primekunst.com

Category: پیٹ کے امراض

پیٹ انسانی جسم میں بہت اہمیت کا حامل ہے. معدہ کا کام خوراک کے انسانی جسم کے لیے طاقت مہیا کرنا ہوتاہے. کہا جاتاہے کہ اگر معدہ ٹھیک کام کر رہا ہو تو سارا جسم ٹھیک کام کرتاہے. اس کے علاوہ جگر گردے سب اہم اعضا پیٹ کے اندر ہی واقع ہوتے ہیں.

  • قبض ،اسہال اور ان میں استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

    قبض ،اسہال اور ان میں استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

    قبض ،اسہال اور ان میں استعمال ہونے والی ہومیو پیتھی ادویات

    ترتیب ،تحقیق و پیشکش:
    خالد محمود اعوان

    انتڑیاں فضلات کو خارج کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کریں یا انتڑیاں فضلات کو روکنے لگیں تو ایسی علامات کو قبض کہا جاتا ہے

    قبض کی وجوہات اور اس کے ممکنہ نقصانات
    ٭-بیٹھے رہنے کا طرزِ زندگی یا عدم حرکت
    ٭-ریشہ دار خوراک کی کمی
    ٭-جلاب آورچیزوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال
    ٭-ہارمونل خرابیاں
    ٭-مخصوص ادویات جیسے اینٹی ڈپریشن،منشیات ،دافع تشنج ادویات کا استعمال
    ٭-بڑی آنت سے تعلق رکھنے والی بیماریاں
    ٭-پیڑو کے مسلز کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنا
    ٭-ذہنی دباﺅ
    ٭- مقعد سے تعلق رکھنے والی ادویات
    ٭-اینڈوکرائن گلینڈز(بلا نالی کے گلینڈزجن میں سے رطوبت کا اخراج ہوتا ہے)یا میٹا بولیٹک بیماریاں جیسے ذیابیطس،ہائپر تھائیرائیڈینم وغیرہ ۔
    ٭-پانی کا کم استعمال وغیرہ وغیرہ۔

    قبض کی علامات
    ٭-پاخانہ سخت،خشک یا گٹھلی دار
    ٭- ہفتے میں تین سے کم بار آنتوں میں حرکت پیدا ہونا
    ٭-آنتوں کی حرکت سے دباﺅ پڑنا
    ٭-آنتوں کی حرکت سے درد یا خون کا اخراج
    ٭-پھولا ہوا یا سست محسوس ہونا
    ٭-آنتوں کی حرکت کے بعدایسا محسوس ہو کہ ابھی پاخانہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    قبض سے محفوظ رہنے کے لئے
    ٭-پانی کے استعمال کو بڑھا دیں۔کم از کم آٹھ سے دس گلاس دن میں استعمال کریں۔
    ٭-ریشہ دار خوراک کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔جیسے براﺅن چاول،بغیر چھنے آٹے کی روٹی، اوٹس وغیرہ کا استعمال ۔
    ٭-ہلکی ورزش جیسے چلناباقاعدگی کے ساتھ
    ٭-مرغن غذاﺅں سے اجتناب۔مکھن ،کریم اور زیتون کے تیل کا استعمال کسی حد تک کر سکتے ہیں اس سے آنتیں نرم ہو جاتی ہیں ۔زیادہ استعمال سے اسہال ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
    ٭-ملین( قبض دور کرنے والی اشیائ)کا استعمال لیکن ضرورت سے زیادہ اجتناب کرنا چاہیے۔
    ٭-ضدی قبض میں ضرورت کے مطابق انیمیا کیا جا سکتا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے۔

    ٭-قبض میں استعمال ہونے والی بہترین ادویات:
    ایلومن،اوپیم ،برائی اونیا، گریفائٹس، لائیکوپوڈیم، نٹرم میور ،نکس وامیکا ،پلمبم مٹیلی کم،سیپیا ،سلفر

