primekunst.com

Category: جنرل

معلوماتی اور علمی مضامین

  • مفید ٹوٹکے، سردرد،گلاخراب،پیٹ درد،کمزوری

    مفید ٹوٹکے، سردرد،گلاخراب،پیٹ درد،کمزوری

    مفید ٹوٹکے

    اگر بیمار ہو جائیںتو آپ گهرمیں استعمال چیزیں استعمال کر کے آپ ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اور ان چیزوں کے استعمال سے آپ کو کوئی نقصان بھی ہو گا۔
    ©گلا خراب ہو اور آواز نہ نکل رہی ہوتو کچا امرود جلاکر کھالیں
    ©پیٹ میں درد ہے پودینے کے پتے چبالیں
    ©قے نہ رکے ایک چٹکی زیرہ پھانک لیں
    ©سر میں خشکی ہے سرسوں کے تیل میں دہی یا انڈہ مکس کریں اور لگالیں۔۔۔
    ©سر میں جوئیں ہیں چنبیلی کا تیل لگائیں
    ©پاوں میں درد ہے زیتون کا تیل لگائیں
    ©ناف اترگئ ہے نیم گرم ناریل کا تیل ڈالیں
    ©چوٹ لگی ہے خون روکنے کے لئے روئی کو ناریل کے تیل میں ڈبو کر لگائیں
    ©کمزوری محسوس ہورہی ہے دو کجھور دودھ میں پکاکر
    ©کھائیں اور دودھ پی بھی لیں۔۔۔۔
    ©عورتوں کو مخصوص ایام میں بے قاعدگی ہے تو دو کجھور کھالیں
    ©گرمی بہت زیادہ لگتی ہے کھیرا کھائیں
    ©سردی بہت لگتی ہے دیسی انڈے کھائیں اور چوزے کی یخنی بناکر پیں
    ©پیشاپ کرنے میں جلن ہوتی ہے کچی لیسی نمک ڈال کر پیں یا خربوزہ و تربوز کھائیں
    ©کھانے کے بعد بھاری پن محسوس ہوتا ہے لیمن کے قطرے پی لیں
    ©موٹاپا کم کرنا ہوتو نہار منہ نیم گرم پانی پیں
    رنگ گورا کرنا ہے تو ابٹن میں عرق گلاب مکس کرکے چہرے
    ©پہ لگائیں 20 منٹ بعد چہرہ دھو لیں۔۔۔
    ©کان میں درد ہے سرسوں کے تیل میں لونگ جلائیں اور اسمیں روئی اوپر سے تر کرکے کان پہ لگالیں
    ©آنکھوں کی روشنی تیز کرنی ہوتو گاجر کھائیں۔۔۔
    ©یاداشت کمزور ہے تو بادام و اخروٹ کھائیں۔۔۔۔
    ©لوز موشن ہوتو کیلے پہ زیرہ لگاکر کھائیں.

  • هومیوپیتھی اور بچوں میں پیشاب کا بار بار آنا

    هومیوپیتھی اور بچوں میں پیشاب کا بار بار آنا

    پیشاب کا کئی دفعہ آنا

    بچوں میں بستر گیلا کر دینے کے علاج کے لئے ہومیوپیتھی کی کامیاب ترین دوا وہی ہو گی جو باقی معاملات اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ (Constitutional  Remedy) بچے کی ہسٹری اور فیملی ہسٹری کو بنیاد بنا کر دی جائے گی۔ تاہم عام طور پر پاکستان کے ماحول میں مندرجہ ذیل دواؤں میں کسی ایک کی ضرورت پڑتی ہے۔

    اکویزیٹم (EQUISETUM   HYEMALE (equis-h.))

    بیلاڈونا (Belladonna)

    کاسٹیکم (Causticum)  –  اگر پہلی نیند میں ہی بستر گیلا کر دیں حالانکہ واش روم سے آ کر ہی سوئے ہوں۔

    سائنا (CINA) – جن بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی ہوں۔

    چائنا (China) – یہ دوا کمزور بچوں کے لئے بہت مفید پائی گئی ہے۔

    کریوزیٹم (Kreosotum) – جن بچوں کو جگانا مشکل ہو، اُن کے لئے زیادہ مفید ہے یا جن بچوں کو خواب ایسا آتا ہو کہ وہ پیشاب کر رہے ہیں۔ وہ اپنے طور پر واش روم میں ہی ہوتے ہیں۔

    لائیکوپوڈیم (Lycopodium   Clavatum) –  اگر بچے گھر میں بہت بدتمیز اور جھگڑالو ہوں مگر سکول وغیرہ میں بہت شریف سمجھے جاتے ہوں۔

    لیک کنائنم (Lac  Caninum) – یہ دوا بچوں کی نسبت نوجوانوں کے لئے زیادہ مفید ہے۔

    Short Link:
    https://primekunst.com/pxuw

  • ہومیو پیتھی نسخہ جات، ھوالشافی ٹیم

    ہو میو پیتھی کے مجرب نسخہ جات

    .یہ نسخہ جات مکرم رانا سعید صاحب کے مرتبہ کردہ ہیں.

  • مرگی کا ہومیوپیتھک علاج

    مرگی کا ہومیوپیتھک علاج

    👈👈 مرگی 👇👇👇
    تشنج ، اچانک اور مکمل بے ہوشی ،
    خوفناک ہذیان ، چہرہ نیلا ، آنکھیں پتھرائی ہوئی ، چہرے کے پٹھوں میں تشنجی پھڑکن ، منہ سے جھاگ آتی ہے ، جبڑے بند ہو جاتے ہیں.
    مشت زنی سے ہونے والی مرگی وغیرہ وغیرہ

    👈ایگریکس مسکیریس جو بچے یاد نہیں رکھ سکتے یا غلطیاں کرتے ہیں یا سبق یاد نہیں کر سکتے سختی کرنےسے تشنج یا مرگی ہو۔

    👈ہائیڈرو سائینک ایسڈ اگر عورتوں میں ہسٹریا اور مرگی ہو تو موثر دوا ۔

    👈ہائیڈرو سائینک ایسڈ مرگی اور کالی کھانسی کے تشنج میں بہترین دوا ہے ۔

    👈بیوفورانا اگر جلق کی وجہ سے مرگی کا دورہ پڑے تو بہترین دوا ۔

    👈ملی فولیم حیض کے دب جانے سےتشنج اور مرگی ہو ۔
    👈اویننتھی کروکاٹا Q یا 3X حیض نہ ہو تو اس کی بجائے مرگی کے دورے ہوں ۔

    👈بیوفو حیض کے وقت مرگی کے دورے ۔

    👈ملی فولیم حیض کے رک جانے میں تشنج اور مرگی ہو ۔
    👈سی می سی فیوگا: حیض کے دوران مرگی کے دورے ۔

    👈وسکم البم مرگی اور رعشہ میں کام آنے والی دوا

    👈سیکوٹاوروسا پرانی چوٹوں سے پیداشدہ تکلیف خصوصاَ سر کی چوٹ میں مرگی ہو ۔

    👈ملی لوٹس سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے مرگی،درد، کمزوری۔

    👈ابسنتھیم مرگی میں کیوپرم کی نشانی ہو تو دوسری دوا ۔

    👈وسکم البم مرگی اور رعشہ میں کام آنے والی دوا ۔

    👈ارجنٹم نائٹریکم مرگی بلندی کا خوف ڈراؤنی خوابیں اہم دوا ۔

    👈ارجنٹم نائٹریکم ایتھوزاکلکیریا کارب : مرگی میں مفید دوائیں۔

    👉Oenanthe crocata
    👉Artemisia vulgaris
    👉Absinthium
    👉Cicuta virosa
    علامات پر مفید ادویات ہیں ۔

    Dr. #MuhammadGulzarkhan.

  • مختصرعلامات ہومیو پیتھک ادویات

    مختصرعلامات ہومیو پیتھک ادویات

    1. آرسینک:- صفائی پسند.

    2. آئیوڈیم:- ہر وقت پریشان.

    3. ایبسنتھینم:- بے رحم اور ظالم.

    4. ارجنٹم نائیٹریکم:- میسا

    5. اکٹیاریسی موسا:- صرف اپنی ہی بات منوانے والا.

    6. اگنیشیا امارہ:- مسلسل غم میں ڈوبا.

    7. الیومن:- منہ پر ہی سخت کلامی کرنے والا.

    8. الومینا. خیالات میں الجھا ہوا.

    9. اناکارڈیم محتاط اور ہر معاملہ میں مستقبل کی سوچنے والا.

    10. انٹی مونیم کروڈم جتنی بھی تسلی ودلاسہ دیا جائے تسکین نہ پانے پانے والا.

    11. اوپیم:- انتہائی زندہ دل اور تیز خیالات والا.

    12. اورم میٹ:- ناامید.

    13. اوریگینم:- شہوانی خیالات اور خواب.

    14. اولینڈر:- بہت زیادہ پچھتانے والا.

    15. ایپس ملیفیکا:- حاسد.

    16. ایلو سکوٹرینا:- عیاش.

    17. برائی اونیا البا:- روکھاپن.

    18. بربرس ولگرس:-بےپرواء.

    19. بریٹاکارب:-بدگمان.

    20. برومیم:-خوش مزاج.

    21. بینزویکم ایسڈ:-ناخوشگوار واقعات کو ہر وقت سوچنے والا.

    22. بوریکس:- بری خبر سے جلد متاثر ہونے والا.

    23. پٹرولیم:-پٹرول کی آگ جیسا شدید ترین غصہ ور.

    24. پلاٹینم:- بے حد مغرور اور اناپرست.

    25. پلساٹیلا:- حد سے زیادہ فرماں بردار اور منکسر مزاج.

    26. پلمبم میٹ:- احساس میں کمی.

    27. پیلیڈیم:- خوشامدپسند.

    2-. تھریڈین:-دماغ طور پر ہر وقت کسی کام میں مصروف.

    29. تھوجا:- جاسوس.

    30. ٹریبنتھینیا:-راتوں کو آوارہ پھرنے والا.

    31. ٹیوبرکولینم:- ہر وقت تبدیلی پسند.

    32. ٹیرن ٹولا:- مکار.

    33. ٹیلوریم:- چپ چاپ پڑے رہنے کی خوائش والا.

    34. جلسیمیم:-مجمع سے انتہائی ڈرنے والا.

    35. چائنا:-شاعر

    36. چیلیڈونیم:-حریص.

    37. ڈروسیرا:-دوسروں پر اعتماد نہ ہونے والا.

    38. رسٹاکس:-اپنی صحت کے متعلق زبردست پریشانی لینے والا.

    39. زنکم:-لڑائی سے شدید ترین ڈرنے والا،اور بزدل.

    40. سائیکوٹا:-بڑاہونے کے باوجود اپنے آپ کو بچہ محسوس کرنا.

    41. سباڈیلا:- ذکی الحس.

    42. سٹافی انتہائی شرمیلا.

    43. سٹانم:- انتہائی بے صبر.

    44. سٹرامونیم:-مسلسل واہیات، بےہودہ اور بےوقوفانہ گفتگو.

    45. سفیلینم:- لڑاکا.

    46. سلفر:- ہر بات کا الٹ مطلب لینے والا.

    47. سلفیورک ایسڈ:- ہر وقت خیالی پلاؤ بنانے والا.

    48. سیلیشیا:-گہرامفکر.

    49. سمبوکس:- بہت جلد شدید ڈرنے والا.

    50. سائنا:- ذراسی بات اور مذاق کو اپنی بےعزتی سمجھنے والا.

    51. سنگونیریا:-فضول خرچ.

    52. سورینم:-انتہائی باصبر.

    53. سیپیا:-اپنے کنبہ سے لاپرواہ

    54. سیلینم:-لواطت، زنا، اور جانوروں سے بدکاریاں کرنے والا.

