PCOS رحم کی تھیلیاں، چہرے پر بال اور متفرق، ماہواری کا درد کے ساتھ آنا. ہارمون کا پرابلم کا ہومیوپیتھک شافی علاج
Category: جنسی امراض
مردوں اور عورتوں کی جنسی امراض اور ان کا علاج جیسے اولاد کا نہ ہونا، مردانہ کمزوری، عورتو ں کے ایام ٹھیک نہ ہوں۔
-

عورتوں میں غیر معمولی جنسی غلبہ
عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ
طالب دعا:خالد محموداعوان
میں محترم ڈاکٹر نصیر احمد صاحب کا حد سے زیادہ مشکور ہوں۔ آپ نے میری اس مشکل کو حل کر دیا ہے ۔جو مجھے اس آرٹیکل کو پیش کرنے میں آ رہی تھی ایک حجاب تھا کہ اس موضوع پرلکھ رہا ہوں۔اس پر لکھنے کی وجہ ایک مریضہ کی کال تھی جو بے چاری اس مرض میں مبتلا تھی اوراس کا اظہار بھی اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔اپنی بہنوں کی اس مشکل کے لئے لکھنے پر مجبور کیا ۔دوسرا مرحلہ اس کو پیش کرنا تھا۔اس پر بھی وہ فطری حجاب آڑھے آ رہا تھاتو میں نے اس کا اظہار محترم ڈاکٹر نصیر احمد طاہر سے کیا تو آپ نے از راہِ شفقت یہ تحریر لکھ کر حل کردیا۔ میں ان کا ممنون و مشکور ہوں۔میں نے آپ کی تحریر بطور انٹرو شامل کر دی ہے۔جزاکم اللہ
(٭-غیر فطری اوربڑھی ہوئی خواہش کے اسباب ۔
٭-یہ ایک نہ بیان کرنے والا مگر انتہائی اہم موضوع ہے۔
٭-یہ ایک مرض کے زمرہ میں آتا ہے۔
٭-علاج کے بغیر چھوڑنے سے یہ ڈپریشن سے بڑھ کر دائمی ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
٭- اسباب کو جانے بغیر ہم اس ضرورت سے بڑھی خواہش کا علاج نہیں کرسکتے، اور اس کے بد اثرات یا عدم تکمیل خواہش کے باعث پیدا شدہ امراض جو انتہائی عام ہیں، ان کو روک نہیں سکتے۔
٭-جنسی تعلقات کے لئے ایک عورت کی خواہش مباشرت کو متاثر کرنے والے بہت سے اجزاءکی ایک پیچیدہ بات چیت پر مبنی ہے۔
٭-جس میں جسمانی بہبود ، جذباتی بہبود ، تجربات ، عقائد ، طرزِ زندگی اور موجودہ تعلقات شامل ہیں۔
٭-تو دوسری طرف عمر ،ماحول، دوستی، ازدواجی حیثیت، عدم تسکین اور رویے بھی اہم ہیں۔
٭-اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی شعبے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، یہ آپ کی جنسی خواہش کو متاثر کرسکتا ہے۔
٭-جسمانی وجوہات بیماریوں ، جسمانی تبدیلیوں اور دوائیوں کی ایک وسیع رینج ، جنسی خواہشات کے بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔
٭-جب مرد اور خواتین کی جنسی ڈرائیو کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اکثر تنگ ، دقیانوسی زمرے کے استعمال کرتے ہیں۔
٭-عورتوں کے جذبات مجروح کرتے اور ان کے علاج کی راہیں مسدود کرتے ہیں۔
٭-اگر کھلی نظر سے دیکھا جائے تو حیاءمردوں کے مقابلے پر عورتوں میں ہی زیادہ ہوتی ہے۔
٭- عورتیں تو اپنی اس مرض کے بارے میں اظہار بھی ہزار گنا کم کرتی ہیں۔
٭- مرض تو مرض ہے۔ اور زیرِکفالت کا علاج ضروری ہے۔
٭-بہت سی امراض کے باعث یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، جو فطری ہے۔
(ڈاکٹر نصیر احمد طاہر)٭-ذیل میں ان امراض کے بارے میں کچھ علامات کے ساتھ چند ادویات کا ذکر کیا جارہا ہے ۔تا کہ خواتین اپنی علامات کے مطابق دوا کا انتخاب کر سکیں۔
AGARICUS MUSCARIUS
٭-”اگاری کس مسکار ی اس“=میں عورتوں میں جنسی اعضاءپر خارش اور اری ٹیشن کی وجہ سے ہر ایک سے بغل گیر ہونے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ مباشرت کے بعد شدید کمزوری ،بھوک کی کمی،اور تھکاوٹ جو کئی دن تک رہتی ہے۔ عورتوں میں جنسی خواہش کا غلبہ ،خاص طور پر موقوفی حیض کے بعد بھٹنیوں میں جلن اور خارش ہوتی ہے ۔جنسی فعل کے بعدتکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
AMBRA GRISEA
٭-”امبرا گریزا“= میں غیر معمولی جنسی خواہش،شرم گاہ میں خارش جس کے ساتھ مسلسل درد اور سوجن۔ماہواری وقت سے پہلے ،لیکوریا کھل کر، نیلاہٹ مائل لیکوریا ، تکلیف میں اضافہ رات کوہوتا ہے۔دونوں ماہواریوں کے درمیان یا کسی معمولی سے حادثے کے نتیجے میں خون کا اخراج پایا جاتا ہے۔
ASTERIAS RUBENS
٭-”اسٹیریس رُوبنس“یہ دوا مرد اور عورت دونوں میں خواہش نفسانی کو بھڑکاتی ہے۔مردوں میں جنسی خواہش بڑھی ہوئی،جنسی خیالات ۔دوران نیند یا صبح کے وقت لگاتار ایستادگی۔عورتوں میں اعصابی دردوں کے ساتھ خواہش نفسانی بڑھ جاتی ہے۔ عورتوں میں ایک خلقی خود کار تحریک جو انسانی ضرورتوں کی تسکین دینے کے لئے جبلی طور پر ہوتی ہے میں اُبھار،ساتھ اعصابی تحریک پائی جاتی ہے۔جنسی جذبات بڑھے ہوئے(لیلیم ٹگریم)اس کی مریضہ جنسی خواہش صبح کے وقت جب کہ وہ ابھی بستر پر ہی ہو سے عاجز آ جاتی ہے ۔
ARUNDO MAURITANICA
٭-ارنڈو میوری ٹیکا=یہ دوا بنیادی طور زکام کی حالتوں میں نیز ”ہے فیور“ میں کام آتی ہے۔ اس کا ”ہے فیور“تالو میں جلن اور خارش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔عورتوں کے جنسی اعضاءپر اس کا اثر،رحم سے میوکس کے مستقل بہاﺅ کے ساتھ میوکس جھلی کی سوزش پائی جاتی ہے۔اندام نہانی کی خارش۔ہم بستری کی شدید خواہش،یا اس سے شدید نفرت ہوتی ہے۔ ماہواری جلدی ،کھل کر دیر تک رہنے والی ہوتی ہے۔خون کے سیاہ رنگ کے لوتھڑے آتے ہیں۔ اس کی دردیں بائیں جبڑے سے شروع ہو کربائیں بھنوﺅں سے ہوتی ہوئی کندھوں اور کمر اور بالآخرپیڑو میں جا کر بیٹھتی ہیں۔ ان میں آگ کی طرح کی جلن ہوتی ہے۔بڑھے ہوئے دودھ کے اخراج کی وجہ سے بائیں پستان میں درد ہوتا ہے۔
CALC. PHOS
٭-”کلکیریا فاس “=دودھ پلانے کے دوران جنسی جذبات میں اضافہ ، شہوانی جنون کے ساتھ رحم کے مقام پردردیں،دباﺅ یا کمزوری پائی جاتی ہے۔لمبا عرصہ دودھ پلانے کے بعدسفید انڈے کی طرح کا لیکوریا،اس میں اضافہ صبح کے وقت ہوتا ہے۔کلکیریا فاس کی بیماری کامرکزی نقطہ نفسیاتی بیماری کا ہے ۔اس کا مریضہ کبھی بھی اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتی۔یہ اندرونی بے اطمینانی اس کے چڑچڑے پن میں اضافہ کرتی ہے۔جس کے نتیجے میں وہ آہیں اور سسکیاں بھرتی ہے۔
CANNABIS INDICA
٭-کینابس انڈیکا=(انڈیا کی بھنگ سے تیار ہونے والی دوا) اس میںخواہش نفسانی کا بھڑک جانا پایا جاتا ہے۔ماہواری درد کے ساتھ آتی ہے۔کثرت حیض ،گہری رنگت والی۔پُر دردلوتھڑوں کے بغیر آتی ہے۔ایام حیض میں کمر کی درد پائی جاتی ہے۔بچہ دانی میں درد ساتھ عصبی جوش اور بے خوابی بھی ہوتی ہے۔اس کی مریضہ کو چند قدموں کا فاصلہ بھی لمبا بن جاتا ہے۔چھوٹی سی نالی بڑی نہر ثابت ہوتی ہے۔زبردست نسیان بات کرتے کرتے بھول جانا ہے کہ اب اسے کیا کہنا تھا۔جنسی طور پر قابو نہیں رہتا۔
CANNABIS SATIVA
٭-”کنابس سٹائیوا“=(امریکن بھنگ)اس میں لگاتار بڑھی ہوئی جنسی ملاپ کی خواہش، جنسی جذبات کے ساتھ بانجھ پن پایا جاتاہے ۔ ماہواری کھل کر آتی ہے ۔ عورتوں میں بانجھ پن۔تشنج کے ساتھ حمل کا ساقط ہونا۔ ابارشن کا خطرہ ،ساتھ سوزاک کی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔
CANTHARIS
٭- کینتھرس 200 =عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ کے ساتھ پیشاب کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں جیسے درد کے ساتھ بار بار پیشاب کرنے کی حاجت بنی رہے تو اس کی دوا ہے۔
CHINA OFF
٭- ”چائنا آفیشی نیلس “ =جنسی خواہش بہت مضبوط ، خونی لیکوریا جو معمول کی ماہواری کی جگہ آئے ۔پیڑو میں پُر درد بھاری پن پایا جائے ماہواری بہت جلداورکھل کر آتی ہے۔ گہرے رنگ کے خون کے لوتھڑے اور پیٹ پھولا ہوا، ساتھ درد پایا جاتا ہے ۔مردوں میں خیالی جنس پرستانہ جذبات ، مسلسل اخراجِ منی جس کے نتیجے میں کمزوری واقع ہو۔ ،خصیوں کی سوزش پائی جاتی ہے۔
FERULA GLAUCA
٭-فیرولاگلاکا=شدید جنسی ہیجان پایا جاتا ہے(صرف عورتوں میں) ۔ عورتوں کے جنسی اعضاءمیں ماہواری وقت سے کئی دن پہلے آتی ہے۔وافر مقدار میں،پتلے یا گاڑھے،ساتھ فرج ،اندام نہانی میں گرمی اور خارش ہوتی ہے۔اس کی مریضہ میں سوسائٹی اور کام سے نفرت پائی جاتی ہے۔ اُداسی ،رونے کا رجحان،بے صبری ،اورغصہ پایاجاتا ہے۔
HYOSCYAMUS NIGER
٭-ہائی او سیامِس نائیگر=کی مریضہ میں جنسی جنون پایا جاتا ہے جس میں وہ بے وقوفانہ اور احمقانہ حرکات کرتی ہے۔شہوت پرستانہ اور عیاش ، بدکار،بستر کے کپڑے پھینکے، بدکاری اور قابل مذاق حرکات کرے۔مریضہ اپنے جنسی اعضاءکو ننگا کرنے پر بضد ہو۔ اس دوا میں حسد بہت پایا جاتا ہے۔
KALI BROMITUM
٭-”کالی برومیٹم 30 “=عورتوں میں جنسی اعضاءمیں شدید خارش، طبعی حد سے بڑھی ہوئی جنسی خواہش پائی جاتی ہے۔ جنسی جنون اگر کوئی شخص جنسی جنون میں مبتلا ہو ،ہروقت شیطانی قہر میں مبتلا ہو ، جنسی زیادتی کی وجہ سے کمزوری ، نامردمی اور یادداشت کی کمزور ی کے ساتھ اعضاءمیں سنسناہٹ ،سن پن ،اوراعضاءمیں عدم تعاون پایا جائے تودوا ہے۔
LAC CANINUM