    ALUMINA
    قبض
    ٭-ایلومینا=کی رہنما علامتوں میں بلغمی جھلیوں کی خشکی اور پٹھوں کا جزوی فالج پایا جاتا ہے ۔یہ دوا ان بوڑھوں کے لئے مفید ہے جن کی حرارت غریزی کمزور ہو یا وہ جو وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے ہوں مفید ہے ۔ جسمانی افعال میں عام سستی آتی ہے ۔ پاخانے خشک ، سخت، گانٹھ دار ۔آنتوں کے ٹریک میں خشکی کے نتیجے میں قبض ۔ حرکت دوری میں کمی اور مقعد میں بے عملی ہوتی ہے۔پاخانہ کرنے کی خواہش نہیں ہوتی۔مقعد درد کرتی ہے،خشک سوزش والی اس سے اخراج خون ہو ۔ مقعد میں جلن اور نوچنے والی خارش ۔ نرم اجابت بھی مشکل سے خارج ہو ۔ اس کی اجابت میں بوجھ نہیں پڑتا اگر پڑتا بھی ہے تو معمولی قسم کا۔فالجی اثر بعض اوقات مثانے پر پڑتا ہے اور مقعد پر بھی،پیشاب پوری طرح خارج کرنے کے لئے بھی اور فضلہ نکالنے کے لئے بھی مسلسل زور لگانا پڑتا ہے۔فضلہ نرم بھی ہو تو زور لگائے بغیر نہیں نکلتا۔ پیشاب کی علامتیں پراسٹیٹ گلینڈز بڑھ جانے کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔بسا اوقات اجابت کی شکل بکری کی مینگنیوںیا اونٹ اور گھوڑے کی لیدسے ملتی ہے یعنی چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی گٹھلیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ چپکنے سے جو فضلہ بنتا ہے کبھی پتلا اور کبھی موٹا ہوتا ہے اور خارج ہوتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔یہ بچوں کے قبض کی مفید دوا ہے ۔جب مقعد خشک،سوجی ہوئی اور اس کے سوراخ سے خون آتا ہے ۔ایلومینا کا برائی اونیاسے فرق مقعد کی بے عملی میں ہوتا ہے ۔ منہ خشک اور زبان دیکھنے میں مشتعل نظر آتی ہے۔
    BRYONIA ALBA
    قبض
    ٭-برائی اونیا= آنتوں میںخشکی کے نتیجے میں قبض ہوتی ہے۔فضلہ لمبا،سخت،خشک اور بھورے رنگ کا جس میں جلن ہوتی ہے۔اجابت کے لئے دباو نہیں ہوتا۔ایلومینا کی قبض میں بھی خشکی پائی جاتی ہے ۔ فرق یہ ہے کہ ایلومینا میں مقعد میں فضلے کو نکالنے کی مکمل طور پر اہلیت نہیں ہوتی۔ نرم پاخانہ نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔برائی اونیاکا فضلہ بھی بڑی مشکل سے خارج ہوتا ہے، لیکن یہ آنتوں کی ناطاقتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہی علامت ویراٹرم البم اور اوپیم میں بھی پائی جاتی ہے۔ نکس وامیکا میں بھی ایسی ہی قبض دیکھی گئی ہے ۔ایسی قبض جو گاہ بگاہ عود کرنے والی ہو۔جس میں باقاعدگی نہ ہوشفا پاتی ہے۔برائی اونیامیں حرکت دوری کے عمل کی کمی وجہ سے ہوتا ہے۔برائی اونیا اس قبض میں شفا دیتی ہے جب اس کی آنتوں میں جوس کے رسنے کی مقدار کم ہولیکن مسلز کا کام بھر پور ہو۔جوان بچوں کی قبض برائی اونیا 30 سے صحت یاب ہو تی ہے۔ تمام میوکس ممبران میں خشکی۔پیاس بڑھی ہوئی ،ذائقہ تلخ ، فم معدہ میں ذکی الحسی ،معدہ میں پتھر کا سا احساس ، پاخانے لمبے اور خشک اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس کے مریض کی ذہنی علامات میں چڑچڑاپن ،رویہ بیماروں والا اور ہذیان ہوتا ہے۔ ساتھ قبض لازم و ملزوم ہوتی ہے۔اس کا مریض سوچتا ہے کہ وہ گھر سے بہت دور ہے اُسے گھر جانا چاہیے۔موسم سرما کی گٹھیاوی دردوں میں بہترین کام کرتی ہے۔اس کا مریض جذباتی طور پر ،جسمانی طور پر، اور دماغی طور پر خشک ہوتا ہے۔تنہا رہنا چاہتا ہے۔کوئی اسے ڈسٹرب نہ کرے۔ اس خشکی کو دُوراوربیلنس کرنے کے لئے مسلسل زیادہ مقدار میں پانی پیتا ہے۔ ایسی ضدی قبض میں پرانے رائٹرزنکس وامیکا اور برائی اونیا کو ادل بدل کر استعمال کیا کرتے تھے۔
    GRAPHITES
    قبض
    ٭- گریفائٹس=قبض میں استعمال ہونے والی ادویات میں سے ایک بہترین دوا ہے۔اس دوا میں بار بار حاجت نہیں ہوتی۔ اس کا مریض کئی کئی دن تک بغیر پاخانہ کے رہتا ہے۔ فضلہ انتڑیوں کے نچلے حصہ میں بڑے بڑے ٹکڑوں کی شکل میں تہ بہ تہ جمع ہوتا رہتا ہے ۔اس کے فضلے چھوٹے چھوٹے گیند، گٹھیلا ،میوکس میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔جلن دار خونی بواسیر،سخت قبض ، فشرز کی وجہ سے مقعد میں شدید درد ہوتی ہے ۔یہ فشرز ایسے جیسے خونی بواسیر ساتھ ہو۔ جلن ،شدید درد اور ناقابل برداشت خارش ہوتی ہے ۔ پاخانہ کے بعد صفائی کرتے وقت شدید درد ہوتا ہے ۔ یہ دکھن اس کے استعمال کی ایک اہم علامت ہے۔ عام طور پرتین یا چار ادویات مقعد کے فشرز کے استعمال میں ذہن میں آتی ہیں۔وہ سلیشیا، نائٹرک ایسڈ ، پائی اونیا اور رٹینیا ہیں ۔ فشرزکی ان علامت کو اکثر گریفائٹس کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔پاخانے کے بعد مقعد میں درد گریفائٹس کی بنیادی علامت ہے ۔ بعض اوقات اس میں اجابت کرنے کا دباﺅ ہوتا ہے۔پاخانہ میوکس سے لپٹا ہوا ۔مقعد میں شدید درد ہوتا ہے۔گریفائٹس کے مزاج میں اداسی ۔ اگر ساتھ توند نکلی ہوئی ہو تو دوا کے انتخاب میں آسانی ہو جاتی ہے۔ معدہ اور پیٹ کی ایسی کیفیت جو ٹیپ ورم کی حوصلہ افزائی کرتی ہو میں مفید ہے۔گریفائٹس عورتوں میں زیادہ موافق آتی ہے۔
    LYCOPODIUM CLAVATUM
    قبض
    ٭-لائیکوپوڈیم =کی قبض میں پاخانے سخت، اس کو باہر نکالنے کی غیر مئوثر حاجت ہوتی ہے۔رفع حاجت کی خواہش جس کے بعد مقعد یا ریکٹم میں پُر درد سکڑاو ۔نکس وامیکا کی طرح یہ احساس جیسے ابھی کچھ باقی ہے۔ لائیکوپوڈیم میں بڑھا ہوااپھارہ کے ڈھیر کے ساتھ دردہوتا ہے ۔ریکٹم سے اخراج خون،حتیٰ کہ پاخانہ نرم ہو۔ مقعد میں کھچائو کے نتیجے میں قبض ہو تو لائیکوپوڈیم کا خیال آتا ہے۔اس کے ساتھ ایک اور دوا سلیشیا کا خیال آتا ہے ۔ اس کے فضلے خشک اور سخت ہوتے ہیں۔لائیکوپوڈیم اور نکس وامیکا میں فرق آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ان دونوں میں اجابت کے لئے دباﺅ ہوتا ہے۔نکس وامیکا میں یہ بے قاعدگی آنتوں کی عدم حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔جب کہ لائیکوپوڈیم کی قبض مقعد میں کھچاﺅ کے نتیجے میں ہوتی ہے۔یا اس کے پاخانے پہلے سخت اور پھر نرم ہوتے ہیں۔ اس کی قبض اکثر بچوں اورحاملہ عورتوں میں ہوتی ہے۔ مقعد میں تناو اور خارش(شام کے وقت بستر میں )۔مقعد میں اچانک خارش پھوٹ پڑتی ہے۔جو چھونے سے درد کرے۔مقعد کے بند ہونے پر شدید درد،ورید یں باہر کو نکلی ہوئی۔ ریکٹم کی وریدیں پھیلی ہوئیں۔ڈاکٹر ہارٹ مان اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں پیٹ میں گڑگڑاہٹ کے ساتھ پاخانہ آتا ہے۔دماغی علامات کی اس میں بڑی اہمیت ہے۔اداسی،مالیخولیا اور سوجھ بوجھ میں کمی اس کی خصوصیات ہیں ۔
    NATRIUM MURIATICUM
    قبض
    ٭-نٹرم میور=ہائیڈرو کلورک تیزاب کے تمام نمکوں میں فضلہ چورا چوراہوتا ہے۔ اسی طرح نٹرم میور کی قبض کی خصوصیات میں بھی اجابت کے بعدچورا چوراہوتی ہے۔جلن اور ٹانکہ لگنے والی دردیں ،مقعد کھچی ہوئی،پھٹی ہوئی،اس سے اخراج خون۔ فضلہ خشک ، سخت اورریزہ ریزہ(امونیم میور، میگنیشیا میور ) بغیر درد کے۔ اسہال کھل کر ،اس کے بعد پیٹ میں چٹکی کاٹنے کی طرح کے درد ہوتے ہیں۔اجابت کی غیر مئوثرحاجت ساتھ مقعد میں ٹانکہ لگنے والی دردیں ۔ آنتوں میں شدید کمزوری ۔پاخانے خشک ، نتیجے میں مقعد میں فشرز پیدا ہوں۔ عام طور پرضدی قسم کے کیسز میں ایسا ہوتا ہے،ساتھ مالیخولیا(مراق کی ایک قسم ) وہم پایا جائے۔میگنیشیا میور نمکیات میں سے ایک اور نمک ہے جس کی قبض میں بھی پاخانہ بڑی تکلیف سے خارج ہوتا ہے۔ اس کا فضلہ ڈھیلے کی صورت میں جیسے بکری کی مینگنیاں ہوں ۔ بہت خشک جیسے ہی مقعد سے گزرے ریزہ ریزہ ہو جائے۔امونیم میور میں بھی یہی علامات پاخانہ خشک اور ریزہ ریزہ ہوتا ہے،اس میں بھی بیرونی طور پر میوکس کی تہہ ہوتی ہے۔جوان لوگوں میں اگر ساتھ ایکنی اور چربی دانے پائے جائیں تو نٹرم میور کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
    NUX VOMICA
    قبض
    ٭-نکس وامیکا=کا فضلہ سخت اور مشکل سے خارج ہوتا ہے۔ قبض میں استعمال ہونے والی ادویات میں شاید ہی کوئی ایسی دوا ہے جو اتنی استعمال ہوتی ہو۔اگر اس کو اس کی مخصوص علامات میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک یقینی دوا ثابت ہوتی ہے۔مریض قبض سے نجات کے لئے مختلف مسہل ادویات استعمال کرتا ہے۔ جس کے خطرناک اثرات پیدا ہو تے ہیں۔ نکس وامیکا ان برے اثرات کو اینٹی ڈوٹ کر کے علامات کو واضح اور نکھار دیتی ہے اور علاج کے قابل بنا دیتی ہے۔ ہائیڈراسٹس کیناڈینس ایک اور دوا ہے جو مسہل ،ملین اور دست آورادویات کے غلط اثرات کے بعد مفید ثابت ہوتی ہے ۔ ہائیڈراسٹس کی ایک مخصوص علامت جیسے زندگی ڈوب رہی ہے اور کھوکھ میں جان نکل جانے کا احساس پایا جاتا ہے جو کہ نکس وامیکا میں نہیں ہوتا ۔ اس میں فضلے کو باہر نکالنے کی مسلسل حاجت ہوتی ہے ۔ حاجت براری کے بعد یہ احساس رہتا ہے کہ ابھی بہت سارا فضلہ ابھی باقی ہے ۔کاربوویج میں بھی پاخانہ کرنے کی باربار نامکمل حاجت ہوتی ہے۔لیکن اس کی وجہ پیٹ میں ہواکاہوناہے۔کاربوویج کی جسمانی علامت آنتوں کے بے ترتیب عمل کی وجہ سے پیٹ کی دیواروں کی دھڑکن محسوس کی جاتی ہے۔جب کہ اوپیم اور برائی اونیا میں حاجت بالکل نہیں ہوتی۔ اناکارڈیم میں بہت سی علامات میں نکس وامیکا سے مشابہت پائی جاتی ہیں۔ان دونوں میں یہ احساس ہوتا ہے جیسے مقعد میں ڈاٹ لگا ہوا ہے اور فضلہ باہر نہیں نکلتا۔آنتوں میں کبھی کبھی حرکت ہوتی ہے لیکن مقعد کی نااہلی کی وجہ سے ہر کوشش پر تھوڑا سافضلہ باہر آتا ہے ۔حتیٰ کہ پاخانہ نرم بھی ہومشکل سے خارج ہوتا ہے۔قبض کے علاج میں نکس وامیکا کی دماغی علامات اہم ہیں۔اس کا مریض نہایت بد مزاج ،تمام اظہار میں ذکی الحس ، گندا،کینہ پرور،بد باطن ہوتا ہے ۔اس کو آواز، بو ، روشنی وغیرہ برداشت نہیں ہوتی ۔مریض نہیں چاہتا کہ کوئی اُسے چھوئے ، وقت آہستگی سے گزرتا ہے۔ذرا سی تکلیف کو بھی بڑی تکلیف سمجھتا ہے۔دوسروں کی بے عزتی کرنے کی طرف مائل ،بے قرار ،روکھا،روٹھا ہوتا ہے۔ تمام اپوزیشن پر اعتراض ہوتا ہے۔نکس وامیکا کے فضلے لمبے ہو تے ہیں۔ خونی بواسیر لازماًپائی جاتی ہے۔نکس وامیکا کا استعمال اس حالتوں میں کرنا چاہیے جب مریض میں کاہل الوجودی ،ورزش کا نہ کرنا،بیٹھے رہنے کی عادت ہوتی ہے، چاہے اس کے کام کی نوعیت ہی ایسی ہو۔اس سے اس کا پورا نظام سست ہو جاتا ہے۔قبض اور اسہال ادل بدل کر آتے ہیں۔ڈاکٹر ہنی مین کے مطابق کبھی کھلے لوز موشن نہیں ہوتے۔