    55. فاسفورس:-ہر چیز سے بے اعتناء.

    56. فاسفورک ایسڈ:- بات کو مشکل سے سمجھنے والا،اور سوال کو دہرانے والا.

    57. فلورک ایسڈ:اپنے کنبہ کی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے والا.

    58. فیرم میٹ:-اپنے کنبہ کے بارے انتہائی جذباتی.

    59. کاربوویج:-دماغی اور جسمانی طور پر انتہائی ڈھیلا.

    60. کارسی نوسینم:-شرافت کا پتلا.

    61. کاسٹیکم:-معاشرے کے ظلموں سے ستایا ہوا.

    62. کالچیکم:-برونی اثرات سے جلد متاثر ہونے والا.

    63. کالی بائیکرامیکم:- اپنے فیملی کے بارے جھوٹے خیالات والا

    64. کالی برومیٹم:-ہاتھوں سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے والا.

    65. کالی کارب:- اپنے اصولی کی معلول سے زیادہ پابندی کرنے والا.

    68. کالی میورٹیکم:-اپنے رشتہ داروں کے شدید فکر سے بیمار ہونے والا.

    69. کروٹیلس ہریڈس:-بول چال میں ابتری والا.

    70. کسٹوریم:-ہر قسم کے جذبات اور اثرات سے ذکی الحس.

    71. کلکیریا کارب:-ضدی، ہٹیلا.

    72. کینابس انڈیگا:-نشہ بازوں جیسی باتیں کرنے والا.

    73. کوکا:- محفل میں چڑچڑا اور تنہائی میں خوش مزاج.

    74. کوکولس:-دوسروں کی صحت اور تیمارداری کی شدید ترین فکر.

    75. کونیم:-خوائش جماع کے رک جانے سے شدید غمگین ہونے والا.

    76. کیمومیلا:-زودرنج.

    77. کینتھرس:-کاموں کے انجام تک نہ پہنچنے کا مسلسل غم.

    78. گریفائٹس:-ہرکام اور بزنس کرنے کی خوائش.

    79. لاروسریسس:-خیالی مصائب کے متعلق شدید پریشانی اور ڈر.

    80. لائیکوپوڈیم:-دوسروں پر حکم چلانے کی زبردست خوائش.

    81. لیک کینینم:- کسی ایک مرد سے مطمئن نہ ہونے والی.

    82. لیکسس:-کینہ دوز.

    83. مرک سال:- ترغیبوں سے جلد مرغوب ہونے والا.

    84. مزیریم:-مایوس.

    85. ماسکس:-ملامت کرنے والا.

    86. مگنیشیا فاس:- مسلسل پست حوصلگی.

    87. مگنیشیا کارب :-پست حوصلگی سے بولنے کی رغبت کا نہ ہونا.

    88. منگیشیا میور:-اپنے ذمہ داروں کو ضرورت سے زیادہ محسوس کرنے والا.

    89. میڈورینم:-بات بات پر دعائیں دینے والا.

    90. میورٹیکم ایسڈم:- مستقبل کی فکر اور خواب.

    91. نائیٹریکم ایسڈم:-دوسروں کی بیماریوں کو اپنے اوپر مسلط کرنے والا.

    92. نکس وامیکا:-انتہائی ترتیب پسند اور منظم

    93. نیٹرم سلف:-بے شمار تحفظات والا.

    94. نیٹرم کارب:-وقت کا پابند.

    95. نیٹرم میور:- سنجیدہ.

    96.ویلیریانہ:-غیر معمولی خوش مزاجی.

    97. ہائیڈراسٹس:-موت کا یقین.

    98. ہائیڈروفوبینم:-وفاداری.

    99. ہیلیبورس:-سوالات کا جواب آہستہ آہستہ دے.

    100. ہائیوسائمس:-بےشرم

  • دماغی امراض , علامات اور آسان بائیوکیمک علاج

    دماغی امراض , علامات اور آسان بائیوکیمک علاج

    دماغی امراض , علامات اور بایو کیمک علاج

    تحریر

    💖ھومیو پیتھک ڈاکٹر و حکیم محمد اسلم نوشہرہ فیروز سندھ .💖

    💝ایڈٹ ہومیو ڈاکٹر صابر حسین.💝

    💚🔴 آہ سرد.

    کالی فاس 6، کلکیريا فاس 6x.

    🔴 اثرات غم کے..

    کلکیريا فاس6x، کالی فاس 6x.

    🔴 اثرات ڈر کی وجہ سے..

    کالی فاس 6x.

    🔴 اداس رہے..

    کالی فاس 6x.

    🔴 ادھر ادھر چیزیں لے جانے..

     میگنیشیا فاس 6x.

    🔴 نا اميد رہے..

    کلکیريا فاس 6x.

    🔴 اعصابیت رات کو..

    فیریم فاس 6x.

    🔴 افسردگی خون کی کمی سے..

    کلکیريا فاس 6x . نیٹرم میورx 6.

    🔴 اکیلا رہنا پسند کرے..

    کلکیريا فاس 6x.

    🔴 الفاظ غلط لکھے یا دوبارہ لکھے..

    کلکیريا فاس 6x.

    🔴 ایک مضمون سے دوسرے مضمون پر فوراً آ جائے..

     کلکیريا فاس 6x.

    🔴 باتونی..

    فیریم فاس،

    نیٹرم میور 6x.

    🔴 بچہ ہر وقت گود میں رہنا پسند کرے..

    کالی فاس6x.

    🔴 بچہ رات کو ڈر جاے..

    کالی فاس 6x.

    🔴 بد مزاجی بچوں میں..

    کلکیريا فاس 6x

    🔴 بے صبری..

     کالی فاس 6x

    🔴 بے نیاز، بے لوث، بے تعلق..

    کالی فاس 6x

    🔴 پر جوش..

     نیٹرم میور 6x

    🔴 پر مردہ، نا ترقی یافتہ دماغی صلاحیت..

    کلکیريا فاس 6x

    🔴 تاریک پہلو سوچنا..

    کالی فاس 6x.

    🔴 تسلی و تشفی سے مرض میں اضافہ..

    نیٹرم میور 6x

    🔴 پریشانی پیسوں کی..

    کلکیريا فلور 6x

    کالی فاس 6x

    🔴 پریشانی مستقبل کی..

    کلکیريا فاس 6x

    🔴 تصوراتی چیزیں دکھائی دے..

    میگنیشیا فاس 6x.

    کالی فاسx 6

    🔴 تنہائی سے نفرت..

    کالی فاس 6x،

     کالی سلف 6x

    🔴 توجہ قائم رکھنے میں دقت..

     سلیشیا 6x

    🔴 جلد باز، اعصابی کمزوری کی وجہ سے چیزیں گر جاءیں..

     نیٹرم میور 6x

    🔴 چلانے والا مزاج..

    کالی فاس 6x

    🔴 چپ چپ بیٹھ کر سوچا کرے..

     نیٹرم فاس 6x،

     نیٹرم میور 6x

    🔴 چڑچڑا پن صفراہ کی وجہ سے..

    نیٹرم سلف 6x

    🔴 چلتے چلتے بکواس کرتا رہے..

    کالی فاس 6x

    🔴 چیخنا جلاتا اور روتا رہے..

    کالی فاس 6x

    🔴 خود کشی کی رغبت..

    نیٹرم سلف 6x

    🔴 دل کمزور..

     کالی فاس 6x

    🔴 چیزیں جگہ جگہ لے پھرے..

    میگنیشیا فاس 6x

    🔴 دوسرے پر اعتبار نہیں ہو..

    کلکیريا فاس 6x.

    سلیشیا 6x

    🔴 دورے ہسنے کے..

    کالی فاس 6x

    🔴 دماغی صدمہ..

     کالی فاس 6x،

    نیٹرم سلف 6x

    🔴 ڈر. چوروں کا..

     کالی فاس 6x

    🔴 ڈر رات کو..

    کالی فاس 6x

    🔴 ڈر ضرورت پیش آنے کا..

    کلکیريا فلور 6x

    🔴 ڈر جب اکیلا ہو.

    کالی فاس 6x ،

    کالی سلف 6x

    🔴 ڈر مالی تباہی کا..

     کلکیريا فلور 6x

    🔴 سسکیاں لے..

    میگنیشیا فاس 6x

    🔴 نیند میں چیخے..

     کالی میور 6x.

    کالی فاس 6x

    🔴 راءی پہاڑ معلوم ہو..

     فیریم فاس 6x

    🔴 نیند کا غلبہ رہے..

    نیٹرم میور6x

    🔴 برداشت کی کمی..

    کلکیريا فاس 6x

    🔴 نیند میں چلتا پھرتا ہو..

    کالی فاس 6x

    🔴 نیند میں باتیں کرے..

    کالی فاس 6x

    🔴 ہر آواز سے چونکے.

    کالی فاس 6x

    🔴 معمولی کام بڑا معلوم ہو..

    کالی فاس 6x

    🔴 لغزش، خطا اور بھول چوک کی عادت.

     کالی فاس6x

    🔴:-( شرم، شکی مزاج، شور و غل سے ڈرتا ہو، غشی کی رغبت، لا پروائی، لکھنے بولنے میں غلط لفظ استعمال کرے، قہقہہ لگائے..

    کالی فاس 6x.

    طالب دعا َ ھومیو پیتھک ڈاکٹر و حکیم محمد اسلم نوشہرہ فیروز سندھ .

