تین دانوں کا سفوف ہے –
    (15 ) کیڑے مکوڑوں کے زہر کے اثر کو لیموں کا رس پلا نے اور کا ٹی گئی جگہ پر لگا نا بے حد مفید ہوتا ہے اس سے زہر کا اثر دور ہو جا تا ہے –
    (16 ) لیموں کا سونگھنا نزلہ کو بند کر تا ہے –
    (17 ) اگر لیموں کے رس کو چاکسومیں حل کر کے جست کے بر تن میں رگڑ کر آنکھوں میں لگا یا جائے تو آشوب چشم کے لیے بے حد مفید ہے۔
    (18 )بینائی کی کمزوری، آنکھوں کی سرخی اور دھند وغیرہ کو دور کرنے کے لیے آب لیموں آدھ پا ؤ کانسی کے بر تن میں بانس کی لکڑی سے روزانہ چار گھنٹے تک رگڑتے رہیں۔ آٹھویں دن سرمہ کی مانند خشک ہو جائے گا۔ اگر تھوڑی بہت نمی رہ جائے گی تو پھر کم دھو پ میں خشک کر کے بطور سرمہ استعمال کر یں۔ بہت مفید ہے۔
    (19 ) تا زہ لیموں کے چھلکوں سے روغن لیموں تیار کیا جا تا ہے۔ جو کہ پیٹ کی گیس میں بے حد مفید ہے –
    (20 ) بیرونی ممالک میں لیموں کے چھلکوں سے مربہ بنا تے ہیں۔ جس کو ماملیڈ کہتے ہیں۔ جو بچوں کی پسندیدہ چیز ہے۔
    (21 ) لیموں کا اچار بڑھی ہوئی تلی کے لیے مفید ہوتا ہے –
    (22 ) چا و لوں کو ابا لتے وقت اگر ایک چمچہ لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیا جائے توچا ول خوش رنگ اور خوشبو دار بنتے ہیں –
    (23) روسٹ اشیا ء پر اگر لیموں نچوڑ کر کھا یا جائے تو کھا نے کا ذائقہ اچھا ہو جا تا ہے اور کھانا بھی جلدی ہضم ہو جاتا ہے –
    (24) مچھلی کی بو دور کرنے کے لیے اس پر لیموں مل کر رکھنا چاہیے اس سے مچھلی خوش ذائقہ بھی پکتی ہے –
    (25 ) لیموں کے چھلکوں سے دانت صاف کرنے سے کبھی دانت درد کی شکا یت نہیں ہو تی-
    (26 ) اگر نکسیر کثرت سے ہو تی ہو تو جس وقت نکسیر ہو رہی تو فوراً لیموں کے چند قطرے دونوں نتھنوں میں لٹا کر ڈالنے سے فوراً بند ہو جا تی ہے اور پھر دو با رہ کبھی نکسیر نہیں ہو تی-
    (27 ) وزن کم کرنے کے لیے لیموں کا رس دو چمچے ، شہد دو چمچے ایک گلا س پانی میں ملا کر صبح نہار منہ پینا بہت مفید ہے۔ دو ہفتے کے مسلسل استعمال سے وزن میں خاصی تبدیلی آ جا تی ہے۔ اگر سر دی کا موسم ہو تو نیم گرم پانی میں شہد اور لیموں حل کر کے پئیں –
    (28 ) سر دھو نے کے بعد اگر لیموں کا رس ملا کر پانی دوبارہ با لوں میں لگا یا جائے اور تولیے سے خشک کر لیا جائے تو بالوں میں چمک آ جا تی ہے –
    (29 ) سلاد والی سبزیاں مثلاً پو دینہ وغیرہ اگر مرجھا جائیں تو لیموں کا رس ملا پانی ان پر چھڑکنے سے دوبارہ تا زہ ہو جاتی ہے –
    (30 )لیموں مصفی خون ہے –
    (31 ) سو ز ش اور پیشاب کی تکلیف کو فائدہ دیتا ہے –
    (32 ) داد کی جلدی بیماری پر اگر لیموں کا رس دس گرام، تلسی کے پتوں کار س دس گرام ملا کر لگانے سے ایک ہفتہ کے اندر درد جڑ سے غائب ہو جا تی ہے –
    (33 ) اگر کان بہتے ہوں تو ایک چٹکی سہا گہ کا سفوف کان میں ڈال کر پھر دو قطرے لیموں کے رس کے ڈالے جائیں تو کان بہنا بند ہو جائیں گے –