    OPIUM
    قبض
    ٭-اوپیم=کی قبض میں آنتوں کی مکمل نااہلیت، پاخانے کی حاجت محسوس نہیں ہوتی ۔ فضلہ آنتوں میں پھنسا رہتا ہے۔فضلہ سخت ،خشک اور کالی گیندوں کی طرح کاہوتا ہے۔نکس وامیکا کی طرح کی آنتوں میں عدم حرکت سے بے قاعدگی ہوتی ہے ۔ اوپیم بھی آنتوں کی عدم حرکت سے قبض کی یقینی دوا ہے ۔ یہ باقاعدہ فالج کے نتیجے میں حرکت دوری کی حرکت سے ہوتا ہے۔اوپیم میں خواہش کی کمی پائی جاتی ہے ۔ پاخانہ کرنے کی بار باردباﺅ والی حاجت نہیں ہوتی۔ فضلہ غیر معمولی طور پرغیر محرک رہتا ہے۔ کبھی کبھار یہ چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں،سخت خشک،کالے گیند کی طرح کے ہوتے ہیں۔پلمبم میں بھی پاخانہ سخت،کالا گیند کی طرح کا ہوتا ہے لیکن اوپیم سے فرق یہ ہے کہ پلمبم میں مقعد میں کھچاو پایا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ا ٓنتوں میں کچھ فعالیت ہے۔برائی اونیامیں بار باردباﺅوالی حاجت نہیں ہوتی۔لیکن اس میں عدم حرکت میوکس ممبران میں خشکی کے نتیجے میں ہوتی ہے ۔اوپیم میں آنتوں کی حساسیت کی کمی ہوتی ہے۔ نتیجے کے طورپرقبض سے مریض غیر مطمئن رہتا ہے۔چنانچہ مریض کی طبیعت خراب رہتی ہے جس سے انتڑیوں کے اُوپر والے حصے میں ہوا کا ڈھیرپیدا ہوتا ہے۔ مریض کو مصنوعی طریقے سے اخراج کے لئے سوچنا پڑتا ہے۔جب ایسی کیفیت پیدا ہو تو ان ادویات (ایلومینا ، پلم بم مٹیلی کم،یا برائی اونیا) کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔ اوپیم میں آنتوں سے رطوبت کااخراج کم ہوتا ہے۔اوپیم ضعیف لوگوں میں آنتوں کی عدم حرکت سے قبض ہوتی ہے۔ مریض غنودگی اورسستی کا شکار رہتا ہے۔
    PLATINUM METALLICUM
    قبض
    ٭-پلاٹی نم مٹیلی کم=میں قبض آنتوں کے تمام راستے میں سستی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔مقعد میں خشکی ،غیر مئوثر پاخانے کا دبائو۔مقعدسے چپکا ہواجیسے چکنی مٹی کا گارایا جیسے گلو یا(سفیدہ اور السی کے تیل کا مرکب جس سے پالش کی جاتی ہے )۔ پیٹ میں شدید کمزوری اور مقعد میں ایسا بھاری پن جواس کو باہر خارج نہ ہونے دے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہجرت کرنے والوں،سفر کرنے والوں،سیاحوں کی دوا ہے۔ جن کو بار بار اپنی خوراک اور پانی اور بودوباش کو بدلنا پڑتا ہے۔اس سے آئی تبدیلی قبض کا سبب بنتی ہے۔مزید یہ کہ لیڈ سے آئے زہریلے پن کی وجہ سے قبض ہوتی ہے۔اس دوا میں اجابت کے لئے مسلسل دباﺅ ہوتا ہے ۔کم مقدار میں،خشک پاخانے جو پیٹ میں شدید کمزوری کے نتیجے میں ہو۔اگنیشیا کی طرح مقعد میں ٹانکہ لگنے جیسی درد ہوتی ہے۔بنیادی طور پریہ عورتوں کی دوا ہے۔اس میں فالج کا رجحان ،قوت لامسہ میں کمی، مقامی طور پر سن پن اور ٹھنڈک پائی جاتی ہے۔مریضہ ذاتی مرتبہ بلند کرنے کی خاطر دوسروں کی توہین کرتی ہے ۔اس میں آلہ قتل دیکھ کرقتل کرنے کی ناقابل مزاحمت قوت محرکہ پائی جاتی ہے۔
    PLUMBUM METALLICUIM
    قبض
    ٭-پلمبم مٹیلی کم =میں قبض بہت سخت ہوتی ہے ۔ اجابت گول شکل میں ،بعض دفعہ اس کو نکالنے کے لئے آلات استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس میں انتڑیوں کے گرد باریک عضلات کی جھلی ماوف ہو نے سے اور انتڑیوں میں فضلہ دھکیلنے کی طاقت نہیں رہتی۔ایسی قبض میں صبر کے ساتھ کچھ عرصہ تک ” پلمبم “ دیتے رہیں ۔ پلمبم سکہ سے تیار ہونے والی دوا ہے اور سکہ میں قولنجی دردیں پائی جاتی ہیں۔اس دوا میں بھی بہت دباﺅ دینے والی حاجت ہوتی ہے ۔ اس دباﺅ کے ساتھ درد نمایاں ہوتا ہے۔ پیٹ کی دیواروں سے مرکز کی طرف کھچاﺅ ہوتا ہے ایسے جیسے رسی سے ناف سے اندر کی طرف کھینچ رہا ہے ۔ اس کا فضلہ بہت مشکل سے خارج ہوتا ہے۔ کالے رنگ کا ،خشک اور سخت ہوتا ہے، ساتھ تشنج جو مقعد کو بند کرنے والے پٹھہ میں نمایاں ہوتا ہے ۔ اور درد ضرور پایا جاتا ہے۔مقعد ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے اوپر کی طرف کھچی جا رہی ہے ۔اس دوا میں اعصاب کی صلاحیت میں کمی اور آنتوں کے گلینڈز میں رطوبت کے اخراج میں بھی کمی پائی جاتی ہے۔پلمبم میں پیٹ کا شدید درد جو ہذیان بکنے کے رجحان میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔” پلمبم “ میں دانتوں کے نیچے مسوڑھوں پر ایک نیلی سی لکیر آ جاتی ہے۔
    SILICEA TERRA
    قبض
    ٭-سلیشیا= میں امعائے مستقیم میں فالجی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔ مقعد کا فسچولا (بربرس،لیکسس) فشرز اور خونی بواسیرپُر درد، ساتھ پاخانہ روکنے والے پٹھے کا تشنج ۔ پاخانہ مشکل سے نیچے اترتاہے۔جزوی طور پر خارج ہونے کے بعد دوبارہ واپس اوپر چڑھ جاتا ہے ۔ زور سے کھینچنے سے امعائے مستقیم میں ڈنگ لگنے کی طرح کی دردیں جو فضلے کو واپس اُوپر لے جائے۔فضلہ کافی دیر تک امعائے مستقیم میں پڑا رہتا ہے۔قبض ہمیشہ دورانِ ماہواری اور پہلے ہوتی ہے ۔ ساتھ مقعد کے پٹھے میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ دستوں سے مردار کی سی بو آتی ہے۔٭-سلیشیا میں بعض دفعہ بچوں میں شدید قبض ہو تی ہے اور اجابت کے وقت بچہ بہت زور لگاتا ہے۔ایسے بچوں کے لئے سلیشیا اور وریٹرم البم بہت مفید دوائیں ہیں۔(علاج بالمثل)۔اگر قبض مقعد سے باہر دھکیلنے کی طاقت کم ہوجائے اور مقعد کو بند کرنے والے پٹھے میں تشنج ہو تو اس وقت سلیشیا ہماری دوا ہے۔اس حالت کے ساتھ اگر ہماری حالت جیسے مقعد کو بند کرنے والے پٹھے میں اچانک کھچاﺅ ہونے کی وجہ جزوی طور پر نکلتا ہوا پاخانہ واپس لوٹ جاتا ہے۔کاسٹی کم کی قبض مقعد میں ناطاقتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پراکثر پاخانے کو باہر نکالنے کی کافی طاقت چاہیے پاخانے کو باہر نکال سکے۔
    SULPHUR
    قبض
    ٭-سلفر=بہت سے پرانے ہومیو پیتھک ڈاکٹرقبض میں”سلفر اور نکس وامیکا“ کو ادل بدل کر استعمال کیا کرتے تھے۔یہ دونوں ادویات ایک دوسرے کے کام کو مکمل کرتی ہیں،ایک دوسرے کے بعدبہتر کام کرتی ہیں۔لیکن بہتر نتیجہ اس وقت نکلتا ہے جب ان کو اپنی اپنی علامات کے مطابق بطور سنگل دوا کے استعمال کریں۔ان دونوں ادویات کی علامات مریض میں ایک دم ظاہر نہیں ہوتیں۔بعض اوقات انسانی جسم کچھ عادات اپنا لیتا ہے جو رفتہ رفتہ اتنی پختہ ہو جاتی ہیں کہ ا نہیں چھوڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتا ہے۔سلفر میں یہ گہری خاصیت ہے کہ مختلف قسم کی عادتوں اور نشوں کو توڑتی ہے ۔سلفر میں پاخانہ کی غیر مئوثر حاجت ۔مقعد میں گرمی کے ساتھ بے چینی اورپورے آنتوں والے حصہ میں بے سکونی محسوس ہوتی ہے۔یہ پیٹ کے حد سے پھولے ہوئے ہونے یا جگر کے غیر محرک اجتماع خون کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اگر قبض کے شروع میں استعمال کیا جائےیہ ایک بہت ہی مفید دوا ہے ۔ باوجود اس کے کہ علامات اس کا تقاضا نہ بھی کر رہی ہوں پھر بھی استعمال کریں۔بری جسمانی حالت اور مسلسل بری صحت اس کے شروع کرنے کی بہترین دلیل ہے۔بواسیر کا رجحان ایک اور وجہ ہے۔اس کا فضلہ سخت ، گہرے رنگ کا ،خشک جس کو باہر نکالنے کے لئے بہت زور لگانا پڑے۔پہلی کوشش شدید درد کا باعث ہوتی ہے۔مقعد میں شدید کھچائوکے ساتھ جلن ہوتی ہے ۔فضلہ کا باہر نکلنا اکثراطمینان بخش نہیں ہوتا اور نکس وامیکا میں یہ احساس ہوتا ہے کہ بہت سارا فضلہ ابھی باقی ہے۔سلفر کی قبض کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسہال کے ساتھ ادل بدل کر ہوتی ہے۔سلفر کے حقیقی کیسز میں سلفر کے مریضوں کا Veinous System یعنی نیلے سیاہی مائل خون کی رگوں کا نظام عموماً خراب ہوتا ہے ۔اس نظام کو تحریک دینے کے لئے ایکسرسائز اور ٹھنڈک پہنچانا سلفر کے مریض کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے ۔ سلفر قبض کے نتیجے میں ہونے والی مقعد کی جلن کو دُور کرنے میں مدد دیتی ہے۔سلفر کو اونچی طاقت میں استعمال کرنا چاہیے لیکن بار بار نہیں دینی چاہیے۔
    VERATRUM album
    قبض
    ٭-وراٹرم البم=کی قبض آنتوں کی مکمل ناطاقتی ، سستی کے باعث ہوتی ہے جیسے برائی اونیا اوراوپیم میں ،ساتھ گرمی اور سر درد ہوتا ہے۔دودھ پیتے بچوں کی قبض میں جو ٹھنڈے موسم میں ہو۔لمبے لمبے فضلے نکالنے کے لئے شدید زور لگانا پڑے حتیٰ کہ مریض نڈھال اور ٹھنڈے پسینے سے شرابور ہو جائے۔اسہال کے ساتھ شدید درد ہوتا ہے۔یہ پانی کی طرح کے،کھل کراور زور سے خارج ہوتے ہیں۔اس کے بعد زبردست تکان آتی ہے۔ہیضہ کی بیماری اور حقیقی ہیضہ جب ہیضہ میں اُلٹیوں کے ساتھ اسہال پائے جائیں ۔ وریٹرم البم کی ایک متضاد علامت انتڑیوں کی خشکی بھی ہے۔جس طرح یہ اسہال کی چوٹی کی دوا ہے اسی طرح یہ قبض کی بہترین دوا ہے۔اگر قبض دائمی ہو چکی ہو اور لمبے عرصہ تک کمزوری کا رجحان ہو اور ساتھ ٹھنڈاپسینہ بھی آئے تو وریٹرم البم اچھا علاج ثابت ہوتی ہے۔اگر یہ علامتیں نہ بھی ہوں مگر قبض غیر معمولی طور پر شدید ہو تب بھی یہ دوا مفید ثابت ہوتی ہے۔اس صورت میں اسے 30 طاقت میں روزانہ دو تین دفعہ دیتے رہنا چاہیے۔یہ پیٹ کو آہستہ آہستہ نرم کرے گی اور انتڑیوں کی خشکی کو دور کر دے گی۔تاہم اس کے پوری طرح مئوثر ہونے سے پہلے قبض کو یا تو انیما دینا پڑے گا یا گلیسرین کی ٹیوبز استعمال کرنی پڑیں گی کیونکہ فضلہ اتنا زیادہ سخت ہو چکا ہوتا ہے اور اتنی زیادہ مقدار میں اکٹھا ہو چکا ہوتا ہے کہ طبعی طریق پر اس کا اخراج ناممکن ہو جاتا ہے۔(علاج بالمثل)۔ڈاکٹر ڈنہم کہتے ہیں کہ ویراٹرم البم کی ایک خاصیت یہ ہے اس میں پاخانہ انتڑیوں کے اوپر والے حصے میں جمع ہوتا ہے اورنیچے والے حصے میں بے رغبتی پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر برائس کہتے ہیں کہ میں نے اس سے بہتر قبض کو دور کرنے میں کوئی دوا نہیں دیکھی وہ اس کو 3X میں استعمال کرتے رہیں۔اس کا استعمال نکس وامیکا کے بعدبہتر ہوتا ہے۔خاص طور پربچوں کی قبض میں۔بچوں کی قبض میں پوڈوفائلم 12Xمیں مفید ثابت ہوئی ہے۔فاسفورس میں بھی قبض پائی جاتی ہے۔ اس کے فضلے لمبے ،پتلے جن کو باہر نکالنے کے لئے کافی زور لگانا پڑتا ہے۔