  • اسقاط حمل تکالیف،علامات  ہومیو پیتھی 1طریقہ علاج

    اسقاط حمل تکالیف،علامات ہومیو پیتھی 1طریقہ علاج

    اسقاط حمل تکالیف،علامات اور ان کا ہومیو پیتھی طریقہ علاج

    ترتیب و پیش کش:خالد محمود اعوان

    ٭-”ایکونائٹ “ =اسقاطِ حمل کا رجحان اگرخوف یا جذبات کے نتیجے میں ہو تو”ایکونائٹ “ دوا ہے۔ اس میں خوف اکثر اسقاطِ حمل کی وجہ بنتی ہے ۔اگربروقت دے دی جائے تو اس اسقاط کو روکا جا سکتا ہے۔ اس میں عورتوں کے اعضائے تناسلی میں سوزش،اندام نہانی خشک ، گرم اوراس میں حساسیت پائی جاتی ہے۔لیکوریا کھل کر چپکنے والااور پیلا ہوتا ہے ۔ دورانِ حمل بے چینی ، موت کاخوف حتیٰ کہ موت کے وقت کی پیشگوئی کرے۔بعض اوقات حاملہ ڈاکٹر سے کہتی ہے ”ڈاکٹر آپ کی زچگی کی تمام پلاننگ بیکا ر جائیں گی ،میں تو مرنے جا رہی ہوں یا مر رہی ہوں۔ رات بارہ بجے سے تین بجے تک ڈسٹرب،خوف کے نتیجے میں ابارشن ساتھ چڑچڑا پن، خون کی سرکولیشن ہیجان پیدا کرے۔لگاتار دم کشی پائی جائے ۔”ایکونائٹ“ میں دوران زچگی موت کا خوف پایا جاتا ہے۔اس بات کا امکان بھی پایاجاتا ہے کہ زچہ یا بچہ کا پیدائش کے بعد پیشاب آنا بند ہو جائے۔ خوف یا اچانک جذبات کے نتیجے میں سوئی گڑنے والی،جلن دار،اور شدید دردیں پائی جاتی ہیں۔”ایکونائٹ“ میں علامات میں شدت گرمی سے،بند کمرے میں،متاثرہ جگہ پر لیٹنے سے،چلنے سے رات کو اورمیوزک سے ہوتی ہے۔
    ٭-”ایپس میلی فیکا“= عادتاً اسقاط حمل اگر دوسرے یا تیسرے مہینے میں ہو تو ”ایپس میلی فیکا“ دوا ہے۔”ایپس میلی فیکا“ میں ویجائنہ کے باہر کےدو ہونٹ (جو مباشرت کے وقت کھل جاتے ہیں اور ان پر بال اگتے ہیں)میں پانی بھر جانے کا مرض جس کو ٹھنڈے پانی سے سکون ملتا ہے۔جلن دار اور ڈنگ لگنے والی دردیں۔بیضہ دانیوں میں سوزش ،دائیں بیضہ دانی زیادہ متاثرہوتی ہیں۔ماہواری دبی ہوئی ساتھ دماغ اور سرکی علامات پائی جائیں، خاص طور پر جوان لڑکیوں میں۔ماہواری درد سے آئے ساتھ بیضہ دانیوں میں شدید دردیں ہوتی ہیں۔ماہواری کے وقفے کے دوران خون کا کھل کر آنا، ساتھ پیٹ بھاری ، غشی کے دورے ،ڈنگ لگنے والی دردیں۔ تنگی کا احساس ۔نیچے کی طرف دبائو ساتھ ڈنگ لگنے والی دردیں۔پیٹ کے اوپر اور رحم کے ملحقہ جگہوں میں دردہوتا ہے۔
    ٭- ”اورم میور نٹرونیٹم“=عادتاً اسقاط حمل کی دوا ہے ۔ علم التشخیص سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس کا نمایاں اور واضح اثر خواتین کے جنسی اعضاءپر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر برنٹ کے مطابق رحم کے ٹیومرز پر کسی اور نسبت اس کا اثرسب سے زیادہ طاقت وراثر اس دواکا ہے۔خواتین کی علامات میں پیڑو میں سختی۔جوان لڑکیوں میں دل کی دھڑکن میں زیادتی ۔ پیٹ میں ٹھنڈک۔ رحم کی مزمن سوزش اور اس کا ڈھلکنا ۔ اندام نہانی اور بچہ دانی کی گردن پر زخم۔بچہ دانی میں تشنجی کھچائواور ساتھ لیکوریا۔بیضہ دانیوں میں سختی ۔بیضہ دانیوں کا استسقاء۔زچگی کے بعد رحم کا واپس اصل حالت میں نہ آنا۔رحم کا ہڈی میں تبدیل ہو جانا پایا جاتا ہے۔٭-”اورم میور نیٹرونیٹم“ اورم خاندان کی ایک اور دوا ہے ۔یہ دوا خواتین کے جنسی ہارمون کی خرابی میں توازن پیدا کرتی ہے۔بنیادی طور پر نظام میں اجتماع خون کے نتیجے میں رحم اور بیضہ دانیوں میں جھنجھلاہٹ،رحم میں زخم،رحم کی اندرونی جھلیوں کی سوزش،بیضہ دانیوں کی سوزش ، ماہواری وقت سے پہلے اورکھل کر ہوتی ہے،اس میں عادتاً اسقاط حمل پایاجاتاہے۔ ہارمون کی کثرت کے نتیجے میں عورتوں میں غیر معمولی جنسی خواہش ۔اس کی مریضہ ایک وقت میں ناجائز طور پر شادی شدہ افراد سے جنسی تعلقات میں ملوث رہی ہوتی ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے یا ہارمون کی کثرت سے پیدائش کے دوران اپنے جذبات کو دبانے کے نتیجے میں یوٹرس پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں رحم میں ریشہ دار ٹیومرز پیدا ہو جاتے ہیں۔”اورم میور نیٹرونیٹم“ کی دماغی حالت میں تنگ مقامات پر جانے کا خوف پایا جاتا ہے ۔ اس کے اندرمستقبل کے بارے میں انزائٹی پائی جاتی ہے۔ اس کی مریضائیں محبت میں ناکامی کی وجہ سے گہری ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
    ٭- اس کے اندر سفلیٹک نوعیت کی سوراسس (آتشکی زخم )پائے جاتے ہیں۔نچلے جبڑے کی اوپر والی جھلی پرسوجن ، خصیوں کی سوجن۔اعصابی نظام کی خرابیوں کے نتیجے میں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) پایا جاتا ہے۔بڑھاپے کی وجہ سے شریانوں کی دیواروں کا موٹا ہو جانا اور اس کے اندر ناقص عضلاتی کنٹرول پایا جاتا ہے۔
    ٭-”اورم میور نیٹرونیٹم“میں زبان پر جلن ،سوئی گڑنے والی اور سختی پائی جاتی ہے۔ مزمن نوعیت کی وجع المفاصلی اور گائوٹی دردیں پائی جاتی ہیں۔
    ٭-”اورم میور نیٹرونیٹم“میں جگر کا سخت ہو جانا ۔اورگردے کی ایک بیماری جس میں گردوں کے درمیان چھوٹی نالیوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سے گردے مکمل طور پر کام نہیں کرتے۔
    ٭-”کالی کارب“=اسقاط حمل کا رجحان اگر دوسرے مہینے ہو توکالی کارب کو ایک ہزارطاقت میں استعمال کریں۔اسقاط حمل کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لئے ”کالی کارب“ بہترین دوا ہے اگر اس کو وقت پر استعمال کیا جائے۔اسقاط حمل جو کمزوری کے نتیجے میں ہو ۔اس کی تکالیف میں اضافہ صبح سویرے ہوتا ہے۔ ”کالی کارب“ کے بارے میں ڈاکٹر” سینکران“ لکھتے ہیں کہ اس کی بنیادی علامت جس کے ارد گرد یہ دوا گھومتی ہے۔ اس کا مریض اکیلا نہیں رہ سکتا ،وہ اکیلے رہنے سے خوفزدہ رہتا ہے ، وہ لوگوں سے میل جول چاہتا ہے۔کالی کارب کا مریض سوسائٹی کے رسم و رواج میں اعتدال پسند(لکیر کا فقیر )ہوتا ہے اور اس کے قانون اور اصول کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔کالی کارب کی مریضہ اپنے رشتہ داروں اور خاندان کے افراد کی بیماری سے بہت پریشان ہوتی ہے۔ مردہ رشتہ داروں کو خواب میں دیکھتی ہے۔کالی کارب کے مریض میں شور سے ، چھونے سے،ہوا کے جھونکے سے اور درد سے ذکی الحسی پائی جاتی ہے۔پائوں میں حد سے شدید حساسیت پائی جاتی ہے۔
    ٭-” سیکل کار“= اسقاط حمل کا رجحان اگرتیسرے مہینے ہو تو” سیکل کار“ ایک ہزار دوا ہے۔اس کی ماہواری کی دردیں قولنجی نوعیت کی ہوتی ہیں۔مریضہ ٹھنڈک اورگرمی برداشت نہیں کرتی۔ خواتین کی خرابی صحت کی ایک بیماری جو غذائی قلت کو ظاہر کرتی ہے پائی جاتی ہے۔مریضہ کے اندراخراج خون کمزور اور غیر متحرک ہوتا ہے۔یوٹرس میں جلن دار دردیں۔لیکوریابھورے رنگ کا اور ناگوار بو والا ہوتا ہے۔ ماہواری بے قاعدہ،کھل کر اورگہرے رنگ کی ہوتی ہے۔مسلسل پانی والا خون ٹپکتا رہے،حتیٰ کہ اگلی ماہواری شروع ہو جائے ۔تیسرے مہینے کے حمل کا اسقاط (سبائنا کی طرح ) پایا جائے۔دورانِ زچگی اخراج نہ ہو جب کہ ہر چیز ڈھیلی پڑی ہوئی ہو۔دردوں کے بعد کی تکالیف۔دودھ کا دب جانا ،پستان دودھ سے مکمل طور پر نہ بھر سکیں ۔نفاس(بچے کی پیدائش سے ایک ماہ تک جاری رہتا ہے)ناگوار بو والا گہرے رنگ کا۔پرسوتی بخار،بدبودارفاسد اخراجات ، کان کے پردے کا ورم،ٹھنڈک،پیشاب دبا ہوا ۔”سیکل کار“میں مریضہ تھکی ماندی،مرجھائی ہوئی جلد ،دیکھنے میں غیر صحت مند،جھریاں پڑی ہوئیں، پرپل،نیلاہٹ مائل جلد،عام طورپر یا محدود جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ جلد مرجھائی ہوئی خاص طور پر جہاں خون کی روانی کمزور ہوجیسے ہاتھ کی پشت اور پائوں اور پنڈلی کی ہڈی پرہوتی ہے۔ ”سیکل کار“کی مریضہ کے پستان سکڑے ہوئے۔زچگی کے بعدان میں دودھ نہیں ہوتا پایا جاتا ہے۔
    ٭-”سبائنا“=میں اسقاط کا رجحان ،خاص طور پر تیسرے ماہ کاپایا جاتا ہے۔ا س کامخصوص اثر رحم پرمزید رطوبتی اور ریشہ دارجھلیوں پر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس کا استعمال نقرس میں ہوتا ہے۔اس کی دردیں تکونیہ ہڈی سے لے کرپیڑو(ناف سے نیچے وہ جگہ جہاں بال اُگتے ہیں) تک ہوتا ہے ۔ نبض کی دھڑکن شدیدتیز ہوتی ہے،مریضہ کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہتی ہے۔”سبائنا“ میں چمکدار خون کی ماہواری کھل کر آتی ہے۔رحم کی دردیں رانوں تک پھیلتی ہیں۔اسقاط حمل کے خطرے کے ساتھ جنسی خواہش بڑھی ہوئی ۔ماہواری کے بعدلیکوریا گلا دینے والا اور جارہانہ نوعیت کا ہوتا ہے۔دو ماہواریوں کے درمیان خون کا آنا ساتھ جنسی جذبات بڑھے ہوئے (امبرا کی طرح ) ۔آنول رکی ہوئی، دردِ زہ کی دردوں میں شدت۔عورتوں میں کثرت حیض جن کا اسقاط آسانی سےہو جائے۔اسقاط کے بعدبچہ دانیوں اور رحم میں سوزش پائی جاتی ہے۔گوشت کے لوتھڑے جو اسقاط کے بعد رحم میں پیدا ہوتے ہیں ”سبائنا“ ان کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔(یہی علامت کینتھرس) میں بھی پائی جاتی ہے۔درد تکونیہ ہڈی سے پیڑو تک ہو جونیچے کی طرف اوراوپر کی طرف ویجائنہ کے اوپر پھیلیں۔ اخراج خون کسی قدرجما ہوا ۔کم سے کم حرکت بھی تکلیف میں اضافہ کر دے۔یوٹرس میں ناطاقتی ۔ سبائنا میں تکالیف میں اضافہ کم سے کم حرکت سے،گرمی سے ، گرم ہوا سے ہوتا ہے۔بہتری تازہ اور ٹھنڈی ہوا میں ہوتا ہے۔ ”سبائنا“ میں اسقاط سے قبل آنے والی علامات پائی جاتی ہیں ۔خاص طور پر تیسرے ماہ کی ابارشن میں اگر ساتھ کمر سے پیڑو تک کی دردیں جائیں۔
    ٭-اسقاط حمل کا رجحان اگرساتویں مہینے ہو تو اس کی دوا ”سیپیا“ ایک ہزار دوا ہے۔
    ٭-”سیپیا “ بنیادی طور پر عورتوں کی دوا ہے خاص طور پر گہرے بھورے رنگ کے بالوں والی عورتوں کی، اس کا اثر بنیادی طور پر نظام وریدی جگر پر ہوتا ہے۔ ساتھ رگوں میں اجتماع خون ،اسقاط حمل کا رجحان ، حیض کے دنوں میں ہاٹ فلیشز،کمزوری اور شدیدپسینہ ،اندرونی اعضاءمیں گیندہونے کا احساس ،رحم کی بہترین اور اہم ادویات میں سے ایک ہے۔ٹی بی کی مزاج رکھنے والی مریضہ جن میں مزمن جگر کی خرابیاں اورساتھ رحم کی علامات پائی جائیں۔اس کی مریضہ گرم کمرے میں بھی ٹھنڈک محسوس کرتی ہے۔”سیپیا“ میں پیڑو سے متعلق اعضاءڈھیلے ۔ نیچے کی طرف دبائو، اس احساس کے ساتھ جیسے ہر چیز اندام نہانی سے باہر نکل جائے گی۔ مریضہ ٹانگوں کو کراس کر کے اس کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔یا اندام نہانی کو دباکر رکھتی ہے۔لیکوریا پیلا، سبزی مائل ساتھ شدید خارش۔ماہواری کم مقدار میں ،دیر سے ،بے قاعدہ ،جلدی ہوتی ہے۔درد یں تیز مٹھی میں لینے والی ۔ سوئی گڑنے والی شدیددردیں جواوپر ویجائنہ کو جائیں،رحم سے ناف کی طرف جائیں۔ رحم اور ویجائنہ لٹکی ہوئی۔صبح کی متلی ۔ اندام نہانی کا راستہ پُر درد، خاص طور پر دورانِ مباشرت ۔ ”سیپیا“ کی مزاجی علامات میں کترنے والی بھوک جو کھانے سے بھی کم نہ ہو ، متلی جو خوراک کی خوشبو سے ہو۔ایک طرف لیٹنے سے شدید متلی ،تمباکو نوشی سے بدہضمی،ہر چیز نمکین لگے، صبح کھانے سے پہلے متلی معدے کے گڑھے میں جلن۔ایام حمل میں سرکہ ،ایسڈز اور مرچوں کی خواہش۔تکلیف میں اضافہ دودھ کے بعد جبکہ وہ ابلا ہوا ہو،تیزابی بد ہضمی ، کھٹی ڈکاریں،پیٹ پھولا ہوا،مرغن ،چربی سے نفرت ، اپھارہ سر درد کے ساتھ،درد جگربھی پایا جاتا ہے۔
    ٭-اگر اسقاط حمل کا رجحان دوسرے یا تیسرے مہینے میں عادتاً پایا جائے تو”ایپس میلی فیکا،اورم میور نیٹرو نیٹم ، وائبرنم اوپولس مدر ٹنکچر،وائبرنم پرونی فولیم مدر ٹنکچر“ دوائیں ہیں۔
    ٭-اسقاط حمل کا رجحان اگر کمزوری کے نتیجے میں ہو تو ”الٹرس فیری نوسا ، چائنا، ہیلونائس ، سیکل کار ، کائلوفائلم“ دوائیں ہیں۔
    ٭-عادتاً اسقاط حمل کی دوا” وائبرنم پرونی فولیم“ مدر ٹنکچربھی ہے۔