٭-”لیک کینی نم “=(کتیا کے دودھ سے تیار ہونے والی دوا )اس میں خواہش نفسانی بڑی آسانی سے بھڑک اُٹھتی ہے۔ماہواری وقت سے پہلے اور مقدار میں زیادہ ہوتی ہے۔اخراج بڑی شدت سے ہوتا ہے۔ چھاتیاں سوجی ہوئی،ماہواری آنے سے قبل ان میں درد ہوتا ہے۔ماہواری آنے پر درد ختم ہو جاتا ہے۔چھاتیوں میں سوزش پائی جاتی ہے۔مریضہ ان کو چھوا جانا برداشت نہیں کرتی۔بچہ کے دودھ چھڑانے میں یہ دوا دودھ کو خشک کرتی ہے۔ ریڑھ میں حساسیت بڑھی ہوئی، چھوا جانا یا دباﺅ برداشت نہیں ہوتا۔دودھ کی کثرت پائی جاتی ہے۔اس دوا کی بنیادی علامت پہلو بدل کر آنے والی گھومتی پھرتی دردیں ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا میں چل رہا ہے،یا بستر پر لیٹے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ اس میں نہیں ہے۔
MEDORRHINUM
٭-”میڈورانم“ = بعض عورتوں میں ماہواری کے بعد جنسی خواہش میں اضافہ پایا جاتا ہے۔فرج کے منہ دہن کے قریب ایک مقام پر حساسیت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔ اندام نہانی میں شدید خارش،ماہواری ناگوار بو والی، بڑی مقدار میں، لوتھڑے دار خون آتا ہے ۔خون کے داغ کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پیشاب کرنے کاعمل بار بار ہوتا ہے۔ ماہواری کے بعد سر میں اعصابی نوعیت کے دورہ دار دردیں ہوتی ہیں۔گردن کے پٹھے میں اینٹھن اور کھچاﺅ، گردن جیسے تارسے جکڑی ہوئی ہو۔پیٹ کے نچلے حصے میں درد ،ساتھ پیلے رنگ کا لیکوریا کھل کر آئے۔شدید ماہواری کا درد نتیجے میں گھٹنوں کو اُوپر کھینچے،ساتھ دردِ زہ کی طرح کی نیچے کی طرف خوفناک نوعیت کابوجھ پایا جاتا ہے۔
MOSCHUS
٭-ماسکس=عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ اور ہسٹریا میں مبتلا، ماہواری وقت سے پہلے اور کھل کر آتی ہے۔ شرم گاہ نسوانی اور بچہ دانی میں سنسناہٹ پائی جاتی ہے۔ تو 30دوا ہے۔
PLATINUM METALLICUM
٭- ”پلاٹی نم مٹیلی کم “=بنیادی طور پرعورتوں کی دوا ہے۔عورتوں میں بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ،بڑھی ہوئی جنسی ڈویلپمنٹ ، اندام نہانی کی ایٹھن ،غیر فطری جنسی بھوک اورمالیخولیا پایا جاتا ہے۔اس کی مریضہ متکبر، گھمنڈی ، خود پسند،گستاخ ،مریضہ کواشیاءاپنی اصلی حالت سے چھوٹی نظر آتی ہیں۔خود کو اعلیٰ ترین سمجھتی ہے ۔ہر دوسرے کی عزت گھٹانے والی ۔جنسی اعضاءبہت حساس ہوتے ہیں۔ان میں گدگداہٹ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بے جا جنسی شہوت پیدا ہوتی ہے۔اس میں ہسٹریائی تشنج جو اعصابی ہیجان کے نتیجے میں آئے پلاٹینم مفید دوا ہے۔ قتل کرنے کی ناقابل مزاحمت خواہش پائی جاتی ہے۔اگر بیضة الرحم میں سوزش ہو اور لمبا عرصہ چلنے والا بانجھ پن بھی پایا جائے ، جنسی تحریک بہت جلد ہو، بظاہر اس کی کوئی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو صرف اس علامت کے ساتھ پیدا ہونے والے بانجھ پن میں پلاٹی نم کو یاد رکھنا چاہئے۔
PULSATILLA
٭-پلساٹیلا=کچھ عورتیں غیر معمولی جنسی غلبہ میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی طلب پوری نہیں ہوتی ۔جنسی فعل کی خواہش کنٹرول میں نہیں رہتی ۔ان کی ابتدائی دوا ہے اس کو تیس طاقت میں استعمال کریں۔
STRYCHNINUM PURUM
٭-اسٹرکنی نم پیورم=(کچلے کی کھار) اس کی مریضہ اگرعورت ہو گی تو اس کے اندر ہم بستری کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔جسم کو چھونے سے شہوت غالب آ جاتی ہے۔
TARANTULA HISPANIA
٭-ٹیرنٹولا ہسپانیہ30=عورتیں میںغیر معمولی جنسی غلبہ اور والوا (شرم گاہ نسوانی) میں اچنگ ،دورانِ ماہواری شہوت انگیز تشنج پائے جائیں تو دوا ہے۔
جنسی جذبات
٭- فحش اشارے =اگر کوئی مریض یا مریضہ دوسرے کو جنسی طور پر راضی کرنے کے لئے فحش اشارے ،حرکات و سکنات کرے حتیٰ کہ اپنے اعضاءکو بھی ننگا کرے تو اس کی ”ہائیو سمس 200“ دوا ہے۔
٭-جنسی ملاپ=عورتوں میں جنسی ملاپ ایک نفرت شدہ شے ہو تو ”ایگنس کاسٹس“ دوا ہے۔
٭-شدید جنسی جذبات= عورتوں کے بانجھ پن میں جس میں ماہواری کھل کر آ رہی ہوکافی شہرت رکھتی ہے۔مردوں اور عورتوں میں شدید جنسی جذبات پائے جائیں ۔مردوں کے حشفہ پر استسقائی سوجن پائی جاتی ہے =”کنابس سٹائیوا“
٭-جنسی جذبات کازیادہ ہونا=عورتوں میں دودھ پلانے کے دوران بے جا جنسی خواہش کا غلبہ ساتھ رحم کے مقام پرجلن،دبانے والے اور کمزوری پائی جائے ( پلاٹینم کی طرح) تو ”کلکیریا فاس“دوا ہے۔
٭- ”جنسی خواہش کم“عورتوں میں جنسی خواہش کم ساتھ دورانِ مباشرت کاٹنے والی دردیں ہوں تو”بربرس ویلگریس“ دوا ہے۔
٭-جنسی خواہش مقررہ مقدار سے کم =حیض کے وقفوں کے دوران اخراجِ خون عورتوں میں=”کوبالٹم مٹیلی کم “ دوا ہے۔
٭-عورتوں میں جنسی سرد مہری = ساتھ پر درد حیض ، کھینچنے والی دردیں نیچے رانوں میں اُتریں۔پستان ڈھیلے اور سکڑے ہوئے ،سخت ۔جن کو دبانے سے درد ہو۔سر پستان میں سوئی گڑنے والے درد۔پستانوں کو سخت ہاتھوں کے ساتھ دبانا چاہے ۔ماہواری دیر سے اور کم آئے ۔ جنسی اعضاءمیں حساسیت پائی جائے۔ چھاتیاں بڑھی ہوئی جن میں ماہواری سے قبل اور درمیان میں درد ہو۔(کلکیریا کارب،لیک کینانم ) ۔ ماہواری سے قبل جلد پر لال اُبھار والے دھبے پائے جائیں۔ فرج کے بیرونی حصے کے ارد گرد خارش۔غیر متوقع استقرار حمل۔بچہ دانی کی گردن اور منہ دہن فرج کی سختی پائی جائے۔بیضة الرحم پھیلی ہوئی،اس میں سوزش اور ٹیسیں پیدا کرنے والی دردیں ساتھ سختی پائی جائے۔جنسی جذبات یا خواہش کو روکنے یا دبانے سے، یا دبی ہوئی ماہواری میں یاکثرت جماع کے بد اثرات ۔ پیشاب کرنے کے بعد لیکوریا کا اخراج۔ مردوںمیں جنسی ضعف الاعصاب کے ساتھ نامردمی اعصابی طور پر نڈھال، ساتھ جنسی کمزوری پائی جائے۔”ڈامیانہ“ دوا ہے۔
٭- مخالف جنس سے نفرت =عورتوں میں مخالف جنس سے نفرت پائی جائے ،مردوں میں ایستادگی بغیر خواہش کے ہوتو ”امونیم کارب“
پر درد مباشرت
٭-پر درد مباشرت(عورتوں میں )پائی جائے تو یہ علامت (ایپس، ارجنٹم مٹیلیکم،لائیکوپوڈیم،پلاٹینم ، سیپیا ، سٹیفی سگیریا ،اور تھوجا) میں پائی جاتی ہے۔
٭-شدید ذکی الحسی=اندام نہانی کی جس کی وجہ سے مباشرت روکنا پڑے تو اس کی دوائیں (پلاٹینم ، تھوجا ) ہیں۔
٭-دورانِ مباشرت غشی =عورتوں میں ہو جائے تو (میوریکس ، اوری گینم ، پلاٹینم ) دوائیں ہیں۔
٭- ”فاسفورس“=مباشرت سے نفرت = عورتوں میں جنسی جذبات میں شدت کے باوجودنفرت پائی جاتی ہے۔اس دوا نے عورتوں کے بانجھ پن کو دور کیا ہے ۔جب کہ ساتھ بیضہ دانیوں میں شدید دردیں تھیں جورانوں میں اندر کی طرف اتریں، بیضہ دانیوں میں دوران ماہواری سوزش ہوتی ہے۔
٭-”نٹرم میور “=دورانِ مباشرت درد= اندام نہانی کے اخراجات میں خشکی ، اندام نہانی میں سوزش جس کے نتیجے میں درد پائی جائے ۔
طالب دعا:خالدمحمود اعوان
مؤرخہ 25اپریل2021ء -

Heavy Menstrual Bleeding
Author: Dr. Nasrullah Yusuf
Frequent menstruation. MenorrhagiaIpecac30.
Excessive amount of bright red blood with nausea and vomiting.
Hamamelis Q.
Menstrual bleeding in large quantities
Ashoka Q
Due to various diseases of the uterus, more frequent menstruation and prolonged stay
Pain in the lower abdomen may spread throughout the abdomenHello Nias. Helinias Q.
Weakness of the uterus and deviation from its place. I’m in a hurry. Feeling of heaviness in the uterus. Burst pain
A lot of people. Bleeding inclined. Severe weakness due to excessive emission. Ghashi started coming. Whispers in the ears.
Arnica 30
Injury Fall. Or if the bleeding is high due to an accident, this medicine is useful.
Pulsatilla – Pulsatilla 30
High potency of this medicine in frequent menstruation makes menstruation normal.
Scale Car – Secale Cor 30
Lean women. Constant watery black odor with frequent bleeding and pain. More sensation of warmth throughout the body. Weakness. Yellow face Irritation and licorice in the uterus.
Sabina 30
Most of the time. Shiny blood, Pain in the uterus that extends to the thighs. Licorice should start after menstruation.
* Thalaspi Bursa. Thlaspi B.P ** Q
Due to the weakness of the uterus and the tumor of the uterus due to frequent and severe pain. Stinky discharge mixed with licorice.
Ambra Grisea
Mansis come ahead of time and more. Fifteen days after menstruation, due to an accident, bleeding may start again. Licorice high and blue hut color
Trillium Pendulum – Trillium Pend Q.
Excessive discharge of shiny blood. With a little movement, the blood flowed more
There will be severe pain in the back and hips.
Glycerinum. Glycerinum 30
Heaviness in the uterus. Severe pain begins two days before menstruation. Then there is a lot of bleeding that lasts for a long time.
Sepia – Sepia 30
A lot of people. With premature pain. Pain in private parts. Yellow licorice is more common in patients with leg cramps.
چائنا۔ 3x-30China
A lot of people. Bleeding inclined. Severe weakness due to excessive emission. Ghashi started coming. Whispers in the ears.
Arnica 30Injury Fall. Or if the bleeding is high due to an accident, this medicine is useful.