    قبض میں استعمال ہونے والی ادویات مختصر تفصیل کے ساتھ
    ٭-ایتھوژا=اس میں قبض اکثر ضدی ہوتی ہے۔یہ بچوں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ احساس جیسے آنتوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے ۔دودھ ناقابل برداشت ہوتا ،ساتھ کوکھ(ناف سے نیچے والا حصہ) میں درد ہوتا ہے۔
    ٭-ایلوز سوکوٹرینا=قبض سے پہلے اور بعد میں اسہال ،پاخانہ سخت جیسے ڈھیلا۔ میوکس کی طرح کی جھلی مکس ہوتی ہے۔اجابت کی مسلسل حاجت لیکن تھوڑی سی ہوا خارج ہوتی ہے۔شدید بھاری پن کا احساس۔ ماربل کی طرح کی گولیاں غیر ارادی طور پر نکلیں۔
    ٭-الیومن=پاخانہ گانٹھ دار اور سخت،جس کو باہر نکالنا مشکل ہو،معدہ کے پیندے میں لگا تار کریمز۔پاخانہ کرنے کے بعد دیر تک مقعد میں درد ہوتا ہے۔
    ٭-ایلومینا=ایسی قبض کو دُور کرتی ہے جس میں معدہ کی میوکس سے رسنے والی رطوبت کافی نہیں ہوتی۔
    ٭-الیومینا=میں پاخانہ پاس کرنے کی نااہلیت ،ساتھ اس کو کرنے کی خواہش نہیں ہوتی۔متلی اور غشی،مقعد غیر فعال،حتیٰ کہ نرم پاخانہ بھی خارج نہ ہو اور مقعد میں چھڑی،شدید دباﺅ پایا جائے۔
    ٭- اینٹی مونیم کروڈ=میں اسہال کے ساتھ قبض ادل بدل کر ہوتی ہے ۔خاص طور پر عمر رسیدہ لوگوں میں۔اجابت شدیدسخت، ساتھ اپھارہ اور پیٹ درد ہوتی ہے۔قبض جب بچہ بستر پر ہوتا ہے،متلی اور اُلٹیاں،بھوک کی کمی ،زبان پر سفید تہہ چڑھی ہوئی۔
    ٭-ارجنٹم نائٹریکم =ایسی قبض جو جلاب آور ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں ہو ۔
    ٭-ایسا فوٹیڈا=ضدی قبض جس کے ساتھ پیٹ میں درد اور بواسیری (مقعد والے حصہ میں واقع خونی رگوں اور اعصاب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے) کریمز۔ اجابت کرنے کی بار بار خواہش،ساتھ مقعد کی طرف دباﺅ کا احساس اور ناپسندیدہ اخراجات ہوتے ہیں۔
    ٭- بیلاڈونا=دباﺅ نہیں ہوتا،پیٹ میں درد ساتھ تشنج،پاخانوں کا دب جانا ساتھ پیٹ میں اندر کی طرف پھیلاﺅ،زبان پر تہہ چڑھی ہوئی، ڈکار، ذائقہ کھٹا۔
    ٭-برائی اونیا= کی قبض میوکس ممبران سے اخراج مشکل سے ہو۔اعضاءمیں نمی نہیں ہوتی۔میوکس نہیں ہوتی جو پاخانے کو نرم کر سکے۔فضلہ سخت،خشک ایسے جیسا جلا ہوا ہو،جن کو باہر نکالنا مشکل ہو،ضدی سر درد ساتھ قبض پائی جائے۔ان شکایات کے ساتھ بڑھی ہوئی پیاس اور زبان پر سفیدی کی تہہ ہوتی ہے۔
    ٭- برائی اونیا=قبض میں اس وقت استعمال ہوتی ہے جب ساتھ بد ہضمی پائی جائے۔
    ٭- بپ ٹیشیا= قبض جس کے ساتھ جگر میں بے حسی،پاخانہ کرنے میں مشکل،بکری کی مینگنیوں کی طرح کا۔
    ٭- بریٹا کارب=مزمن قبض جو عمر رسیدہ لوگوں کی جن کی عمر55 سال یا اس سے زیادہ ہو مفید ہے۔
    ٭- بربرس ویلگریس= قبض میں اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب اس کی وجہ گردوں کی خرابی ہو۔
    ٭-کلکیریا کارب=میں پاخانہ کے لئے دباﺅ نہیں ہوتا۔بچوں کے دانت نکالنے کے دنوں میں چاک کے ڈھیلے کی طرح کے پاخانے ۔ اجابت کے بعد غشی کا احساس ۔
    ٭-کلکیریا کارب قبض میں اس وقت تجویز ہوتی ہے جب مریض قبض کی حالت میں بہتر محسوس کرے۔
    ٭-چائنا=قبض کے ساتھ چکر،دباﺅ نہیں ہوتا،لمبے فضلے کا ڈھیر،مقعد کی نااہلیت کی وجہ سے انہیں پاس کرنے مشکل پیش آتی ہے۔
    ٭-چیلی ڈونیم=ایسی قبض کو ٹھیک کرتی ہے جو جگر کی خرابی کے نتیجے میں ہو۔اس کافضلہ سخت پیلا اوراس کے ڈھیلے بے رنگ کے ہوتے ہیں۔
    ٭-کالن سونیا=میں دورانِ حمل قبض پائی جاتی ہے۔پیڑو میں شدید اجتماع خون،ساتھ رحم کی خرابیاں پائی جائیں۔انتڑیوں کا پھیل جانا،مقعد میں دباﺅ اور وزن،فضلہ سخت اور سست،ساتھ درد پائی جائے۔ایسا احساس جیسے مقعد میں ریت ہے۔
    ٭-کالن سونیا= میں مزمن قبض پائی جاتی ہے ۔فضلہ سخت،خشک جو مشکل سے باہر نکلے۔مریض درد کی وجہ سے ڈبل دوہرا ہو۔
    ٭-گریفائٹس=اگر قبض فعلی نوعیت کی ہو۔فضلے لمبے جس کے ساتھ میوکس پائی جائے۔ پیٹ اندر سے پھیلا ہوا ہوتا ہے۔
    ٭-گریفائٹس=قبض اور بدہضمی کے نتیجے میں کمزوری،مقعد کی میوکس ممبران میں خشکی،پاخانے گانٹھ دار،اپھارہ،میوکس سے ڈھکی ہوئی، ساتھ میوکس کے دھاگے۔اجابت کرنے کے بعدمقعد میں یہ احساس کہ ابھی کافی باقی ہے۔کانچ نکلی ہوئی،اجابت کے بعدشدید دکھن اور پھاڑنے والی درد ہوتی ہے۔
    ٭-ہیپر سلف=قبض میں اس وقت استعمال ہوتی ہے جب انتڑیوں میں رکاوٹ پائی جائے۔
    ٭-اگنیشیا=قبض جو ٹھنڈ کے نتیجے میں ہو،یا گاڑی،یا گاڑھی میں سوار ہونے سے ،اجابت کی شدید خواہش،اجابت کے بعد مقعد میں سکیڑ پایا جائے ۔
    ٭-کالی کارب=ناکافی پاخانہ،آنتوں کی صلاحیت میں کمی،لمبے سائز کے فضلے،پاخانہ جانے سے ایک سے دو گھنٹہ پہلے بے چینی سی محسوس ہو۔
    ٭- لائیکوپوڈیم=بچوں کی قبض میں اس وقت دی جاتی ہے جب بچہ میں اجابت کے لئے دباﺅپایا جائے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے، درد کے ساتھ اپھارہ ۔بچہ چار سے آٹھ بجے بعد از دوپہرچیختا ہے۔
    ٭-لائیکوپوڈیم=نظام ہضم کمزور،پاخانے سخت ، اخراج مشکل سے ،ہوا کا اخراج اُونچی آواز میں ۔ پیٹ میں دردبائیں سے دائیں طرف،تناﺅ ساتھ مقعد میں شام کے وقت خارش،چار سے آٹھ بجے بعد از دوپہر تکلیف میں اضافہ،پیٹ میں پھیلاﺅ ساتھ امیر لوگوں میں بوڑھے لوگوں میں جن کا پاخانہ کرنے کا عمل تاخیر کا شکار۔
    ٭-نٹرم میور=مقعد کی نااہلی کے نتیجے میں قبض ہوتی ہے۔ اس کی قبض ضدی ہوتی ہے ساتھ شدید پسینہ آتا ہے۔
    ٭- نکس موسکاٹا= (جائفل سے تیار ہونے والی دوا)ایسی قبض کا علاج کرتی ہے جب میوکس میں انتہائی نوعیت کی خشکی پائی جائے۔
    ٭-نکس وامیکا= کے پاخانے سخت اور مشکل سے آتے ہیں۔مسلسل پاخانہ کرنے کے لئے دباﺅ لیکن خارج نہیں ہوتا۔یہ احساس کہ ابھی بہت سارا پاخانہ ابھی باقی ہے ۔ قبض اور اسہال ادل بدل کر ہوتے ہیں ۔
    ٭-نکس وامیکا=نفخ،اپھارہ میں سکون دیتی ہے،معدہ کے کریمز اور گیس پائی جاتی ہے۔اس کے مریض حساس،تشویش میں مبتلا اور اعصابیت کی شکار ہوتا ہے۔
    ٭-اوپیم=قبض کی بہترین ادویات میں سے ایک دوا ہے۔اس کے مریض دیر سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔اجابت کی حاجت ہی نہیں ہوتی ، مقعد میں نااہلیت ،میوکس ممبران میں خشکی،فضلے میں تشنجی رکاوٹ،پیٹ میں بھاری پن کا احساس،قبض خوف اورڈر اور،مزمن لیڈ پوائزنگ کے نتیجے میں ہوتی ہے۔
    ٭-پلاٹی نم میٹ=عورتوں کی قبض میں استعمال ہوتی ہے ،یہ اس وقت تجویز ہوتی ہے جب مریضہ دورانِ ماہواری قبض کی شکار ہو۔
    ٭-پلاٹی نم=سیاحوں،سفر کرنے والوں کی قبض کی ایک بہترین دوا ہے۔
    ٭-پلمبم مٹیلی کم=کے پاخانے بکریوں کے مینگنوں کی طرح کے، جیسے کالے گیند،چھوٹے اور سخت پاخانے،باہر نکالنے میں رکاوٹ،چھوٹے پاخانوں پر مشتمل،مقعد میں شدید مروڑ۔
    ٭-پلمبم مٹیلی کم=کی قبض ایسی جیسے بکری کی ہو اورساتھ مقعد کو بند کرنے والے پٹھہ میں درد اور شنج پایا جائے تو اس کو دور کرتی ہے۔
    ٭-پوڈوفائلم=بچوں کی قبض کی ایک دوا ہے جو اسہال کے ایک دور کے بعد ہوتی ہے۔
    ٭- سلیشیا=اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب مقعد میں ناطاقتی پائی جاتی ہو۔
    ٭-سینا=(سنا مکی سے بننے والی دوا)یہ ایسی قبض میں آرام دیتی ہے جب اس کے ساتھ گیس پائی جاتی ہو۔
    ٭- سیپیا=عورتوں کی قبض میں،فضلہ باہر نکالنے کی نااہلیت یا پاخانہ نکالنے کے لئے زور لگانا پڑتا ہے۔کانچ نکلی ہوئی۔مسلسل یہ احساس کہ مقعد میں وزن اور بھراﺅ۔مشکل سے تھوڑی مقدار میں میوکس سے لپٹا ہواخارج ہوتا ہے لیکن اس سے اطمینان نہیں آتا۔
    ٭-سلیشیا کے پاخانے لمبے ،سخت ڈھیلے کی طرح کے جو مقعد میں دیر تک پڑے رہیں۔فضلہ سخت جسے آلات کے ذریعے باہر نکالنا پڑے۔حتیٰ کہ نرم بھی مشکل سے خارج ہو۔عورتوں کی قبض ماہواری سے قبل اور دورانِ ماہواری ہوتی ہے۔
    ٭-سلفر= قبض کے نتیجے میں ہونے والی مقعد کی جلن کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
    ٭-ٹریکسی کم=بچوں کی قبض میں استعمال ہوتی ہے ۔اس کے مریض کی زبان ایسی جیسے زبان پر نقشہ بنا ہوا ہو۔

