primekunst.com

Category: پیٹ کے امراض

پیٹ انسانی جسم میں بہت اہمیت کا حامل ہے. معدہ کا کام خوراک کے انسانی جسم کے لیے طاقت مہیا کرنا ہوتاہے. کہا جاتاہے کہ اگر معدہ ٹھیک کام کر رہا ہو تو سارا جسم ٹھیک کام کرتاہے. اس کے علاوہ جگر گردے سب اہم اعضا پیٹ کے اندر ہی واقع ہوتے ہیں.

  • معدے اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا مکمل علاج

    معدے اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا مکمل علاج

    نظامِ ہاضمہ انسانی صحت کی بنیاد ہے۔ اگر معدہ، آنتیں اور جگر درست کام نہ کریں تو جسم میں قبض، گیس، تیزابیت اور بدہضمی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم معدے کے عام مسائل اور ان کے قدرتی و ہومیوپیتھک علاج بیان کریں گے۔

    نظامِ ہاضمہ کیا ہے؟

    نظامِ ہاضمہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے خوراک ہضم ہو کر جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں معدہ، چھوٹی آنت، بڑی آنت، جگر اور لبلبہ شامل ہیں۔

    معدے کے عام مسائل

    قبض

    قبض ایک عام مسئلہ ہے جو ناقص غذا، پانی کی کمی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    👉 تفصیل پڑھیں: قبض کا ہومیوپیتھک علاج

    گیس اور اپھارہ

    گیس اور اپھارہ زیادہ تر جلدی کھانے، فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے ہوتا ہے۔

    متعلقہ مضمون: معدے کی گیس کا علاج

    تیزابیت اور سینے کی جلن

    مرچ مصالحہ دار غذائیں اور چائے کافی کا زیادہ استعمال تیزابیت کا سبب بنتا ہے۔

    بدہضمی

    جب کھانا صحیح طرح ہضم نہ ہو تو بدہضمی ہوتی ہے جو آگے چل کر معدے کے السر کا سبب بن سکتی ہے۔

    قدرتی اور دیسی علاج

    ترپھلہ

    ترپھلہ قبض، گیس اور معدے کی صفائی کے لیے ایک مؤثر دیسی نسخہ ہے۔

    مکمل رہنمائی: ترپھلہ کے فوائد اور استعمال

    سونف

    سونف کھانے کے بعد چبانے سے بدہضمی اور اپھارہ کم ہوتا ہے۔

    معدے کے ہومیوپیتھک علاج

    • Nux Vomica – بدہضمی اور قبض
    • Lycopodium – گیس اور جگر کی کمزوری
    • Carbo Veg – شدید اپھارہ

    مکمل فہرست: ہومیوپیتھک ادویات A–Z

    احتیاطی تدابیر

    • وقت پر کھانا کھائیں
    • زیادہ پانی پئیں
    • فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں
    • روزانہ چہل قدمی کریں

    اکثر پوچھے گئے سوالات

    سوال: کیا ترپھلہ روزانہ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
    جواب: ہلکی مقدار میں اور وقفے وقفے سے استعمال بہتر ہے۔

    سوال: معدے کی گیس کے لیے بہترین دوا کون سی ہے؟
    جواب: علامات کے مطابق Lycopodium یا Carbo Veg مفید ہے۔

    Triphala

    بنیادی استعمال: قبض، کمزور ہاضمہ، آنتوں کی صفائی، جگر کی بہتری۔

    اہم علامات: پیٹ بھاری رہنا، فضلہ مکمل صاف نہ ہونا، گیس کے ساتھ قبض۔

    طریقہ استعمال: رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی کے ساتھ۔

    Constipation (قبض)

    بنیادی مسئلہ: پاخانہ کا سخت ہونا یا مکمل اخراج نہ ہونا۔

    اہم علامات: پیٹ بھرا رہنا، بھوک کم لگنا، سر درد کے ساتھ قبض۔

    احتیاط: پانی زیادہ پئیں، فائبر والی غذا استعمال کریں۔

    Stomach Gas (گیس)

    بنیادی مسئلہ: معدے یا آنتوں میں گیس کا جمع ہونا۔

    اہم علامات: پیٹ میں اینٹھن، ڈکاریں، کھانے کے بعد بوجھ۔

    وجوہات: جلدی کھانا، بدہضمی، ذہنی دباؤ۔

    Diarrhea (اسہال)

    بنیادی مسئلہ: بار بار پتلا پاخانہ آنا جس سے کمزوری ہو جائے۔

    اہم علامات: پانی کی کمی، پیٹ میں مروڑ، تھکن۔

    احتیاط: پانی اور نمکیات کی کمی نہ ہونے دیں۔

    Indigestion (بدہضمی)

    بنیادی مسئلہ: کھانا صحیح طرح ہضم نہ ہونا۔

    اہم علامات: سینے کی جلن، پیٹ بھرا رہنا، ڈکاریں۔

    وجوہات: مرغن غذا، جلدی کھانا، ذہنی دباؤ۔

    Acidity (تیزابیت)

    بنیادی مسئلہ: معدے میں تیزاب کی زیادتی۔

    اہم علامات: سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں، متلی۔

    احتیاط: مرچ مصالحہ اور تلی ہوئی اشیاء کم کریں۔

    Stomach Ulcer (معدے کا السر)

    بنیادی مسئلہ: معدے کی اندرونی سطح پر زخم۔

    اہم علامات: معدے میں درد، بھوک کے بعد جلن، کمزوری۔

    نوٹ: خود علاج کے بجائے ماہر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

    IBS (چڑچڑا آنتوں کا مرض)

    بنیادی مسئلہ: آنتوں کا اعصابی نظام متاثر ہونا۔

    اہم علامات: کبھی قبض، کبھی اسہال، پیٹ درد۔

    وجوہات: ذہنی دباؤ، اضطراب، غیر متوازن غذا۔

    Abdominal Bloating (پیٹ کا پھولنا)

    بنیادی مسئلہ: پیٹ میں گیس یا ہوا بھر جانا۔

    اہم علامات: پیٹ تناؤ کا شکار، کپڑے تنگ محسوس ہونا۔

    رہنمائی: کھانے کے اوقات درست رکھیں۔

    Liver Weakness (جگر کی کمزوری)

    بنیادی مسئلہ: جگر کا درست کام نہ کرنا۔

    اہم علامات: تھکن، متلی، بھوک کی کمی، پیلاہٹ۔

    احتیاط: چکنی اور بھاری غذا سے پرہیز کریں۔

    Gallbladder Stones (پتہ کی پتھری)

    بنیادی مسئلہ: پتہ میں پتھری کا بن جانا۔

    اہم علامات: دائیں جانب درد، متلی، چکنی غذا سے تکلیف۔

    نوٹ: شدید درد میں فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔

  • پیٹ کے کیڑے: وجوہات، علامات اور ہومیوپیتھک علاج

    پیٹ کے کیڑے: وجوہات، علامات اور ہومیوپیتھک علاج

    پیٹ کے کیڑے ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی بیماری ہے، جو خاص طور پر بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتی ہے۔ بروقت تشخیص اور درست علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔


    عام وجوہات

    گندا کھانا یا آلودہ پانی
    ایسا کھانا یا پانی استعمال کرنا جس میں کیڑوں کے انڈے موجود ہوں۔

    صفائی کی کمی
    ٹوائلٹ کے بعد یا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھونا۔

    ادھ پکا گوشت
    خاص طور پر گائے یا سور کا گوشت جو مکمل طور پر پکا نہ ہو۔

    گندی مٹی سے رابطہ
    ننگے پاؤں چلنا یا بچوں کا آلودہ مٹی میں کھیلنا۔

    غیر صحت بخش ماحول
    کھلے گندے پانی یا صفائی کے بغیر ٹوائلٹ والے علاقوں میں رہائش۔


    عام علامات

    پیٹ میں درد اور مروڑ
    دست یا قبض
    متلی یا قے
    مقعد کے اردگرد خارش، خاص طور پر رات کے وقت
    پاخانے میں کیڑوں کا نظر آنا
    گیس اور پیٹ کا پھولنا
    شدید تھکاوٹ اور کمزوری
    بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہونا
    بھوک کا زیادہ ہو جانا یا ختم ہو جانا
    شدید صورت میں خون کی کمی، پیلا پن اور چکر آنا


    پیٹ کے کیڑوں سے بچاؤ – مختصر نسخہ

    کھانے سے پہلے اور ٹوائلٹ کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں
    سبزیاں اور پھل اچھی طرح دھو کر استعمال کریں
    پانی ابال کر پئیں
    گوشت ہمیشہ اچھی طرح پکا کر کھائیں
    ناخن صاف رکھیں اور ننگے پاؤں نہ چلیں
    گھر اور باتھ روم کی صفائی کا خاص خیال رکھیں


    Homeopathic Medicines (Names Only)

    Cina
    Spigelia
    Teucrium
    Calcarea Carbonica
    Natrum Phosphoricum
    Sabadilla
    Filix Mas
    Chenopodium Anthelminticum

    اہم نوٹ:
    ہر مریض کے لیے دوا اس کی علامات اور جسمانی کیفیت کے مطابق منتخب کی جاتی ہے۔ خود سے دوا استعمال نہ کریں، ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

    Author: ڈاکٹر ایمان نذر

    Publisher: نذر ہومیوپیتھک کلینک

    Location: Lahore, Pakistan

  • Natural Remedy for Appendicitis | Homeopathy Treatment Guide

    Natural Remedy for Appendicitis | Homeopathy Treatment Guide

    Appendicitis is a painful inflammation of the appendix that can turn into a medical emergency if left untreated. While surgery is often recommended, homeopathy and natural remedies can help manage early symptoms and prevent complications. This blog explores homeopathic remedies for appendicitis, how they work, and which patients may benefit from them — ideal for those seeking natural treatment options before surgery becomes inevitable.

    اپینڈیسائٹس: ہومیوپیتھک علاج اور قدرتی نجات

    اپینڈیسائٹس پیٹ کے دائیں نچلے حصے میں ایک چھوٹے عضو (Appendix) کی سوزش کو کہتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پھٹ سکتا ہے اور پیٹ کے اندر شدید انفیکشن (Peritonitis) پیدا کر سکتا ہے۔

    اگرچہ اپینڈیسائٹس ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے، مگر ہر کیس میں آپریشن ضروری نہیں۔ ہومیوپیتھی میں کئی ایسی ادویات موجود ہیں جو ابتدائی مراحل میں درد اور ورم کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انتخاب کی وجوہات

    • Belladonna: اچانک تیز درد، بخار، سرخی اور چھونے سے درد کی شدت۔
    • Bryonia: ہر حرکت سے درد میں اضافہ، دباؤ سے آرام، پیاس زیادہ۔
    • Arsenicum album: جلندار درد، بیچینی، کمزوری، گرمی سے افاقہ۔
    • Lachesis: درد کا دائیں سے بائیں جانا، کپڑوں کی حساسیت، نیند سے جاگنے پر درد میں اضافہ۔
    • Nux vomica: قبض، گیس، مروڑ، چڑچڑا پن۔
    • Mercurius solubilis: منہ سے بدبو، رال، پسینہ، ٹھنڈا و گرم دونوں ناقابل برداشت۔
    • Colocynthis: اینٹھن دار درد، دباؤ سے آرام، غصے کے بعد درد۔
    • Iris tenax: اپینڈیسائٹس کی مخصوص دوا جو اکثر مریضوں کو شفا دیتی ہے۔

    استعمال کا طریقہ (خوراک، شکل، مدت)

    • ہر دوا 30C یا 200C پوٹینسی میں دی جا سکتی ہے۔
    • دن میں 2–3 بار، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق۔
    • دوا کا انتخاب صرف علامات کی مناسبت سے کیا جائے۔
    • بغیر مشورے کے خود علاج نہ کریں۔

    🍽 غذائی منصوبہ (Personalized Diet Plan)

    تجویز کردہ غذائیں:

    • ہلکی اور نرم غذائیں جیسے دلیہ، چاول، شوربہ
    • دہی یا چھاچھ (پروبائیوٹک)
    • تازہ پھل جیسے سیب، کیلا
    • نیم گرم پانی کا استعمال
    • سبزیوں کا سوپ یا یخنی

    پرہیز کی اشیاء:

    • چکنی، تلی ہوئی اشیاء
    • باسی یا فاسٹ فوڈ
    • ٹھنڈے مشروبات
    • مرچ مصالحہ دار کھانے
    • کیفین (چائے، کافی) سے پرہیز
    نوٹ: یہ مضمون صرف آگاہی کے لیے ہے۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر یا تجربہ کار ہومیوپیتھ سے رجوع کریں۔ خود علاج سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
  • معدے کی تیزابیت (Acidity) یا تزابیت کے لیے ہومیوپیتھک علاج

    معدے کی تیزابیت (Acidity) یا تزابیت کے لیے ہومیوپیتھک علاج

    معدے کی تیزابیت ایک عام مسئلہ ہے جو معدے میں ضرورت سے زیادہ ایسڈ کی پیداوار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ سینے میں جلن، ڈکار، پیٹ میں گیس، اور کھانے کے بعد بے چینی جیسی علامات پیدا کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی اس مسئلے کے علاج کے لیے ایک مؤثر طریقہ ہے جو علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ اہم ہومیوپیتھک دوائیں اور ان کے استعمال کی تفصیلات دی گئی ہیں:

    اہم ہومیوپیتھک دوائیں

    نیٹرم فاس (Natrum Phos)

    استعمال: معدے کی تیزابیت اور کھانے کے بعد گیس یا سینے میں جلن کے لیے۔

    علامات:

    • کھانے کے بعد معدے میں جلن
    • تیزابیت کے ساتھ گلے میں خراش یا کھٹا ڈکار آنا
    • معدے میں گیس اور بھاری پن