    (34 ) لیموں کا رس ایک چھٹانک معہ ہم وزن پانی ملا کر دن میں تین دفعہ غرارے کرنے سے منہ کی بد بو فوری طور پر ختم ہو جا تی ہے اگر کسی وجہ سے منہ کی بد بو دور نہ ہو تو پھر فوری طور پر دانتوں کے ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے اور دانتوں کی مکمل صفائی کروانی چاہیے –
    (35 ) خارش خشک و تر کی صورت میں لیموں کا رس پانچ گرام، عرق گلاب دس گرام اور چنبیلی کا تیل پندرہ گرام، تینوں ملا کر خارش والی جگہ پر لگانے سے چند روز میں افاقہ ہو جائے گا-
    (36 )درد گردہ میں لیموں کا رس دس گرام، سہا گہ ایک گرام، شورہ قلمی ایک گرام اور نو شا در ایک گرام، تینوں کو لیموں کے رس میں حل کر کے درد کے وقت استعمال کرنے سے فائدہ ہو تا ہے –
    (37 ) آگر آنکھ کا درد ہو تو نصف لیموں پر سندھور چھڑ ک کر اس طرف کے پیر کے انگوٹھے پر باندھنا ایک روز میں درد کو ختم کر دیتا ہے –
    (38 ) لیموں جراثیم کا خاتمہ کر تا ہے اگر بواسیری مسوں پر لگایا جائے تو وہ جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور پھوڑے پھنسیوں پر لگانے سے زخم جلدی مندمل ہو جاتے ہیں –
    (39 ) لیموں کا رس بیسن میں ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ، دھبے دور ہو جا تے ہیں –
    (40 ) لیموں کا رس بیرونی طور پر جلد کو نرم اور حسین بنا تا ہے –
    (41 ) بعض دفعہ لیموں کے رس کو شہد میں ملا کر چٹانے سے کھانسی ٹھیک ہو جا تی ہے –
    (42 )لیموں کا تا زہ رس سر سے لے کر پا ؤں تک پو ری جسمانی مشینری کو اوور ہال کر تا ہے اور اس کا اعتدال کے ساتھ استعمال صحت و مسرت کا ضامن ہے –
    (43 ) اگر دانتوں سے خون آتا ہو تو ایک عدد لیموں کا رس، ایک گلا س نیم گرم پانی اور شہد دو بڑے چمچے ملا کر روزانہ غرارے کرنے سے یہ بیماری دور ہو جاتی ہے اس کو پائیوریا کی بیماری بھی کہتے ہیں۔
    (44 )گرد ے اور مثانے کی چھوٹی مو ٹی پتھری کو لیموں کی سکنجبین نکال دیتی ہے –
    (45 )پیٹ ہلکا اور نرم کر تا ہے اور قبض کشا بھی ہو تا ہے –
    (46 )بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لیموں تیزابیت پیدا کر تا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ تیزابی ما دوں کو خارج کر تا ہے ، البتہ بہت زیادہ استعمال مناسب نہیں –
    (47 )سکروی کی مر ض ( یہ مر ض خون کی خرابی سے پیدا ہو تا ہے ) اس مر ض میں مسوڑھے سو ج جاتے ہیں ، جسم پر سیاہ داغ پڑ جا تے ہیں اور جسم میں مسلسل درد رہتا ہے ، لیموں کے مسلسل استعمال سے شفا ہو تی ہے –
    (48 ) لیموں میں فا سفور س، فولاد، پو ٹاشیم اور کیلشیم کی وافر مقدار ہو تی ہے جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہے۔

    نوٹ : لیکن ان تمام تر خوبیوں کے با وجود زیادہ مقدار میں لیموں کا استعمال نقصان دہ ہے ، لیموں کا تیز محلول دانتوں کے لیے مضر ہے اور لیموں کی زیادہ تر شی پٹھوں میں درد کا باعث ہو سکتی ہے ، لہذا اس کا مناسب حد تک یعنی اس کو مقررہ مقدار تک کھا نا ہی مفید ہے۔
    ٭٭٭