    ترتیب ،تحقیق و پیشکش:
    خالد محمود اعوان
    0332-2556942
    0308-2486085

  • قبض/Constipation

    قبض/Constipation

    * فضلہ،خواہش ہونے پی بھی خارج نہ ہو۔ جیسے ڈھکن ہی لگ گیا ہے، مروڑ بھی
    تو
    ANACARDIUM 6x
    Thrice a day.
    *******

    * دو تین دن یاد نہ ہو،خواہش ہی نہ بنیے
    زور ہی زور
    سخت گانٹھ. پتھر جیسا سخت
    اندر خارش اور اخراج کے بعد بھی خارش۔
    ALUMEN 30
    Thrice a day.
    ۔۔۔
    * ایک بار سخت پھر بار بار گانٹھ دار پاخانہ آئے پھر کئی بار پتلا آئے ساتھ پیٹ کے کیڑے ہونے پہ قبض ۔
    Nat phos 6x
    Thrice to 5 times a day.

    *
    سخت اجابت گانٹھ کی طرح فضلہ۔ خون ملا فضلہ،پہلے اور بعد خارش ہو۔ ہوا بدبو دار ہو تو
    NAT SULPH 6-12X
    …..
    *جب مریض نہ بتائے شرمائے یا ڈاکٹر پوچھنے کی بجائے وقت بچائے تو۔
    MAG PHOS 3x + NATRUM MURIATICUM 3x+ NATRUM PHOSPHORICUM 3x + SILICEA 12x
    THRICE A DAY.

    *شدید قبض سے کانچ نکلے
    سردی لگے،بڑی آنت میں ریح، چھاتی میں درد ، دھڑکن۔
    FERRUM phos 6x
    Thrice a day.

    *آنتین فضلہ باہر نہ پھینک سکیں ، جیسی حالت ہو تو،
    CALCIUM fluor 12x
    Thrice a day…
    ..
    *پرانی بدہضمی، چھاتی میں جلن، قبض اور بواسیر،انکھ اور منہ مین پانی، آنتیں کمزور ہوں،
    NATRUM MURIATICUM 12x
    Thrice a day.
    ***
    *زبان کا رنگ بھورا، سفید، مرغن چیزیں کھانے سے اورجگر ٹھیک نہ ہو، ایسی قبض ہو تو،
    Kali mur 6x
    Thrice a day.

  • پیٹ کی بیماریاں کا علاج   Condurango

    پیٹ کی بیماریاں کا علاج Condurango

    پیٹ کی بیماریاں

    ھوالشافی:

    ناچیز کو نئے نئے نسخہ جات اور دوائیاں دریافت کرنے کا شوق ھے تاکہ مخلوقِ خدا کو کسی طرح دُکھ سے نکالا جاسکے،
    ایک بہت ھی زبردست فوائد کی حامل ھومیو دوائی جو ڈاکٹر حضرات کم ھی استعمال کرواتے ھیں، اس کے بارے میں دوستوں کو بتانا مقصود ھے تاکہ کسی کا فائدہ ھوجاۓ،
    یہ دوائی نظامِ انہظام سے متعلقہ مسائل اور خاص طور پر معدے اور انتڑیوں کے زخم، انفیکشن، سوزش، درد کیساتھ پیچش، کیلئے نہایت مفید ھے،
    خاکسار کو اس دوائی کا ذاتی تجربہ ھوا ھے، شدید مروڑ کےساتھ پیچش شروع ھوگئے، اور ناچیز کو بعض دفعہ ٹینشن کی وجہ سے یہ تکلیف ھوجاتی ھے،
    اللہ تعالی کے حضور دعا کی تو ایک دوست وسیلہ بن گئے، انھوں نے ناچیز کیلئے یہی دوا تجویز کی، خاکسار نے کونڈورینگو ‏CONDURANGO‏ 30پوٹینسی میں
    ایک ھی خوراک لی تو معجزانہ طور پر غیرمعمولی افاقہ معلوم ھوا،
    علاوہ ازیں یہ دوائی معدہ اور آنتڑیوں کے السر اور کینسر میں بھی فائدہ دیتی ھے،
    جو دوست استعمال کرنا چاھیں وہ ‏CONDURANGO‏ 30پوٹینسی میں رات کو سوتے وقت ایک ٹائم یا مرض
    کی شدت کی صورت میں کھانے کے گھنٹہ بعد 2 ٹائم بھی استعمال فرما سکتے ھیں،
    اس دوائی کے بارے میں مٹیریامیڈیکا سے تفصیلا پڑھا جاسکتا ھے، علاوہ ازیں اسکی 200 یا 1000 پوٹینسی بھی مرض کی
    نوعیت سے استعمال کروائی جاسکتی ھے، پوٹینسی کا صحیح انتخاب مرض کے علاج کیلئے بہت ضروری ھے

  • Stomach Acidity: Causes and Treatment

    Stomach Acidity: Causes and Treatment

    Stomach Acidity: Causes and Treatment

    Acidity or acid reflux is one of the major digestive system issues. Although it may seem like a minor medical problem, for the person experiencing it, it can be extremely unpleasant.