    پوٹینسی: 6X یا 12X، دن میں تین بار

    فوائد: معدے کے ایسڈ کو بیلنس کرتی ہے اور تیزابیت کے مسائل کو حل کرتی ہے[1][4]۔

    کاربو ویجی (Carbo Veg)

    استعمال: گیس، ڈکار، اور معدے میں بھاری پن کے لیے۔

    علامات:

    • کھانے کے بعد معدے میں گیس اور بوجھ محسوس ہونا
    • سینے میں جلن اور سانس لینے میں دشواری
    • پیٹ میں ہوا بھری محسوس ہونا

    پوٹینسی: 30C، دن میں دو بار

    فوائد: ہاضمہ بہتر کرتی ہے اور گیس کے مسائل کو حل کرتی ہے[1][4]۔

    روبینیا (Robinia)

    استعمال: شدید تیزابیت اور گلے میں جلن کے لیے۔

    علامات:

    • کھانے کے بعد گلے اور سینے میں تیزابیت
    • رات کے وقت تیزابیت کا زیادہ ہونا
    • گلے میں کھٹے پانی کا آنا

    پوٹینسی: 30C، دن میں دو بار

    فوائد: معدے کے ایسڈ کو کم کرتی ہے اور جلن کا علاج کرتی ہے[3]۔

    آرسینیکم ایلبم (Arsenicum Album)

    استعمال: معدے میں جلن اور کھانے کے بعد بے چینی کے لیے۔

    علامات:

    • معدے میں جلن کے ساتھ پیٹ میں درد
    • کھانے کے بعد سینے میں جلن اور متلی
    • کھانے کے بعد بے چینی یا گھبراہٹ

    پوٹینسی: 6C یا 30C، دن میں دو بار

    فوائد: معدے کی صحت بہتر کرتی ہے اور معدے کی تیزابیت کو کنٹرول کرتی ہے[1][3]۔

    نکس وومیکا (Nux Vomica)

    استعمال: زیادہ کھانے یا مصالحہ دار کھانے کے بعد تیزابیت کے لیے۔

    علامات:

    • کھانے کے بعد معدے میں بھاری پن
    • سینے میں جلن اور ڈکار
    • معدے میں گیس اور قبض

    پوٹینسی: 30C، دن میں دو بار

    فوائد: معدے کی صفائی کرتی ہے اور ہاضمہ بہتر کرتی ہے[1][3][4]۔

    اہم ہدایات

    • خوراک: مصالحہ دار اور چکنا کھانا کم کریں۔
    • پانی پینا: دن میں کم از کم 8-10 گلاس پانی پئیں۔
    • ورزش: روزانہ ہلکی ورزش کریں۔
    • ماہر سے مشورہ: دوائی شروع کرنے سے پہلے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں[2]۔

    یہ دوائیں معدے کی تیزابیت کے لیے مؤثر ہیں، لیکن مرض کی شدت اور دیگر علامات کے مطابق علاج کا انتخاب ضروری ہے۔ ہومیوپیتھی معدے کی تیزابیت کو جڑ سے علاج کرنے میں مدد کرتی ہے اور لمبے عرصے تک راحت فراہم کرتی ہے[1][3]۔

  • عید قربان اور حکمت کے سنہری اصول.

    عید قربان اور حکمت کے سنہری اصول.

    عید قربان دنیامیں ہر سال منائی جاتی ہے۔ سنت ابراہیمی کی یاد میں لوگ د نیابھر میں ہزاروں جانور قربان کرتے ہیں۔عید کے موقعہ پر لوگ گوشت بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ گوشت زیادہ کھانے سے بہت ساری بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں گوشت کھانے کے نتیجے میں جو مسائل یا بیماریاں پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کا آسان گھریلو علاج

    کوشش کریں کہ گوشت میں سرخ مرچ کم استعمال کریں.
    گوشت شوربے والا پکائیں جو کہ زیادہ فائدے مند ہے

    (1) ہار مونز سے متاثر خواتین گوشت میں ( ادرک+ لہسن+ہلدی+کالی مرچ+ دھنیا + پودینہ) کا استعمال زیادہ کریں سرخ مرچ اور دیگر مصالہ کا استعمال برائے نام کریں

    (2) گوشت کھانے سے اگر بلڈ پریشر بڑھے تو ( سونف + زیرہ سفید+ الائچی سبز) کا قہوہ لیا جائے

    (3) گوشت کھانے سے جسم پر دھپڑ نکل جائیں تو فوراََ ( گلاب کی پتی + زیرہ سفید+ الائچی سبز + سونف + ثابت دھنیا) کا قہوہ لیں

    (4) گوشت کھا کر اگر بدہضمی پیٹ درد ھو تو ( اجوائن دیسی + پودینہ+ تیز پات) قہوہ لیں

    (5) گوشت کھا کر اگر لوز موشن متلی لگے تو ( لونگ + دار چینی + لیمن چند قطرے) کا قہوہ لیں

    (6) گوشت کھا کر اگر پیچش ھو تو ( ہلدی + ملٹھی + سونف) یا ( سونف + زیرہسفید + ہلدی) پوڈر کرکے لیں

    (7) گوشت کھا کر اگر پائلز خونی شروع ھو جائے تو ( زیرہ سفید + سونف + گلاب کی پتی + ) کا قہوہ 2 چٹکی ہلدی ڈال کر قہوہ پی لیں

    (8) گوشت کھا کر اگر ( ادرک + پودینہ+ اجوائن دیسی) کا قہوہ معمول سے لیا جائے تو بدہضمی ڈکاریں درد اپھارہ لوز موشن وغیرہ سے محفوظ رکھے گا

    (9) گوشت کھا کر اگر مسوڑوں پر ورم آجائے دانت درد کریں تو ( نمک + سونٹھ + سرسوں کے تیل سے لیپ) تیار کر کے دانتوں مسوڑوں پر ملا جائے تو سکون حاصل ھوتا ھے

    (10) گوشت کھا کر اگر قبض ھو تو ( منقہ 8/10 دانے) آدھے کپ پانی میں ابال کر منقہ کھالیں اور پانی پی لیں انشاءاللہ قبض رفع ھو جائے گی.

    (11)چھوٹے بچوں کو گوشت کے ساتھ صرف( پودینہ + زیرہ + سونف + بڑی الائچی) کا قہوہ دیا جائے.
    ، منقول ۔
    آپکا بھائی حکیم عبداللہ ۔

    Short Link:
    https://primekunst.com/qfkj

  • Constipation and Homeopathic Treatment

    Constipation and Homeopathic Treatment

    What is Constipation?

    Constipation is a common digestive problem where you have difficulty passing stools or have infrequent bowel movements. It can be uncomfortable and sometimes painful.

    Symptoms of constipation include:

    • Passing fewer than three stools a week
    • Hard or lumpy stools
    • Straining to have bowel movements
    • Feeling like you can’t completely empty your bowels

    Constipation and Homeopathic Treatment It is said that constipation is the root of a hundred diseases. Today, let’s address this root cause.

    Alumina 30: Use this remedy when constipation is due to dryness and lack of peristaltic action in the intestines, causing stool to resemble sheep pellets. Similar symptoms may also be treated with Plumbum, Nux Vomica, Natrum Muriaticum, and Graphites.

    Opium 30: When there is no urge to defecate for several days and the stool forms hard balls, Opium is effective. It is also useful for constipation in people addicted to substances like opium.

    Plumbum 30: Effective when the intestines lack moisture.

    Hydrastis with Alumina: This combination is highly effective for constipation due to intestinal atony, especially in the elderly. Adding Lycopodium enhances the effect.

    Podophyllum 30: For children who drink formula milk and cling to their mothers due to pain during defecation. This remedy can be a game-changer for patients suffering from constipation treated by allopathic means.

    Nux Vomica: Ideal when constipation alternates with diarrhea. This symptom is also found in Antimonium Crudum.

    Lycopodium 30: Use for constipation during pregnancy.

    Natrum Sulph 30: Effective when only gas is passed instead of stool.

    Senna 30: When there is no bowel movement for several days and the patient is drenched in sweat.

    Silicea: For constipation where the stool comes out partially and then retracts.

    Lachesis: When there is a sensation of constriction in the anus.

    Abrotanum 30: Treats constipation that causes rheumatic conditions.

    Aesculus Hippocastanum, Ignatia, Podophyllum: For constipation accompanied by anal fissures.

    Aloe 30, Calcarea Fluorica 30, Nux Vomica 30: Effective when constipation is accompanied by hemorrhoids.

    Asafoetida, Graphites, Platina: For constipation in pregnant women based on specific symptoms.

    Ammonium Muriaticum 30: When the stool is dry and crumbles, and there is a need to assist with a finger.

    Platina, Anacardium, Chelidonium 30: When even soft stool is difficult to pass.

    Phosphorus 200: For long, dry stools resembling dog stools. Administer a few doses but avoid giving Phosphorus in low potency repeatedly.

    Kamal Loosi: If nothing else is available, two loosi tablts can effectively treat constipation overnight.

    This issue of constipation forces even allopathic doctors, who see 100 patients a day, to seek treatment from me. If homeopathic students read and understand this lecture three times, they will become successful doctors, InshaAllah.

    If you understand this post, consider treating a poor patient for free as a token of appreciation.

    Best regards,
    Dr. Abid Rao
    Dr. Faisal Adeel Rao

    قبض اور ھومیو علاج۔
    کہتے ہیں قبض (Constipation) سو بیماریوں کی جڑھ ہے آج اس جڑھ کو ہی اکھاڑ دیتے ہیں۔
    قبض جب خشکی اور آنتوں میں پیرسٹا لٹیک افعال کے نہ ھونے سے ہو پخانہ بھیڑ کی مینگنوں جیسا ھو تو۔ایلومینا 30 دیں۔
    یہ ہی صورت پلمبم نکس ۔نیڑرم میور اور گریفائٹس میں اپنی علامات کے ساتھ بھی پایا جاتا ھے۔
    جب گولوں کی شکل میں کئی کئی دن حاجت نہ ھو تو اوپیم دوا ھو گی ۔ نشہ افیم وغیرہ کے عادی لوگوں کی قبض بھی اوپیم 30 سے ٹھیک ھو گی
    آنتوں کی رطوبت ختم ھونے پر۔ پلمبم 30 دوا ھو گی۔
    آنتوں کے ڈھیلے پن کی وجہ سے قبض اور خاص طور پر بوڑھوں کی قبض میں ہائیڈراسٹس کے ساتھ ایلومینا کا کیا غضب کا رزلٹ ملتا ھے اور اگر ساتھ لائیکو کا تڑکا لگا دیں تو بابا جی آپ کے مرید پکے۔
    بچے جو ڈبے کا دودھ پیتے ھیں پخانہ کی حاجت پر
    تکلیف سے ماں کو چمٹ جاتے ہیں تو صرف پوڈوفائیلم 30 ایلوپیتھک کے سارے قبض کے مریض آپکے ھوئے۔
    اگر قنض اور اسہال بدل کر ھوں تو نکس بہترین دوا ہے۔اور یہ ہی علامت اینٹی مونیم کروڈم میں بھی ھے۔
    قبض ایام زچگی میں ھو تو۔ لائیکوپوڈیم 30 دیں۔
    قبض میں اگر صرف ھوا خارج ھو تو دوا نیٹرم سلف 30 ھو گی۔
    کئی کئی دن حاجت ہی نہ ھو پسینہ سے شرابور ھو جائے۔تو سینی کولا 30 لاجواب دوا ھے۔
    اگر قبض میں پخانہ آ کر واپس چلا جائے تو سلیشیا سے بڑی کوئی دوا نہی۔
    اگر مقعد میں سکڑن کا احساس ھو تولیکیسس دوا ھو کرتی ہے۔
    قبض جو گنٹھیا کا سبب بنے تو ابراٹینم 30 دوا بنے گی۔
    قبض کے ساتھ کانچ نکلے تو۔ ایسکولس ہپ۔اگنیشیا۔پوڈوفائیلم دے دیں۔
    اگر قبض کے ساتھ بواسیر ھو تو۔ایلوز 30 کلکیریا فلور 30۔ نکس 30 ہی کافی ہے۔
    خواتین میں حمل کے دنوں میں۔ایسافوٹیڈا۔گریفائٹس۔پلاٹینا علامات کے مطابق دیں
    جب پخانہ خشک اور بھربرہ ھو اور نکالنے انگلی کا سہارہ لینا پڑے تو امونیم میور 30 لاجواب دوا ہے۔

    جب نرم پخانہ بھی مشکل سے خارج ھو تو پلاٹینا۔ایناکارڈیم۔چیلڈونیم 30 کافی ھوتی ہے۔
    جب کتے کے پخانہ کی طرح لمبا اور خسک ھو تو صرف فاسفورس 200 کی چند خوراک پہترین علاج ھے۔لیکن فاسفورس کو چھوٹی طاقت میں بار بار ہرگز نہ دیں
    اور اگر آپ کے پاس کچھ بھی نہ ھو تو کمال کی لوزی کی دو گولیاں ایک ہی رات میں کام کر دے گی۔

    اس قبض کی وجہ سے ایلوپیتھک ڈاکٹر جو خود دن میں 100 مریض دیکھتے ہیں۔اپنے علاج کے لیئے میرے پاس آنے پر مجبور ھو جاتے ہیں
    اگر ھومیو طلبہ و طالبات اس لیکچر کو صرف 3 بار پڑھ لیں سمجھ لیں وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ھوں گے انشااللہ۔
    اگر اپپ کو اس پوسٹ کی سمجھ آگئی تو اس کا ہدیہ سمجھ کر ایک غریب مریض کا علاج مفت کرنا پلیز۔
    وسلام۔
    ڈاکٹر عابد راو۔
    ڈاکٹر فیصل عدیل راؤ