    خالد محمود اعوان ترتیب و پیش کش:

  • مردانہ کمزوری: وجوہات، علامات اور قدرتی و ہومیوپیتھک علاج کی مکمل گائیڈ

    مردانہ کمزوری: وجوہات، علامات اور قدرتی و ہومیوپیتھک علاج کی مکمل گائیڈ

    مردانہ کمزوری: وجوہات، علامات اور علاج کی مکمل گائیڈ

    مردانہ صحت ہر مرد کی جسمانی، ذہنی اور ازدواجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بہت سے مرد اپنی جنسی یا اعصابی کمزوری کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے۔ شرم، غلط معلومات، اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ علاج میں دیر کر دیتے ہیں، جس سے مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔

    بہت سے مرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر مردانہ کمزوری، سرعتِ انزال، احتلام، جریان، یا جنسی خواہش میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ ہر مسئلہ ایک جیسا نہیں ہوتا، اور ہر مریض کے لیے علاج بھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے درست تشخیص، متوازن غذا، ذہنی سکون، اور مناسب علاج بے حد ضروری ہیں۔

    مردانہ کمزوری کیا ہے؟

    مردانہ کمزوری ایک وسیع اصطلاح ہے۔ عام طور پر اس سے مراد ایسی حالت لی جاتی ہے جس میں مرد کو ازدواجی تعلق کے وقت عضو میں مناسب سختی نہ آئے، سختی برقرار نہ رہے، بہت جلد انزال ہو جائے، یا جنسی خواہش میں نمایاں کمی ہو۔

    • عضو میں مناسب سختی نہ آنا
    • سختی آ کر جلد ختم ہو جانا
    • مباشرت سے پہلے یا دوران ڈھیلا پن
    • بہت جلد انزال
    • جنسی خواہش میں کمی
    • ازدواجی عمل کے بعد غیر معمولی تھکن

    مردانہ بیماریوں کی عام اقسام

    • مردانہ کمزوری
    • سرعتِ انزال
    • احتلام
    • جریان
    • مادہ منویہ کی کمزوری
    • خصیوں میں درد یا سوزش
    • مردانہ بانجھ پن
    • جنسی خواہش میں کمی

    مردانہ کمزوری کی اہم وجوہات

    ذہنی اور نفسیاتی وجوہات

    • ذہنی دباؤ
    • بے چینی
    • ڈپریشن
    • کارکردگی کا خوف
    • ازدواجی کشیدگی
    • منفی سوچ

    جسمانی وجوہات

    • شوگر
    • ہائی بلڈ پریشر
    • موٹاپا
    • دل کی بیماریاں
    • ہارمون کی خرابی
    • اعصابی کمزوری
    • پروسٹیٹ کے مسائل
    • بعض ادویات کے مضر اثرات

    طرزِ زندگی کی غلطیاں

    • نیند کی کمی
    • ورزش نہ کرنا
    • تمباکو نوشی
    • نشہ آور اشیاء
    • فحش مواد کی عادت
    • ضرورت سے زیادہ مشت زنی
    • غلط غذائی عادات

    احتلام کیا ہے؟

    احتلام سے مراد نیند کے دوران منی کا خارج ہونا ہے۔ نوجوانوں میں کبھی کبھار ایسا ہونا عام ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ بار بار ہونے لگے، اس کے بعد شدید کمزوری محسوس ہو، یا دن میں بھی رطوبت آنے لگے تو معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

    جریان کیا ہے؟

    جریان عام طور پر اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں پیشاب سے پہلے یا بعد رطوبت آئے، یا منی جیسے قطرات خارج ہوں۔ بعض افراد ہر سفید رطوبت کو جریان سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ درست تشخیص ضروری ہوتی ہے۔

    سرعتِ انزال کیا ہے؟

    سرعتِ انزال مردوں کا ایک عام مسئلہ ہے جس میں انزال اتنی جلد ہو جاتا ہے کہ ازدواجی اطمینان حاصل نہیں ہو پاتا۔ یہ مسئلہ ذہنی دباؤ، اعصابی کمزوری، ازدواجی خوف، یا حساسیت کی زیادتی سے جڑا ہو سکتا ہے۔

    خصیوں میں درد اور سوزش

    خصیوں میں درد یا سوجن کو معمولی نہیں لینا چاہیے۔ اگر درد شدید ہو، بخار ہو، سوجن ہو، یا چلنے پھرنے میں تکلیف ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ انفیکشن، ورم، یا دیگر سنجیدہ مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔

    مردانہ بانجھ پن

    بانجھ پن صرف عورت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ بہت سے کیسز میں مردانہ عوامل بھی شامل ہوتے ہیں، جیسے سپرم کاؤنٹ کم ہونا، سپرم کی حرکت کم ہونا، ہارمون کی خرابی، خصیوں کی بیماری، یا تمباکو نوشی اور ذہنی دباؤ۔

    بانجھ پن کے شبہ میں semen analysis اور ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بہت اہم ہوتے ہیں۔

    مردانہ بیماریوں میں غذا کی اہمیت

    غذا مردانہ صحت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ کمزور، چکنی، بہت زیادہ مصالحے دار، یا بے وقت غذا اعصابی اور جسمانی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

    مفید غذائیں

    • شہد
    • کھجور
    • بادام
    • اخروٹ
    • انڈے
    • مچھلی
    • دالیں
    • سبز سبزیاں
    • تازہ پھل
    • کدو کے بیج
    • تل
    • پانی مناسب مقدار میں

    پرہیز

    • بہت زیادہ مصالحہ
    • فاسٹ فوڈ
    • کولڈ ڈرنکس
    • تمباکو
    • شراب
    • نشہ آور اشیاء
    • رات گئے بھاری کھانا

    مردانہ طاقت بڑھانے کے قدرتی طریقے

    • روزانہ 7 سے 8 گھنٹے نیند
    • تیز چہل قدمی اور ہلکی ورزش
    • وزن میں کمی
    • ذہنی دباؤ کم کرنا
    • قبض اور بدہضمی کا علاج
    • فحش مواد اور نقصان دہ عادات سے پرہیز

    ہومیوپیتھک نقطۂ نظر

    ہومیوپیتھی میں مردانہ بیماریوں کے لیے ایک ہی دوا سب کو نہیں دی جاتی۔ عموماً دوا کا انتخاب اصل شکایت، ذہنی کیفیت، اعصابی طاقت، جسمانی ساخت، نیند، بھوک، پیاس اور مزاج کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

    لوگ اکثر مختلف دواؤں کی لمبی فہرستیں استعمال کرتے ہیں، لیکن بلند پوٹینسی یا بار بار دوا لینا ہر مریض کے لیے درست نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو شوگر، دل، پروسٹیٹ، خصیوں کے درد، یا جنسی انفیکشن کا مسئلہ ہو تو خود علاج خطرناک ہو سکتا ہے۔

    کب فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

    • خصیوں میں شدید درد یا اچانک سوجن
    • پیشاب میں خون
    • پیشاب میں شدید جلن
    • عضو میں درد یا زخم
    • غیر معمولی اخراج
    • بخار کے ساتھ جنسی علامات
    • بانجھ پن کا شبہ
    • شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ مردانہ کمزوری

    عام غلط فہمیاں

    • ہر احتلام بیماری نہیں ہوتا
    • ہر سفید رطوبت منی نہیں ہوتی
    • زیادہ دوائیں زیادہ فائدہ نہیں دیتیں
    • مردانہ کمزوری صرف جسمانی مسئلہ نہیں ہوتی

    نتیجہ

    مردانہ کمزوری، سرعتِ انزال، احتلام، جریان، اور بانجھ پن جیسے مسائل عام ہیں، لیکن قابلِ توجہ بھی ہیں۔ خاموشی، شرمندگی، یا غیر مستند نسخوں پر انحصار مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔ اصل بہتری اس وقت آتی ہے جب مریض وجہ کو سمجھے، طرزِ زندگی درست کرے، غذا بہتر کرے، ذہنی دباؤ کم کرے، اور ضرورت پڑنے پر مستند معالج یا ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

    اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عمومی معلومات اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے۔ یہ کسی فرد کے لیے ذاتی نسخہ یا حتمی علاج نہیں۔ شدید کمزوری، شوگر، ہارمونل خرابی، خصیوں کی سوزش، یا بانجھ پن کے شبہ میں مستند ڈاکٹر یا ماہر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

    مردانہ کمزوری کیا ہے؟

    مردانہ کمزوری ایسی حالت ہے جس میں مرد کو ازدواجی تعلق کے وقت عضو میں مناسب سختی، سختی برقرار رکھنے، یا جنسی کارکردگی میں مشکل پیش آتی ہے۔

    مردانہ کمزوری کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے چینی، شوگر، موٹاپا، اعصابی کمزوری، نیند کی کمی، تمباکو نوشی، اور غلط غذائی عادات شامل ہیں۔