    The excessive production of acid by the gastric glands in the stomach leads to this issue.

    As a result, one can face discomforts like heartburn, stomach ulcers, and stomach inflammation.

    Typically, its symptoms manifest as a burning sensation in the chest, stomach, and throat, a bitter taste in the mouth, heaviness after eating, vomiting, and indigestion.

    The stomach is a crucial organ of our body, and its malfunction can affect the entire body. The stomach provides our body with strength and energy through digested food. Therefore, if the stomach is impaired, how will the body receive strength and energy?

    The body’s immune system is also related to the stomach. The healthier the stomach, the stronger our immune system will be.

    In today’s era, where life has become much more convenient, these conveniences have also shown adverse effects on human health. The excessive consumption of fast food and lack of exercise are severely damaging the health of people today. Especially, it has a very detrimental effect on the digestive system. Issues like heartburn, gas, and acidity in the stomach are rapidly increasing. If proper food is not consumed, the stomach is affected, leading to common issues like heaviness after eating, gas, and heartburn.

    There are multiple causes of stomach acidity and heartburn, with our diet and eating habits playing a significant role in this condition.

    What are the causes of stomach acidity?
    – Mental stress most significantly affects the stomach. Therefore, avoid mental stress.
    – Excessive consumption of spices and chilies.
    – If you are overweight, reduce it for your benefit.
    – Eating too quickly and sleeping immediately after eating.
    – Avoid consuming gas-inducing foods and make an effort to include ginger in your diet regularly. Including ginger in your food eliminates the harmful effects of gas-inducing elements and does not burden the stomach.
    – Start your day’s activities after breakfast and take a short nap after lunch to clear your mind completely. Eat dinner two hours before sleeping and go for a walk after eating. Drink water one hour after eating. Avoid using spices, especially red chili. If possible, avoid curries for a while. Drink honey mixed in water. Increase the use of yogurt and buttermilk.

    Homeopathic treatment for stomach acidity:
    – Take a dose of Nux Vomica 30 before going to bed at night.
    – Take Sulfur 200 daily for a week in the morning and then twice a week.
    – To immediately reduce acidity, take a dose of Dioscorea 1000.
    – If there is excessive sour water, use Iris Versicolor 200. If there is no relief, use Iris Tenax 200.
    – Use Natrum Phos 6x four times a day.
    – Use Staphysagria 30 three times daily.

    If you suffer from acidity, what should you do?
    – Reduce mental stress and keep yourself calm.
    – Simplify your diet and eat more vegetables and fruits.
    – Walk for 15 minutes after eating.
    – Oatmeal is good for breakfast. People with acidity should avoid eating eggs for breakfast as they are difficult to digest.
    – Using yogurt and buttermilk can be very beneficial for you.
    – Tea is harmful to those who have acidity issues. Instead of tea, use herbal tea, such as fennel, cinnamon, or mint tea with honey, two to three times a day.

    Home remedies for acidity:
    – Chew a little carom seeds.
    – Drink boiled rice water.
    – Take a teaspoon of baking soda in a glass of water and sip slowly.
    – Drink a teaspoon of pure olive oil in the morning, afternoon, and evening; it will be very beneficial.
    – Mix a teaspoon of honey in normal water and drink it in the morning.
    – Refrigerate milk and drink it before sleeping for 10 to 15 days.
    – Eat an apple daily with the peel.
    – Boil a mint twig in a liter of water and drink this water three times a day to relieve stomach acidity.
    – Include ginger and papaya in your diet to relieve stomach acidity, as they are easily digestible and effective in reducing stomach pain.
    – Use apple cider vinegar mixed with water during meals.
    – Make peppermint or regular tea with lemon juice or honey and drink it. Peppermint tea, in particular, helps in relieving stomach heaviness and provides comfort. Avoid using sugar or artificial sweeteners in tea as they can cause further heaviness.
    – Reduce weight as the weight around the stomach area pushes acidity upward. Eat smaller portions more frequently to reduce the amount of acidity in the stomach.

    Home remedies to prevent stomach acidity:
    – Stop consuming tea, coffee, and cold drinks.
    – Drink a glass of lukewarm water daily.
    – Make bananas, watermelon, and cucumbers a part of your daily diet.
    – Watermelon juice is also very beneficial.
    – Coconut water reduces acidity.
    – Drink a glass of milk daily. Some people may experience acidity in the morning when drinking milk; they should avoid drinking milk on an empty stomach.
    – Eat dinner two to three hours before sleeping.
    – Keep meal portions small and maintain regular intervals.
    – Eat meals regularly.
    – Avoid pickles, spicy sauces, and vinegar.
    – Sucking on cloves for a while can provide relief.
    – Jaggery, lemon, banana, and almonds are known for their immediate relief from stomach burning and acidity.
    – Walk lightly after eating meals.
    – Mixing a pinch of salt in raw milk and drinking a sip provides immediate relief from burning. To relieve stomach acidity, consume natural drinks like buttermilk, raw buttermilk, barley water, basil syrup, pomegranate syrup, sandalwood syrup, and blue lotus syrup. A mixture of turmeric, licorice, and fennel is an excellent treatment for stomach inflammation.
    – Chew food thoroughly. Avoid taking large bites and chewing them lightly before swallowing. Take small bites and chew well so that the food is thoroughly mixed with enzymes in the mouth, making it easier for the stomach to digest.
    – Dandelion, commonly known as Dandelion in English, is used in digestive preparations in some Gulf and Western countries. Dandelion is a common plant with toothed leaves and golden-yellow flowers. It is a medicinal plant used in both traditional and modern medicine. However, it is better to buy and use the powder or medicine prepared from this plant on the advice of a certified herbalist. It eliminates existing acidity in the stomach and balances the intensity of acidic elements in the food.
    – A cup of fennel tea after meals has a positive effect on the stomach. It improves digestion and helps in quick digestion of food. Peppermint also positively affects the stomach.
    – Modern medicine, or allopathy, also has syrups that help improve digestion. These syrups activate digestive enzymes, aiding in quick digestion and preventing the prolonged presence of food in the stomach, which causes acidity and gas. However, their use is suitable for patients with acidity and gas, and only as per the doctor’s advice.
    – Take half a chhataank of peeled native garlic, one chhataank of fresh green ginger, one chhataank of fresh green mint, and one chhataank of sour pomegranate seeds. If fresh ginger and mint are not available, dried ones can also be used. Use one teaspoon in the morning, afternoon, and evening with breakfast and meals. This is very beneficial for treating sugar, healing wounds, bloating, stomach indigestion, flatulence, and burning.

    If your illness does not improve, be sure to consult your doctor for a check-up.

    معدہ کی تیزابیت وجوہات اور اس کا علاج

    تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے کہ مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔

    معدے کے گیسٹرگ گلینڈز میں تیزابیت کی اضافی پیداوار اس مسئلے کا باعث بنتی ہے۔

    اس کے نتیجے میں سینے میں جلن، معدے میں السر اور معدے میں ورم جیسی تکالیف کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    عام طور پر اس کی علامات سینے، معدے اور گلے میں جلن کا احساس، منہ کا تلخ ذائقہ، کھانے کے بعد بھاری پن، قے اور بدہضمی کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔

    معدہ ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جس کی خرابی سے پورا جسم متاثر ہوتاہے۔ معدہ ہی ہضم شدہ خوراک کے ذریعے ہمارے جسم کو قوت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ لہذا اگر معدہ ہی خراب ہو جائے تو پھر جسم کو قوت اور توانائی کس طرح ملے گی؟

    ہمارے جسم کا دفاعی نظام کا تعلق بھی معدہ سے ہیے معدہ جتنا ٹھیک ہو گا اتنا ہی ہمارا دفاعی نظام مضبوط ہو گا۔

    موجودہ دور میں جہاں زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا ہو گئ ہیں۔ وہاں ان سہولیات کی وجہ سے انسان کی صحت پر اس کے برے اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال اور ورزش کا فقدان ، آج کے دور کے انسان کی صحت کو بری طرح تباہ کر ر ہے ہیں۔ خاص طور پر نظام انہظام پر اس کا بہت برا اثر پڑھ رہا ہے۔ معدہ میں جلن ، گیس، تیزابیت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر مناسب غذا نہ کھائی جائے تو معدہ متاثر ہوتا ہے اور پھر کھانے کے بعد بوجھل پن کا شکار ر ہونا، گیس اور سینے میں جلن ہو نا عام سی بات ہے۔

    معدے کی تیزابیت اور سینے میں جلن کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جب کہ ہماری خوراک اور کھانے کا طریقہ بھی اس کیفیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    معدہ کی تیزابیت کی وجوہات کیا ہیں؟

    ٭۔ ذہنی تناؤ سب سے زیادہ معدہ خراب  ہوتاہے۔ اس لیے ذہنی دباؤ سے بچیں

    ٭زیادہ مرچوں اور مصالحہ جات کا استعمال

    ٭وزن زیادہ ہو تو کم کریں اس سے آپ کو فائدہ ہو گا

    کھانا جلدی جلدی کھانا۔ اور کھانا کھا کرجلدی سو جانا

    * بادی خوراک کے استعمال سے بچیں اور کوشش کریں کہ کھانے میں ادرک کا استعمال متواتر کریں۔ خوراک میں ان کی شمولیت سے بادی اجزاءکے مضر اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ اور معدہ پر بوجھ نہیں رہتا ہے۔