  • معدہ کے امراض

    معدہ کے امراض

    *☆☆☆ HYPER ACIDITY*
    *☆☆☆معدے کی تیزابیت☆☆☆*
    *‏*
    *☆☆ Hyper acidity, also known as gastritis or acid reflux, is the inflammation of the stomach’s lining that is usually caused by bacterial infection or other lifestyle habits like alcohol consumption.*

    *☆☆☆معدہ کی تیزبیت گیسٹرائٹس یا تیزاب کا الٹا بہائو ہے، جو عام طور پر بیکٹیریل انفیکشن یا دیگر طرز زندگی کی عادات مثلاً شراب نوشی کی وجہ سے ہے پیٹ کے اندر کے استر کی سوزش ہے۔معدہ پہ بے ہنگم بوجھ سوء ہضمی، کھانے کے ساتھ سرد پانی، مشروب، ثقیل، تلے، بازاری کھانے وغیرہ سے ہم تیزابیت کو پالتے ہیں۔*

    *HOMEOPATHIC REMEDIES*

    * CALCAREA CARBONICUM30
    * RROBINIA PSEUDACACIA 30
    * NUX VOMICA 30.
    *Or*
    * NATRUM PHOSPHORICUM 30
    * KALIUM MURATICUM 30
    * KALIUM SULPH 30
    THRICE A DAY.
    ☆☆☆
    *☆☆☆ Hyper acidity is also called Acid Dyspepsia, which is one of the most common problems.*

  • ام الامراض قبض کا کارگرہومیووہربل علاج

    ام الامراض قبض کا کارگرہومیووہربل علاج

    بشکریہ الفضل

    قبض کی تعریف

    پا خانہ کا مکمل طور پر خارج نہ ہونا ۔بلکہ اس کے کچھ حصہ کا اندر رہ جانا طبی اصطلاح میں قبض کہلاتا ہے ۔
    قبض کا تعلق غذا کی کیفیت وماہیت سے ہے ۔ پیٹ میں داخل ہونے والا ہر کھانا اپنے سے پہلے کھائی ہوئی خوراک کو آگے دھکیل کر اپنے لیے جگہ پیدا کرتا ہے ۔اس طرح ہر چار چھ گھنٹہ کے بعد غذا کی منا سبت سے آنتوں میں خاص قسم کی حرکات کی مدد سے پہلی غذا کو آگے دھکیلتے ہوئے اسے مقام اخراج (مبرز)کے قریب لے جاتا ہے ۔اس سے پاخانہ کی حاجت کا احساس ہوتا ہے ۔اگر غذا ایسے اجزاء پر مشتمل ہو جو تمام ہضم ہو جاتے ہوں تو انتڑیوں کے لیے باہر نکالنے کو کچھ نہیں بچتا ۔جیسے دودھ اور گوشت کا بیشتر حصہ ہضم ہو کر جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور براہ مبرز باہر نکالنے کو بہت ہی کم باقی بچتا ہے ۔جبکہ پھل اور سبزیاں ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں جو مکمل طور پر جزوبدن نہیں بنتے اور اس طرح انتڑیوں کے لیے پھو ک کی معقول مقدار بچ جاتی ہے اور فراغت واجابت کا عمل بڑے اطمینان سے انجام پاتا ہے ۔
    پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ سبزیاں اور پھل ہمیں معدنیات اور وٹامنز کے علاوہ کوئی خاص چیز مہیا نہیں کرتے مگر اب تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے پھوک میں موجود ریشے غیر ضروری نمکیات کے اخراج کا باعث بن کر مواد فاسد کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ریشہ دار غذائیں مواد فاسد کو خارج کر کے تمام امراض خصوصاً امراض قلب سے بچاتی ہیں ۔

    قبض کی اقسام

    قبض کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔
    1۔ اتفاقی یا عارضی ۔
    2۔ دائمی ،عادتی یا پُرانی قبض ۔
    بعض اوقات قبض اس قدر خفیف ہوتی ہے کہ ایک شخص کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ قبض میں مبتلا ہے ۔

    صحت مند انسان کی اجابت

    چونکہ اکثر لوگ صحت مند انسان کی اجابت وفراغت سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا وہ نہیں جانتے کہ ان کے اندر مادہ فاسد موجود ہے یا بالفاظ دیگروہ تندرستی یا بیماری کے کس قدر قریب ہیں؟
    معیار تندرستی جانچنے کے لیے معیاری فراغت کا صحیح علم ہونا از بس ضروری ہے ۔
    جرمن محقق وہائیڈروپیتھی کے موجد ڈاکٹر مسٹر لوئی کوہنی کے نظریات وطریق علاج آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مختصر رسالہ بعنوان ‘‘کیا میں تندرست ہوں یا بیمار ؟’’شائع کیا ۔اس کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی روسے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ تندرست ہیں یا بیمار ؟
    ہم معیار تندرستی جانچنے کے لئے کسی ایک عضو کے فعل کا امتحان کر سکتے ہیں۔ اس کا سب سے عمدہ طریق یہ ہے کہ ہم اپنے انہی اعضاء کو دیکھیں جن کے افعال کی جانچ بخوبی اور بآسانی ہو سکتی ہے اور ایسے اعضاء وہ ہیں جن کو آلات ہضم کہا جاتا ہے۔ عمدہ ہاضمہ عمدہ تندرستی کی پہچان ہے جب ہاضمہ عمدہ ہو تو جسم بھی بلا شبہ پوری طرح تندرست ہوتا ہے۔ اخراج فضلہ سے ہم اس بات کو بخوبی جانچ سکتے ہیں کہ ہاضمہ کی حالت کیسی ہے۔ فضلہ جسم سے ایسی شکل میں خارج ہونا چاہئے کہ جسم کا وہ مخصوص حصہ جسے مقعد یا مبرز کہتے ہیں اخراج فضلہ کے وقت بالکل صاف رہے ۔ پاخانہ کے مقام کا آخری سرا ایسے نادر طریقے سے بنا ہے کہ اگر پاخا نہ کا قوام اس مقام تک پہنچنے پر صحیح ہو تو پاخانہ بلا دِقت بغیر جسم کو میلا کئے خارج ہو جاتا ہے۔ مقعد یا مبرز کو صاف کرنے یا دھونے کی ضرورت بیمار انسانوں کو ہے۔ صحیح طور پر تندرست انسانوں کو اس کی ضرورت نہیں تاہم اس سے ہرگز مراد یہ نہیں کہ اس مقام کو دھویا یا صاف نہ کیا جائے۔ مذکورہ طریق سے ہر شخص اپنے ہاضمہ کی حالت جانچ سکتا ہے۔ کہ وہ تندرست ہے یا بیمار۔ تندرستی جا نچنے کا معیار بہت ہی ضروری ہے۔ یہ وہ بات ہے (جسے بعض لوگوں کے تمسخر کی پرواہ کئے بغیر)بے شمار تجربات ومشاہدات کے بعد بڑے ہی دعویٰ کے ساتھ کہا گیا ہے ۔فضلہ کی کیفیت و ماہیت کے بارہ میں مزید وضاحت یہ ہے کہ تندرست آدمی کا فضلہ بیلن (لکڑی کا وہ مد ور اوزارجس سے روٹی بیلتے ہیں)کی شکل کا ہونا چاہئے اور پختہ ہو مگر سخت نہ ہو ۔بدن کو خراب کئے بغیر اس سے الگ ہو جائے اور اس کا رنگ بھورا ہو نہ سبز نہ سلیٹی مائل نہ سفید ۔ فضلہ پتلا نہ ہو اور نہ خون آلودہ ، اس میں کیڑے نہ ہوں پتلے مواد کا اخراج ایسے ہی مرض کی علامت ہے جیسے کروی (خمیدہ یا مڑا ہوا) شکل کا سیاہ رنگ کا سخت فضلہ یہ کہ پاخانہ کس قدر اور کتنی مرتبہ ہوا فضول بات ہے ۔اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔
    ڈاکٹر موصوف ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ براز یعنی پاخانہ خفیف بھورے رنگ کا ملائم اور بستہ ہو ۔ اس پر ایک لیس دار تہہ پائی جائے تو جاننا چاہئے کہ ہاضمہ درست ہے۔ پاخانہ کیلے کے گودے کی شکل کا ہونا چاہئے ۔ خارج ہوتے وقت جسم کو نہ لگے تو یہ تندرست آدمی کے فراغت کی دلیل ہے اور یہی تند رست جانور کی نشانی ہے۔ انسان کے جسم میں پاخانہ کرنے کا جو مقام ہے اس کا کنار ا ایسا مناسب بنا ہوا ہے کہ اگر ہضم اپنی اصلی حالت پر ہو تو پاخانہ جسم کو گندہ اور آلودہ کئے بغیر خارج ہو جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں پاخانہ میں کوئی نا پسند یدہ و ناگوار اور مضرت رساں بو کبھی نہ نکلنی چاہئے ۔
    اگر ایسی بو ہو تو ہضم کے خمیر میں کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہو گئی ہے اس لئے خشکی یا قبض ہوئی ہے۔

    قبض کی وجوہات

    آج کل قبض کا مرض بہت عام ہو چکا ہے ۔ جس کی بالعموم درج ذیل وجوہات ہیں :
    1۔چھلکا اتری ہوئی بے ریشہ اغذیہ کا کثرت سے استعمال ۔مثلاً میدہ کی مصنوعات ۔میدہ کی روٹی ، نان، ڈبل روٹی، بند ،کیک، بسکٹ، سموسے، پیسٹریاں وغیرہ ۔یاد رکھئے میدہ انتڑیوں میں چپک جاتا ہے اور قبض کا باعث بنتا ہے۔
    2۔پھلوں سبزیوں کی بجائے ان کے جوسز کا استعمال۔
    3۔چائے کا بکثرت استعمال ۔
    4۔تمباکو نوشی ۔
    5۔ذہنی کثرت کار (ا س سے دورانِ خون کا رخ نظامِ ہضم کے اعضاء کی بجائے دماغ کی طرف زیادہ ہو جاتا ہے اور خرابیِ ،ہاضمہ کے نتیجہ میں قبض پیدا ہو جاتی ہے ۔)
    6۔مسلسل زیادہ بیٹھنا ورزش وجسمانی نقل و حرکت کا فقدان ۔
    7۔بعض اعصابی و ذہنی اور نفسیاتی عوامل مثلاً ذہنی تفکرات و پریشانیاں وغیرہ۔
    8۔مخرش قسم کی قبض کشا ادویات کا مسلسل و عرصہ دراز تک استعمال انسان کو قبض کا دائمی مریض بنا دیتا ہے ۔

    قبض کے نتائج

    انتڑیوں کے اندر متعفن اور بدبودار برازی مادہ کے رُک جانے سے ریاح کثر ت سے پیدا ہوتی ہیں حتیٰ کہ ریاح کل جسم میں پھیل جاتی ہیں اور سارے جسم کو متاثر کرتی ہیں اور جسم کو طرح طرح کے عوارض میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔یہی برازی زہر خون کو بھی فاسد اور زہریلا بنا دیتی ہے جس کے نتیجہ میں قوت مدافعت مرض کمزور پڑ جاتی ہے اور مرض و بیماری کا حملہ قبول کرنے کی صلاحیت واستعداد بڑھ جاتی ہے ۔