My goal is simple homeopathy
✍️🔹تحریر۔ ڈاکٹر نصراللہ یوسف🔹
💠کثرت حیض۔ Menorrhagia💠
💠👇ایپی کاک۔Ipecac30
🔺زیادہ مقدار میں چمکدار سرخ خون آنا ساتھ متلی دل خراب اور قے کا آنا۔
💠👇ہیمامیلس۔Hamamelis Q
🔺حیض زیادہ مقدار میں سیاھی مائل خون کا آنا
💠👇اشوکا۔۔Ashoka Q
🔺یوٹرس کے مختلف امراض کی وجہ سے منسز کا زیادہ آنا اور دیر تک رھنا
پیٹ کے نچلے حصہ میں درد جا سارے پیٹ میں پھیل جائے
💠👇ہیلو نیاس۔Helinias Q
🔺یوٹرس کی کمزوری اور اپنی جگہ سے ٹل جانا۔ منسز جلدی جلدی ھوں۔ یوٹرس میں بوجھ کا احساس۔ برسٹ میں درد
💠👇پلساٹیلا۔Pulsatilla 30
🔺بکثرت حیض میں اس دوا کی ہائی پوٹینسی دینے سے حیض نارمل ھو جاتا ھے۔
💠👇سکیل کار۔Secale Cor 30
🔺دبلی پتلی عورتیں۔ مسلسل پانی جیسا سیاہ بدبودار بکثرت اخراج خون درد کے ساتھ۔ سارے جسم میں گرمی کا زیادہ احساس۔ کمزوری۔ چہرہ زرد۔ یوٹرس میں جلن اور لیکوریا
💠👇سبائنا۔Sabina 30
منسز بکثرت۔ چمکدار خون۔ یوٹرس میں درد جو رانوں تک جائے۔ منسز کے بعد لیکوریا شروع ھو جائے۔💠👇*تھلاسپی برسا۔Thlaspi B.P **Q
🔺یوٹرس کی کمزوری اور یوٹرس کی رسولی کی وجہ سے منسز بکثرت اور شدید درد کے ساتھ آنا۔ لیکوریا کے ساتھ خون ملا بدبودار اخراج۔
💠👇امبر گریشیا۔Ambra Grisea
🔺منسز وقت سے پہلے اور زیادہ آئیں۔ مہواری کے پندرہ دن بعد ذرا سے حادثہ کی وجہ سے پھر خون جاری ھو جائے۔ لیکوریا زیادہ اور نیلا ہٹ رنگ کا
💠👇ٹریلیم پینڈولم۔Trillium Pend Q
🔺زیادہ مقدار میں اخراج چمکدار خون۔
ذرا سی حرکت سے خون زیادہ بہے
کمر اور کولہوں میں شدید درد کے یہ ٹکڑے ھو جائیں گے۔
💠👇گلیسرینم۔ Glycerinum 30
🔺یوٹرس میں بھاری پن۔ منسز آنے سے دو دن پہلے شدید درد شروع ھوتا ھے۔ پھر بہت زیادہ بلیڈنگ ھوتی ھے جو کافی دن تک جاری رھتی ھے۔
💠👇سیپیا۔Sepia 30
🔺منسز بکثرت۔ وقت سے پہلے درد کے ساتھ۔ ویجائنہ میں درد۔ زرد رنگ کا لیکوریا زیادہ میریض ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے بیٹھے💠👇چائنا۔ 3x-30China
🔺منسز بکثرت۔ بلیڈنگ سیاھی مائل۔ زیادہ اخراج کی وجہ سے شدید کمزوری۔ غشی آنے لگے۔ کانوں میں شائیں شائیں کی آوازیں۔
💠👇آرنیکا۔ Arnica 30
چوٹ۔ گرنا۔ یا کسی حادثہ کی وجہ سے خون کا اخراج زیادہ ھو تو یہ دوا کام آتی ھے۔
🔺میرا مقصد آسان ھومیوپیتھی🔺 -

خواتین میں پیٹ کا بڑھ جانا
اگر کسی عورت کا پیٹ بڑھ کر ڈھول کی مانند ہوجائے ۔ اور ساتھ جماع سے نفرت بھی پائی جائے ۔ تو لیکسس Lachesis 200 اور نیٹرم میور Natrum Mur 200 پر غور کریں ۔
🍀🍃🍂 اگر عورت خالی پیٹ چھ ماہ کی حاملہ معلوم ہو تو آیوڈیم Iodium 200 بہترین دوا ہے ۔
🍀🍃🍂 بچے کی ولادت کے بعد پیٹ لٹک جانے کی صورت میں Carsinocin CM اور Podophyallum 200 اسکے لیے کافی وشافی ثابت ہوتی ہیں ۔
🍀🍃🍂 کنواری لڑکیوں کے پیٹ اور کولہے بڑھ جائیں یا حیض کی کمی سے پیٹ بڑھ جائے ۔تو Lachesis 1M استعمال کروائیں ۔
🍀🍃🍂 بچوں والی عورت کا پیٹ بڑھنے پر سیپیا Sepia 1m کی چند خوراکیں کافی ہیں ۔
🍀🍃🍂 آپریشن کے بعد اگر پیٹ پھول جائےتو Carbo Veg. 30 اور Carbo Animalis 30 باری باری استعمال کروائیں۔
🍀🍃🍂 اگر حمل کے دوران پیٹ تن جائے تو Nux Moskata 30 ایک اچھی دوا ہے ۔اور اگر ہوا خارج نہ ہونے کی وجہ سے پیٹ ڈھول کی طرح پھول جائے تو Raphanus 30 بہت اچھا کام کرتی ہے.
🍀🍃🍂 اگر حیض دبنے سے پیٹ بڑھ جائے تو ایسی صورت میں Apocynum 30 …Pulsatilla CM… Gossipium Q… Tubercolinum CM
میں سے کوئی ایک دوا علامات کے حساب سے دی
-

بانجھ پن اور ہومیو علاج (Sterility)
بانجھ پن اور ہومیو علاج (Sterility)
بانجھ پن کا مطلب ہےکہ عورت کسی وجہ سے بچے پیدا کرنےکے قابل نہیں رہتی۔اس کا مطلب کسی بھی جسمانی بیماری یا کمی کی وجہ سےاولاد نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ خرابی مرد میں ہوتی ہے۔ اس لیے مرد کو بھی اپنا چیک اپ کروانا چاہیے۔
بانجھ پن (Sterility)
اشوکا (Ashoka Q):
یہ عورتوں کی اعضائے تولید و تناسل کی ہر خرابی دور کرتی ہے۔ حیض بے قاعدہ، دیر سے، درد کیساتھ، حیض کی بندش، حیض کی کثرت، لیکوریا ہر طرح کی جملہ تکالیف دور کر کے بانجھ پن کا خاتمہ کرتی ہے۔
الٹریس فیری نوسا (Aletris Farinosa Q):
حیض قبل از وقت کثیر مقدار میں درد زہ جیسا درد ،بندش حیض،رحم میں بوجھ کا احساس،رحم ٹل جائے،بائیں جنگاسے میں درد،خون کی کمی سے لیکوریا، اسقاط کا رجحان تمام حالتیں درست کر کے اولاد ک قابل بناتی ہے
کلکیریاکارب ( calcarea carb 30):
مریضہ موٹی ،پلپلی،اور سرد مزاج ہوتی ہے حیض وقت سے قبل اور زیادہ عرصہ جاری رہے اس کے ساتھ چکر آتے ہیں بلغمی مزاج خواتین
سیپیا (sepia 30):
مزاجی دوا ہے علامات کے مطابق باںجھپن دور کرتی ہے،حیض کی خرابی،لیکوریا زرد ،سبزی مائل،مریضہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھتی ہے
پلسا ٹیلا (pulsatilla) :
بندش حیض، عصبی کمزوری، حیض دیر سے، لیکوریا یا خراشدار، یہ باتیں بانجھ پن لاتی ہیں، یہ ان کو دور کر کے بانجھ پن ختم کرتی ہے، رو دینے والی خواتین، گرمی سے حساس، کھلی ہوا کی خواہش۔
اگنس کاسٹس (Agnus Castus 30):
سوزا کی مادہ جو حمل قرار نہیں پانے دیتا، اسکا خاتمہ کرتی ہے، مباثرت سے خوف، اعضاء ڈھیلے جو بانجھ پن لاتے ہیں، لیکوریا کی رنگت زرد۔
نیٹرم کارب (Natrum Carb 30):
رحم کی گردن سخت، نیچے کی طرف دباو، لیکوریا بدبودار، بھاری پن کا احساس، رحم حمل قبول نہیں کرتا
نیٹرم میور (Natrum Mur 200):
خرابی ایام، درد سر، شدید پریشانی، غمگینی، خواہش مباثرت ختم ہو جاتی ہے
اورم میٹ (Aurm Met 30):
مریضہ پر پاگل پن اور جنون کی حالت طاری ہوتی ہے، خودکشی کا رجحان۔
اورم میور (Aurm Mur 30):
رحم کی گردن سخت، رحم کی مزمن سوزش، لیکوریا، اندام نہانی کی اینٹھن، رحم ٹھوس ہو جاتا ہے
-

نامردی کا ہومیو علاج/ IMPOTENCE
نامردی/ IMPOTENCE
نامردی… IMPOTENCE
علامات…..کیفیت مریض میں جماع کرنے کی قابلیت نہیں رہئتی, اس میں نقص واقعے ہو جاتا ہے, کبھی مریض کو خفیف استادگی ہوتی ہے جوکچھ کارآمد نہیں ہوتی اور مریض کی طبیعت میں مجامعت کی خواہش نہیں رہئتی, مردوں میں جماع کی ناقابلیت کو نامردی کہتے ہیں, ضعف باہ نامردی کی پہچان,کیفیت… جب انسان مرد اپنے قواےَ شہوانہ آرگنز سے پورا فائدہ نہ اُٹھا سکتا ہو. تو اُسے ضُعف باہ کہتے ہیں, اگر مرض خفیف ھے تو کمزوری ضُعف باہ کہتے ہیں,اگر مرض شدید ہے تو نامردی کہتے ہیں,
اسباب جنیٹل آرگنز…. آلہ تناسل اور خصیتین میں پیدائشی نقص, جلق . مشت زنی, اغلام منڈے بازی, کثرت جریان اور کثرت احتلام کی وجہ سے اعضاء میں سستی پیدا ہو کر نامردی واقع ہو جانا, مایوسی, فکر تردود غم, قلت منی, جسمانی کمزوری, کمی خون, قاطع باہ ادویات اور نشہ کا بکثرت استعمال سے اکثر نامردی ہو جاتی ہے جسم کا فربہ ہونا برخلاف جسمانی کمزوری,
ھومیوپیتھک علاج..اس مرض کا علاج ہمیشہ علامات کی وجہ سے اور مریض کی ہسٹری کیفیت کو دریافت اور تشخیص کرنے کے بعد شروع کرنا چاہئے, چند ادویات جو اس مرض میں مفید ہیں درج ذیل ہیں:– کلاڈیم Q/30/200 نامردی دل کی حالت پست, تناسل سکڑا ہوا, مجامعت کی خواہش ہو مگر بوسہ لینے اور پیار کرنے سے بھی انتشار نہ ہو, نہ انزال اور نہ ہی خیزگی.
فاسفورس 30/200 ایسے افراد جو پتلے لمبے اور کمزور, بھس کمی خون کا شکار, چہرہ زرد سردی کی طرف رحجان, مریض سوالات کا جواب نہ دے سکے, دماغی حالت قابل رحم, استادگی کم, جب جماع کی خواہش کرے ناکامیاب,کثرت جماع.فاسفورک ایسڈ Q/30 ایسے افراد جو پہلے قوی توانا, مگر رطوبات زندگی کے ضائع ہونے کے باعث کمزور ہو کر نامردی کا شکار, دل کمزور, بیمار اور جی گھبراتا ہے حافظہ کمزور, کام کو جی نہ چاہے, احتلام بلاارادہ ہو,
جلق اور کثرت جماع کے نقائص بد اثرات نیٹرم میور 30/200 جریان منی, کثرت جماع کے باعث کمزوری, قبض رہئتی ہے بدہضمی.
کونیم 30/200/1000 مجامعت نہ کرنے کے سبب, وہمی, جلق کی عادت جسمانی کام سے تکلیف, مجامعت کی خواہش بہت مگر وقت پر کارآمد, تناسل اور اعصاب سکڑے ہوے, کنواروں کی نامردی, مذی کا اخراج, سرعت.کینبس انڈیکا 30 مریض وہمی, بدہواسی, حافظہ کمزور, مجامعت کی خواہش زیادہ مگر جلد انزال اور کمر درد, پیشاب قطرہ قطرہ.