    * ناشتہ کر کے دن کی سرگرمیوں کا آغاز کریں اور دوپہر کے کھانے کے بعد چند منٹ کے لئے ہی سہی آنکھیں موند کر ذہن کو بالکل خالی چھوڑ دیں۔ رات کا کھانا سونے سے دو گھنٹے پہلے کھائیں اور کھانے کے بعد چہل قدمی ضرور کریں پانی کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد پئیں۔ مرچ مصالحہ کا استعمال ترک کر دیں۔ خا ص طور پر سرخ مرچ۔ کچھ عر صہ کے لے اگر ہو سکے تو سالن کا استعمال چھوڑ دیں۔ شہد پانی میں ملا کر پئیں۔ دہی اور لسی کا استعمال زیادہ کریں۔

    تیزابیت معدہ کا ہومیو پیتھک علاج

    رات کو سونے سے پہلے نکس وامیکا 30 کی طاقت میں ایک خورا ک ہیں۔
    صبح سلفر 200 ایک ہفتہ روزانہ اور پھر ہفتہ میں دو دفعہ کر دیں۔
    فوری طور پر تیزابیت کم کرنے کے لیے۔ ڈائسکوریا 1000 کی ایک خوراک لیں۔
    اگر بہت زیاد ہ کٹھا پانی پیدا ہو رہا ہے۔ تو آئرس ورسیکلر 200 میں استعمال کریں۔ اگر اس سے آرام نہ آئے تو آئرس ٹینکس 200 استعمال کریں۔
    نیٹرم فاس 6ایکس دن میں چار بار استعمال کریں۔
    سٹافی سیگریا 30 روزانہ تین دفعہ استعمال کریں۔

    اگر آپ تیزابیت کا شکار ہیں تو کیا کریں۔

    ذہنی دباؤ کو دور کریں۔ اپنے آ پکو پرسکون رکھیں۔

    اپنی خوراک کو سادہ بنائیں اور سبزی اور فروٹ زیادہ کھائیں۔

    کھانا کھانے کے بعد 15 سے منٹ کی واک کریں۔

    ناشتہ میں جو کا دلیہ اچھا ہے۔ انڈہ دیر دے ہضم ہوتاہے اس لیے تیزابیت  والے لوگ انڈہ ناشتہ میں کھانےسے پرہیز کریں۔

    دہی کا استعمال اور لسی کا استعمال آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

    چائے کا استعمال ان لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے جنہیں تیزابیت کا مسئلہ ہو۔ چائے کی بچائے آپ قہوہ کو رواج دین۔ مثلا سونف، دارچینی، پودینہ کا قہوہ دن میں 2 تین بار شہد ڈال کر استعمال کریں۔

    تیزابیت کا دیسی  اور گھریلو علاج

    اجوائن تھوڑی سی چبا کہ کھا لیں۔
    چاول ابال کر پانی پئیں۔
    میٹھا سوڈا ایک چمچ پانی کے ایک گلاس میں ڈال کر گھونٹ گھونٹ لیں
    *زیتون کا خالص تیل ایک چمچ صبح دوپہر شام پئیں اس سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا
    *شہدایک چمچ صبح پ نارمل پانی میں ملا کر پئیں۔
    *فریج میں دودھ ٹھنڈا کریں اور رات کو سوتے ہوئے ۔ 10 سے 15 دن تک استعمال کریں۔
    *روزانہ چھلکے سمیت ایک سیب کھائیں۔
    *پودینہ کی ایک ٹہنی کو ایک لیٹر پانی میں اُبال لیں اور دن میں تین مرتبہ یہ پانی پینے سے معدے کی تیزابیت دور ہو جائے گی۔
    *معدے کی تیزابیت دور کرنے کیلئے ادرک اور پپیتا اپنی خوراک میں شامل کریں۔ کیونکہ ادرک اور پپیتا زود ہضم ہیں اور یہ معدے کی درد دور کرنے میں موثر ہیں۔
    سیب کا سرکہ پانی میں ڈال کر کھانے کے دوران استعمال کریں۔
    *پیپر منٹ یا عام چائے بنائیں اور اس میں لیموں کا رس یا شہد شامل کرکے پئیں۔ اس سے آپ بہت سکون محسوس کریں گے خاص طور پر پیپر منٹ معدے کی گرانی دور کرنے جسم کو سکون دیتا ہے۔ چائے میں چینی یا مصنوعی شکر کا استعمال ہرگز نا کریں کیونکہ یہ مزید گرانی کا سبب بن سکتی ہیں
    *وزن کم کریں کیونکہ معدے کے گرد جمع ہونے والا وزن تیزابیت کو اوپر کی جانب منتقل کرتا ہے۔ کھانا کم مقدار میں زیادہ دفع کھائیں اس طرح معدے میں تیزابیت کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔


    معدہ تیزابیت کے بچاﺅ کے گھریلو ٹوٹکے


     چائے، کافی اور کولڈ ڈرنگ کا استعمال بند کردیں۔
    * روزانہ نیم گرم پانی کا ایک گلاس پئیں۔
    * کیلے، تربوز اور کھیرے کو روز مرہ غذا کا حصہ بنائیں۔
    * تربوز کا جوس بھی بہت مفید ہے۔
    * ناریل کا پانی بھی تیزابیت کم کرتا ہے۔
    * روزانہ ایک گلاس دودھ پئیں۔بعض لوگوں کو صبح کے وقت دودھ پینے سے تیزابیت ہوتی ہے۔ انہیں خالی پیٹ دودھ نہیں پینا چاہیے۔
    * رات کا کھانا سونے سے دو یا تین گھنٹہ پہلے کھالیں۔
    * کھانوں کی مقدار مختصر اور درمیانی وقفہ محدود رکھیں۔
    * کھانا باقاعدگی سے کھائیں۔
    * اچار، مصالحے دار چٹنی اور سرکے سے پرہیز کریں۔
    * لونگ کو کچھ دیر چوسنے سے بھی افاقہ محسوس ہوگا۔
    * گڑ، لیموں، کیلا اور بادام معدے کی جلن اور تیزابیت میں فوری افاقہ دینے کیلئے مشہور ہیں۔
    *کھانا کھانے کے بعد ہلکی پھلکی چہل قدمی ضرور کریں۔
    *کچے دودھ میں ایک چٹکی نمک ملا کر ایک گھونٹ دودھ پی لیا جائے تو اسی وقت جلن سے نجات مل جاتی ہے۔معدے کی تیزابیت سے پیچھا چھڑانے کے لیے قدرتی مشروبات لسی،کچی لسی،جو کے ستو،شربتِ بزوری،شربتِ عناب،شربتِ صندل اور شربتِ نیلو فر وغیرہ بکثرت استعمال کیا کریں۔معدے کی سوزش ختم کرنے کے لیے ہلدی،ملٹھی اور سونف کا مرکب بہترین علاج ہے۔
    * خوراک کو اچھی طرح چبائیں ۔ بڑے بڑے نوالے منہ میں ڈال کر انہیں ہلکا سا کچل کر معدے میں انڈیل لینا غلط عمل ہے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے لے کر اس کو اچھی طرح چبائیں تاکہ وہ خوب پس جائے اور منہ میں موجود انزائم اس میں اچھی طرح شامل ہو جائیں۔ تاکہ جب یہ غذا معدے میں پہنچے تو وہ اسے بآسانی ہضم کر سکے۔
    * گل قاصدی یا ککروندا جیسے انگریزی میں Dandelion کہتے ہیں خلیج اور بعض مغربی ممالک میں اسے تیار کردہ سفوف وغیرہ ہاضمے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ گل قاصدی ککروندا کثرت سے پایا جانے والا عام مخلوط پودا ہے جس کے پتے دندانے اور سنہرے زرد پھول ہوتے ہیں۔ یہ ایک طبی پودا ہے اور اس کا استعمال حکمت اور جدید طب دونوں میں ہوتا ہے تاہم یہ سفوف یا اس پودے سے تیار کردہ دوا خود تیار کرنے کی کوشش کے بجائے کسی مستند حکیم سے مشورہ کر کے خریدنا اور استعمال کرنا مناسب ہو گا۔ یہ معدے میں پہلے سے موجود تیزابیت کو ختم کرتا ہے اور خوراک میں شامل تیزابی عناصر کی شدت کو بھی متوازن بنا دیتا ہے۔
    * کھانے کے بعد سونف کی چائے کی ایک پیالی معدے پر اچھا اثر مرتب کرتی ہے۔ یہ نظام ہضم کو بہتر بناتی ہے اور کھانا جلد ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے اس کے علاوہ پیپر منٹ سے بھی معدے پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ * جدید طب یعنی ایلو پیتھک میں بھی ایسے ادویات شربت موجود ہیں جو نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہ شربت کھانا ہضم کرنے والے خامروں کو متحرک کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔ جس سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے اور معدے میں بہت دیر تک خوراک کے جمع رہنے سے جو تیزابیت اور گیس کی تکلیف ہوتی ہے اس سے بچاتا ہے تاہم اس کا استعمال تیزابیت اور گیس کے مریضوں کے لئے مناسب ہے اور وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق۔
    لہسن دیسی چھلا ہوا آدھا چھٹانک‘ ادرک دیسی سبز ایک چھٹانک‘ پودینا دیسی سبز ایک چھٹانک اور انار دانہ کھٹا ایک چھٹانک‘ اگر ادرک اور پودینا سبز نہ ملے تو خشک بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک چمچ صبح دوپہر شام ناشتے اور کھانے کے ساتھ یہ استعمال کریں۔ یہ شوگر، زخم ٹھیک کرنے کے ،پیٹ کا پھولنا‘ معدے کی بدہضمی اورتبخیرمعدہ اور جلن کے بہت مفید ہے۔