    قبض کا مفید علاج

    • ان چھنے موٹے آٹے کی خشک روٹی ۔
    • اناج وغلہ جات و دالیں بمعہ چھلکا استعمال کی جائیں ۔ریشہ دار پھلوں اور سبزیوں کو بکثرت استعمال کیا جائے ۔نیز دیگراسباب جواوپربیان ہوئے ہیںان سے پرہیز کیا جائے ۔
    قبض کے ازالہ کیلئے ہم ایک طبی ونباتاتی دوا کا ذکر کرتے ہیں جس کا طبی نام اسپغول ہے اس کی درج ذیل خصوصیات ہیں ۔
    • یہ ہر جگہ دستیاب ہے ۔
    • سستا وار زاں ہو نے کے سبب غرباء کی دسترس سے باہرنہیں۔
    • یہ بعض دیگر قبض کشا ادویات کی طرح امعاء میں سوزش وخراش پیدا نہیں کرتا بلکہ اپنی لعابیت کی وجہ سے پھسلن پیدا کر کے قبض کشائی کے ساتھ ساتھ انتڑیوں کی سوزش ورم وزخم کو ٹھیک کرتا ہے ۔
    • یہ کوئی ایسی ادویاتی تاثیر نہیں رکھتا جو بعض مزاجوں کے لیے نقصان کا باعث ہو بلکہ تھوڑے بہت ردوبدل سے اسے ہر طبیعت ومزاج کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے ۔
    • تھوڑی بہت تبدیلی کے ذریعہ ہر موسم میں استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔
    • بے ذائقہ ہونے کی وجہ سے اسے خوش مزہ بنا کر بچوں کو بآسانی استعمال کرایا جا سکتا ہے۔چونکہ یہ اپنی لعابیت کی وجہ سے انتڑیوں کو صاف کرتا ہے لہٰذا اسے حاملہ عورتوں کو بھی استعمال کراسکتے ہیں ۔
    • کسی بھی دوسرے طریق علاج مثلاً بائیوکیمک ہو میو پیتھک ایلوپیتھک علاج بالماء کے دوران اسے استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔
    س: قبض کا ہومیو پیتھی میں پیٹنٹ علاج کیا ہے ؟
    ج: قبض کے ازالہ کے لیے ہمارے تجربہ میں M7اور M37بہت مفید ثابت ہوئے ہیں باہم ملاکر استعمال کریں ان کے نسخہ جات درج ذیل ہیں۔
    نسخہ M7:پتہ و جگر کی اکثر بیماریاں پتہ کی پتھری، صفرا کی پیدائش میں نقص، جگر کی سوزش و سوجن، پیٹ بڑھنا ،تھوڑاسا کھانے سے بھوک کاختم ہو جانا، بھوک کی کمی، منہ کا ذائقہ کڑوا ،پیٹ میں گیس یا اپھارہ یا اجابت کا کھل کر نہ ہونا، مزاج کا چڑچڑا پن اور پسلیوںکے نیچے کساؤ کااحساس ۔
    Nux vomica, Lycopodium, Colocynthis, Cholesterinum, China, ChelidoniumCarduus mar, (Each 30)
    کسی ہومیو سٹور سے لیکوئیڈ فارم میں 30 طاقت میں 20ایم ایل کی ایک ہی شیشی میں مرکب کروالیں اور ساتھ100گرام خالی ہو میو گولیاں خرید لیںاور گولیوں کے اوپر یہ لیکوئڈ اس قدر چھڑکیں کہ گولیاں قدرے تر ہو جائیں پانچ ،سات گولیاں دن میں تین مرتبہ خالی معدہ چوس لیں اگر خود دوا ء تیار کرنے میں دقت محسوس کریں تو مظہر فارما رجسٹرڈ پاکستان کا تیار کردہ M7منگوا کر استعمال کریں ۔
    نسخہ M37:پیٹ اور آنتوں کے ہر قسم کے درد مروڑ پیٹ کی ریاحی تکالیف بد ہضمی وغیرہ میں مفید ہے اسی طرح جگر کی خرابی جگر کا سکڑ کر سخت ہو جانا (سروسس) پتے کا درد عورتوں میں ماہواری کا درد اپینڈکس کا درد گردے کا درد قبض کی پرانی شکایت قبض میں اس دوا کے استعمال سے دست نہیں آتے بلکہ قبض کی شکایت آہستہ آہستہ دور ہو جاتی ہے اور اجابت قدرتی طور پر کھل کر ہوتی ہے ۔
    Sulfur, Plumbum acetic, Nux Vomica, Mercur subl corr, Lycopodium, Lachesis Colocynthis, Bryonia, Alumina, (Each 30)
    کسی ہومیو سٹور سے لیکوئیڈ فارم میں 30طاقت میں 20ایم ایل کی ایک ہی شیشی میں مرکب کروالیں اور ساتھ100گرام خالی ہو میو گولیاں خرید لیںاور گولیوں کے اوپر یہ لیکوئڈ اس قدر چھڑکیں کہ گولیاں قدرے تر ہو جائیں پانچ ، سات گولیاں دن میں تین مرتبہ خالی معدہ چوس لیں۔اگر خود دوا ء تیار کرنے میں دقت محسوس کریں تو مظہر فارما رجسٹرڈ پاکستان کا تیار کردہ M37منگوا کر استعمال کریں ۔
    س: قبض کا بائیو کیمک علاج کیا ہے ؟
    ج: بائیو پلاسیجن نمبر 4کا استعمال کریں۔
    اجزاء نسخہ :
    Cacl.fluor., Kali., mur., Natr. mur., Silicea
    تما م 6X
    4 گولیاں بڑوں کے لیے 2گولیاں بچوں کے لیے ہر تین گھنٹہ کے بعد استعمال کرائیں ۔
    اس نسخہ میں دس گناشوگر آف ملک ملا کر گرائنڈر میں 20منٹ تک گرائینڈ کریں اور 5 گرین تین گھنٹہ کے بعد استعمال کریں ۔
    فوائد:ہر قسم کی قبض کیلئے مفید و مؤثر ہے ۔
    س: کیا کثرت کے ساتھ پانی پینے سے قبض کو فائدہ ہوتا ہے ؟
    ج: کثرت کے ساتھ پانی پینے سے تمام امراض کو فائدہ ہوتا ہے ۔قبض کا مکمل طور پر ازالہ ہوجاتا ہے۔اگر قبض زا ئل ہو جائے تو گویا تمام امراض رفع دفع ہو جاتی ہیں۔تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں ہمارا مضمون انسانی صحت کیلئے پانی کی ضرورت واہمیت۔
    س: کیا یوگا میں قبض کا علاج موجود ہے ؟
    ج: جی ہاں ،یوگا میں قبض کا موثر علاج موجود ہے ہربل وہومیو پانی سے علاج اور یوگا کی موجودگی میں قبض کا کوئی اور علاج کرنا درست نہیں ان میں بفضلِ خدا قبض کا شفاء بخش علاج موجود ہے ۔

    (ڈاکڑنذیراحمدمظہر۔ کینیڈا)

  • امراض معدہ اور ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل

    امراض معدہ اور ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل

    بشکریہ الفضل

    AESCULUS HIPPOCASTANUM

    ایسکولس میں کھانا کھانے کے بعد مسلسل بے چینی، جلن اور ایسا احساس رہتا ہے جیسے ابھی قے آنے والی ہو۔ نظام ہضم میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔ معدے میں پتھر کا سا بوجھ ،کھانا کھٹاس میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں ۔منہ کا ذائقہ دھات کی طرح کسیلا، لعاب لیس دار،زبان پر سفید یا زرد موٹی تہہ اور منہ میں تھوک کی زیادتی ایسکولس کی نمایاں علامتیں ہیں۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ 23)

    ABSINTHIM

    ابسنتھیم میں معدے کی علامتیں بھی نمایاں ہیں ۔بھوک نہیں لگتی اور غذا ہضم نہیں ہوتی ۔ڈکار، متلی، قے ،معدے میں اپھارہ اور ہوا کا سخت زور، ایسے مریض کو عموماًقبض رہتی ہے، پیشاب بہت آتا ہے جس کا رنگ گہرا اور بو سخت ہوتی ہے۔بعض دفعہ مریض کی زبان موٹی ہو کر باہر نکل آتی ہے اور کانپتی ہے بولنے میں دقت ہوتی ہے اور فالجی اثرات نمایاں ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ 6)

    ARSENICUM IODATUM

    آرسینک آیوڈائیڈ کا مریض سردی محسوس کرتا ہے اس کے باوجود اسے پسینہ بھی آتا ہے اس کی تکالیف بڑھ جائیں تو متلی بھی شروع ہو جاتی ہے سخت پیاس لگتی ہے مگر فاسفورس کی طرح پانی پیتے ہی تھوڑی دیر میں قے ہو جاتی ہے۔معدے میں شدید درد ہوتا ہے جس میں کولوسنتھ کی طرح آگے جھکنے سے آرام آتا ہے سخت سوزش پیدا کرنے والے اسہال جو صبح کے وقت شروع ہوتے ہیں، معدہ ہوا سے بھرا رہتا ہے بھوک بہت لگتی ہے مگر کھانا جسم کو نہیں لگتا۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ 103)

    ALUMINA

    الیومینا میں معدہ جواب دے جاتا ہے، بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ گوشت سے نفرت ہو جاتی ہے ناقابل ہضم چیزیں مثلا مٹی، کوئلہ وغیرہ کھانے کی خواہش کے ساتھ معدہ میں سوزش اور تشنج،کسی چیز کا ذائقہ ٹھیک نہیں رہتا ،کھٹے ڈکار آتے ہیں۔ الیومینا ان سب علامات میں مفید ثابت ہو سکتی ہے

    آرٹیریوسکلروسس سے ملتا جلتا اثر معدے پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔معدے کی رگیں اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے معدہ بہت تیزی سے بڑھاپے کے آثار ظاہر کرتا ہے۔ یہ معدہ کی عارضی بیماریوں مثلاً تیزابیت وغیرہ اور مزمن بیماریوں میں بھی کام آتی ہے بواسیر کے مسوں میں بھی کام آتی ہے اس کی نمایاں علامت تیزابیت ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ 50 ،51)

    CARBO ANIMALIS

    کاربو اینیمیلس کے مریض کو معدے میں شدید کمزوری اور خالی پن کا اظہار ہوتا ہے کھانے کےبعد تھکن اور کمزوری،وزن اٹھانے اور محنت مشقت سے بھی سخت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ 238)

    CAPSICUM

    کیپسسیکم میں کھانے کے بعد معدہ کی جلن نمایاں ہوجاتی ہے۔پیچش اور اسہال میں گرمی کا احساس ہوتا ہے فارغ ہونے کے بعد بھی جلن رہتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ234)

    CHELIDONIUM

    قبض ہو تو اجابت سخت گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے جیسے بکری کی مینگنیاں ہوں۔ اسہال شروع ہو جائیں تو ان کی رنگت بھوری مٹی کی طرح ہوتی ہے قبض اور اسہال آپس میں ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ معدہ کا درد کمر تک پھیل جاتا ہے کھانا کھانے سے وقتی طور پر معدہ کی تکلیفوں میں آرام محسوس ہوتا ہے گرم خوراک اور گرم پانی مرغوب ہوتا ہے خصوصا گرم دودھ پینے کی خواہش ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ276)

    CARBO VEGETABILIS

    ایلو پیتھک طریقہ علاج میں کاربوویج کو ٹکیہ کی شکل میں پیٹ کی ہوا کم کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے یہ ٹکیہ معدہ کی ہوا کو کسی حد تک جذب کر لیتی ہے مگر معدے میں پیدا ہونے والے تیزاب کے خلاف ردعمل نہیں دکھاتی ۔ہومیو پیتھی میں بھی کاربوویج کو پیٹ میں پیدا ہونے والی ہوا دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے معدے میں جو عوامل ضرورت سے زیادہ ہوا پیدا کرنے کاباعث بنتے ہیں یہ انکے خلاف بھی رد عمل دکھاتی ہے۔

    معدہ میں ہوا کا دباؤ اوپر کی طرف ہوتو اس میں بھی کاربوویج اچھی دوا ہے۔کاربوویج میں ہوا سارے پیٹ میں نہیں بلکہ ایک حصہ میں اوپر کی طرف دباؤ ڈالتی ہے جس میں تعفن بھی پایا جاتا ہے کاربوویج کے اسہال میں بھی بدبو ہوتی ہے اور مریض بہت کمزوری محسوس کرتا ہے ۔کاربوویج کے مریض کے معدے میں تیزابیت کی زیادتی ہائیڈروکلورک ایسڈ یعنی نمک کے تیزاب کے زیادہ پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس اکثر اس کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ241 تا 244)

    CINCHONA OFFICINALIS (CHINA)

    نظام ہضم سست پڑ جاتا ہے پھل اور کھٹی چیزیں کھانے سے معدہ میں درد ہوتا ہے کھانا ہضم نہیں ہوتا، پیٹ پھول جاتا ہے اگر جگر اور تلی میں سوزش ہو اور یرقان کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں نیز پتہ میں درد ہو تو ان سب علامتوں میں اگر چائنا مزاجی دوا ہو گی تو مفید ہو گی۔ دودھ پینے سے بھی معدہ خراب ہو جاتا ہے مزمن اسہال رات کو بڑھ جاتے ہیں۔چائنا میں عموماً پیٹ کی ہوا میں بدبو نہیں ہوتی اور سارا پیٹ ہوا سے تن جاتا ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ300 ،301)

    COLOCYNTHIS

    کولو سنتھ روز مرہ کی اچانک پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاً پیٹ درد وغیرہ میں بہت مفید ہے پیٹ کا درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریض ایک لمحہ بھی چین سے نہیں بیٹھ سکتا ۔درد کی شدت سے دہرا ہوتا ہے اور آگے جھکتا ہے چونکہ دباؤ سے آرام آتا ہے اس لیے مریض ماؤف حصہ کو دباتا ہے اور آگے جھکنے سے سکون محسوس کرتا ہے گرمی سے کچھ آرام ملتا ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ323)

    COLCHICUM

    معدے کی تکلیفوں میں اکثر زبان جلتی ہے دانتوں میں بھی درد ہوتا ہے منہ خشک اور پیاس بہت لگتی ہے ۔کھانے کی بو سے خصوصاً مچھلی پکنے کی بو سے بعض دفعہ متلی اتنی شدید ہوتی ہے کہ مریض بے ہوش ہو جاتا ہے یاتو معدے میں سخت گرمی محسوس ہوتی ہے یا سخت سردی۔ انتڑیوں میں تشنج کی وجہ سے پیٹ ہوا سے ایسا تن جاتا ہے کہ کم ہی ایسا تناؤ دوسری دواؤں میں دکھائی دے گا یہ انتڑیوں کا تشنج اور اس کے نتیجے میں ہوا کا دباؤ عرف عام میں اپھارہ کہلاتا ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ320،319)

    CROTALUS HORRIDUS

    کروٹیلس کا مریض معدہ کے گرد کسی قسم کا کپڑا برداشت نہیں کر سکتا ۔کوئی چیز اس کے معدے میں نہیں ٹکتی بلکہ شدید قے آجاتی ہے صفراوی مادے نکلتے ہیں خون کی قے بھی آتی ہے معدہ میں خالی پن کا احساس ہوتا ہے مریض کو یا تو قبض ہو گی یا دست شروع ہو جائیں گئےسیاہ پتلی اور متعفن اجابت جس میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے ۔سرخ یا زردی مائل پیشاب آتا ہے ۔کروٹیلس پیٹ کی ہوا اور معدے کے السر میں بھی مفید ہے۔

    (صفحہ335 ،334)

    CONIUM MACULATUM

    معدے کے کینسر میں کونیم گو غیر معمولی اہمیت کی دوا ہے مگر وہاں بھی یہی مشکل پڑتی ہےکہ جب تک کینسر نہ بن جائے معدہ میں پیدا ہونے والا کوئی درد کونیم کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اگر دیر ہو جائے تو کونیم صرف وقتی آرام دیتی ہے اس کے دینے سے زندگی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی علاج بالمثل صفحہ326)

    HYDRASTIS

    مریض قبض کا شکار رہتا ہے پیٹ کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے جو رفع حاجت کے بعد زیادہ ہو جاتا ہے معدہ میں دکھن کا احساس ہوتا ہے۔نظام ہضم بہت کمزور پڑ جاتا ہے۔ منہ کا ذائقہ کڑوا اور زبان سفید ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی علاج بالمثل صفحہ449)