    سرعت انزال کیا ہے؟

    سرعت انزال اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انزال بہت جلد ہو جاتا ہے اور ازدواجی اطمینان حاصل نہیں ہو پاتا۔

    احتلام کب مسئلہ بنتا ہے؟

    کبھی کبھار احتلام عام ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ بار بار ہو، شدید کمزوری پیدا کرے، یا دن میں بھی رطوبت آنے لگے تو معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

    مردانہ طاقت بڑھانے کے قدرتی طریقے کیا ہیں؟

    مناسب نیند، ورزش، وزن میں کمی، متوازن غذا، ذہنی سکون، اور نقصان دہ عادات سے پرہیز مردانہ صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

  • میڈورائینم بطور ایک پولی کرسٹ

    ٭-میڈورائینم سوزاک کے زہر سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔اس کا استعمال دبی ہوئی موروثی سوزاکی بیماریوں میں ہوتا ہے اور بہت مفید ثابت ہوتی ہے ۔ موروثی سوزاک میں جو مقام میڈورائینم کا ہے وہی موروثی سفلس میں سفلی نم {Syphilinum} کا بیان کیا جاتا ہے ۔اگر یہ دوائیاں استعمال نہ کی جائیں تو یہ بیماریاں زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں اور پیچھا نہیں چھوڑتیں،بار بار حملہ کرتی ہیں۔ضروری نہیں ہے کہ کسی انسان کوخود یہ بیماریاں لا حق ہوئی ہوں،موروثی طور پر ان میں یہ علامتیں پائی جاسکتی ہیں۔
    ٭-ہومیو پیتھک نظریہ یہ ہے کہ سفلس دوسرے طریقہ علاج میں جڑوں سے کبھی نہیں اکھڑتی بلکہ مختلف بھیس بدل لیتی ہیں اور جب اسے ساز گار حالات میسر آئیں تو پھر اصلی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہے۔جدید ترین ایلوپیتھک ریسرچ سے بھی یہ ہومیو پیتھک نظریہ درست ثابت ہوا ہے۔ایڈز پر امریکہ میں ہونے والی ریسرچ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈز کے بہت سے مریضوں کو اچانک سفلس بھی ہو گیا حالانکہ پہلے سفلس کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔جب ان کے خاندانی حالات معلوم کئے گئے تو بعضوں کے متعلق یقینی طور پر علم ہوا کہ ان کے باپ دادا میں سے کسی کو سفلس کی بیماری ہوئی تھی ۔یہ ناپید بیماری مختلف عوارض کے بھیس میں ہمیشہ جسم میں موجود رہی۔یہی حال سوزاک کا بھی ہے۔یہ بھی نسلاً بعد نسل جسم میں موجود رہتا ہے۔اگر اسے جڑ سے نہ اکھیڑا جائے تو اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج بھی سطحی ثابت ہوتے ہیں۔ان دواوں میں سے جو دبے ہوئے سوزاک کا قلع قمع کر سکتی ہیں ان میں ایک”میڈورائینم “ہے جس کی بہت تعریف کی جاتی ہے اور بعض ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہر علاج میڈورائینم سے شروع کرنا چاہیے۔اگر سوزاک کی دبی ہوئی علامتیں موجود ہوئیں تو میڈورائینم کی بہت اُونچی طاقتیں انہیں اچھال کر باہر لے آئیں گی۔ اس کا علاج دراصل دبے ہوئے سوزاک کا علاج ثابت ہو گا اور اس کے بد اثرات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے۔
    ٭-وہ عمومی بیماریاں جو سوزاک کے دب جانے سے جسم میں زہریلے رجحانات کے طور پر چھپی رہتی ہیں جیسے دمہ ،بچوں کا سوکھا پن ،دائمی نزلہ ،داد اور خاص قسم کے مسے۔ حسبِ حالات کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں ۔ ان میں میڈورائینم دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ایسے مسے جو تھوجا کے قابو میں نہیں آتے ان میں میڈورائینم دینا چاہیے۔
    ٭-ایسی عورتیں جن کو شادی کے بعد بعض تکلیفیں مثلاًحیض کے ایام میں بے قاعدگی ،درد اور اعصابی کمزوری وغیرہ آ گھیرتی ہیں۔ انہیں بھی میڈورائینم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
    ٭-’میڈورائینم “ میں سیاہ رنگ والے خون کی ماہواری ہوتی ہے ۔ایسے خون کو دھونایا صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس کی دوا ہے۔
    ٭-’میڈورائینم “خواتین کی خرابیوں میں جس کا تعلق پرانی پیڑو کی بیماریوں سے ہو کام آتی ہے۔
    ٭- ”میڈورائینم “کالیکوریا پتلا، تیزابیت اورچھیلن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکوریا سے مچھلی کی طرح کی بو آتی ہے۔
    ٭- میڈورائینم کا مریض سخت ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے پسینہ بہت آتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں بعض دفعہ اس کی ہتھیلیاں جلتی ہیں مگر اس کے باوجود ہاتھ باری باری ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں۔کبھی دایاں ،کبھی بایاں اور بعض دفعہ دونوں سخت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
    ٭- میڈورائینم کووجع المفاصل اور بائی کی عمومی دردوں میں بہت مفید بتایا جاتا ہے۔
    ٭- میڈورائینم میں بہت سی علامتیں عموماً سورج چڑھنے کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک رہتی ہیں لیکن بعض دوسری علامتیں رات کے وقت بہت بڑھ جاتی ہیں۔
    ٭-میڈورائینم میں رات کو بڑھنے والی تکلیفوں میں بھوتوں یا مردہ لوگوں کا خوابوں میں آنا اورساری رات ڈراونی خوابیں آتے رہنا اس کی نمایاں علامت ہے۔
    ٭- میڈورائینم میں پیشاب کی تکلیفیں بھی رات کو بہت بڑھ جاتی ہیں۔مریض کو بار بار اُٹھنا پڑتا ہے۔ ایسے مریضوں کے پراسٹیٹ گلینڈز یعنی غدہ قدامیہ میں بھی ہر قسم کے ورم اور سوزش کی علامتیں ملتی ہیں۔
    ٭- میڈورائینم میں جسم میں سوئیاں چبھنا اور چھپاکی نکلنا جس کاتعلق شور سے بھی ہوتا ہے ۔
    ٭-میڈورائینم میں پاوں اورٹانگوں پر ورم بھی ملتے ہیں ۔گھٹنے تک ٹانگیں بے حد ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔بعض دفعہ ایسے مریضوں کے تلوے اتنے زود حس ہو جاتے ہیں کہ مریض تلووں کے بل چل ہی نہیں سکتا۔
    ٭- میڈورائینم میں مریض کا وقت بہت آہستہ آہستہ گزرتا ہے ۔
    ٭-میڈورائینم میں بچوں یا لڑکیوں وغیرہ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ایک دم ڈر کے پیچھے دیکھتے ہیں جیسے کوئی پیچھے سے دبے پاوں آ گیا ہو۔
    ٭-میڈورائینم میں ایسا احساس جیسے کچھ چہرے انہیں جھانک رہے ہیں ۔یہ احساس فاسفورس میں بھی پایا جاتا ہے۔بیماریوں کے بعض زہروں کے اثر سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں اندھیرے سے ڈرنے اور گرنے کا خوف پایا جاتا ہے۔سر کی جلد میں تناو جیسے پٹی بندھی ہوئی ہو۔
    ٭-میڈورائینم جلدی امرض اور سر میں سخت سکری کی تکلیف میں بھی کامیاب علاج ہے۔ اس کی بالوں کی علامات نٹرم میور سے ملتی ہیں اور دونوں کا تعلق سوزاکی بیماریوں سے ہے۔بعض اوقات صرف میڈورائینم دینے سے ہی ان بیماریوں کا شافی علاج ہو جاتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں معمولی ذہنی تناوسے آنکھوں کے سامنے چیزیں تھرکنے لگتی ہیں اور نظر دھندلا جاتی ہے اور ایک جگہ نہیں ٹھہرتی ۔کالے یا بھورے دھبے بھی نظر آنے لگتے ہیں اور بعض دفعہ دو چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔اگر یہ علامتیں مزمن ہو جائیں تو بہت اچھی دوا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں وہمی اور خیالی چیزیں نظر آنے لگیں،آنکھوں میں تناوہو،اعصاب کھچے ہوئے محسوس ہوں اور آنکھوں کی پلکیں جھڑ جائیں تو بھی میڈورائینم سے علاج ہو سکتا ہے ۔
    ٭-میڈورائینم مزمن نزلہ میں بہت اُونچی طاقت میں دیاجائے توبہت مفید ہے۔اگر سوزاکی اثر بہت گہرائی تک موجود ہو اور عام دوائیوں کی پہنچ سے باہر ہو۔ تومیڈورائینم CM(ایک لاکھ طاقت) میں یا کم از کم دس ہزار طاقت میں دی جائے ۔
    ٭-میڈورائینم پرانے بہنے والے نزلہ میں اعلیٰ درجہ کی دوا ہے۔
    ٭- اعصابی تناوکی وجہ سے غیر معمولی بھوک لگے اور گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ کھانے کو دل چاہے لیکن کھانا کھا کر مریض کو تسکین نہ ملے،کچھ نہ کچھ اور کھانے کو دل چاہے۔اسی طرح ایسی پیاس محسوس ہو جو پانی پینے کے باوجود بہ بجھے تو ایسی کیفیت میں بھی میڈورائینم مفید ہے۔