اگنیشیا 30/200 حواس زکی الحس, غم وعشق سے مایوس مریض.لائکوپوڈیم 200/1000 نوجوان بوڑھے, کثرت جماع, جلق کا شکار, تناسل ڈھیلا سکڑا ہوا, استادگی انتشار نہ ہو, حالانکہ خواہش جماع ہو, دخول سے پہلے انتشار نامردی کیلیے, سیلینم 3x/30/200 ادھیڑ عمر والے, خواہش جماع میں غرق, مگر قوت زائل ہو, منی پتلی بلا وجہ خارج ہوتی رہے, جماع کے وقت عضو سکڑ جاے, منشیات, عیاشیانہ زندگی, کثرت مباشرت, سرعت انزال.
ایگنس کاسٹس 30/200 جوانی کی غلط کاریوں کی وجہ سے, طبیعت افسردہ, دماعی قوت کمزور, تناسل سکڑا ہوا نرم, شہوت معدوم, سوزاک کے بعد نامردی, سرعت.ڈامیانہ Q اعصاب کمزور ہو جانے سے نامردی, اعصابی کمزوری کے ساتھ نامردی کی شہرہ آفاق دوا, جریان, نیوفرلیوٹم Qمکمل نامردی, خواہش نفسانی بالکل نہ ہو, استادگی نہ ہوتی ہو, عضو ڈھیلا ڈھالا.سابل سیرولاٹا Q قوت باہ زائل ہو جانے سے نامرد ہو جاے, خصیے سکڑے سوکھےہوے, جماع کی خواہش نہ ہو, اعصاب کمزور, اس سے مریض جماع کے قابل ہو جاتا ہے,
ڈیجی ٹیلیس 30 قوت باہ کمزور, احتلا ہو جاتا ہو, تناسل کمزور, دل دھڑکتا رہے, سوتے وقت چونک اٹھے.سلفر 200 منی بلا ارادہ خارج ہو, عضو کمزور اور ڈھیلا, ہاضمہ کی خرابی, درد کمر کمزوری سرعت,پاوں ٹھنڈے.اناکارڈیم Qمریض کو اپنے اوپر بھروسا نہ ہو, شادی یا جماع سے گھبراتا ہو, دماغی حالت خوف.
کالی فاس 30 یا ایونیاسٹیوا مدر ٹنکچرنامردی جبکہ اعصابی کمزوری ساتھ ہو, جماع کے بعد کمزوری,جلق کے بداثرات بےخوابی منی پتلی, سٹیفی سگیریا Q/30 لمبے عرصہ تک جلق کے مریض مشت زنی, چڑچڑا پن, دماغی کمزوری, فکر مند کمزور,سلیکس نائگرا Q جلق کے مریضوں کی خاص دوا, خواہشات کی زیادتی کو اعتدال پر لاتا ہے, جریان کی اکسیر دواء, انتشار کے بغیر انزال, کثرت جماع اور جلق سے نامردی, قوت باہ میں اضافہ.الفلفا مدر ٹنکچرجسمانی کمزوری, کمی بھوک.یوہیمبینم مدر ٹنکچرامساک کی کمی کیلیے اعلے دوا.ٹیریبولس مدرٹنکچرجریان منی, منی پتلی, باربار احتلام,سرعت انزال. کثرت مجامعت سے نامردی, اعصابی جنسی کمزوری, تسلسل بول.اشوگندھا مدرٹنکچرنامردی جبکہ علامات گڈمڈ ہوں, ہر کیس میں مفید ہے,
-

زائد المعیاد زچگی، یعنی حمل کے وقت پورا ہونے پر پیدائش نہ ہونا
حمل کا ٹائم پورا ہونے پر پیدائش نہ ہونا
ترتیب و پیشکش:خالد محمود اعوان
٭-جب بچے کی پیدائش زائد المعیاد ہو چکی ہو۔اس کی وجہ غدہ نخامیہ سے رسنے والا ہارمون(غدہ نخامیہ سے رسنے والاوہ ہارمون جو زچگی کے دِنوں میں رحم کو سکیڑ کر رکھتا ہے اور پستانوں کی طرف دودھ پہنچانے میں مددگار ہوتا ہے) ہوتا ہے کی وجہ سے بچہ کی پیدائش زائد المعیاد ہو چکی ہو توہومیوپیتھی میں کائلوفائلم اور سمی سی فیوجاکا استعمال محفوظ اورمتبادل کے طور پر کیا جاتا ہے ۔ان دونوں ادویات کو 12X میں باری باری اسی ترتیب سے ایک ایک گھنٹے کے وقفہ سے جاری رکھیں جب تک کہ زچگی کی ابتداءنہ ہو جائے۔
٭-”کائلوفائلم“کی علامات اور سمی سی فیوجا “ میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔عام اصطلاح میں ایسے جیسے دو بہنیں ہوتی ہیں۔ان دونوں کی علامات میں وراثتی طور پر جوڑوں کی دردیں پائی جاتی ہیں ۔ دونوں میں ہسٹریکل تشنج اور کانپنا پایا جاتا ہے۔
٭ – کائلوفائلم کورحم کا ٹانک بھی کہا جاتا ہے ۔اس کی مریضہ کے رحم میں طاقت نہیں ہوتی کہ بچے کو باہر نکال سکے ،اور کوشش ناکافی ثابت ہوتی ہے۔
اعصابیت کی شکار عورتیں، دردیں ناقابل برداشت ۔ ایسی مریضاوں کونارمل زچگی کے لئے(آخری تین ماہ استعمال کرنا چاہیے )
٭-”سمی سی فیوجا“ میں ایسی بچیاں جو بہت نازک مزاج ،حساس اوردنیا سے بے نیاز ہو کراپنی ذات میں گم سم رہنے لگیں۔اگر ان کو زور دے کر بلایا جائے تو وہ رونے لگ جائیں تو اس وقت یہ دواباعثِ رحمت ثابت ہوتی ہے۔نازک مزاج عورتوں کو صدمہ کی صورت میں ماہانہ نظام میں خرابیاں جوڑوں کی دردیں اور دیگر عوارض پیدا ہو جاتے ہیں، خوف اوروہم پایا جاتا ہے کہ مجھے کوئی زہر نہ دے دے اس لئے وہ دواتک بھی استعمال نہیں کرتیں۔بچے کا پیدائش کے وقت اُلٹا ہونا
٭-بچے کی پیدائش کے وقت الٹا ہونا کی صورت میں اکثر پلسٹیلا ظاہر ہوتی ہے اس دوا کو دن میں دو تین بار 30 طاقت میں چند دن تک استعمال کرنا چاہیے حتیٰ کہ بچہ سیدھا ہو جائے۔
٭-اگر پلسٹیلا ناکام ہو جائے تو وسکم البم کو 30 طاقت میں دن میں تین بار استعمال کریں۔٭-نٹرم میور کا استعمال بچے کے الٹا ہونے کی صورت میں اس وقت ہوتا ہے جب امنیوٹک مائع ماں کے خون میں چلا جاتا (امنیون میں خون کے ذرّے جمتے ہیں اور پھر ماں کے پھیپھڑے یا دماغ میں پہنچ جاتے ہیں۔ حمل کی یہ پیچیدگی شاذونادر ہی ہوتی ہے اور جھلیوں کے پھٹنے کے بعد واقع ہوتی ہے)ہے۔اس کی مریضہ کے جذبات رکے ہوئے ، ہونٹ پھٹے ہوئے اور میوکس ممبران خشک ہوتی ہیں۔ترتیب و پیش کش:
خالد محمود اعوان
فون نمبرز0332-2556942 ,
0308-2486085 -

خواتین میں مباشرت کے مسائل ، اسقاط
خواتین میں مباشرت کے مسائل ، اسقاط حمل علامات ،حل اور ہومیو پیتھی ادویات
ترتیب و تحقیق: خالد محموداعوان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مباشرت(خواتین)COTION FEMALE
٭-”ایسڈ فاس“=مباشرت کے بعد ڈ ل قسم کی سر دردہوں تو دوا ہے۔اس کی مریضہ عورتیں جو لمبے عرصہ سے بچوں کو پال رہی ہوں یا دو بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں۔اس کے نتیجے میں کمزوری اور تھکاوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔اخراجات کے نتیجے میں یا لمبا عرصہ سے بچوں کی نگہداشت اور اس کے نتیجے میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ بازووں اور ٹانگوں میں کمزور ی محسوس ہو ۔جوڑوں اور ہڈیوں میں رات کے وقت اکثر شدید دردیں، ساتھ بازووں میں اکڑن ۔چلنے میں توازن نہیں ہوتا اور وہ ٹھوکر کھاکر آسانی سے گر جاتی ہیں۔ مزمن تھکاوٹ کی علامات کا مجموعہ پایا جاتا ہے۔ ”فاسفورک ایسڈ“ کے اندر کسی کے کھو جانے کا غم یا تعلقات کے ٹوٹ جانے کے بداثرات، وطن سے دوری سے افسردگی ، ذہنی دباو کے نتیجے پر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔یہ اس کو ٹھیک کر دیتی ہے۔ بنیادی طور پر اس کے مریض لمبے ہوتے ہیں۔ ”فاسفورک ایسڈ“ میں مسلسل دھڑکن یا نبض میں بے قاعدگی پائی جاتی ہے۔لیکن ای سی جی سے کوئی ابنارملٹی نظر نہیں آتی ایسی دھڑکن اس سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔
٭-”اگیری کس“= میں مباشرت کے بعد دیگر علامت کا پیداہونا ۔اس کی خواتین دبلی پتلی ، اعصابیت کا شکار،بے چین، ساتھ سنسناہٹ اور کیڑیوں کا رینگنا پایا جائے تو یقینا دوا ہے۔جنسی فعل کے بعد تکالیف میں اضافہ ۔ مریض اپنی بیماری میں موت کے متعلق سوچے ۔ پریشان ،متفکر،غیر محفوظ یا خوفزدہ ہواوراپنے بارے میں یہ خوف چھایا رہے کہ کینسر نہ ہو جائے ۔ علامات میں دوسروں سے گفتگو کرنے میں غفلت برتے۔زچگی اور مباشرت کے بعد کی شکایات۔ مریض میں ہذیان ، فضول گوئی اور ایک ہی خیال ذہن پر مسلط ہونا ، شدید جوش و خوشی کی ہذیانی کیفیت یا جنون کی ہلکی سی کیفیت سمجھ بوجھ(کسی بات کے سمجھنے کی صلاحیت )میں کمی پائی جاتی ہے۔”اگیری کس“ میں لیکوریا بہت زیادہ ،گہرے رنگ کا ،خونی،تیزابی جو اعضاءمیں چھیلن پیدا کر دے۔علامات میں بہتری آہستہ چلنے سے، نیند سے اور شام کوآتی ہے اورعلامات میں خرابی ٹھنڈی ہوا میں ،طوفان آنے سے قبل،جنسی فعل کے بعد،چھونے سے آتی ہے۔
٭- ”امبرا گریسا“میں مباشرت کے دوران دمہ کی علامات کا پیدا ہونا پایا جاتا ہے۔
٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ میں خواتین کی بیضہ دانیوں کی سوزش ، پیڑو کے تمام حصوں کے اوپر شدید جلن دار دردیں ، ویجائنہ سے اخراج خون، مباشرت پُر درد یا ناممکن ، دورانِ مباشرت اخراج خون۔ دردیں اس نوعیت کی جیسے چھڑیوں یا لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بچہ دانی میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ علامات اس وقت ہوتی ہیں جب وہاں زخم ہوں،رحم لٹکی ہوئی ، گردن رحم پر یا ہڈی پر زخم،اس سے معمولی اخراج خون ، پیٹ اور معدے سے دردگولی کی طرح جائیں ۔ اس کے علاوہ مریضہ کی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے۔مریضہ یہ سوچتی ہے کہ وہ ضرور ناکام ہو گی۔خوفزدہ ، اعصابیت کا شکار، سوچے سمجھے بغیر کھڑکی سے باہر چھلانگ مارنے کی ترغیب ۔ نیم بے ہوشی اور کانپنا،مالیخولیا،اپنی شدید بیماریوں سے خوفزدہ ، یادداشت کمزور،وقت آہستگی سے گزرے ،سمجھ بوجھ میں کمی،ایسی اضطرابی کیفیت کہ ہر کام کوکرنے میں جلدی کرے ۔ خوف ، انزائٹیزاور بے بنیادچھپی ہوئی قوت محرکہ جو عمل کرنے پر مجبور کرے۔گلے میں ہیپر سلف کی طرح پھانک اٹکنے کا احساس۔ڈرائونی خوابیں آئیں ۔ میٹھے کی خواہش۔تکلیفوں میں اضافہ کھانے کے بعد ہوتا ہے ۔کھلی ہوا اور سردی سے تکالیف کم ہو جاتی ہیں۔