    DIOSCOREA VILLOSA

    اس کی مخصوص علامت یہ ہے کہ تشنج خواہ پتے میں ہو یا پیٹ کے کسی حصے میں ہو اس میں ہمیشہ دباؤ سے نقصان پہنچتا ہے اور انگڑائی لے کر ماؤف جگہ پر دباؤکم کرنے سے آرام ملتا ہے پیچش میں قولنج کے درد بہت ہوتے ہیں اس کے مریض کو آہستہ ٹہلنے سے آرام ملتا ہے۔کیونکہ اس سے بھی ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔معدہ کے تشنج کا درد دل کی جانب لپکتا ہے ان تمام علامات میں ڈائسکوریا مفید ہے۔

    (ہومیو پیتھی علاج بالمثل صفحہ355)

    IRIS VERSICOLOR

    آئرس ورسیکولر معدے کی کھٹاس کے لیے بہترین دوا ہے ۔یہ انتڑیوں اور معدہ کی اندرونی جھلیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ483)

    IPECACUANHA

    اپی کاک ملیریا کی بہت اہم دوا ہے۔ملیریا کا بھی متلی سے گہرا تعلق ہے اور اس کا معدے پر بھی حملہ ہوتا ہے۔ معدے میں بھی کاٹنے والے درد اٹھتے ہیں اور انکی حرکت بائیں طرف سے دائیں طرف ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے چاقو مار دیا ہو اور مریض حرکت نہیں کر سکتا بلکہ ساکت و جامد ہو جاتا ہے۔ اپی کاک معدے کی بہت اچھی دواؤں میں سے ہے۔ اگر معدہ میں ہوا کا تناؤ محسوس ہو تو اپی کاک مفید ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ475 ،476)

    KREOSOTUM

    معدے میں بھی تیزابیت،قے اور متلی کا رحجان ملتا ہےقے کا مواد گلے میں جلن اور خراش پیدا کرتا ہے منہ کا زائقہ خصوصا پانی پینے کے بعد کڑوا معلوم ہوتا ہے معدے میں درد جسے کچھ کھانے سے آرام ہو مگر کھانے بعد قے ہو جاتی ہو۔گرم غذا سے مریض بہتر محسوس کرتا ہو جبکہ ٹھنڈی غذا سے بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہو معدے میں کھچاؤ اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔کینسر کے رحجان والے مریض میں بھی کرئیو ذوٹ مفید ہے خصوصا معدے کے کینسر کے آغاز میں کونیم کے ساتھ ملا کر دی جائے تو فائدہ پہنچاتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ522)

    MERCURIUS

    مرکری کے مریض کی بھوک یا تو بہت بڑھ جاتی ہے یا بالکل ختم ہو جاتی ہے گوشت،کافی، اور چکنائی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ مسلسل بھوک کے ساتھ کمزوری کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے۔دودھ اور میٹھی چیزوں سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ ٹھنڈی چیزیں کھانے کی بہت خواہش ہوتی ہے ۔معدہ میں جلن، سوزش اور چھونے سے درد نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں۔ہچکی لگ جاتی ہے ڈکار بھی آتے ہیں معدہ میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔جگر کے مقام پر سوئیاں سی چبھتی ہیں دائیں طرف لیٹنے سے تکلیف بڑھتی ہے ۔پیچش اور پیٹ درد جس میں ڈنک مارنے کا احساس ہو، یہ سب علامتیں مرکری میں پائی جاتی ہیں۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ598، 599)

    NATRUM PHOSOHORICUM

    تیزاب کی زیادتی کی وجہ سے معدے میں السر ہوں اور پھوڑے کا سا درد اور سوئیاں چبھنے کا احساس ہو تو نیٹرم فاس کام آسکتی ہے ۔اسہال کا قبض سے بدلنا دواؤں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔اگر ایسے مریض کا مزاج نیٹرم فاس سے ملتا ہو تو نیٹرم فاس بھی اس تکلیف کا ازالہ کر سکتی ہے ۔ پیٹ کے کیڑے بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ630)

    NATRUM MURIATICUM

    نیٹرم میور میں شدید قبض ہوتی ہے یا دست شروع ہو جاتے ہیں نیٹرم میور میں بھوک کی زیادتی کے باوجود مریض دبلا پتلا اور لاغر ہوتا ہے۔معدہ کی جلن کے ساتھ دل بھی دھڑکتا ہے ۔کھانا کھاتے ہوئے پسینہ آتا ہے ۔نمک کھانے کی بے حد خواہش ہوتی ہے خالی پیٹ بہتر محسوس کرتا ہے ۔کھانے کے بعد جلن اور تیزابیت زیادہ اور منہ سے پانی آنے لگتا ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ622)

    PHOSPHORUS

    فاسفورس میں پیاس بہت محسوس ہوتی ہے۔ ٹھنڈے پانی سے آرام ملتا ہے لیکن پانی معدہ میں گرم ہونے پر قے ہو جاتی ہے۔ آپریشن کے بعد شدید متلی ہو جو قابو نہ آئے اس میں بھی فاسفورس کارآمد ہے ۔کھانے کے فوراً بعد دوبارہ بھوک محسوس ہوتی ہے کھانے کے بعد منہ کا مزہ کھٹا ہو جاتا ہے ۔قے کا رحجان ہوتا ہے ۔پیٹ میں درد جسے ٹھنڈی چیزوں کے استعمال سے آرام آتا ہے ۔معدہ میں سوزش،چلنے اور پیٹ پر ہاتھ لگانے سے بڑھ جاتی ہے۔ دائیں طرف لیٹنے سے آرام آتا ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ655 ،660)

    NUX VOMICA

    نکس وامیکا مختلف قسم کی الرجیوں میں بھی مفید ہے بعض لوگوں کو چاول یا گوشت کھانے سے الرجی ہو جاتی ہے معدہ کی تیزابیت میں اضافہ ہو جاتا ہے نکس وامیکا دینے سے اللہ کے فضل سے بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔نظام ہضم میں خرابی کی وجہ سے معدہ میں تیزابیت پیدا ہونے لگے تو مریض کا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور وہ بہت جلد غصہ میں آجاتا ہے ۔ایسے مریض عموماً دبلے پتلے ہوتے ہیں ۔مغربی تہذیب میں بہت زیادہ شراب کی عادت اور ہماری تہذیب میں مرغن غذاؤں اور چٹخورہ پن کی وجہ سے جب معدہ جواب دے جاتا ہے تو بہت تیزاب پیدا کرتا ہے ایسے سب مریضوں میں نکس وامیکا اچھا اثر دکھاتی ہے ۔معدہ کی خرابی سے بسا اوقات دمہ میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے ۔جن لوگوں کو دمہ ہو انہیں خاص طور پر ایسی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے جن سے نزلہ ہو جائے یا معدہ خراب ہو جائے۔تیزاب کی زیادتی کی وجہ سے پیدا ہونے والے دمہ میں نکس وامیکا مفید ہے ۔کھانے کے بعد یا کھانے کے دوران معدہ میں بوجھ اور درد کا احساس ہوتا ہے ۔معدہ کی جگہ پر ذرا سا دباؤ بھی برداشت نہیں ہوتا ۔معدے کا نچلا حصہ پھولا ہوا اور پتھر کی طرح بوجھل ہوتا ہے ۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ638 ،639 ،642)

    PLUMBUM METALLICUM

    پلمبم کی ایک علامت یہ ہے کہ جو چیز کھائی جائے وہ معدہ میں جا کر کھٹاس میں تبدیل ہو جاتی ہے اور شدید الٹیاں آتی ہیں۔معدہ میں موجود لعابوں اور رطوبتوں کے اثر سے کھانا عموما تین گھنٹے کے اندراندر ہضم ہو کر انتڑیوں میں منتقل ہو جانا چاہئے۔اگر معدہ اس عرصہ میں خوراک کو باہر نہ نکالے تو خوراک معدہ میں ہی گلنے سڑنے لگتی ہے۔اس سے تیزابیت پیدا ہو جاتی ہے اور گندے بدبو دار ڈکار آنے لگتے ہیں ۔انتڑیوں کی حرکت کا نظام سست پڑ جائے تو معدہ میں کھٹاس پیدا ہو تی ہے اگر یہ سستی فالجی اثرات کی وجہ سے ہو تو پلمبم بہترین دوا ہے ۔پلمبم میں سیاہی مائل الٹیاں آتی ہیں یا سبز رنگ کا مواد نکلتا ہے جس میں بعض دفعہ خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے جگر اور معدے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ۔معدہ میں بوجھ اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے ناف اندر کمر کی طرف کھینچتی ہے ۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ678)

    SANGUINARIA

    سینگو نیریا کے مریض کے چہرے پر مستقل سرخی آجاتی ہے۔ کھانے پینے میں بداحتیاطی اور مرغن غذاؤں سے سر درد ہونے لگتا ہے ۔معدے میں جلن ہوتی ہے ۔سب اخراجات میں تیزابیت پائی جاتی ہے ابکائیاں بھی آتی ہیں ۔قے میں اتنی تیزابیت ہوتی ہے کہ گلا چھل جاتا ہے ۔اگر معدے میں حد سے بڑھے ہوئے تیزابی مادے موجود ہوں تو سینگو نیریا بھی بشرطیکہ دیگر علامتیں پائی جائیں بہت فائدہ مند ثابت ہو گی مرض بڑھنے کے ساتھ بھوک بھی بڑھتی ہے مگر کچھ عرصے کے بعد جب معدہ جواب دے جائے اور قے شروع ہو جائے تو بھوک تو رہتی ہے مگر کھانے کو دل بالکل نہیں چاہتا ۔معدے میں تیزابیت زیادہ ہونے کی وجہ سے دمہ ہو جائے تو نکس وامیکا کے علاوہ سینگو نیریا بھی مفید ہے ۔معدے میں ہوا بہت بنتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ732 ،733)

    PULSATILLA

    پلسٹیلا کا معدے کی تکلیفوں سے بھی تعلق ہے ۔تیل،گھی،اور چربی والی مرغن غذا ہضم نہیں ہوتی ۔ذرا سی ملائی یا گھی کھانے سے معدہ جواب دے جاتا ہے بعض دفعہ ایسے مریض چکنائی سے نفرت کرنے لگتے ہیں لیکن اگر نفرت نہ بھی ہو تو چکنائی والی غذا انہیں ہضم نہیں ہوتی ۔پلسٹیلا میں پیاس نہیں ہوتی لیکن ٹھنڈا پانی پینے سے سکون ملتا ہے ٹھنڈا کھانا کھانے کی خواہش ہوتی ہے معدے کی تکلیفیں صبح کے وقت زیادہ ہو جاتی ہیں۔ذہنی تکلیفیں شام کو بڑھ جاتی ہیں ۔پلسٹیلا میں کھانا کھانے کے چند گھنٹے بعد معدے کی تکلیفیں شروع ہوتی ہیں۔بے چینی ،کھٹے ڈکار،ہوا سے پیٹ کا بھر جانا وغیرہ ۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ690 ،694)

    SULPHURIC ACIDUM

    اگر جسم میں کسی بھی تیزاب کا عنصر زیادہ ہو جائے تو اچانک شدید ضعف کا حملہ ہوتا ہے اور جسم سے طاقت نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے سلفیورک ایسڈ معدہ کی ایسی تیزابیت کی بہترین دوا ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ787)

    ARGENTUM NITRICUM

    ارجنٹم نائٹریکم میں غیر معمولی ذہنی تھکان اور معدہ کی تیزابیت کی وجہ سے یادداشت متاثر ہوتی ہے۔ارجنٹم نائٹریکم کے مریض کو معدے میں پرانے السر ہوں تو جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے ساتھ میٹھا کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے میٹھے کی خواہش اور بھی بہت دواؤں میں پائی جاتی ہے بعض لوگ بہت میٹھا کھاتے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ہوتا لیکن ارجنٹم کے مریض کو میٹھا موافق نہیں آتا اس کے کھانے سے معدہ کا نظام بگڑ جاتا ہے اور دوسری تکلیفوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اگر میٹھے کی خواہش کے ساتھ پیٹ میں ہوا اور تناؤ بھی ہوتو یہ علامت اگرچہ لوگوں میں عام طور پڑ پائی جاتی ہے لیکن ارجنٹم نائٹریکم کے مریض میں بہت نمایاں ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ80،79)

    CYCLAMEN EUROPAEUM

    معدے کی تمام تکالیف پلسٹیلا سے ملتی جلتی ہیں ۔چربی والے کھانے سے نفرت ،گرمی ،جلن کا احساس اور کافی پینے کے بعد تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں ۔کافی کا ایک خاص اثر سائیکلیمن کے مریض پر یہ پڑتا ہے کے جتنی دفعہ کافی پیئے گا اتنی دفعہ اسہال آئیں گئے ۔معدے کی تکلیفوں میں ہچکی کا آنا سائیکلیمن کی بھی خاص علامت ہے ۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ346)

    BISMUTHUM

    بسمتھ کے مریض کی قوت ہاضمہ کمزور ہو جاتی ہے اور فاسفورس اور ایتھوزا کی طرح معدے میں پانی نہیں ٹھہرتا ،گرم ہوتے ہی قے ہو جاتی ہے جبکہ ٹھوس غذا کھانے سے قے نہیں ہوتی ۔بہت بدبودار ڈکار آتے ہیں پیٹ کا درد ڈائسکوریا سے مشابہ ہوتا ہے مریض پیچھے کی طرف جھکتا ہے ۔درد کی نوعیت عام پیٹ درد سے مختلف ہوتی ہے جسے مریض بیان نہیں کر سکتا ۔اسہال کے دوران درد نہیں ہوتا ۔بسمتھ سے اسہال خشک کر دیئے جائیں تو درد شروع ہو جائے گا۔معدہ میں سوزش ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ153)