    ٭-میڈورائینم اگرجگر کی خرابی کی وجہ سے پیٹ میں پانی بھر جائے ۔بن ران کے گلینڈز کی خرابی اور سوزش میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں قبض کی علامت یہ ہے کہ گول اور سخت اجابت ہوتی ہے اور پیشاب گہرے رنگ کا ،کم مقدار میں اور سخت بدبودارہوتا ہے اور بہت کم آتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں ایسے مریض جن کے جوڑوں میں درد کی وجہ سے چلتے پھرنے میں دقت ہو اور وہ لنگڑے سے ہو جائیں ،ان میں بھی امکان ہے کہ مفید ثابت ہو۔
    ٭-میڈورائینم کثرت پیشاب جو شوگر کی وجہ سے نہیں بلکہ اعصابی تکلیف کی وجہ سے ہو ، اس میں بھی یہ دوا بہت مفید ہے۔
    ٭-” میڈورائینم “ میں احتلام کے نتیجے میں شدید کمزوری ،نامردمی ،سوزاکی پیپ جس کے ساتھ پیشاب کی پوری نالی دکھتی ہے ۔اورمثانے کی نالی میں سوزش پائی جاتی ہے۔
    ٭-” میڈورائینم “ میں پیشاب کرنے کے بعدشدید ٹھنڈک اور کپکپاہٹ پائی جاتی ہے۔پیشاب میں جلن جیسے ابتدائی گنوریا میں پایا جاتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم کاگردے ،مثانے اور پراسٹیٹ گلینڈز کی تکلیفوں سے گہرا تعلق ہے۔اگر گردے کا درد پتھریوں کی وجہ سے نہ ہو بلکہ سوزش کی وجہ سے ہو اس کی مستقل دوا تلاش کرنی چاہیے جو میڈورائینم بھی ہو سکتی ہے۔
    ٭-میڈورائینم کا بہرے پن سے بھی تعلق ہے ۔بعض اوقات کان میں ایسی خرابی جس کا تعلق اعصاب سے ہوتا ہے اور بظاہر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی ۔ایسا بہرہ پن جو مزمن ہو جائے اور بڑھتا چلا جائے اس میں استعمال کر کے دیکھنا چاہئے ۔ میڈورائینم بروقت دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں کھانا چباتے وقت دانت بہت حساس ہو جاتے ہیں۔اس طرح منہ میں زخم جو کٹے پھٹے کناروں والے ہوں ،بننے لگتے ہیں۔
    ٭-میڈورائینم ٹخنوں کی مزمن تکلیفوں میں بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
    ٭-میڈورائینم بعض اوقات اندرونی اعضاءکی مردانہ اور زنانہ بیماریوں میں جو دبے ہوئے سوزاک کی آئینہ دار ہوں بالکل متضاد علامات واقع ہوتی ہیں ۔ جذبات میں یا تو غیر معمولی ہیجان پیدا ہو جاتا ہے یا پھر جذبات بالکل ختم ہو جاتے ہیں بلکہ جنسی تصور سے ہی نفرت ہو جاتی ہے ۔ مریض درمیانی حالت میں نہیں رہتا،ایک انتہا یا دوسری انتہا پر۔
    ٭-میڈورائینم کادمہ سے بھی گہرا تعلق ہے۔دمہ کے لئے عموماً نیٹرم سلف بہت اہم دوا سمجھی جاتی ہے۔جن بچوں میں سوزاک کی علامتیں موروثی طور پر پائی جائیں ان کے دمہ میں اکثر نیٹرم سلف مفید ہے لیکن علامتوں کو واضح کرنے کے لئے میڈورائینم بہتر کام کرتی ہے۔
    ٭-کلکیریا سلف بھی دمہ میں ایک بہت نمایاں اثر دکھانے والی دوا بتائی جاتی ہے۔اگر بلغم بہت گہرا جم جائے اور نکالنے میں سخت دقت پیش آئے اوردوسری علامتی دوائیں کام نہ کریں تومیڈورائینم کام آ سکتی ہے۔
    ٭-میڈورائینم جوڑوں کی تکلیف میں جس میں بجلی کے کوندوں کی طرح درد کی لہریں اُٹھتی ہیں اور چھاتی میں زیادہ شدت سے درد محسوس ہوتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں ریڑھ کی ہڈی کے منکے ایک طرف ہو جائیں اور اعصاب دب جائیں ، دردیں ٹانگوں کی طرف اُترنے والی ہوں یا شیاٹیکا (Sciatica) ہو جائے تو ان سب تکلیفوں میں گہری چھان بین سے علامتی دوا تلاش کرنی چاہئے۔اگر اس طرح تشخیص نہ ہو سکے یا تشخیص کام نہ کرے تو پھر میڈورائینم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اُونچی طاقت میں دے کرہفتہ دس دن اس کا اثر دیکھنا چاہیے۔
    ٭-میڈورائینم میں کمر کی تکلیف کااثر ٹانگوں پرہوتا ہے۔اس میں ایسا بھاری پن پیدا ہو جاتا ہے اور لگتا ہے ٹانگیں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔یہ بھی میڈورائینم کی ایک پہچان ہے۔
    ٭-میڈورائینم میں بعض اوقات تشنج سے دورانِ خون بند ہو جاتا ہے۔اس دوا میں بھی تشنج پایا جاتا ہے،خاص طور پر پنڈلیوں میں ۔میڈورائینم میں تشنج تلووں میں بھی ہوتا ہے اور پاوں میں مڑنے اور اندر کی طرف سکڑنے کا احساس ہوتا ہے۔
    ٭-میڈورائینم کی کئی تکالیف سورج کی تمازت سے بڑھتی ہیں ۔ مرطوب موسم میں اور سمندر کے کنارے آرام آتا ہے۔لیکن بعض تکلیفیں رات کو بڑھتی ہیں ۔
    ٭-میڈورائینم میں برف کے ٹھنڈے پانی کی شدید پیاس، برف بھی کھائے۔سنگترہ اور کچے پھلوں کو کھانے کی شدید طلب۔ مزید مٹھائیاں ،نمک ،چربی والی خوراک کھانے کی خواہش۔اورچکنی خوراک سے نفرت پائی جاتی ہے ۔
    ٭- ” میڈورائینم “ کے مریض بچے احمق اور ان کی ذہنی گروتھ نا مکمل ہوتی ہے۔ناک گندا،ٹانسلز بڑھے ہوئے۔نتھنوں سے گاڑھی ،پیلی میوکس آتی ہے۔منہ سے سانس لینے کی وجہ سے ہونٹ موٹے ہو جاتے ہیں۔
    ٭- ” میڈورائینم “ میں ناک کے پچھلے والے سوراخ سے مواد کا حلق میں مسلسل ٹپکنااور اخراجات کا نکلناپایا جاتا ہے۔
    ٭- ٭- ” میڈورائینم “ کے مریض کے اندررات کو ہائی انرجی پائی جاتی ہے۔سونے میں بہت مشکل اورتگ و دو کرنی پڑے۔رات کو ہائی انرجی کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔
    ٭- ” میڈورائینم “ کے مریض کا وقت بہت آہستگی سے گزرتا ہے خوفزدہ کہ وہ پاگل ہونے جا رہا ہے ۔
    ٭- ” میڈورائینم “ کا مریض یا مریضہ بغیر رونے کے اپنی بات نہ کر سکے افسردگی، ساتھ خود کشی کے خیالات پائے جاتے ہیں۔
    ٭- ” میڈورائینم “ کے مریض کی یادداشت کمزور ہوتی ہے۔
    ٭- ” میڈورائینم “ کا مریض پیٹ کے بل لیٹتا ہے، گھٹنوں کو چھاتی کے ساتھ لگا کر سوتا ہے۔
    ٭- ” میڈورائینم “ جن خاندانوں میں سوزاک کی بیماری ورثہ میں ملی ہو کے جوان مردوں میں دل کی شکایات ۔شدید انفیکشن کی ہسٹری پائی جاتی ہے ۔
    ٭- ” میڈورائینم “ میں جلد پیلی،جس میں مسلسل اور شدید خارش جس میں اضافہ رات کو اور اس کے بارے میں سوچنے سے ہوتا ہے۔
    ٭- ” میڈورائینم “ بچوں کی پاخانے کی جگہ سرخ ۔تانبہ کے رنگ جیسے داغ پائے جاتے ہیں ۔
    ٭- ” میڈورائینم “ میں پھپھوندی کی طرح کا ایک جلدی مرض پایا جاتا ہے۔
    ٭- ” میڈورائینم “ میں گردوں کی جالی دار (اسفنجیہ )ساخت کی سوزش ۔ پیشاب کھل کر اور پیلا۔ رات کو مسلسل پیشاب کرنے کا عمل۔مثانے میں عدم حرکت یا سستی کی وجہ سے پیشاب کی دھار کمزورہوتی ہے۔پیشاب کے زائد اخراج کے بہت سے کیسز کو ٹھیک کیا ہے۔
    ٭- ”میڈورانم“ میں نیچے کمر سے اوپر والے پانچ مہروں میں درد اور چھونے سے حساسیت پائی جائے۔
    ٭- ”میڈورانم“ میں مقعد کی ہڈی،دمچی کی ہڈی اورچوتڑوں کے پیچھے کی طرف دردیں اس کے ارد گرد اور نیچے اعضاءمیں اُترتی ہیں۔
    ٭-”میڈورانم“ میں ٹانگوں میں دردیں جو چوتڑ سے گھٹنوں تک ہوں اور یہ درد صرف چلتے وقت ہوتی ہے۔
    ٭-”میڈورانم“ بائیں طرف کے عرق النساءکی دواہے۔ڈاکٹر برنٹ فرماتے ہیں کہ میں نے پچاس فیصد مریضوں کو بائیں طرف کے عرق النساءکو اس دوا سے ٹھیک کیا ہے۔
    ٭- ”میڈورائینم “کی جذباتی علامات میں اس کی شخصیت اپنی انتہائوں پر ہوتی ہے۔چاہے وہ خارجی اشیاءمیں دلچسپی لینے والا( زیادہ تر) یا مطالعہ باطن کرنے (اپنی ذات کی طرف توجہ دینے والا )۔اس کی قوت حیات کے مرکز میں شدت،واضح ،کھلا ،غیر معمولی فعال اور سوشل ہوتا ہے(بیرونی معاملات میں دلچسی لینے والا)۔دوسرے لوگوں سے ملنے میں آسانی۔عمر کا فرق کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ باتونی،اورکوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔
    ٭- دوسری طرف اس کا مریض دوسری انتہا پر انتہائی شرمیلا،باطنی طور پر بزدل ،تنہائی پسند ہوتا ہے۔
    ٭-مریض کے اندردونوں انتہائیں پائی جاتی ہیں۔بعض دفعہ شدید جذباتی اورمزاج بدلنے والا ہوتا ہے۔
    ٭-اس کے اندر کمینگی،شدت پسندی ،جھگڑالو ہوتا ہے۔والدین اور دوسرے بچوں سے جاذب نظر اور دلکش ہوتا ہے ۔
    ٭-توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔اورمعمولی سی بات پر توجہ دینے والا۔
    ٭- گفتگو میں غلطیاں کرتا ہے۔گزرتے وقت کا تجزیہ کرنے میں مشکل،لکھتے وقت مشکلات کا شکار وغیرہ وغیرہ ہوتا ہے۔