    اگر آپ کی بیماری ٹھیک نہیں ہو رہی تو اپنے ڈاکٹر سے چیک اپ ضرور کروائیں۔

  • ہیضہ کے لئے

    ہیضہ کے لئے

    ہیضہ کے لئے
    سلفر 30 SULPHUR
    کیمفر 30 CAMPHOR
    ملا کر دن میں تین بار
    ہیضہ کے لئے
    کیوپرم 30 CUPRUM
    ویٹرم البم 30 VERATRUM ALBAM
    ملا کر دن میں تین بار

  • 1پِتے کے آپریشن کے بعد پیٹ میں سوجن

    1پِتے کے آپریشن کے بعد پیٹ میں سوجن

    پِتے کے آپریشن کے بعد پیٹ میں سوجن

    1۔سلفر 200 SUPHUR
    پوڈو فائلم 200 PODOPHYLLUM
    آرنیکا 200 ARNICA
    ملا کر

    2۔ہائپریکم 200 HYPERICUM
    سمفائیٹم 200 SYMPHYTUM
    سٹیفی سگیریا 200 STAPHY SAGRIA
    ملا کر
    باری باری ہفتہ میں دوبار نمبر 1 صبح نمبر 2 شام

  • جسم بھاری ہو گیا خصوصا  پیٹ

    جسم بھاری ہو گیا خصوصا  پیٹ

    بھاری جسم

    جسم بھاری ہو گیا خصوصا پیٹ
    1۔فائٹو لکا 30 PHYTOLACCA
    فاسفورس 30 PHOSPHORUS
    کولیسٹرنیم 30 COLS TRINUM
    ملا کر
    جسم بھاری اور موٹا
    2۔فائٹولکا 30 PHYTOLACCA
    بریٹا کارب 30 BARYTA CARB
    ملا کر

  • ہرنیا

    ہرنیا

    اس مرض میں پیٹ کے کمزور حصے سے آنتیں یا دیگر اعضا پیٹ کے باہر خارج ہوکر جلد کے نیچے ایک تھیلی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

    عام طور پر ہرنیا شکم میں زیادہ عام ہوتا ہے مگر یہ ناف، ران کے اوپری حصے اور gorin کے حصے میں بھی ہوسکتا ہے، یہ پیدائشی بھی ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر یہ عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی میں سامنے آتا ہے۔

    ARNICA 200 آرنیکا
    RUSTOX 200 رسٹاکس تین دن روزانہ ایک بار پھر ہفتہ وار
    CALC FLOUR 6X ۔کلکیریا فلور
    MAG PHOS 6Xمیگ فاس
    روزانہ تین باراگر افاقہ نہ ہو تو
    پھر یہ نسخہ
    SULPHUR 3۔سلفر 200
    BRYONIAبرائی اونیا 200
    CAUSTICUM کاسٹیکم 200 ملا کر
    PODOPHYLLUM 4۔پوڈوفائلم30
    BELLA DONAبیلا ڈونا 30 ملا کر

  • معدے کا السر دیسی اور ہومیوپیتھک علاج

    معدے کا السر دیسی اور ہومیوپیتھک علاج

    معدے کا السر اور اس کا دیسی اور ہومیو پیتھک علاج

    ۔ معدے میں کسی وجہ سے بھی زخم ہو جائے تو اسے السر کہا جاتاہے۔السر زیادہ تر جلدی پریشان ہونیوالے متفکر، حساس اور چٹ پٹی غذا کھانے کے شوقین لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور ان عناصر سے السر کی تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ –
    معدے کی خرابی میں سب سے پہلے بدہضمی کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ بھوک نہیں لگتی ایک وقت کھانے کے بعد دوسرے وقت یونہی لگتا ہے جیسے کھانا پیٹ میں ہی رکھا ہوا ہے۔ کھانے کے بعد پیٹ پُھول جاتا ہے۔ کھٹی کھٹی ڈکاریں آتی ہیں۔ متلی کے ساتھ ساتھ منہ میں کھٹا پانی بھر جاتا ہے۔، سینے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے، پیٹ میں ہلکا ہلکا درد اور کبھی کبھار مروڑ کے بعد موشن آتا ہے۔ قبض کی شکایت رہنے لگتی ہے اور پیٹ سخت ہو جاتا ہے۔ اگر معدے میں تیزابیت بڑھ گئ ہو تو سینے میں جلن رہتی ہے، منہ میں دانے نکل آتے ہیں اور خالی پیٹ ہونے پر سینے کی جلن زیادہ ہو جاتی ہے۔ السر کی حالت میں پیٹ میں سخت درد اور لُوز موشن آتے ہیں جس میں کبھی کبھار خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ دردقولیج کی صورت میں ناف کے مقام پر درد رہتا ہے جبکہ بڑی آنت میں سوزش ہو تو ناف کے نیچے درد کی لہریں سی محسوس ہوتی ہیں۔
    بیماری کے ذیلی اثرات
    معدے کی خرابی سے دائمی سر درد، درد شقیقہ، نظر کی کمزوری، دائمی قبض، بواسیر، آنتوں کی کمزوری، پٹھوں کی کمزوری اور عام جسمانی کمزوری ہو سکتی ہے۔


    پرھیز و احتیاط


    روزانہ صبح شام چہل قدمی ضرور کریں۔ مُرغن اور بازاری کھانوں سے پرھیز کریں۔ کھانا ہمیشہ بُھوک رکھ کر کھائیں۔٭سب سے پہلے زندگی میں ٹھہرائو پیدا کریں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوئوں پر غور کریںاور مثبت سوچ اپنائیں۔٭سادہ اور متوازن غذا کھائیں، بھوک رکھ کرکھانا کھائیں۔٭لال مرچ سے مکمل پرہیز کریں۔٭صبح شام دودھ یا دہی یا شربت میں اسپغول کا چھلکا ملا کر استعمال کریں۔٭صبح شام ایک چمچہ شہد اور دوچمچ زیتون کا تیل ملا کر استعمال کریں۔٭زیادہ گھی اور تیل والی تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔٭ زیادہ تیز چائے، کافی اور کولا ڈرنکس سے پرہیز کریں۔٭ معدے کے السر کے مریض، دن میں دو یا تین مرتبہ دو عدد کیلے کھا کر دودھ کا گلاس نوش فرمائیں، مرض میں فوری افاقہ ہوگا۔٭معدہ کے السرکے حامل افراد کیلئے لائم جوس مفید ثابت ہوتاہے۔٭بکری کا تازہ دودھ السر کے مریضوں کیلئے شافی غذا ہے، دن رات کم از کم تین بار نوش کیا جائے۔٭آنتوں کے السر کے مریضوں کیلئے قدرت نے گوبھی میں شفاء رکھی ہے۔ گوبھی کا جوس دن میں مختلف وقفوں میں پینے سے شفاء ملتی ہے۔


    السر کا ہومیوپیتھک علاج


    1. Mercurius Solubilis 1000
    چند ہفتے ہفتہ وار
    2. Bronya +Arnica 200
    ہفتہ میں دو بار
    3. Colosynthis 30+ Phosphours30+ Mag.Phos30
    تینوں ملا کر دن میں تین بار، اگر تکلیف زیادہ ہو تو زیادہ بار بھی استعمال کی ج سکتی ہے۔


    السر کا نسخہ


    1. Iris versicular+ Arnica + Kali. Iodide 200
    تینوں دوائیاں اکٹھی کھانی ہیں۔ شروع میں تین دن روزانہ پھر ہفتہ میں دوبار
    2. Ferrum Phos +Kali Phos +Cal.Phos 6X
    تینوں ملا کر دن میں تین چار بار
    3. Kreosotum + Nux Vomica +Aconite 200
    تینوں دوائیاں اکٹھی کھانی ہیں۔ شروع میں تین دن روزانہ پھر ہفتہ میں دوبار
    انتڑیوں میں سوزش اور السر
    1. Bryonia + Kurchi 200
    ملا کر تین دن روزانہ ایک خوراک پھر ہفتہ میں دوبار


    السر کا دیسی نسخہ


    1۔ کالی شیشم کی چھال تین انگلیوں کے برابر چوڑی اور تقریبا 4 انچ چوڑی
    2۔ دس عدد عناب
    3۔ ایک چمچ سونف
    ان تینوں کو ڈیڑھ گلاس پانی میں ابالیں کہ پانی پون گلاس رہ جائے ہر روز صبح نہار منہ پی لیں ۔ دس دن استعمال کریں اگر آرام نہ آئے تو مزید دس دن استعمال کریں۔
    ھوالشافی: کلونجی پچاس گرام‘ چھلکا اسپغول پچاس گرام‘ شہد سوگرام۔ کلونجی پیس کر چھلکا اور پاؤڈر کلونجی شہد میں ملائیں۔ کسی ڈبے میں محفوظ رکھیں ایک چمچ ناشتے اور ہر کھانے کے بعد چاہیں تو نہار منہ بھی لے سکتے ہیں۔ بچوں بڑوں کیلئے نہایت خوش ذائقہ اور شاندار چیز ہے۔
    شہد (30 ملی گرام) صبح ناشتے سے ڈیڑھ یا دو گھنٹے قبل، اور دوسری خوراک کھانے کے تین گھنٹے کے بعد کھائیں اور یہ عمل دو ماہ تک جاری رکھیں انشااللہ شفا ہو گئی۔ لیکن اگرمرض پھر بھی باقی رہ جائے تو 15 دن کے وقفے سے اس کا استعمال پھر سے شروع کر دیں۔
    دو کھانے کے چمچے شہد پر تھوڑی سی پسی ہوئی دارچینی چھڑک کر کھانے سے قبل استعمال کرنے سے تیزابیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انتہائی بھاری خوراک بھی آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔
    جوکا دلیہ پانی میں پکا کر دودھ اور شہد ملا کر صبح ناشتے میں استعمال کریں۔ یا جو کی روٹی لیں۔ ناشتے میں سالن کا استعمال نہ کریں۔
    دہی کا استعمال بند کردیں
    ٹھنڈا دودھ پئیں۔ کچا دودھ بہتر ہے