    ASAFOETIDA

    ہینگ کو عموما گرم مصالحے کے طور پر قوت ہاضمہ کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس سے تیار کردہ ہومیو پیتھک دوا معدہ اور خوراک کی نالی کے تشنج میں مفید ہے ۔اس کی سب سے نمایاں علامت سر کا سن ہونا ہے ۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ109)

    LAC DEFLORATUM

    لیک ڈیف ان بچوں کے لیے بہت مفید ہے جنہیں دودھ سے الرجی ہوتی ہے وہ دودھ ہضم نہیں کر سکتے اور انہیں اسہال وغیرہ شروع ہو جاتے ہیں بعض اوقات لیک ڈیف کی سی ایم میں ایک خوراک سے ہی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

    (ہومیو پیتھی صفحہ531)

    GRATIOLA

    اس کا نزلہ اگر معدہ پر گرے تو ساتھ ہی تشنج ہو جاتا ہے اچانک بل پڑنے اور سکڑنے کا احساس ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ معدہ کی عام خرابی کی بھی دوا ہے ۔گریشولا کے مریض کے معدہ کی خرابی میں اوپر کا ہونٹ سوج جاتا ہے ۔۔۔گریشولا میں چکر بھی آتے ہیں جن کا عموما کھانے سے بھی تعلق ہوتا ہے کھانا کھاتے ہوئے چکر آتے ہیں اور کھانے کے بعد چکر زیادہ ہو جاتے ہیں۔

    (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ414)


    (نعمات احمد نئیر)

  • بواسیر،خونی بواسیر،فشرز اور اس میں استعمال ہونے والی ہومیوپیتھک ادویات

    بواسیر،خونی بواسیر،فشرز اور اس میں استعمال ہونے والی ہومیوپیتھک ادویات

    بواسیر،خونی بواسیر،فشرز اور اس میں استعمال ہونے والی
    ہومیوپیتھک ادویات

    ترتیب ،تحقیق و پیشکش:

    خالد محمود اعوان

    مختصر علامات کے ساتھ ادویات کا انتخاب

    ٭- ایسکولس پیپوکاسٹی نم=ایسی بواسیر جس کے ساتھ حاد نوعیت کی کمر درد پائی جاتی ہے۔
    ٭-”امونیم میور“ =میں لیکوریا کے دبنے کے نتیجے میں بواسیرکا ہونا پایا جاتا ہے۔
    ٭-ایپس میلی فیکا=زچگی کے بعد ہونے والی خونی بواسیر ساتھ ڈنگ لگنے والی دردیں ہوں ۔
    ٭-آرسینی کم البم=خونی بواسیر میں جلن جیسے آگ لگی ہوئی ہواور اسے سکون بھی گرمی پہنچانے سے آئے۔
    ٭-”بریٹا کارب“=میں خونی بواسیر کے مسے پیشاب کرتے وقت باہر نکل آئیں۔قبض جس میں سدّے آئیں۔
    ٭-برومیم=میں پُردرد خونی بواسیر جس کے ساتھ سیاہ پاخانے ہوتے ہیں۔ معدہ کا درد کھانا کھانے سے کم ہو جاتا ہے۔اپھارہ نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
    ٭-کاکٹس گرینڈی فلورس=میں خونی بواسیرکے مسّے پھولے ہوئے اور ان میں درد ہوتا ہے۔مقعد میں جیسے بھاری بوجھ رکھا ہے۔ساتھ دل کے غلاف کی سوزش پائی جاتی ہے۔
    ٭-کلکیریا کارب=میں کانچ نکلی ہوئی،اور جلن پائی جائے،ڈنگ لگنے والی خونی بواسیر پائی جاتی ہے۔
    ٭- کلکیریا فلور=خونی بواسیرکے ساتھ مقعد کا شقاق یا تکلیف دہ پھٹاﺅ پایا جاتا ہے۔مقعد میں خارش جیسے وہاں کوئی گرم چیز رینگ رہی ہو۔بادی بواسیر ہو توساتھ کمر درد ہوتا ہے۔
    ٭-کاربوویج=میں پاخانہ بار بار ہو ،از خود نکل جائے۔اس سے مُردار جیسی بو آتی ہے۔خونی بواسیر مقعد چھل جاتی ہے۔بواسیری مسوں کی رنگت نیلی سی، ان میں جلن اور رفع حاجت کے بعد درد ہوتا ہے۔
    ٭-کیسکیرا اسگریڈا=یہ دوا پرانی بدہضمی میں مفید ہے۔سختی جگر، یرقان ،خونی بواسیر اور قبض ہوتی ہے ۔ ساتھ سر درد ہوتا ہے۔گٹھیا کے درد کے ساتھ قبض بھی شامل ہوتی ہے۔
    ٭- کاسٹی کم=چلتے وقت اور اپنی تکالیف کے بارے میں سوچنے سے خاص طور پرخونی بواسیر کی درد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    ٭-کیمومیلا=خونی بواسیر ،ساتھ پُر درد شگاف ہوتا ہے۔اس کا درد خواہ کتنا ہی معمولی ہو برداشت نہیں ہوتا۔
    ٭-کاکیولس انڈی کس=میں رحم کے حصہ میں پُر درد دباﺅ،اور بعد میں خونی بواسیر ہو۔
    ٭- کالن سونیا=مزمن پُر درد بہنے والی خونی بواسیر میں جس میں ریکٹم میں درد کے ساتھ چھڑیاں رکھی ہوئی ہیں۔
    ٭-کرومیکم ایسیڈم=اندرونی اوربیرونی خونی بواسیر میں اندرونی اور بیرونی اخراجِ خون پایا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ کمر کے مختصر حصے میں درد پایا جاتا ہے۔
    ٭- اری جی رون کیناڈینس=اس میں خونی بواسیر پائی جاتی ہے ۔ ماہواری کی جگہ ناک سے خون بہتا ہو۔ (یہ علامت برائی اونیامیں بھی پائی جاتی ہے) ۔ خونی بواسیر،ساتھ سخت ،لمبے پاخانے،مقعد کے حاشیہ پر جلن، مقعد میں ایسا محسوس ہو جیسے پھٹی ہوئی ہو۔
    ٭-یونی مِس اٹروپریپورا=میں قبض ساتھ خونی بواسیر اور شدید کمر درد پائی جاتی ہے۔یہ دوا دل کی تکالیف جو جگر کے کام نہ کرنے کی صورت میں آئے مفید ہے ۔
    ٭- گریفائٹس= بواسیر اور شگاف میں جس کے ساتھ سخت پاخانے پائے جاتے ہیں۔
    ٭-ہیمامیلس=بواسیر کے نتیجے میں بہتے خون کو روکنے میں بہت ہی مفید دوا ہے۔اس وقت اس کو مدر ٹنکچر میں استعمال کریں۔
    ٭-پولی گونم پنکٹے ٹم=خون کی رگوں کا پھیل جانا ، خونی بواسیراور پاخانے کی آنت کے زخم پائے جاتے ہیں ۔
    ٭-سیڈم آکرے=پُر درد خونی بواسیر،جیسے مقعد پھٹ گئی ہے،سکڑاﺅ اور کھچاﺅ والی دردیں،جو اجابت سے چند گھنٹے بعد تک رہیں۔
    ٭- رٹہنیا=کی بواسیر میں ایسا جیسے مقعد میں شیشے کے ٹکڑے پھنسے ہوئے ہوں۔