  • پروسٹیٹ گلینڈز

    پروسٹیٹ گلینڈز

    ٭-پروسٹیٹ گلینڈز میں استعمال ہونے والی ادویات میں ”سیبل سیرلوٹیم(ساپال میٹو)تھوجا اوکسی دینٹلس،پیٹروسیلی نم، ہائیڈرنجیا، سالیڈیگو ، پرونس سپائی نوزا،فیرم پکرم، کینتھرس،کونیم میکولم،سٹیفی سیگیریا ، آرنیکا مونٹا،فاسفورس،آئیوڈیم،آرسینی کم آئیوڈائیڈ،بریٹا کارب،پریرا بریوا ،بیلاڈونا،ڈیجی ٹیلس دوائیں استعمال ہوتی ہیں۔

    ”سیبل سیرلوٹیم“
    ٭- ”سیبل سیرلوٹیم“ میں بول تناسلی کے اعضاءمیںزود حسی ۔عام کمزوری اور جنسی کمزوری ۔یہ ٹشوز کی تعمیر میںنیوٹریشن کا کام کرتی ہے۔اس کے اندر سر ،معدہ اور بیضہ دانیوں کی علامات قابل ذکر ہیں ۔ بڑھے ہوئے پروسٹیٹ گلینڈزمیں بلاشبہ بڑی اہمیت کی حامل دوا ہے۔ اس کے اندر بالائی خصیوں کا ورم اور پیشاب کا تکلیف کے ساتھ آنا پایا جاتا ہے۔یہ یوریتھرا کی پروسٹیٹ کی جھلی پر کام کرتی ہے۔پروسٹیٹ کی تکالیف کے ساتھ آنکھ کے انگوری پردہ کی سوزش پائی جاتی ہے۔اس کے اندر ناتوانائی،بے حسی اور بے توجہی پائی جاتی ہے۔
    ٭-”سیبل سیرولوٹیم“جس کا دوسرا نام سال میٹو ہے اس میں رات کو مسلسل پیشاب کرنے کی خواہش ،رات کی بول بستری ،مثانے میں پیشاب کو روکنے والے پٹھے کا فالج۔اس کے اندر مزمن نوعیت کا سوزاک پایا جاتا ہے۔پیشاب کرنا مشکل ہوتا ہے۔سوزش مثانہ ساتھ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا پایا جاتا ہے۔عورتوں میں بیضہ دانیاں سخت اور بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔چھاتیاں سکڑی ہوئی (آئیوڈائیڈ ، کالی آئیوڈائیڈ)نوجوان عورتوں کے اندر جنسی خلل پایا جاتا ہے۔جنسی خواہش کے دبنے کی صورت میںیا جنسی طور پر بدچلنی کے نتیجے میں ہو۔
    تھوجا
    ٭-”تھوجا“میں پروسٹیٹ گلینڈز بڑھے ہوئے۔اس کا اثراعضائے تناسل و بول پر ہوتا ہے۔ سائیکوسس کے نتیجے میں خون کی خرابی پائی جاتی ہے۔مسلز اور جوڑوں میں سوزاکی دردیں۔ہائیڈروجنی ساخت کے مریض ،لگاتار کمزوری اور تھکاوٹ پائی جاتی ہے۔اس کا مریض اپنے نظریات پر بضدہوتا ہے۔ایسا محسوس ہو کہ اس کے ساتھ کوئی لیٹا ہوا ہے۔جیسے پیٹ میں کوئی زندہ چیز موجود ہے۔سوزاکی ہسٹری پائی جاتی ہے۔سر ذکراور حشفہ میں سوزش،سوزاکی روماٹزم،مثانے سے پیشاب باہر نکالنے والی نالی کی سوجن جس کے ساتھ پیشاب کی دھار پھٹی ہوئی ۔ پیشاب کرنے کے بعد مثانے سے پیشاب باہر نکالنے والی نالی میں گدگدی کا احساس،اچانک اور جلدی پیشاب کرنے کی خواہش جس کو کنٹرول کرنا مشکل ہو۔مسلسل پیشاب کرنے کی خواہش،پیٹ کے نیچے درد پائی جاتی ہے۔
    ٭-”تھوجا“سوزاک میں استعمال ہونے والی ایک بہترین دوا ہے جب اس کے اخراجات پتلے سبزی مائل پیشاب کرتے وقت اُبلتے ہوئے گرم دردیں پائی جائیں۔پیشاب کرنے کے بعد یہ احساس کہ مثانے میں چند قطرے ابھی باقی ہیں۔اعضائے تناسلی ،مقعد اور سیون کی میوکس کی سطح پر پر موہکے یا کنڈائی لوماٹا(آتشکی آبلہ)پایا جاتا ہے ۔ عورتوں کے اعضائے تناسلی پر پھول گوبھی کی طرح کے بد گوشت پائے جائیں۔جماع سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے نتیجے میں پھپھوندی(بدنما گوشت)پایا جاتا ہے ۔گاڑھا سبزی مائل لیکوریا،جوڑ سے متعلق روماٹزم یا پروسٹیٹ کی سوزش جیسی تکالیف سوزاک کے دبنے کے نتیجے میں پائی جاتی ہیں۔
    ٭-مثانے کی نالی کی سوزش میں جب سائیکوٹیک مریضوں میں کنابس سٹائیوا فیل ہو جائے اور علامات میں پیشاب دو دھاری ہو اور پیشاب کرنے کے بعد جلن پائی جائے ،ساتھ اخراجات گاڑھے ہوں تو تھوجا استعمال کرنی چاہیے۔٭-مثانے میں پیشاب کو روکنے والے پٹھے کا فالج۔یہ علامات دراصل سوزاک کے دبنے کے نتیجے میں ہوتی ہیں ایسے مریضوں میںجسم پر وارٹس (موہکے ) پیدا ہونے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے تو ”تھوجا“ دوا ہے۔

    ”پیٹروسیلی نم“
    ٭-”پیٹروسیلی نم“ ۰۳(پارسلے)اجوائن خراسانی سے بنتی ہے یہ باورچی خانے میں استعمال ہونے والی چیز ہے ۔لیکن اس سے بننے والی دوا ”پیٹروسیلی نم ۰۳ طاقت میںجنسی اعضاءکو تحریک دینے میں استعمال ہوتی ہے۔
    ٭-”پیٹروسیلی نم“ میں سیون سے ہوتی ہوئی پیشاب کی نالی میں جو مثانے سے شروع ہوتی ہے میں جلن،گدگداہٹ پائی جاتی ہے۔اچانک زور لگا کر پیشاب کرنے کی کوشش۔پیشاب کرنے کی نہ ختم ہونے کی خواہش ۔ مثانے کی نالی میں گہرائی میںشدید کاٹنے والی درد اورخارش پائی جاتی ہے۔٭-”پیٹروسیلی نم “ میں پیشاب کی علامات اس کی بنیادی کنجی ہے۔اس کے ساتھ بواسیر کے ساتھ شدید خارش پائی جاتی ہے۔ ٭-”پیٹروسیلی نم “ میں پیشاب کی علامات میں جلن ، گدگدی ، سیون سے ہوتی ہوئی تمام مثانے سے پیشاب کے اخراج کی نالی میں پائی جائے ۔ اچانک شدید پیشاب کی حاجت،مسلسل جنسی گدگدی فرج اور اس کے لبوں کے درمیان خلاکے کم گہرے چھید میں پائی جائے۔ ٭- ”پیٹروسیلی نم “ میں گنوریا،اچانک پیشاب کرنے کی ناقابل مزاحمت خواہش، یوریتھرا میںبہت گہرائی میںشدید کاٹنے والی ،خارش پائی جائے،دودھیا اخراجات ۔ ٭-”پیٹروسیلی نم “ کا مریض پیاسا ،بھوکا ہوتا ہے ،لیکن کھانا پینا شروع کرتے ہی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔

    ”سالیڈیگو ورگورا“
    ٭-”سالیڈیگو ورگا“میں گردوں کے مقام پر دردیں ساتھ پیشاب مشکل سے آئے۔اس میں گردے درد سے حساس ہوں۔پیشاب مشکل سے اور کم مقدار میں آتا ہے۔ ساتھ پتھریاں پائی جائیں۔گردوں اورپیشاب کی علامات بہت اہم ہیں ۔ اس کا استعمال جب پروسٹیٹ کی تکالیف کے ساتھ سوزش مثانہ اور گردوں کی تکالیف پائی جائیں۔درد گردوں سے پیٹ اور مثانہ کی طرف بڑھے ۔ صاف اور ناگوار بو پائی جائے۔پیشاب کے رک جانے میں بہت مفید دوا ہے اور کیتھیڈر کے غیر ضروری استعمال کو ختم کرتی ہے۔ ٭- ”سالیڈیگو ورگورا“ میںپیشاب کم اور سرخی مائل براو ¿ن ، مشکل سے آئے پتھریوں کی گاڑھی تلچھٹ بیٹھے ۔ پیشاب مشکل سے اور کم مقدار میں آئے۔البیومن ،خونی اور چکنا پیشاب پایا جاتا ہے۔نیچے کے اعضاءکی جلد کا پھٹنا جس کے ساتھ پیشاب کی تکالیف پائی جائیں،استقاءاور گینگرین ہونے کا خطر ہ پایا جاتا ہے۔

    ”پریونس سپائی نوزا“
    ٭-”پریونس سپائی نوزا“کااثر خاص طور پر آلات بول اور سر پر ہوتا ہے۔ خاص قسم کی اعصابی دردوں میں اہم ہے۔استسقاءعام اور ”جلندھر“(جگر اور گردوں کی خرابی کے نتیجے میں ٹشوز میں پانی کا بھر جانا)اور خاص طور پرپاو ¿ں کے چبوترے پراس کا اثرہوتا ہے۔ٹخنوں اور پاو ¿ں میں موچ کا احساس ، بائیں طرف کے پلکوں کے اعصابی دردیں پائی جائیں۔(سپائی جیلیا) مفید ہے۔
    ٭-”پرونس سپائی نوزا“میںبڑھے ہوئے پروسٹیٹ ساتھ پیشاب کے رک جانے کی علامات پائی جاتی ہیں۔پیشاب کرنے میں جلدی کرنا پڑے ۔ مثانے میں مروڑ ،پیشاب کے رک جانے میں مفیدہے جب کافی دیر تک پیشاب کو روکے رکھنے کے بعد پیشاب کرنے سے قبل درد پایا جائے ۔ اعصابی نوعیت کی تکلیف میں پیشاب تکلیف سے آئے۔پیشاب کو زور لگا کرباہر نکالنے کی غیر مو ¿ثر کوشش پائی جائے۔٭-”پریونس سپائی نوزا“ میں مثانے میں مروڑ،پیشاب کرنے کی ناکام کوشش،پیشاب کرنے کے لئے جلدی بھاگ کر جانا پڑے لیکن پیشاب سر ذکر تک پہنچ کرواپس لوٹ جائے جس سے مثانے میں کی نالی میں درد پیدا ہو۔کافی انتظار کے بعد پیشاب اُترے ۔لیکن اس کی دھار پتلی ہو۔

    ”فیرم پکرم“
    ٭-”فیرم پکرم“بڑھاپے میںپروسٹیٹ کے بڑھ جانے میں ایک مفید دوا ہے۔(ڈاکٹر بورک) کے مطابق دوسری ادویات کے عمل کو مکمل کرنے میں بہترین کام کرتی ہے۔رات کو سلسل البول پایا جائے۔مقعد میں دباو ¿ اور بھرا ہوا ہونے کا احساس،مثانے کی گردن میں مسلسل درد پائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اس کے اندر علامات میں٭-”فیرم پکریکم“یہ ان مریضوں پر زیادہ بہتر کام کرتی ہے جن کے بال کالے ،جسم پھولے ہوئے ، جگر میں حساسیت پائی جاتی ہے۔اس کی علامات میں اضافہ کسی عضو کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں آتا ہے۔ جیسے زیادہ بولنے سے گلے کی تکالیف جنسی فعل کے نتیجے میں نامردمی،وغیرہ وغیرہ۔موہکے ،ٹشوز پرسطحی لئیر کی گروتھ،چنڈیاں جن کی رنگت پیلاہٹ مائل ہودیکھنے میں ان کے اندر پس لگے لیکن پس نہیں ہوتی،بڑھاپے میں پراسٹیٹ کا بڑھ جانا۔نکسیر پائی جاتی ہے۔اس کے اندرمزمن نوعیت کا بہرہ پن اور گاو ¿ٹ کے نتیجے میں کانوں میں سنسناہٹ پائی جاتی ہے۔کان اور ناک کے سوراخ میں خشکی ،خون میں سفید خلیات کا مصنوعی طور پر بڑھ جانا پایا جاتا ہے۔