٭-مباشرت کے بعد کمر درد ”کنابس انڈیکا“ میں بھی پایا جاتا ہے۔
٭-”کوبالٹم مٹیلی کم“میں حیض کے وقفوں کے دوران اخراجِ خون،عورتوں میں جنسی خواہش مقررہ مقدار سے کم ہو تی ہے۔ کمر اور چوتڑ میں درد ، لمبیگو ، عرق النساءمیں اضافہ بیٹھنے سے ہو، مباشرت کے بعد ٹانگوں میں کمزوری اور کمر درد ۔ بہتری چلنے سے ،لیٹنے سے۔اخراجِ منی کے بعد کمزوری پائی جاتی ہے۔
٭-”ہائیڈاسسٹس کیناڈس“میں مباشرت سے نفرت اوربے رغبتی حتٰی کہ اس موضوع پر بات بھی نہ کرنا چاہے۔اس کی مریضہ کے اندرجگر میں حساسیت،جگر بڑھا ہوا اورسخت ۔بھٹنیاں پھٹی ہوئی اوران پرسطحی زخم جو رگڑنے سے آئے۔ بھٹنیوں میں دودھ پلانے کے دوران شدیددرد،کمر میں کمزوری اور سختی۔ تخم دانی کی گردن کھائی ہوئی اور اس میں چھیلن پائی جائے، لیکوریا (گاڑھا ، پیلا،چپکنے والی میوکس ) جس میں اضافہ ماہواری کے بعد ہو۔کثرت حیض ، حیض کے وقفوں کے دوران خون کا آنا اور والوا میں خارش۔پستانوں میں ٹیس پیدا کرنے والی دردیں ایسی جیسے چاقو سے کاٹا جا رہا ہے ،یہ دردیں اوپر کندھوں اور نیچے بازووں کی طرف بڑھیں۔جلد ٹیومرز سے چپکی ہوئی لیکن داغ دھبے والی۔نیلاہٹ مائل اور بے رنگ۔رگڑنے اور کھرچنے سے بہتری آئے ۔اس میں بواسیر ، یرقان، مزمن سوزش گلو بھی پایا جائے۔
٭-”کریازوٹم“ میں مباشرت کے بعد جلن دارخونی اخراج پایا جاتا ہے۔ اس کے تمام اخراجات کاٹنے ، جلن اور چبھنے والے،جن سے خراش پیدا ہو ۔ ”کیکٹس“ کی طرح تمام جسم میں دھڑکن پائی جائے ۔ تشنج بغیر درد کے۔ معمولی زخموں سے خون کا اخراج،عورتوں میں مسلسل اخراج خون کی شکایت ۔حیض کے بعد بھی اخراج خون جاری۔چھوٹی چھوٹی تکالیف سے اخراج خون۔ ”کریازوٹم “ میں دورانِ مباشرت رحم کی گردن پر زخموں کی وجہ سے دردیں، دردِ زہ کی طرح کی دردیں اورآنکھوں کی علامات(پانی آنا)ادل بدل کر آتا ہے ۔ چلنے سے بہتری آئے۔ پیشاب کرتے وقت والوا اور اندام نہانی میں شدید خارش ۔پیشاب کرنے کے خواب آئیں۔رات کے پہلے حصے میں پیشاب کا غیر ارادی طور پر اخراج ۔ پیشاب کرنے کی خواہش کے ساتھ ہی جلدی کرنی پڑتی ہے ۔”کریازوٹم “میں والوا میں زخم کو کھا جانے کی کیفیت والی خارش جس میں جلن اور فرج کے دو بڑے ہونٹوں میں سوجن،ان ہونٹوں اور رانوں کے درمیان شدید خارش ۔دورانِ ماہواری سماعت میں دقت،بھنبھناہٹ اورگرج سنائی دے اس کے بعد پھنسیاں نکلیں۔عورت کے اندرونی اور بیرونی اعضاءمیں جلن اور درد، لیکوریا پیلے رنگ کا خراش پیدا کرنے والا،سبز مکئی کی طرح کی بووالا ، ماہواریوں کے درمیانی عرصے میں طبیعت خراب رہے ۔ مباشرت کے بعد اخراجِ خون۔ماہواری بہت جلدی آئے اورطویل عرصے تک جاری رہے۔حمل کی اُلٹیاں ساتھ رال بہے۔ماہواری کا بہاو (پلسٹیلا کی طرح) رک رک کرجاری رہے ۔ بیٹھنے اور چلنے پر رک جائے اور لیٹنے پر دوبارہ جاری ہو جائے ۔ماہواری کے بعد درد میں اضافہ ہو ۔زچگی کے بعد خون ناگوار بو والا،جارہانہ اور کچھ دیر رک کر دوبارہ جاری ہو جائے حیض کے بند ہو جانے(سن یاس) کی بیماریاں بھی پائی جاتی ہیں۔
٭-”لائیکوپوڈیم“ میں ویجائنہ میں دیرینہ خشکی ، اخراج میں جلن جو دورانِ مباشرت ہواور بعد میں بھی ہو ۔اس کے پسینہ سے پیاز کی طرح کی بو۔ ہتھیلیوں پر ،جلد پر، ویجائنہ وغیرہ میں خشکی پائی جاتی ہے۔ خارش سے خون آسانی سے نکل آتا ہے۔ ”لائیکوپوڈیم “ میں ماہواری دیر سے آئے،آخری ماہواری دیر تک رہے اورکھل کر آئے ۔ اندام نہانی خشک۔دورانِ مباشرت درد ہو۔فرج کے بیرونی حصہ پر ویری کوز وینز۔اندام نہانی میں جلن کے ساتھ تیزابی لیکوریا،دوران پاخانہ اعضائے تناسلی سے خون خارج ہو۔”لائیکوپوڈیم “ میں عورتوں کے اعضائے تناسلی میں ملا جلا آزاد جنسی ملاپ ،لیکن اپنے خاوند سے سردمہری پائی جاتی ہے۔بیضہ دانیوں کی شکایات میں سسٹ، دائیں طرف اضافہ ہو ( ایپس میلی فیکا ، پیلیڈیم ، پوڈوفائلم کی طرح) ۔ویجائنہ سے ہوا خارج ہو (لیک کینائنم) لائیکوپوڈیم کے مریض کی ذ ہنی علامات میں مالیخولیا اکیلے رہنے سے خوفزدہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اس کو برہم کر دیں ، انتہائی ذکی الحسی ۔کسی نئی چیز کواپنے ذمے،یا کسی کام کو لینے سے نفرت ۔خود اعتمادی کی کمی ۔کھانے میں جلدی کرے ۔ ”لائیکوپوڈیم“ میں تکالیف میں اضافہ دائیں طرف ،دائیں سے بائیں طرف ۔ اوپر سے نیچے ،سہ پہر چار سے آٹھ بجے رات تک،گرمی سے یا گرم کمرے میں گرم ہوا سے اوربستر میں ہوتا ہے۔گرم ٹکور سے سوائے گلے اور معدے کی تکالیف میں۔گرم مشروبات سے بہتری آئے۔
٭-”نٹرم میور“ میں خون کی کمی والی خواتین چہرے کی جلد آئلی اور موم کی طرح کی وجائنہ میں خشکی ،جماع سے نفرت اور چڑچڑاپن۔اخراجات میں خشکی دوران مباشرت اندام نہانی میں تکلیف (سوزش اندام نہانی کی وجہ سے) پائی جائے۔ غم،خوف،غصہ وغیرہ کے بُرے اثرات اگرذہنی بیماریوںمیں منتقل ہو جائیں ۔ توایسی مریضہ کوتسلی ،دلاسادینا اس کی تکالیف کو بڑھا دیتا ہے ۔ چڑچڑاپن،معمولی سی بات پر جذبات میں آ جائے،چیخے ،اکیلا رہنا پسند کرے ، آنسووں کے ساتھ روے۔سر دردایسا ہو جیسے ہتھوڑے پڑرہے ہیں۔اضافہ سورج میں جانے سے خاص طور پر اسکول کی بچیوں میں ہوتو ”نٹرم میور“30 یا 200 دوا ہے۔علامات دس سے گیارہ بجے صبح ظاہر ہوتی ہیں۔بھوک میں تکالیف کا بڑھنا اور کھانے سے کمی آنا۔ نٹرم میور کی مریضہ کی تکالیف شورسے،موسیقی سے،صبح دس بجے ،لیٹنے سے ،ساحلی علاقے سے ، دماغی مشقت سے،تسلی دینے سے،گرمی سے،گفتگو کرنے سے بڑھتی ہیں۔تکالیف میں کمی کھلی ہوامیں ، ٹھنڈے پانی سے نہانے میں،معمول کا کھانا نہ کھانے سے،سیدھی طرف لیٹنے سے،تنگ کپڑوں کے پہننے سے ہوتا ہے۔ایسا استسقاء(حد سے زیادہ پھولا ہوا)جو ملیریا بخار کے بعدہو۔نٹرم میور اگر بطور شفا کے کام کرے تو عام طور پر بخارکو اصل حالت میں دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔کیونکہ قانونِ شفا میں اوپر سے نیچے،اندر سے باہر ،اور علامات جس طرح ظاہر ہوئی تھیں اسی طرح واپس لوٹتی ہیں۔”نٹرم میور“ کی مریضہ کی جسمانی ساخت ناشپاتی کی سی شکل کی یا گول مٹول(مربع شکل) کی ہوتی ہے۔اس کی مریضہ کے نچلے ہونٹ کے درمیان گہرا کٹاو پایا جائے تو یہ” نٹرم میور“ کی علامت ہے۔
٭-”پلاٹی نم“ =کی مریضہ میں دورانِ مباشرت بے ہوشی پائی جاتی ہے۔بیضہ دانیوں میں سوزش کے ساتھ جلن اوراعضاءمیں سُن پن ۔ ماہواری کھل کر، جلدی اور لوتھڑے والی ،عورتوں میں بیجا جنسی خواہش کا غلبہ ۔اس میں ہمیشہ ماہواری کے ساتھ رحم کے ارد گرد نیچے کی طرف بوجھ ۔ اس کی مریضہ متکبر،گھمنڈی،خود پسند،گستاخ ،ہر دوسرے کی عزت گھٹانے والی ۔اس کے اندرونی جنسی اعضاءاور بیرونی اعضاءمیں جھنجھلاہٹ ۔مریضہ ذاتی مرتبہ بلند کرنے کی خاطر دوسروں کی توہین کرے۔اس کواشیاءاپنی اصلی حالت سے چھوٹی نظر آتی ہیں۔ اس کے اندر قتل کرنے کی ناقابل مزاحمت قوت محرکہ پائی جاتی ہے۔
٭- ”پلمبم میٹ“میں جماع سے نفرت پائی جاتی ہے۔ بیضہ دانیاں سوجی ہوئی ۔ قولنجی درد کی وجہ سے ماہواری بند ہو جائے۔کثرت حیض کے ساتھ یہ احساس کہ پیٹ کو کمر کی طرف ایک رسی سےکھینچنا جا رہا ہے ۔ ماہواری کے دوران گہرے رنگ کا جماہوا لوتھڑے والے خون کا اخراج ۔چوتڑ میں بھراو اورکمرکے ایک مختصر حصے پر دباو کا احساس،جلد خشک،پیلی زرد ،پیلاہٹ مائل ، جگہ بہ جگہ ”لیور سپاٹس“ (تانبے کے رنگ کی طرح کے داغ ) ۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس پھولے ، نقاہت ، روحانی طور پر افسردہ،سوزش اندام نہانی۔ ویجائنہ کے لٹکے ہوئے حصے کا تنگ ہو جانا اوراس میں شدید درد۔ اس وجہ سے جماع سے نفرت ہو جاتی ہے۔لیکن اس کی خواتین میں غیر معمولی جنسی خواہش پائی جاتی ہے ۔لیکوریا کے ساتھ اسقاط کا رجحان ۔اندام نہانی سے میوکس کا اخراج پایا جاتا ہے۔