    علامات کا ذکر قدرے تفصیل کے ساتھ
    ABROTANUM
    بواسیر
    ٭-ابراٹی نم=اس میں انتقال مرض کی علامات پائی جاتی ہیں۔جوڑوں کی دردوں میں بہتری آنے سے بواسیر کی تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔خونی بواسیر ، لگاتار پاخانے کی حاجت،پاخانے خونی ۔جیسے ہی گٹھیا کی دردوں کی شدت میں کمی آئے،خونی بواسیر کی تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے ۔ابراٹی نم باہر کو نکلی ہوئی بواسیر،چھوتے وقت یا پاخانہ گزرتے وقت جلن ہوتی ہے۔قبض جو اسہال کے ساتھ ادل بدل کر ہو۔ لگاتار پاخانے کی حاجت ہوتی ہے لیکن صرف ایک چھوٹا سا خون کا قطرہ آتا ہے۔اسہال رات کو آئیں ۔ اسہال کے ساتھ گٹھیاوی درد،بیرونی خونی بواسیر، باہر کو نکلی ہوئی ساتھ جلن،چھونے سے تکلیف میں اضافہ۔بواسیر میں بہتری آئے جیسے ہی گٹھیاوی شکایات ظاہر ہوںاور اخراج خون ظاہر ہوتے ہی گٹھیاوی دردیں غائب ہو جاتی ہیں۔ریکٹم میں آنتوں کا ایک کیڑا،کرم سفید پایا جائے۔تکونیہ ہڈی میں درد کے ساتھ خونی بواسیر پائی جائے۔بواسیر کی تکلیف دبنے سے دل متاثر ہو سکتا ہے۔
    AESCULUS HIPPOCASTANUM
    بواسیر
    ٭-”ایسکولس ہیپو کاسٹینم“=میں ایک خاص قسم کی بواسیر ہے جس میں انگور کے خوشوں کی طرح نیلگوں رنگ کے دو چار مسے اکٹھے ہوتے ہیں جن میں شدید جلن کا احساس ہوتا ہے۔کھڑے ہونے اور چلنے سے درد شدت اختیار کر جاتا ہے۔مقعد میں جلن ،خشکی اور یہ احساس جیسے چھوٹی چھوٹی کرچیاں بھری ہوئی ہیں، اجابت سخت ،خشک اور مشکل سے ہوتی ہے۔اور اجابت کے بعد سخت درد ہوتا ہے۔خونی بواسیر ،ساتھ تیز گولی لگنے والی دردیں کمر کی طرف جائیں۔اندھی اور خونی بواسیر جس میں اضافہ موقوفی حیض کے دنوں میں ہو ۔ لمبے ،سخت خشک پاخانے ،رسی کی طرح کے ۔میوکس ممبران سوجی ہوئی جو راستے کو روک دیں۔بواسیرمیں اخراج خون کبھی کبھار ہوتا ہے ۔ فضلہ سخت اور خشک ہوتا ہے اور مشکل سے خارج ہوتا ہے۔فضلہ نکلتے وقت یہ احساس جیسے کانچ نکلی ہوئی ہے۔خون نکلنے سے سکون ملتا ہے۔یہ دوا اس وقت مئوثر ہوتی ہے جب بواسیرخون کو جگر تک لے جانے والی رگ میں اجتماع خون سے پیدا ہو۔پیٹ حد سے پھولا ہوا۔خون آتا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی آتا لیکن یہ احساس جیسے مقعد میں چھڑیاں یا لکڑیوں کے ٹکڑے رکھے ہوئے ہیں ۔ بعض آزمائش کرنے والوں کے اندربواسیر کے ساتھ جگر کی بہت سی علامات اور کچھ میں بواسیر کے ساتھ لمبار ریجن میں درد ثابت ہوئی ہے ۔بواسیرجامنی رنگ کی باہر کو نکلی ہوئی ساتھ شدید تکونیہ ہڈی میں کمر کی مختصر جگہ پر شدیددرد اور جگر کے مقام بھراﺅ پایا جاتا ہے ۔خشکی ،جلن اورخارش اس کی بہترین علامات ہیں۔ڈاکٹر ہیوگزایسی بواسیر میں جو خون کو جگر تک لے جانے والی رگ میں اجتماع کے نتیجے میں ہونکس وامیکا اور سلفر کو ترجیح دیتے ہیں ۔ پلساٹیلا چند بہترین ادویات میں سے ایک ہے جو ایسکولس کے بعد بہترین کام کرتی ہیں۔پلسٹیلا میں غیر متحرک اجتماع خون اور بد ہضمی اور اندھی بواسیرکی شکایات پائی جائیں۔ ڈاکٹر ڈیوے اس کا استعمال اُونچی طاقت میں تجویز کرتے ہیں جب بواسیر کے ساتھ مزمن قبض پائی جائے تو شفا کا باعث ہوتی ہے۔
    AESCULUS GLABRA
    بواسیر
    ٭-”ایسکولس گلابرا“= میں بیرونی خونی بواسیر ، شدید پر درد،گہری نیلگوں رنگ کے مسوں والی، ساتھ قبض اور چکر اورجگر میں انجمادِ خون پایا جاتا ہے ۔اس دوا کا اثراکثر نچلی آنتوں پر پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں خونی بواسیر کی نسوں میں انجماد خون پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مخصوص نوعیت کی کمر دردساتھ حقیقی قبض کی غیر موجودگی۔خونی بواسیر جس کے ساتھ گولی لگنے کی طرح کی دردیں کمر کی طرف جائیں۔خونی اور بادی بواسیر میں اضافہ موقوفی حیض کے دنوں میں ہوتا ہے۔ سوزش گلو ،کھانسی جو جگر کی خرابی کی وجہ سے ہو۔چھاتی میں گرمی کا احساس،خونی بواسیر کے نتیجے میں دل کے ارد گرد دردپائی جائے۔
    ALOE SOCOTRINA
    بواسیر
    ٭-”ایلو سوکوٹرینا“= میں خون ایسے گرتا ہے جیسے نل سے پانی ۔ بواسیر انگور کے گچھوں کی طرح باہر نکلی ہوئی ۔ ٹھنڈے پانی سے دھونے سے بہتری آتی ہے ۔ اپھارہ کے ساتھ فضلہ۔مقعد میں خارش اور جلن پائی جاتی ہے۔مسلسل مقعد میں انگلی ڈالنا چاہے۔مقعد پر مسلسل دباو،خون آئے ، مسلسل درد،جسے ٹھنڈے پانی سے سکون آئے۔مقعد میں ہوا کے اخراج کے وقت عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔سدے والے ،پانی والے جیلی کی طرح کے پاخانے ۔باہر نکلی ہوئی خونی بواسیر جس میںدکھن پائی جاتی ہے۔یہ خونی بواسیر کی ایک بہترین دوا ہے۔یہ اس وقت مفید ہوتی ہے جب انگور کے گچھوں کی طرح باہر نکلی ہوئی ہو۔خون اکثر اور کھل کر ہواور اسے ٹھنڈے پانی سے بہتری آئے۔مقعد میں نمایاں طور پر جلن، انتڑیوں میں ایسے لگے جیسے جمع کیا ہو۔دستوں کا رجحان ،نچلی آنتوں میں غیر یقینی صورت حال نمایاں طور پر پائی جائے۔یہ دستوں کا رجحان اسے کالن سونیا سے نمایاں کرتا ہے۔قبض کا رجحان کالن سونیا میں پایا جاتا ہے۔رٹہنیا میں مقعد میں جلن پائی جاتی ہے۔ سخت پاخانے کے بعدوریدپھولی ہوئی اور باہرکو نکلی ہوئی ہوتی ہے۔اس دوا کی خصوصیات میںجلن اور مقعد میں فشرزہوتے ہیں۔ان میںشدید درد اور مقعد میں حساسیت ہوتی ہے۔(کیپسی کم) ۔بواسیر ، ایسے لوگ جن کا طرز معاشرت بیٹھے رہنے کا ہو۔ خاص طور پر بوڑھے لوگوں میں۔ایلوزنظام معقد کے زہریلے مادوںکی(ردِّ سمیات) دواہے یہ ان کوباہرنکال کرتی ہے۔
    AMMONIUM CARB
    بواسیر
    ٭-”امونیم کارب=میں رفع حاجت کے بعد بواسیر باہر نکلی ہوئی ساتھ مقعدمیں ڈنگ لگنے والی اور جلن دار دردیں ہوتی ہیں جو رفع حاجت کے بعد گھنٹوں جاری رہیں۔ جس سے چلنا مشکل ہو ۔بواسیر پاخانے کے بغیر باہر کو نکلی ہوئی ۔مقعد میں جلن اور خارش ۔جو نیند کو حفظ ماتقدم کے طور پر محفوظ بناتی ہے ۔بواسیر کی تکلیف میں اضافہ ماہواری کے دنوں میں ہوتا ہے ۔ مقعد کی خارش،باہر کو نکلی ہوئی بواسیر ، پاخانے سخت اور گانٹھ دار مشکل سے خارج ہوں ۔تکلیف میں اضافہ رفع حاجت کے بعد ہو اور بہتری لیٹنے سے آئے۔
    AMMONIUM MURIATICUM
    بواسیر
    ٭-”ایمونیم میوریاٹیکم“ =میں خونی بواسیر اور خارش،ساتھ شدید درد اورپھنسیاں۔لیکوریا کے دبے کے نتیجے میں خونی بواسیر ہوتی ہے۔ اجابت کے دوران اوربعد میں مقعد میں جلن اورتیز چبھنے والی درد ہوتی ہے۔قبض ،پاخانہ سخت اور چوراچورا ہو جس کو نکالنے میں کافی محنت درکار ہو۔ پیرینم (سیون،مقعد اور اعضائے تناسلی کے درمیان والا حصہ) میں ڈنگ لگنے والی درد۔سبز میوکس والے پاخانے اور قبض باری باری ہوتے ہیں۔ قبض اور بواسیر ساتھ پاخانے کے دوران اخراج خون پایا جاتا ہے۔
    ANACARDIUM ORIENTALE
    بواسیر
    ٭-”اناکارڈیم“=میں دوران پاخانہ خونی بواسیر ہوتی ہے۔ خونی بواسیر میں درد ہوتی ہے۔ انتڑیوں کے فعل کی نااہلیت ۔غیر مئوثر حاجت ، مقعد میں نااہلیت ، ایسے جیسے ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔مقعد کے پٹھے (وہ پٹھہ جس کے سکڑنے سے سوراخ بند ہو جاتا ہے) کا سکڑاﺅ ، حتیٰ کہ نرم پاخانہ بھی مشکل سے خارج ہو۔مقعدپر خارش،مقعد پر رطوبت۔
    ARSENICUM ALBUM
    بواسیر
    ٭-”آرسینی کم البم“=میں خونی بواسیر کے ساتھ جلن والی دردیں اوربے چینی ہوتی ہیں ۔ گرم ٹکور سے بہتری آتی ہے۔خونی بواسیرآگ کی طرح جلے اور مقعدکے ارد گرد کی جلد چھلی ہوئی ۔درد کے ساتھ تشنج، امعائے مستقیم سے باہر کو نکلی ہوئی بواسیر ساتھ شدید مروڑ پائے جائیں۔معمولی سی مشقت بھی شدید تھکاوٹ میں مبتلا کر دے۔ جس کے ساتھ جلن والی دردیں ۔ تکالیف میں اضافہ رات کو ساتھ بے چینی ،خوف اورڈرپایا جاتا ہے۔اس کے مزاج میں شدید بے چینی ، موت کا خوف ، انزائٹی، بڑھی ہوئی پیاس جو تھوڑے تھوڑے اور بار بارپانی پینے کی ہوتی ہے، مریض کھلی ہوا کی خواہش کرتا ہے۔
    BERBERIS VULGARIS
    بواسیر
    ٭-بربرس ویلگریس=کا طاقتوراثر رگوں والے نظام پر ،پیڑو میں انجماد خون (ہڑپ کرنے کا عمل) اور خونی بواسیر پر ہوتا ہے۔جگر سے متعلق اورگٹھیا سے تعلق رکھنے والی بیماریوں میں،خاص طور پر پیشاب سے تعلق رکھنے والی ،بواسیری اور ماہواری سے تعلق رکھنے والی بیماریاں سے ہے۔
    CARBO VEGETABLIS
    بواسیر
    ٭-”کاربوویجی ٹیبلس“= میں بواسیر باہر نکلی ہوئی ،نیلاہٹ مائل ، ناگوار بو والے اخراجات ، سوجن ، مقعدمیں جلن،ریکٹم سے مواد قطروں کی صورت میں بہے۔ اپھارہ،خارش زدہ،کترنے والی اور جلن والی دردیں پائی جاتی ہیں۔پاخانے کے ساتھ خون خارج ہوتا ہے۔دکھن،رات کے وقت مقعد کے ارد گرد رطوبت ۔ پھپھوندی والا لیسدار مرطوب مواد خارج ہو۔ سفید خونی بواسیر ساتھ مقعد کے ساتھ چھیلن۔نیلاہٹ مائل جلن والی دردیں ۔ پاخانے کے بعد دردیں ہوتی ہیں۔عمر رسیدہ افراد کے پر درد اسہال ۔ لگاتار،خود بخود مُردوں جیسی بدبو والے پاخانے آئیں،جس کے بعد جلن پیدا ہو۔
    CARDUUS MARIANUS
    بواسیر
    ٭-کارڈوس میریانس=اس دوا کا خاص اثر جگر اور جگر کے اطراف خون لانے والی وریدوں پر ہوتا ہے۔ بواسیر خونی،کانچ نکلی ہوئی ،مقعد اور ریکٹم میں جلن دار دردیں۔اس کے پاخانے گانٹھ دار،سخت اورمٹی کے رنگ کے ۔پیشاب اکثر گہرے رنگ کا ہوتا ہے۔
    COLLINSONIA CANADENSIS
    بواسیر
    ٭-کالن سونیا کیناڈنسس= میں بواسیرخونی ،قبض ضدی ، ساتھ کمر درد ہوتی ہے۔بواسیر خونی یا اندھی اور باہر نکلی ہوئی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی دوا خونی بواسیر میں اس کے مقابل پر نہیں جس میں اکثر مسلسل طور پراخراج خون ہو ۔مدر ٹنکچر میں اس کا استعمال زیادہ مفید ہے۔بڑی آنت کا نچلا حصہ ڈھلکا ہوا۔ قبض ضدی اوردست بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی خواتین جن کی اندام نہانی حمل کی وجہ سے پھیل گئی ہو یاپیڑو کے اعضاءمیں اجتماع خون پایا جائے۔یہ حاملہ خواتین میں مفید ہے جو بواسیر میں مبتلا ہوں۔ خارش اس کی بنیادی علامت ہوتی ہے۔ قابل ذکر علامت امعائے مستقیم میں چھڑیاں ہونے کا احساس ساتھ قبض اور نچلی آنتوں میں پائی جاتی ہے۔بواسیر کی بیماریوں کا انحصار مقعد اور انتڑیوں پر ہے۔امعائے مستقیم لٹکی ہوئی یا اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہونے کی وجہ قبض ہوتی ہے۔ساتھ خارش ، ماہواری درد کے ساتھ اور قبض ہوتی ہے۔رحم کی گردن پر اجتماع خون ساتھ پر درد بواسیرجس میں اضافہ قبض اور بواسیر میں ہوتا ہے۔پیڑو میں اجتماع خون سے حیض کی غیر موجودگی پائی جاتی ہے۔ بواسیر کے خون کے بہائوکے دب جانے سے دل کی دردیں پیدا ہوں تومفید ہے۔یہاں یہ دوانکس وامیکا سے ملتی ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ مفید ہے۔خونی بواسیر جو دماغی اور دل کی تکلیف کے ساتھ ادل بدل کر ہو تو ڈاکٹر (Lilienthal) کے مطابق اس کی دوا ہے۔اس میں دل کی دھڑکن لگاتار۔استسقاء،دل کی تکالیف میں بہتری آئے تو بواسیر یا ماہواری واپس لوٹ آتی ہے۔چھاتی کی دردیں بواسیر سے ادل بدل کر آتی ہیں ۔چھاتی میں دبائو،غشی اور سانس کا پھولنا پایا جاتا ہے۔
    DIOSCOREA VILLOSA
    بواسیر
    ٭-ڈائسکوریا ولوسا=مقعد میں خونی بواسیرساتھ جگر کی طرف تیز بالاگڑنے جیسا درد پایا جاتا ہے۔ بواسیر کے مسے انگور کے گچھوں کی طرح یا چیری کی طرح کے سرخ ہوتے ہیں۔جو ہر پاخانے کے بعدباہر نکل آتے ہیں۔ مقعد میں درد پایا جاتا ہے۔ڈائسکوریا میں درد کی لہریں ہمیشہ ایک جگہ سے دو سری جگہ منتقل ہوتی ہیں۔اسی طرح بواسیر کے مسوں کا درد بھی جگر ہی کی جانب جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
    DOLICHOS PRURIENS
    بواسیر