    ” کینتھرس“
    ٭-”کینتھرس“ میں دماغ میں جلن،ایسا احساس کہ دماغ میں پانی ابل رہا ہے۔چکر جس میں اضافہ کھلی میں ہوتا ہے۔
    ٭-” کینتھرس “بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کی بہترین دوا ہے ۔ساتھ دورانِ پیشاب جلن پائی جاتی ہے۔جلن دار دردیں ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت جسے زور سے باہر نکالنے کی کوشش کرے ،لیکن چند قطرے پیشاب کے نکلیں۔تمام دردوں میں جلن،خراش دار ،کچا پن،کاٹنے والی ڈنگ لگنے والی اور مسلسل درد پایا جاتا ہے۔پیڑو والے حصے میں سوزش کے ساتھ شدید جنسی خواہش بیدار ہوپائی جاتی ہے ۔ مسلسل پیشاب کو باہر نکالنے کی ناقابل برداشت کوشش پر درد پیشاب کرنے کا عمل پیشاب سے پہلے درمیان میں اور بعد میں پایا جاتا ہے۔اس وقت صرف چند قطرے پیشاب کے کر سکے مثانے اور مثانے سے لے کر نالی تک شدید جلن دار دردیں اور نوچنے والی خارش پائی جاتی ہے۔علامات میں اضافہ پانی پینے سے یا کافی پینے سے ،چمکدار چیزوں کو دیکھنے سے ،پانی کی آواز سے ہوتا ہے۔مریض بہتر ی محسوس کرتا ہے گرمی پہنچنے سے رگڑنے سے اور مساج کرنے سے آتی ہے۔
    ٭- ” کینتھرس“سوزش کے ساتھ مثانے کی خرابی جس میں بار بار پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔ ناقابل برداشت زور دے کر پیشاب کو باہر نکالنا،ورم گردہ جس کے ساتھ خونی پیشاب ہو، اچانک پورے گردے کے ارد گردشدیدکاٹنے والی اور جلن دار دردیں۔اس میں پیشاب کرنے سے پہلے ،درمیان میں اور بعد میں کاٹنے والی اور جلن دار دردیں ہوتی ہیں۔ مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت جو قطرہ قطرہ آئے اور ایسا محسوس ہو جیسے گرم پانی سے جل رہا ہو۔
    ڈیجی ٹیلس
    ٭-”ڈیجی ٹیلس “پیشاب کو زور سے باہرنکالنے کی مسلسل حاجت، گہرے رنگ کا گرم،جلن دار جس کے ساتھ تیز کاٹنے والی دردیں یا مثانے کی گردن میں تپکن ،ایسے جیسے کوئی تنکازور سے آگے اور پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔زیادہ تر تکالیف رات کو ہوتی ہیں۔حبس البول ،گدلا جس سے امونیا (نوشادر کی گیس) کی بو والا،مثانے کی نالی کی سوزش،پیشاب کا قطرہ قطرہ تکلیف سے آنا،آلہ تناسل کی تنی ہوئی جلد جس سے خون سرذکر تک نہیں پہنچ سکتا ،پیشاب کرنے کے بعد بھی یہ احساس کہ ابھی مثانہ بھرا ہوا ہے۔مثانہ ایسا لگے جیسے چھوٹا ہو گیا اس میں جلن اور گھٹن پائی جائے۔اینٹوں کے بھورے کی تلچھٹ نیچے بیٹھی ہوئی پائی جائے تو ”ڈیجی ٹیلس “دوا ہے۔ مسلسل زور دے کر پیشاب باہر کی کوشش لیکن پیشاب کم آئے،کافی کے رنگ اور اینٹ کے بھورے کی تلچھٹ(لائیکوپوڈیم کی طرح)۔نبض شدید کمزور اور لگاتاریاسست ،بھری ہوئی سست نبض پائی جاتی ہے۔
    ”پریرا بریوا “
    ٭- ”پریرا بریوا “ میں سوزش مثانہ،پیشاب زور دے کر نکالنا پڑے۔ تکالیف میں اضافہ آدھی رات کے بعد بڑھے۔پیشاب صرف گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر یاان کو آگے کی طرف موڑنے پر آئے۔پیشاب کی نالی میں گرم پانی کی طرح کی جلن کے ساتھ رانوں میں شدید دردیں ان میں اضافہ قطرہ قطرہ پیشاب آنے کے بعد ہو۔پیشاب سے نوشادر کی طرح کی بوساتھ گاڑی سفید میوکس پائی جاتی ہے۔”بربرس“ کی دردیں چوتڑوں میں جب کہ ”پریرابریوا“ میںرانوں پر ہوتی ہے۔
    ٭-”پریرا بریوا“میں بڑھے ہوئے پروسٹیٹ گلینڈز ساتھ پیشاب کا رک جانا۔دردیں نیچے رانوں تک پھیلیں۔سوزش مثانہ ساتھ پروسٹیٹ کی خرابیاں ۔سوزاک پایا جاتا ہے۔پریرا بریوا کے اندر سلسل البول کے بعدپیشاب کا ٹپکنا ۔مثانے میں شدید درد اسی وقت کمر میں درد ،بائیں خصیے میںدرد اوپر کو چڑھے ہوئے۔مسلسل نیچے رانوں میں دردپیشاب کی کوشش کرتے وقت گولی کی طرح کے دردپاو ¿ں کے تلوو ¿ں اور انگوٹھے تک جائیں۔گردوں کے مقام پر کچلے جانے والی دردیں۔سلسل البول مشکل سے ہو۔کافی محنت کے بعد صرف قطروں کی صورت میں اترے یہ احساس کہ مثانہ بھرا ہوا ہے۔ٹانگوں اور پاو ¿ں پرسوجن،سوزش مثانہ ،پیشاب خارج کرتے وقت شدید دردمثانے سے میوکس خارج ہو۔
    پیشاب کے قطرہ قطرہ آتے وقت شدید تشنجی درد۔مریض اونچی آواز میں چیخے لیکن لا حاصل ۔پیشاب اس وقت آئے جب گھٹنوں کے بل ہو کر ہاتھوں کو فرش پر مخالف سمت میں دبائے۔اس حالت میں دس سے بیس منٹ تک رہے،پسینہ خارج ہوپھر جا کردرد سے ساتھ قطرہ پیشا ب کا خارج ہو۔ جلن دار دردآلہ تناسل کے گلینڈز میں پائے جائیں۔پیشاب کے اندر شدید نوعیت کی امونیا (نوشادر)کی بو ،ساتھ بڑی مقدار میںلیسدار،گاڑھی سفید میوکس پائی جائے۔پیشاب کی رنگت کالی ،خونی جھاگدار جس کے نیچے یورک ایسڈ کی اینٹوں کے بورے کی طرح کی گہرے سرخ رنگ کی تلچھٹ اور میوکس پائی جائے۔ تین سے چھ بجے صبح تشنج ظاہر ہو۔دن کے باقی وقت بہتر رہے۔
    چیموفیلا امبیلاٹا
    ٭-”چیموفیلا امبیلاٹا“کا بنیادی طور پر اثر گردوں پر، آلات بول کے راستے پر،اس کامزید اثر لمف گلینڈز ،انتڑیوں کے گلینڈز اور عورتوں کے پستانوں پر پایا جاتا ہے۔ اس کی مریضائیں نوجوان لڑکیاں جو پھولی ہوئی جن کا پیشاب مشکل سے آئے۔چھاتیاں ناکارہ ،دبلا پن کا شکار ۔جگر اور گردوں کی خرابی کے نتیجے میں استسقاء،پرانے الکحل پینے والوں کی۔
    ٭-”چیموفیلا امبیلاٹا“ میںبندش ادرار،پیشاب گدلا،ناگوار بو والا جس کے اندردھاگے دار یا خونی میوکس ،کھل کر تلچھٹ نیچے بیٹھے۔سلسل البول کے دوران جلن اور کھولتا ہوا پانی کا گزرنا پایا جاتا ہے۔پیشاب اُترنے سے پہلے زور لگانا پڑے۔پیشاب کم آئے،حاد قسم کی پروسٹیٹ کی سوزش ، پیشاب رُکا ہوا اورمقعد اور خصیوں کے درمیان والا حصے میں ایسا احساس کہ گیند رکھا ہوا ہے۔(کینابس انڈیکا)۔گردوں والی جگہ پر پھڑپھڑاہٹ ، پیشاب میں شوگر،کھڑے ہونے اور ٹانگیں چوڑی کرنے اور آگے کی طرف جھکنے کے بغیر پیشاب نہ اترے۔
    ٭-”چیموفیلا امبیلاٹا“ میںیوریتھرا سے مسلسل درد جو مثانے سے لے کر سوراخ تک جائے۔پیپ ،پروسٹیٹ کے مادہ کی کمی۔پروسٹیٹ بڑھے ہوئے اور اس میںگدگدی پائی جاتی ہے۔
    اوا اُرسی
    ٭-”اوا ارسی“ میںپیشاب سے تعلق رکھنے والی بہت اہم علامات پائی جاتی ہیں۔سوزش مثانہ ساتھ خونی پیشاب۔رحم سے اخراج خون۔مثانے میں مزمن قسم کی گدگداہٹ ساتھ درد،مروڑ اور میوکس کے اخراجات۔کیچڑ سے بھرا پیشاب۔ورم حوض گردہ پایا جاتا ہے۔
    ٭-”اوا ارسی“میںمثانے میں شدیدتشنجی ،جلن دار اور شدید دردیں کے ساتھ مسلسل پیشاب کرنے پر مجبور کر دینے کی حاجت،پیشاب کے اندر خون ،پس اور چپکنے والی میوکس پائی جاتی ہے۔ ساتھ عمودی طور پر کلاٹس پائے جائیں ، غیر ارادی طور پر سبز پیشاب کا نکلنا پایا جائے۔درد کے ساتھ پیشاب قطر ہ قطرہ آئے ۔ایک چوتڑ سے دوسرے چوتڑ تک شوٹنگ پین ، مثانہ اور پیشاب کی نالی حساس،سبز پیشاب،خون ملا پیشاب،چکنا،پیپ والا پیشاب ” اوا ارسی “دوا ہے۔٭-”اوا ارسی“میںپر درد مسلسل پیشاب کرنا،لیس دار مواد کے ساتھ خونی اخراج کے بعد جلن پائی جاتی ہے۔ایک چوتڑسے دوسرے چوتڑ تک شوٹنگ پین،مثانہ اور پیشاب کی نالی حساس ، سبز پیشاب،خون ملا پیشاب ، چکنا ، پیپ والا پیشاب پایا جاتا ہے ۔

    سٹیفی سگیریا
    ٭-”سٹیفی سگیریا“میںبڑھے ہوئے پروسٹیٹ کو شفا بخشنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ان کے اندر مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت خاص طور بوڑھے آدمیوں میں۔ مسلسل تنگ کرنے والا، ساتھ پیشاب ٹپکے۔مسلسل پیشاب کرنے پر مجبور ہو لیکن کم مقدار میں آئے۔اس میں پیشاب کے دوران اور بعد میں جلن پائی جاتی ہے۔پیشاب کی دھار بڑی کمزور یا قطرہ قطرہ آئے۔ساتھ یہ احساس کہ مثانہ خالی نہیں ہوا۔مردوں میں بے چین کرنے والاجنسی جوش پایا جاتا ہے لیکن نامردمی ،جنسی اعضاءمیں کمزوری،جنسی خواہش بڑھی ہوئی لیکن نامردمی پائی جاتی ہے۔
    کونیم
    ٭-”کونیم“ کے اندر پیشاب کا آتے آتے اچانک بند ہو جائے لیکن کچھ دیر پھر شروع ہو جائے۔دورانِ پیشاب مثانے میں کاٹنے والی دردیں ۔ پیشاب کے مسائل مثانے کی کمزوری کی وجہ سے اور پروسٹیٹ گلینڈز کے غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ہو۔مسلسل زور دے کر پیشاب کا قطرہ قطرہ جس کے ساتھ مثانے میں جلن،سلسل البول کے دوران گرمی کا احساس ۔ رات کو دو بجے کے قریب لگاتار پایا جاتا ہے۔بوڑھوں میں پیشاب کا ٹپکنا ۔کیچڑ سے بھرا،لیسدار اور گاڑھا،پیشاب کھڑے ہوئے حالت میںآسانی سے خارج ہوتا ہے۔شروع میں پیشاب کچھ بھی خارج نہ ہو چاہے آپ کھڑے ہی ہوں لیکن کچھ دیر بعد کھل کر شروع ہو جائے۔
    بیلاڈونا
    ٭-”بیلاڈونا“ کے اندر پروسٹیٹک ہائپر ٹرافی(پروسٹیٹ کے سیلز اپنے سائز سے بڑھ جاتے ہیں)۔پیشاب میں رکاوٹ،حاد قسم کی عفونت ۔ مثانے کے اندرحرکت کا احساس جیسے کوئی کیڑا رینگ رہا ہے ۔ پیشاب کم مقدار میں،ساتھ مروڑ گہرا اور لیسدار فاسفیٹ سے بھرا ہوا۔مثانے کے ارد گرد حساسیت،غیر ارادی طور پیشاب کا نکلتے رہنا ،مسلسل قطرہ قطرہ بہے ۔ مسلسل اور وافر مقدار میں۔بیلاڈونا میں خون ملا پیشاب پایا جاتا ہے جب کہ تشخیصی طور پر اس کی کوئی وجہ معلوم نہ ہو۔