٭- ”پلسٹیلا“ کی مریضہ اپنے جسم کے کسی عضو کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی۔جسم گرم ،گرمی زیادہ محسوس کرتی ہے،پیاس بالکل نہ ہوتی ،کھلی ہوا پسند کرتی ہے بظرکی حساسیت جو چھونے سے بڑھے۔پلسٹیلا کی مریضائیں جو بھس کا شکار ہوں ماہواری کم اور دیر سے آنے سے لیکوریا پایا جاتا ہے ۔ عام طور پر گاڑھا کریمی یا دودھیا ہوتا ہے۔ یہ پتلا بھی ہو سکتا ہے ۔ تیزابی اور ساتھ اندام نہانی میں سوجن اس کی مریضہ متضاد سیکس سے انتہائی خوفزدہ ۔ ”پلسٹیلا “ کے اندر ذہنی اور جسمانی علامات ادل بدل کر آتی ہیں۔اس کی مریضہ نرم مزاج،رونے کی طرف مائل،،بزدل ہوتا ہے۔یہ مزاج عام طور پر عورتوں میں پایا جاتا ہے اس لئے اس کو عورتوں کی دوا کہا جاتا ہے۔ا س کی مریضہ بات بات پر رو نے والی ۔گم سم ،چھوٹی سی بات کو شدت سے محسوس کرے۔جب و ہ محسوس کرے کہ اس کی اَنا کو کچلا جا رہا ہے تو اس کا ری ایکشن بھی شدت سے کرتی ہے۔وہمی،چڑ جانے والی ، وہم رہتا ہے کہ کوئی میری بے عزتی کر رہا ہے ۔لیکن تشدد پر نہیں اترتی ، مایوس ، بے حوصلہ مذہبی جنون میں مبتلا۔مریضہ اپنے غصے کے جذبات کو دباتی رہتی ہے۔یہ جذبات مذہبی پاگل پن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
٭- شدید جنسی خواہش ہو تو”سلیکس البا“ دوا ہے
٭- ”سیپیا“میں ویجائنہ خشک،جماع سے نفرت، جماع پُر درد ،لیکوریا،خاوند سے نفرت،بچوں سے پیار،غیر مردوں کو اچھا سمجھے۔”سیپیا“ عام طور پر عورتوں کے امراض میں استعمال ہونے والی دوا ہے۔اس کی مریضاوں میں طبعی جنسی رجحانات مٹ جاتے ہیں۔ پیار و محبت کے جذبات ختم ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ ایک پیار کرنے والی ماں اچانک مامتا کے جذبات سے عاری دکھائی دیتی ہے۔ اپنے خاوند سے قطعاً بے نیاز اور لا تعلق ہو جاتی ہے۔رفتہ رفتہ اس کے تعلقات کے دائرے محدود ہونے لگتے ہیں۔ایسی مریضہ پاگل بھی ہو جاتی ہے اور ہر اس چیز سے جو اسے اچھی لگنی چاہیے نفرت کرنے لگتی ہے۔مریضہ خوفزدہ رہتی ہے۔اس کی عورتیں خاص طور پر گہرے بھورے رنگ کے بالوں والوں ہوتی ہیں۔ ان کے اندرونی اعضاءمیں گیند کے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔رحم کی بہترین اور اہم ادویات میں سے ایک ہے۔ٹی بی کی مزاج رکھنے والی ، جگر کی مزمن خرابیاں اور حم کی علامات ۔رحم اور ویجائنہ لٹکی ہوئی۔صبح کی متلی۔اندام نہانی کا راستہ پُر درد،خاص طور پر دورانِ مباشرت ۔اس کی مریضہ گرم کمرے میں بھی ٹھنڈک محسوس کرتی ہے۔ مریضہ کا چہرہ بشرہ پیلا ، ناک کے آر پار پیلی کاٹھی ۔چہرہ دھنسا ہوا، آنکھوں کے ارد گردگہرے حلقے ،شدید حرکت سے آرام ،ممکنہ طور پرنسوں(وینز) کے نظام میں بہتری آتی ہے۔ اس کی تکالیف میں بہتری دن کے درمیان میں آئے ۔ سیپیا کا لیکوریاپیلا سبز رنگ کا اور کسی حد تک ناگوار بو والا ۔یوٹرس پرزور پڑنا،نیچے کی طرف دباوپایا جاتا ہے۔ABORSHION (MISCARRIAGE)اسقاط حمل
٭- ”ایکونائٹ نیپلس“اگرا سقاط کاخطرہ بوجہ خوف اور جذبات ہوں تو 200طاقت میں پندرہ ، پندرہ منٹ کے وقفہ سے دہرائیں ۔خوف اکثر اسقاط حمل کی وجہ بنتی ہے ۔اگربروقت ایکونائٹ دے دی جائے اس ابارشن کو روکا جا سکتا ہے۔”ایکونائٹ“میں خوف یا اچانک جذبات کے نتیجے میں سوئی گڑنے والی،جلن دار شدید دردیں ۔خوف اس قدر کہ بعض اوقات حاملہ عورت ڈاکٹر سے کہتی ہے ”ڈاکٹر آپ کی زچگی کی تمام پلاننگ بیکا ر جائیں گی ۔میں تو مرنے جا رہی ہوں یا مر رہی ہوں ۔ عورتوں کے اعضائے تناسلی میں سوزش،اندام نہانی خشک ،گرم اور حساس۔لیکوریا کھل کر چپکنے والا اورپیلا ہوتا ہے۔ دورانِ حمل بے چینی ، موت کاخوف حتیٰ کہ موت کے وقت کی پیشگوئی کرے ۔یرقان،ہوبہو خون کی طرح کا۔رات بارہ بجے سے تین بجے ڈسٹرب،خوف کے نتیجے میں ابارشن ساتھ چڑچڑا پن ، خون کی سرکولیشن ہیجان پیدا کرے ، لگاتار دم کشی پائی جائے۔علامات میں شدت گرمی سے ، بند کمرے میں،متاثرہ جگہ پر لیٹنے سے،چلنے سے رات کو اورمیوزک سے ہوتی ہے۔
٭-”الٹرس فیری نوسا“ میں خون کی کمی اور کمزوری کی وجہ سے اسقاط کا خطرہ ہو تومدر ٹنکچر“ میں استعمال کریں ۔ بچہ دانیاں بھاری محسوس ہوں۔ڈھلکی ہوئی ساتھ دائیں طرف کے انجوائنل کے ارد گرد دردیں ۔ خون کی کمی اور کمزوری کے نتیجے میں لیکوریا عادتاً اسقاط کا رجحان دورانِ حمل اعصابی دردیں ضدی قسم کی حمل کی اُلٹیاں ۔ یوٹرس کے ڈھیلے پن اور کمزوری کے نتیجے میں اخراج خون ۔ بچہ دانیوں کے ارد گردکچلے جانے کا احساس ۔یوٹرس کے علاقے میں نیچے کی طرف دباو،جیسے یہ پیڑو سے باہر نکل جائے گی ۔ جس میں چلنے میں اضافہ ہو۔رحم میں ناطاقتی کی وجہ سے بانجھ پن۔اس کا لیکوریاسفید دھاگے دارہوتا ہے۔
٭-”ایپس میلی فیکا“ میں اسقاط کا خطرہ پہلے اور تیسرے مہینے کے درمیان ہو تواستعمال کریں ۔ شروع کے مہینوں میں اسقاط کا خطرہ پایا جاتا ہے ۔ ایپس کو حاملہ عورتوں میں حاد نوعیت کی بیماریوں میں جیسے بخار، نزلہ زکام میں اور چھوٹی طاقتوں میں بار بار استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن ابارشن میں اس کو ضرور استعمال کرنا چاہیے جب علامات موافق ہوں ۔ اس کے علاوہ اس کی علامات میں ویجائنہ کے باہر دو ہونٹ (جو مباشرت کے وقت کھل جاتے ہیں اور جن پر بال اگتے ہیں)میں پانی بھر جانے کا مرض جس کو ٹھنڈے پانی سے سکون ملے۔ جلن دار اور ڈنگ لگنے والی دردیں بیضہ دانیوں میں سوزش ، دائیں بیضہ دانی زیادہ متاثر۔نیچے کی طرف دباو ، ایسے جیسے ماہواری آ رہی ہے۔ بیضہ دانیوں کے ٹیومرز،ورم رحم ساتھ ڈنگ لگنے والی دردیں۔پیٹ کے اوپر اور رحم کے ملحقہ جگہوں میں درد۔اس میں پیاس کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ خاص طور پر استسقاءمیں اور رک رک کرآنے والے بخاروں کی گرمی میں ۔سانس کا گھٹنا جیسے یہ آخری سانس ہے پایا جاتا ہے۔
٭- ”آرنیکا“ کوکسی حادثے کے نتیجے میں اسقاط حمل ہوتو استعمال کریں۔لیکن اس کے علاوہ اس کی مزاجی کیفیت کچھ اس طرح ہے۔اس کی مریضہ خودسر ، ضدی،اپنی رائے پر اڑنے والی۔ہر ایک سے ، ہر بات پر جھگڑے۔آرنیکا کا مریض جب غصے میں ہوتا ہے تو چڑچڑا غصے کے نتیجے میں بد دعائیں دیتا ہے ، دوسروں کو اپنے سے دور دھکیلتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ ”وہ گھڑی میں تولہ ،گھڑی میں ماشہ“ ہوتا ہے۔وہ چیزیں جو اس کے مزاج کے مطابق نہ ہوںزور سے چیختا ہے،چلاتا ہے، اس کی برداشت سے باہر ہوتی ہیں یہ علامات( نکس وامیکا ، انگسچورا اور سنا )میں بھی پائی جاتی ہیں۔آرنیکا کا مریض کاسٹی کم کی طرح کسی کی اتھارٹی کو قبول نہیں کرتا ۔ آرسینک اور سلفر کی طرح ہر دوسرے آدمی سے اپنے آپ کوبہتر سمجھتا ہے۔ پلاٹینا کی طرح اپنے منہ میاں مٹھو بنتا ہے۔شیخی بکھارنے والا،اپنی بڑائی ظاہر کرنے والا ، لائیکوپوڈیم کی طرح حکم دینے والا،جابرانہ انداز میں اپنی رائے پر اڑنے والا، مطلق العنان ہوتا ہے ۔ پلاٹینا کی طرح ہوا میں باتیں کرنے والا کہ میں قیادت میں دوسروں سے افضل اور اعلیٰ ہوں۔
٭- ”بپٹیشیا “ کے اندر اسقاط کا خطرہ اگر مریض ذہنی ڈپریشن ،شاک ،کم درجے کے بخاروں میں مبتلا ہو کے نتیجے میں ہو تو دوا ہے۔عام حالتوں میں ماہواری جلدی،اور کھل کر ہوتی ہے۔نفاس تیزابی ، بدبودار ، پرسوتی بخار پایا جاتا ہے۔
٭-یوٹرس کی کمزوری سے عادتاً اسقاط کا خطرہ ہو تو”وائبرینم پروفولیم مدر ٹنکچراور ”کائلوفائلم“3 X بہت مفید ہے۔”کائلوفائلم “ میں فرج کے منہ کی ہڈی میں ضرورت سے زیادہ سختی ۔شدیدتشنجی دردیں ، جو تمام طرف پھیلیں،کپکپاہٹ، جھوٹی دردیں بغیر کسی نتیجے کے ۔دردِ زہ دوبارہ جاری ہو جس کے نتیجے میں وضع حمل ہو۔دردوں کے بعد، لیکوریا، رحم کی کمزوری کی وجہ سے عادتاً اسقاط ،رحم کی گردن میں سوئیاں چبھنے کی طرح کی دردیں ۔ ماہواری کا درد سے آنا جس کی دردیں تمام جسم میں گھومیں۔نفاس طول پکڑ جائے جس سے شدید ناطاقتی ،ماہواری اور لیکوریا کھل کر آئے۔