    ٭-”ڈولی کس “=میں پیدائشی (خاندانی مرض ) بواسیر پائی جاتی ہے۔خونی بواسیر ساتھ جلن کا احساس ۔ بواسیر میں اس کو ٹنکچر میں استعمال کریں۔اس میں شدیدخارش پائی جاتی ہے لیکن دانے نہیں نکلتے۔
    HAMAMELIS VIRGINICA
    بواسیر
    ٭-ہیما میلس ورجینی کا =ڈاکٹر ہیوگز اس دوا کے بارے اچھی رائے رکھتے تھے۔ یہ بواسیر کی ادویات میں استعمال ہونے والی ادویات میں سے ایک دوا ہے ۔ اس کا فیصلہ تشخیصی طورپر استعمال کے بعد کیا ہے۔ بہنے والی خونی بواسیر اور اخراج کھل کر ہوتا ہے۔اور اس کے ساتھ بڑھی ہوئی خراش والی درد ہوتی ہے۔ہیوگز اس کو دوسری طاقت میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ اس کا استعمال بیرونی طور بھی کیا کرے تھے اس کے ایکسٹریکٹ کو گرم کر کے یا ٹھنڈا بھی سوزش اور خراش کو دور کرنے کے لئے کرتے تھے۔سلفر کے اندر قبض اورمقعد میں خارش ہوتی ہے جس میں اضافہ رات کو ہوتا ہے۔اس علامت کو اس دوا کی بنیادی علامت کے طور سمجھتے تھے۔اس میں درد کے بغیراخراج خون بعد میں نقاہت جو خون کے ضائع ہونے کے تناسب سے زیادہ ہوہوتا ہے۔خون گہرے رنگ کا۔خون کی کمی ،دم گھٹتاہے کمزوری جس کے ساتھ بھوک بہت اچھی نہ ہو ۔نسوں میں اجتماع خون اور نسوں کے بہاو میں خون کے بہائو میں کمی بنیادی خصوصیت ہے۔متاثرہ حصوں میں کچلے جانے اور شدید دکھن پائی جاتی ہے۔بواسیر کی طرح جسم کے کسی بھی حصے سے سست اخراج خون پایا جاتا ہے۔
    KALIUM CARBONICUM
    بواسیر
    ٭-کالی کارب=خونی بواسیر، پُر درد بواسیر،مسے بڑے، سوجے اور درد سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ کھانستے وقت بواسیر میں درد ہوتا ہے ۔ بڑے بڑے سٹولز مشکل سے خارج ہوں ۔خارج ہونے سے ایک گھنٹہ قبل سوئی گڑنے والی دردیں۔ معمول کے مطابق پاخانوں سے بڑی مقدار میں خون خارج ہوتا ہے۔ مقعد کے ارد گردخارش زخمی پھنسیاں نکلیں ۔ جلن ایسی جیسے آگ لگی ہوئی ہے اورخون کھل کر آتا ہے۔اندرونی طور پرسوجن اور پھیلاﺅ۔مقعد میں فسچولا۔مقعد اور ریکٹم (بڑی آنت کا نچلا حصہ یعنی قولون کا وہ حصہ جہاں سے امعا مستقیم شروع ہوتی ہے الٹا موڑ) میں جلن ہو۔ کانچ آسانی سے نکل آئے اور اس میں خارش ہو۔ جلن میں کمی وقتی طور پرٹھنڈے پانی میں بیٹھنے سے یا ٹھنڈی ٹکور سے آتی ہے۔٭-کالی کارب= بواسیرکے ٹیومر گول گول مسوں کی بجائے لمبی غدودوں کی شکل میں ہوتے ہیں جن میں شدید جلن ہوتی ہے۔ٹھنڈے پانی سے وقتی طور پر آرام اور جلن کی شدت میں کمی آ جاتی ہے ۔ کالی کارب کی پیٹ کی خرابیوں میں درد ضرور ہوتا ہے مثلاً پیچش ہو گی تو درد کے ساتھ ہو گی البتہ اسہال عموماً بغیر درد کے ہوتے ہیں جو قبض سے ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔(علاج بالمثل)اس کے مزاج کو سمجھنے کے لئے ڈاکٹر سینکران لکھتے ہیں کہ اس کی بنیادی علامت جس کے ارد گرد یہ دوا گھومتی ہے۔کہ اس کا مریض اکیلا نہیں رہ سکتا وہ اکیلے رہنے سے خوفزدہ رہتا ہے اور وہ لوگوں سے میل جول چاہتا ہے۔کالی کارب کا مریض سوسائٹی کے رسم و رواج میں اعتدال پسند (لکیر کا فقیر )ہوتا ہے اور سوسائٹی کے قانون اور اصول کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔
    MILLIFOLIUM
    بواسیر
    ٭-میلی فولیم=میں آنتوں سے اخراج خون۔ بواسیر اور پاخانے خونی اسی طرح پیشاب بھی خونی ہے۔ خون سرخ چمکدار ہوتا ہے۔علم التشخیص کے مطابق اس میں اخراج خون کا بہاﺅ کھل کر ہوتا ہے۔ رنگت چمکدار سرخ ، خون پتلا ،بواسیر خونی،ساتھ ٹھنڈک پائی جائے ،یوٹرس سے چمکدار سرخ خون آتا ہے۔
    MURIATIC ACID
    بواسیر
    ٭-”میوریاٹک ایسڈ“= کی بواسیر ایسی جیسے انگور کے خوشے ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں ارغوانی رنگ کے ، چھونے سے درد کرتے ہیں۔بچوں کی بواسیرباہر کو نکلی ہوئی سرخی مائل نیلی ہوتی ہے۔پیشاب کرتے وقت ان میں خود بخود باہر نکلنے کا رجحان ہوتا ہے۔ا س میں ہر طرح کے چھونے سے حساسیت ہوتی ہے۔حتیٰ کہ ٹائلٹ پیپر بھی درد کرتا ہے۔مقعد میں خارش اور پیشاب کرتے وقت ڈھونڈری باہر کو نکلی ہوئی۔دورانِ حمل بواسیر پائی جاتی ہے۔نیلاہٹ مائل،گرم ساتھ شدید ٹانکہ لگنے والی دردہوتی ہے۔ اس میں خونی بواسیر کے مسے لمبے، گہرے ارغوانی رنگ کے جسے چھونے سے شدید حساسیت پائی جاتی ہے۔بواسیر کے ٹیومرز میں سوزش ،گرم اوردھڑکن پائی جاتی ہے ۔اعضاءکو پھیلا کر سونا پڑے۔پاخانے کے دوران جلنے اور کاٹنے والی دردیں۔رفع حاجت کے بعدجلن۔جس میں گرم پانی سے دھونے سے بہتری آئے۔تکلیف میں اضافہ ٹھنڈے پانی سے آئے۔مقعد میں چھیلن اور شگاف (فشرز) پایا جاتا ہے۔باہر کو نکلی ہوئی مقعد کو سخت دبائو سے دبانا پڑے۔اس کے مریض کا مزاج نازک مزاج ،تنک ، چڑچڑا ،خوفزدہ، اُونچی آوازسے بھسکتا ہے۔ شدید بے چینی،اداس الگ تھلگ،خاموشی میں مبتلا ہوتا ہے۔
    NITRIC ACID
    بواسیر
    ٭-نائٹرک ایسڈ=خونی بواسیر جس سے خون بہنا بند ہو جائے،لیکن درد بہت ہوتا ہے۔ریکٹم میں ڈھیلے پن کے ساتھ لٹکی ہوئی بواسیر میں چبھن والی دردیں ہوتی ہیں۔رفع حاجت کے وقت ضرورت سے زیادہ زور لگانے سے بواسیر سے آسانی سے خون بہتا ہے ۔ آنتوں سے خون بہتا ہے اور شدید رفع حاجت کے بعد ایک گھنٹے بعد تک شدید کاٹنے والی دردیں جاری رہےں ۔شدید جلن دار اور ڈنگ لگنے والی دردیں،مقعد پھٹی ہوئی محسوس ہو اورمقعد میں شدید شگاف۔ شدید تھکاوٹ اور چڑچڑاپن رفع حاجت کے بعد ہو۔اس کے مریض ذہنی طور پرتنک مزاج،نفرت سے بھرے ہوئے،کینہ پرور،منہ زور، سرکش، مایوس ، ناامید،شور سے زود حسی،درد،چھونے سے،درد سے زود حس ہوتے ہیں ،موت کا خوف پایا جاتا ہے۔
    NUX VOMICA
    بواسیر
    ٭-”نکس وامیکا“=بواسیر کی ایک بنیادی دوا ہے ۔ اس میں خونی اور بغیر خون کے بواسیر پائی جاتی ہے ۔ اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب اس میں جلن والی دردیں او ر قبض ساتھ غیر مئوثر رفع حاجت کی خواہش پائی جاتی ہے۔اگر خونی بواسیرلمبی اور اندھی بواسیرہو تو اس میں ساتھ جلن،ڈنگ لگنے والی دردیں اور مقعد میں کھچائو کا احساس ہوتا ہے۔ کمر میں مختصر جگہ میں کچلے جانے کا احساس ۔ بیٹھ کر کام کرنے والے۔ لائف اسٹائل ایسا کہ وہ محرک اور نشاط انگیز ادویات اور خوراک کا عادی ہوتا ہے میں اعتماد سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔خارش والی خونی بواسیرجو رات کو نیند سے بیدار کر دے ۔ٹھنڈے پانی سے سکون ملتا ہے۔یا خونی بواسیر جس کے ساتھ مسلسل رفع حاجت کے ساتھ زور لگا کر نکالنا پڑے۔اور یہ احساس رہے کہ ابھی انتڑیاں خالی نہیں ہوئیں۔مقعد میں شدید حساسیت حتیٰ کہ مریض نرم ترین ٹوائیلٹ پیپر تک استعما ل نہ کر سکے ۔ بواسیر میں شدید دکھن اورحساسیت کہ ہلکا سا چھونا بھی قابل برداشت نہ ہو۔
    PAEONIA OFFICINALIS
    بواسیر
    ٭-پائی اونیاآفیسی نیلس=میں خونی بواسیر ساتھ ناسور بنتے ہیں ۔مقعد اوراس کے ارد گردحصے ارغوانی اور چھلکوں سے ڈھکی ہوئی۔مقعد کے اندر زخم بہت پُر درد ہوتے ہیں۔تمام میوکس ممبران زخموں اور کریکس سے اَٹی ہوئی ہوتی ہے۔مقعد میں کاٹنے والی،خارش جس کو کھرچنے سے تکلیف میں اضافہ ۔رفع حاجت کے بعدمقعد کے سوراخ میں سوجن اورجلن اندرونی ٹھنڈک پائی جاتی ہے۔مقعد کے فسچولاکے ساتھ درد کرنے والے زخم ۔ ارغوانی خونی بواسیر چھلکوں سے ڈھکی ہوئی۔اور شدید خبیث نوعیت کی دردیں جو ہر پاخانے سے اور بعد میں ہوتی ہیں۔
    PHOSPHORUS
    بواسیر
    ٭-”فاسفورس“ = خونی بواسیرمیں اخراج خون اور رفع حاجت کے بعد شدید کمزری پائی جاتی ہے ۔ پاخانہ سفیداورسخت ،پاخانے کے ساتھ اور بعد میں ریکٹم سے خون کا اخراج ۔بغیر درد کے کھل کر کمزوری پیدا کرنے والے ساتھ بدبو والے پاخانے آتے ہیں ایسے جیسے بد بودار اپھارہ۔سبز میوکس ساتھ لمبے ،تنگ سخت پاخانے ،کتوں کے پاخانے کی طرح کے۔ ایسا محسوس ہو کہ مقعد ہر دفعہ کھلی ہے۔ بواسیر سے آنے والا خون رنگ میں چمکدار سرخ ساتھ شدید کمزوری پائی جاتی ہے ۔ ”فاسفورس“ میں سفیدسخت پاخانے جس کے ساتھ خونی بواسیر پائی جائے۔بواسیر تو بہت سی ادویات میں پائی جاتی ہیں لیکن فاسفورس کا مزاج اور کی علامت سے اس تک پہنچا جا سکتا ہے اس کی علامت رفع حاجت کے بعد شدید کمزوری ہوتی ہے۔ اور ”فاسفورس “کے ساختی مریض لمبے ،باریک ، چھاتی تنگ ۔ دُبلا پن ، جلد پتلی ، صاف شفاف ہوتی ہے۔
    RATANHIA
    بواسیر
    ٭-”رٹینیا“=میں مقعد میں درد جیسے کانچ کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ہے۔مقعد میں درد اور جلن رفع حاجت کے گھنٹوں بعد تک جاری رہے ۔ مقعد سکڑی ہوئی محسوس ہو۔مقعد میں خشکی اور گرمی ساتھ جیسے چھریاں چبھ رہی ہوں۔ پاخانے کو زور سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی پڑے۔بواسیر کے مسے باہر نکل آئیں ۔ مقعد میں شگاف ساتھ شدید سکڑائو،آگ کی طرح کی جلن ،ایسا ہی خونی بواسیر کے ساتھ ہو۔وقتی طور پر ٹھنڈے پانی سے سکون آتا ہے۔بدبودار،پتلے دست ۔ جلن دار پاخانہ کرے سے پہلے بعد میں درد اور جلن ہوتی ہے۔مقعدسے کچھ نہ کچھ ٹپکتا رہے۔چنونے جو مقعد میں خارش پیدا کریں۔
    SULPHUR
    بواسیر
    ٭-”سلفر“ =میںخونی بواسیر میں ان علامات سے مطابقت رکھتی ہے جو بواسیر سے اخراج خون کے بند ہو جانے سے آتی ہیں۔نتیجے کے طور پرسر میں بھاری پن ، جگر میں گھبراہٹ،قبض ہو جاتی ہے۔رفع حاجت کی خواہش اور مقعد میں خارش۔خارش اور مقعد کی جلن کے بوجھ کے نتیجے میں پیٹ کی تکالیف میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مسلسل غیر مئوثر لیٹرین میں جانے کی خواہش ہوتی ہے۔پاخانے سخت ،گانٹھ دار اور نامکمل ۔ مقعد کے ارد گرد سرخی ساتھ خون ٹپکے اور ڈکار آئیں۔
    THUJA OCCIDENTALIS
    بواسیر
    ٭-تھوجا=کی بواسیر سوجی ہوئی اور پُر درد ہوتی ہے جب آپ بیٹھے ہوئے ہوں۔مقعد میں جلن دار دردیں ہوتی ہیں۔مقعد میں شگاف،چھونے سے درد ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ پُر درد موہکے پائے جاتے ہیں۔قبض ساتھ ریکٹم میں شدید دردیں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں پاخانہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔مزمن اسہال میں پیٹ پھولا ہوا اور سخت ہوتا ہے۔اس کے مریض کے پسینہ سے میٹھے شہد کی طرح اور لہسن کی طرح تیز بد بو پائی جاتی ہے۔تھوجا کا مزاج ،اس کا مریض سمجھتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور وہ ٹوٹ جائے گا۔ ہاتھ ملاتے وقت تھوڑا سا ہاتھ ملائے گا، چلتے وقت بڑا سنبھل کر چلتا ہے۔ بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر نہیں جاتا۔ تنگ جگہوں پر جانے سے گریز کرتا ہے ۔ ملنے جلنے سے گریز کرتا ہے۔ کسی اجنبی سے ملنا نہیں چاہتا ۔اسی لئے اس کے بچے اسکول جانے سے گریز کرتے ہےں۔انجان جگہ پر جانا پسند نہیں کرتا ۔امتحان سے ڈر لگتا ہے۔اعتماد کی کمی۔اکیلا رہنا پسند کرتا ہے ۔ ساری نگاہیں اسے دیکھیں اس کو پسند نہیں کرتا۔

    بواسیر میں استعمال ہونے والے نسخے

    453-خونی بواسیر
    Aconite + Belladona + Millefolium 30
    454-بواسیر موکے والی یا خونی
    1 Sulphur 200
    2 Nux Vomica 30
    455-بواسیر موکے والی یا خونی
    (یا یہ نسخہ)
    1 Bacillinum + Psorinum 200
    روزانہ ایک بار چار بار پھر ہفتہ وار
    2 Phosphorus 30
    3 Arsenic 30
    دو اور تین نمبرروزانہ چار بار
    460-غیر خونی بواسیر
    1 Sulphur 30
    2 Belladona 30
    3 Nux vomica
    620-بواسیر(خونی)
    Belladona + Millefolium + Merc. Corresive 30
    ملا کر روزانہ تین بار اگر فرق نہ پڑے تو
    621-بواسیر(خونی)
    Arnica + Belladona + Hamamelis30
    اگر مندرجہ بالا صورتوں میں درد کی شدت ہو تو
    Arsenic+Paeonia 30
    روزانہ تین چار بار

    ترتیب ، تحقیق وپیش کش:
    خالد محمود اعوان
    0332-2556942
    0308-2486085