٭- ”کیمومیلا “ میںذہنی جذباتی دباو کے نتیجے میں اسقاط کا خطرہ ہو توبہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ اس کی علامات کچھ اس طرح ہیں تا کہ کیمومیلا کو سمجھا جا سکے۔رحم سے اخراج خون، چھچھڑے والے خون کا وافر مقدار میں اخراج،کالے رنگ کے خون کے ساتھ دردِ زہ کی طرح دردیں،تشنجی لیبر پین ، جو اوپر کی طرف چڑھیں(جلسی میم)،مریضہ دردیں برداشت نہ کر سکے (کائلوفائلم ، کاسٹی کم،جلسی میم، ہائیوسمس ، پلسٹیلا) نپل میں سوزش اورچھونے میں سختی پائی جائے۔ ساتھ پیلے رنگ کا تیزابی لیکوریا ۔ زچگی کی دردیں کا دباو اوپر کی طرف یا کمر میں شروع ہوں اور رانوں کی اندرونی طرف سے نیچے چلی جائیں۔ تو ”کیمومیلا“ دوا ہے۔”کیمومیلا “رحم کی کمزوریوں کو دُور کرنے میں بہت مفید دوا ہے۔ خصوصاً بچوں کی پیدائش کے بعد کی۔اس کے بچے بہت ضدی اور غصیلے ہوتے ہیں۔اس کی بیماریوں کا تعلق اعصاب اور جذبات سے ہے۔اس کا مریض بہت حساس ہوتا ہے دوسروں کی نسبت زیادہ محسوس کرتا ہے ۔ اس کے مریض الگ رہتے ہیں ، تنہائی اور خاموشی کو پسند کرتے ہیں۔ دردوں میں گرمی سے آرام آتا ہے۔ سوائے دانتوں کی دردوں کے وہاں ٹھنڈک سے آرام آتا ہے ۔ اس کے مریض فراخ دل نہیں بلکہ کنجوس ہوتے ہیں۔وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے، کسی کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے ۔ہر وقت اپنی ذات سے چمٹے رہتے ہیں۔ اس کی تکالیف نٹرم میور کی طرح صبح نو بجے تیز ہو جاتی ہیں۔اگر پیٹ کی خرابی کے نتیجے میں گندے انڈوں کی بو والی گیس پیدا ہو جائے تو اس کے ازالے کے لئے کیمومیلا دوا ہے۔
٭- ” کروکس سٹائیوا“ اگر پہلے مہینے اسقاط حمل کاخطرہ ہو توبہترین دواہے۔اس میں حیض کے وقفوں کے دوران رحم سے خون کا آنا ۔ اخراجات کالے رنگ کے ،لیس دار،ڈنگ لگنے والے درد ۔ بدبودار جن میں حرکت سے بہتری آئے۔ایسا احساس جیسے بچہ دانی یا پیٹ میں کوئی چیز گھوم رہی ہے ،چھلانگیں مار رہی ہے یا حرکت کر رہی ہے۔ہسٹریا کا مریض یا مریضہ اچانک گانا گانے یا ہنسنا شروع کر دے اور ترنگ میں آنے کے بعد مالیخولیا کی طرف چلی جائے تو”کروکس سٹائیوا 30“اس کی دوا ہے ۔ اخراج خون ، ہسٹریا ، عصبی تشنج میںجو بعض دفعہ بازو اٹھانے یا جھٹکا لگنے سے ہوتا ہے۔(یہ دوا زعفران سے بنتی ہے)
٭- ”کروٹلس“ میں اسقاط کے وقت خون کے اخراج کارنگ کالا اور جس میں جمنے کی صلاحیت نہ ہو ۔سپٹک بیماریاں کی خون کا زہریلا ہو جانے کی و جہ ہو تو 200 بہت مفید ہے۔
٭-زیادہ مشقت اورجذباتیت کے نتیجے میں اسقاط کا خطرہ ہو تو”ہیلونائس مدر ٹنکچر“ کے پانچ سے دس قطرے آدھہ گھنٹے کے وقفے سے استعمال کریں۔
٭-اخراج خون مسلسل،پیٹ درد ،متلی کی شکایت کے ساتھ سرخ چمکدار رنگ کا اخراج ہو تو”اپیکاک Q ‘ ‘ استعمال کریں۔
٭-اسقاط کا خطرہ دوسرے اور عادتاً تیسرے مہینے ہو جس میں عموماً گاڑھا تیز سرخ رنگ اور جما ہوا خون ہو تو”کالی کارب اورسبائنا“ مفید ہیں۔
٭-کالے رنگ کے خون کے دھبے اور ساتھ لیبر پین بعد میں شدید اخراج خون ہو اور اس طرح بار بار ہو تو ”پلسٹیلا نائیگر“بہترین ہے۔
٭-اسقاط کے بعد بخار اور ڈائریا کی علامات ہوں تو”پائروجینم “200استعمال کریں۔
٭-اسقاط کا خطرہ پانچ سے سات ماہ کے دوران ہو تو ”سیپیا“ 200 استعمال کریں۔
٭-”سیکل کار“اسقاط کا خطرہ تیسرے ماہ ہو جس میں اخراج خون کالے رنگ کاپتلا اورمقدار میں زیادہ ہو تو استعمال کریں۔عورتوں کے اعضائے تناسلی عام طور پر دردِ زہ کی طرح کی دردیں ،جو طول پکڑ جائیں اور دیر تک رہیں۔جلد ٹھنڈی لیکن وہ ان کو ڈھانپنا نہ چاہے ۔ لیبر پین بند ہو جائیں دردیں کمزور ہو،اس کے اندر اسقاط کی خصوصیت پائی جاتی ہے ۔ یوٹرس کا کینسر اور گینگرین ۔ایام ماہواری کھل کر اور کافی دیر تک رہے ۔ بعض اوقات ساتھ شدید تشنج پایا جاتا ہے۔ اسقاط کے بعد یوٹرس میں نامکمل کھچائو ۔دورانِ حمل خون کا اخراج پایا جاتا ہے۔
٭-ابارشن بوجہ سفلس ہو تو”سفلی نم“ 200یا اور ہائی پوٹنسی میں استعمال کریں۔
٭-اگر مریضہ میں سوزاکی ہسٹری یا اس کے خاندان میں ہو تو”تھوجا“ مفید ہے۔
٭-اگر وقت سے پہلے اخراج خون ہو اورمریضہ تھائی رائیڈ کی مریضہ ہو تو”تھائیرائیڈینم“ مفید ہے۔
٭-ابارشن کی وجہ ٹی بی ہو تو ”ٹیوبرکولینم “مفید ہے۔
٭-حادثے ،شراب نوشی یا عادتاً ابارشن ہو رہا ہو تو بطور احتیاطی تدبیر کے ”وائبرینم اوپلس“ Qاور وائبرینم پرونیفولیم Q ملا کراستعمال کریںALLERGYحساسیت
٭-فضا ئی پولن الرجی ”سلفیورک ایسڈ“ مفید ہے۔
٭-پھولوں کو سونگھنے سے دمہ”ایل نتھس“
٭-شدید زکام کے باعث ناک کی جھلی کا ورم جو پولن الرجی کے سیزن مثلاً اگست کے مہینے میں پھولوں کی خوشبو سے حساسیت ”ایلیم سیپا“
٭-سورج کی گرمی برداشت نہ ہو گرم موسم کمزوری اور نڈھال کر دے اور ساتھ معدے میں تیزابیت ہو”اینٹی مونیم کروڈ“ دوا ہے۔
٭-پپوٹوں،چہرے اور ہونٹ اوربعض اوقات آلہ تناسل کی سوجن اور حساسیت انٹی پائیرین“ 2X
٭-جلدی حساسیت جس میں سرخی،جلن اور گرمی سے حساسیت لیکن پیاس مفقودہو تو ”ایپس میلی فیکا“ 200 دوا ہے۔ترتیب و تحقیق: خالد محمود اعوان
-

جنسی امراض سوزاک اوراخراج منی
تحریر:خالد محمود اعوان
سوزاک
٭-سوزاک =میں جب سوزشی حالت شروع ہو چکی ہوتو اس وقت قابل اعتبار دوا ”ایکونائٹ “ہے۔اس کو پہلی اور دوسری طاقت میں استعمال کرنی چاہیے ۔یہ دوااخراجات کو تو کم نہیں کر سکتی لیکن اس سوزش کو قابو میں کرکے مریض کو سکون دےدیتی ہے۔
اگیریکس
٭-سوزاک =میں اگیریکس اس وقت مفیدثابت ہوتی ہے جب پیشاب کا اخراج مشکل سے ہو ،اس کی دھار کمزور یا قطروں کی صورت میں آئے۔لگاتار ایستادگی چڈھے میں کریمز کی طرح کی کھینچنے والی دردیں پائی جاتی ہوں۔اس کا6 طاقت میں استعمال ایک ہفتے میں شفا بخش دیتا ہے۔
کینابس سٹائیوا
٭-سوزاک میں=”کینابس سٹائیوا“اس بیماری میں استعمال ہونے والی دوا ہے۔اس کا عام طور پر استعمال جب حشفہ سوجا ہوا اور گہرا سرخ ہو۔آلہ تناسل میں ٹیڑھاپن پر درد ایستادگی مثانے سے پیشاب کو باہر نکالنے والی نالی کھچی ہوئی ہوتی ہے۔مریض کو ٹانگیں چوڑی کر کے چلنا پڑتا ہے ۔ نالی میں ٹیسیں،پیشاب کرنے سے پہلے اور بعد میں درد ہوتا ہے۔
ایپس میلی فیکا
٭-سوزاک =”ایپس میلی فیکا“سوزاک کی علامات میں پیشاب مقدار میں کم ، پھولی ہوئی جیسی سوجن۔ ڈنگ لگنے کی طرح کی دردیں ساتھ پتلے پیپ کی طرح کے اخراجات پائے جاتے ہیں۔
نکس وامیکا
٭-سوزاک =”نکس وامیکا “ کا استعمال سوزاک میں اس وقت ہوتا ہے جب ایلوپیتھی طریقہ علاج سے علاج کیا گیا ہو اور اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ہو۔اس کے بعد اور بہت سی ادویات استعمال ہوئی ہوں ۔ اس میں اخراجات تو بند ہو چکے ہوں لیکن سوزش اور مثانے میں بے چینی برقرار ہو جو مثانے اور یوریتھرا کی طرف بڑھے۔
پلسٹیلا
٭-سوزاک =” پلسٹیلا“ عورتوں میں سوزاک کی دواہے جب اس کے اخراجات گاڑھے،دودھ کی طرح اور ان میں درد نہ پائی جائے۔
سیپیا
٭-سوزاک =سیپیاکا استعمال سوزاک میں اس وقت ہوتا ہے جب اس کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں۔پیشاب کی نالی کے سوراخ پر ہلکی سی سرخی جس کے ساتھ ہلکا سا چپکائو والارساو آتا ہے ۔اس دوا کا صبح شام استعمال اس کی بڑھوتی کو وہی روک دے گا۔جیسے ہی پیشگی اطلاع دینے والی علامات ظاہر ہوں استعمال سے مزید انفیشن باقی نہیں رہتا۔ڈاکٹر فرنکلن کے مطابق یہ دوا اس وقت مفید ہوتی ہے جب مرض ترقی پا چکا ہو اور حشفہ پر جھنجھناہٹ(حس کی خرابی)۔ٹیس والی دردیں اور گدگدی پیدا کرنے والی خارش ہو اوراخراجات دودھیا ہوں۔پیشاب کرنے کا عمل پر درد اوراس میں مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔
”سلفر“
٭-سوزاک =میں جب اس کا علاج کیا رہا ہو اس دوران یا مرض پرانی ہونے پر جب مردوں میں مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت ہو اور عورتوں میں شدید ذہنی اذیت شدید جلن دار خارش ہو اوردوسری ادویات علامات کے مطابق بھی ہوں اورکام نہ کر رہی ہوں ”سلفر“ کی ایک دو خوراکیں اچھا کام کرتی ہیں۔اخراج منی
٭-بڑھے ہوئے اخراج منی کے بد اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہومیوپیتھی میں بے شمار ادویات ہیں جواپنی اپنی علامات کے مطابق استعمال ہوتی ہیں۔ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اورم مٹیلی کم
٭-اخراج منی = میں اورم مٹیلی کم ایسے مایوس مریضوں کی مایوسی کو کم کرتی ہے جو اندھیرے میں ڈوب چکے ہوں۔خود کشی کے خیالات یا مایوسی میں مبتلا ہوں اور زندگی سے بیزار ہوں کام آتی ہے۔ایسے مریض جو مشت زنی کے لئے تنہائی پسند کریں۔ان میں ضعف العقلی پائی جائے ۔ شعور کی کمی ہو۔مشت زنی کے نتیجے میں تشنج پیدا ہونے لگیں۔ایسے مریض جو بہت دُور جا چکے ہوں کو اس دوا کی ضرورت پڑتی ہے اوریہ ان کی توانائی بحال کر دیتی ہے۔
کیلیڈیم
٭-اخراج منی =میں” کیلیڈیم “ کااستعمال اس وقت ہوتا ہے ۔ جب بغیر جنسی خواہش کے پُر درد ایستادگی ہو۔نامکمل اورادھوری ایستادگی میں اخراج منی پایا جاتا ہے۔ جب بغیر جنسی خواب اور ہیجان کے کپڑے خراب ہو جائیں۔دورانِ مباشرت اچانک عضو تناسل ڈھیلا پڑ جائے،بغیر غلبہ شہوت کے اعضاءڈھیلے پڑ جائیں۔ٹھنڈک کا احساس ، جنسی اعضاءپر ٹھنڈے پسینے آتے ہیں۔نامردی ،دورانِ ہیجان عضو تناسل ڈھیلا۔ ہم آغوشی کے دوران نہ ہی خیزش اور نہ ہی انزال ہوتا ہے۔اس کا پورا اعصابی نظام جذباتی ہیجان کے زیر اثر ہوتا ہے۔خوف سے بھرپور ، دروازے کے بجنے سے ڈر جاتا ہے یا اخبار کے کاغذکی کھڑکھڑاہٹ سے چونک جائے۔کم سے کم شور میں بھی نیند نہیں آتی۔دوران نیند ہلکا سا شور بھی خوفزدہ کر دیتاہے۔
کلکیریا کارب
٭- اخراج منی = میں کلکیریا کارب اس وقت استعمال ہوتی ہے جب پسینہ بہت آتا ہو۔ جنسی اعضاءپرپسینہ بہت آتا ہے ۔ایستادگی کو حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،اور ڈھیلا پن کی علامات نمایاں ہوں۔ شدید تھکن پائی جائے،تھکاوٹ محسوس ہو،ٹانگوں میں کمزوری،قبض کا شکار ،دودھیا رنگ کا پیشاب،کھانسی اور سردرد،مباشرت کے بعدنڈھال۔ سر میں دبانے والی دردیں۔احتلام کے بعدکمر اور گردن میں درد ہوتا ہے ۔ کلکیریا کارب خاص طور پر ان لوگوں میں ظاہر ہوتا ہےجن کی ساخت سکریفولیس (کنٹھ مالائی) ہو۔
کینتھرس
٭-اخراج منی=کینتھرس میں نہ بجھنے والی جنسی خواہش۔مردوں میں ناقابل برداشت شہوت کا روگ۔پُر درد ایستادگی۔لگا تارپیشاب کرنے کی حاجت ۔ پیشاب کرنے سے پہلے ،درمیان میں اور بعد میں کاٹنے والی اور جلن دار دردیں ہوتی ہیں۔ مسلسل پیشاب کرنے کی حاجت جو قطرہ قطرہ آئے اور ایسا محسوس ہو جیسے گرم پانی سے جل رہا ہو۔اس کا مزاجی مریض تشدد پسند اور اذیت پسند ہوتا ہے۔اسے غصہ بہت سخت آتا ہے۔ایسے اذیت پسند لوگوں کے لئے کینتھرس اُونچی طاقت میں بہترین علاج ثابت ہو سکتی ہے۔ایسے لوگ جو جنسی تشدد پسند ہوں ان کے لئے بھی کینتھرس مفید ہے۔
کونیم
٭-اخراج منی = کونیم میں مردوں میں خواہش بڑھی ہوئی ،لیکن طاقت کم ہوتی ہے۔جنسی عصابیت جس کے ساتھ سست ،کمزور ایستادگی ۔ جنسی بھوک کے دبنے کے بد نتائج۔خصیے سخت اور بڑھے ہوئے ہو ں تو کونیم دوا ہے۔اس میں بڑھاپے کی کمزوری،خصیوں میں دبلا پن۔فرحت پیدا کرنے والے اخراج منی کی بجائے پر درد اخراج منی پائی جائے۔لگاتار بڑھی ہوئی منی کے اخراجات۔یادداشت کمزورہوتی ہے۔کونیم کا مریض چڑچڑا اور بد مزاج ہو جاتا ہے ۔چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرا جاتا ہے اور بے چینی اور اکتاہٹ کا اظہار کرتا ہے۔
جلسی میم
٭-اخراج منی= میں جلسی میم میں خود بخود اخراج منی یا دوران رفع حاجت اخراج منی ہوتا ہے۔ ڈھیلا پن اور کمزوری پائی جائے۔خصیوں میں کھینچنے والی دردیں اورشدید سستی ،کاہلی ،آنکھوں کے ارد گرد نیلے حلقے۔سر چکراتا ہے ،غنودگی،دماغی طور پرغلیظ۔ہر وقت گندے جنسی موضوع پر سوچتا رہتا ہے۔کمر درد ، سٹیفی سیگیریا میں جنسی زوال دیکھنے میں آتا ہے۔
گریفائٹس
٭-اخراج منی = گریفائٹس میں عضو تناسل پلپلا،قبض کا شکار،ڈل نس،ڈھیلا پن اور پژمزدگی۔جسم کے واحد اعضاءمیں یا مسلز میں فالجی کیفیت ۔
لائیکوپوڈیم
٭-اخراج منی= لائیکوپوڈیم میں جوان مردوں میں نامردی جو مشت زنی اور بڑھتے ہوے جنسی فعل کے نتیجے میں ہو۔آلہ تناسل چھوٹا،ٹھنڈا،ڈھیلا،بوڑھے لوگوں میں جنسی خواہش لیکن نا مکمل ایستادگی۔ بغل گیری کے دوران نیندآ جائے ۔سرعت انزال جنسی طاقت اور خواہش کمزور ۔دماغی اور جسمانی کمزوری،نامردمی ، یادداشت کمزور۔اعضائے تناسلی ٹھنڈے۔پیشاب میں سرخ ریت۔تنہائی پسند نہیں کرتا۔چہرہ بشرہ پیلا یا مٹی کے رنگ کا۔اس کوبوڑھوں کی مرہم کہا جاتا ہے۔
نکس وامیکا
٭-اخراج منی=نکس وامیکا میں مشت زنی کے بد اثرات پائے جاتے ہیں۔سر درد اور کمردردجو شراب نوشی یا کافی کے نتیجے میں آئیں،بد ہضمی یا گیسٹرک جھنجھلاہٹ۔صبح کی طرف بڑھتے وقت اخراج منی رات کے چوتھائی حصے میں نیند کا نہ آنا۔شدید اعصابیت اور چڑچڑا پن۔بیٹھ کر کام کرنے کے برے اثرات۔ایسی کمر درد جس کے ساتھ کمر کی ہڈی میں اری ٹیشن جنسی فعل کی زیادتی سے ہو”نکس وامیکا“ دوا ہے۔
فاسفورک ایسڈ
٭-اخراج منی=فاسفورک ایسڈمیں خاص طورپر ایسے نوجوانوں میں جو تیزی سے بڑھ رہے ہوں اور کمزوری ان میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ہر اخراج پر شدید کمزوری ،تھکاوٹ،آنکھوں کے سامنے کالے دھبے آئیں۔اس وقت سر گھومتا ہوا محسوس ہو،ٹانگوں میں کمزوری میں بلاشبہ بہترین دوا ہے۔ بڑھی ہوئی مشت زنی اور اخراج منی میں جس کی امراض ابھی پیچیدہ نہ ہوئی ہوں بلا شرکت غیرے کسی اوردوا کے بہترین کام کرتی ہے۔(فاسفورک ایسڈ)
پلسٹیلا
٭-اخراج منی=پلسٹیلاکے اندرنزلاتی سوزش اور گاڑھے پیلے یا سبز اخراجات پائے جاتے ہیں۔یہ عورتوں میں مشت زنی کے برے اثرات میں ایک مفید دوا ہے۔خاص طور پرجب اس کے ساتھ لیکوریا بھی پایا جائے۔جنسی ہیجان کی وجہ سے ہسٹریا کا رجحان پایا جاتا ہے۔خاص طور پرایسی مریضائیں جن کے چہرے بشرہ کا رنگ ہلکا ہوتا ہے۔بلغمی اور نرم مزاج کا رجحان پایا جاتا ہے۔آسانی سے رونے لگ جانے والی ہوں۔ٹھنڈی ہونے کے باوجودعلامات میں بہتری کھلی ہوا میں آتی ہے۔
سٹیفی سیگیریا
٭-اخراج منی =میں سٹیفی سیگیریا کے مریض جنسی فعل کی زیادتی اور گناہ (مشت زنی وغیرہ) سے کمزوری آتی ہے۔مردانہ تولیدی طاقت میں کمی ،دوران مباشرت ایستادگی نہیں ہوتی۔ جنسی خیالات میں غرق رہنے سے ۔مشت زنی پر مجبور ہوتاہے۔اس لئے تنہائی کو ترجیح دیتا ہے۔شدید کم سخنی،حرارت غریزی کی کمی،بال لٹوں کی صورت میں گرتے ہیں،آنکھیں دھنسی ہوئی اوربے رونق ۔ اور عام طور پر گندہ،جوئوں سے بھرا ہوا ہونے کی حالت۔مریض دیکھنے میں گندہ نظر آتا ہے ۔ جماع کے بعد سانس میں دشواری پائی جاتی ہے۔
سلفر
٭-اخراج منی=سلفر کا استعمال ایسے مریضوں میں ہوتا ہے جن سے گرمی کے کوندھے اُٹھتے ہیں۔سر کی چوٹی پر درداور گرمی۔جسم سے نکلے ہوئے پسینہ کی بوبرداشت نہ ہو۔نہانے سے نفرت۔کسی چیز سے خوشی حاصل نہیں ہوتا ، چڑچڑا۔جلد پر خارش۔سر کی چوٹی خشک بال خشک اور گیں۔پپوٹے سرخ۔مستقل قبض رفع حاجت کی مئوثر خواہش،مقعد میں جلن اور مسلسل درد،رات کو بستر پر پیشاب کر دینا۔عضو تناسل کے ارد گردبدبودار چربیلی رطوبت۔سلفر ہومیوپیتھی کی اینٹی سورک دوا ہے۔یہ ایک جبلی دوا ہے جس کا کسی دوسری دوا کے ساتھ استعمال اچھا ہوتا ہے۔
”ایوینا سٹائیوا“
٭-”ایوینا سٹائیوا“ میں اعصابی کمزوری اورمشت زنی کے نتیجے میں دل کی دھڑکن کا تیز ہونا ، رات کو کھل کر احتلام کا ہونا کی تکلیف میں ایک گلاس نیم گرم پانی میں پانچ قطرے دن میں تین بار استعمال کریں۔مردوں میں جوش کے بغیر منی کا اخراج،نامردمی،جوزیادہ جنسی ملاپ کے بعد پیدا ہو ئی ہوتودوا ہے۔ اس کا مخصوص اثر اعصاب کی بنیاد پر ہوتا جو اعضائے تولید کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔٭- مارفین کی عادت چھڑانے کے لئے ایک گلاس گرم پانی میں پانچ قطرے ڈال کر استعمال کریں۔
”سیبل سیرولوٹیم “
٭- ”سیبل سیرولوٹیم “بڑھے ہوئے پروسٹیٹ میں جس میں پیشاب کرنا مشکل ہو پیشاب بغیر کیتھیڈر کے نہ آئے۔اس صورت میں ”سیبل سیرولوٹیم کے پانچ قطرے صبح شام استعمال کریں مفید ہے۔مردوں میں جنسی فعل کو بہتر بنانے کے لئے جو جنسی فعل کی زیادتی کے نتیجے میں یا خاندانی بیماریوں کے نتیجے میں آئی کمزوری یا پروسٹیٹ گلینڈز کی سوزش کے نتیجے میں آئی کمزوری میں ہو تومدر ٹنکچر کے پانچ قطرے دن میں تین بار استعمال کریں۔
سالیڈیگو ورگااورا
٭-”سالیڈیگو ورگااورا“اگر گردوں کی دردوں میں،دبانے سے دردمیں اضافہ ہو،کمر درد ساتھ گہرے رنگ کا پیشاب آتا ہو جس کے نیچے ریت اور پتھریوں کا مادہ بیٹھا ہوا ہو،بعض اوقات پیشاب کوخارج کرنے کے لئے کیتھیڈر کا استعمال کرنا پڑے تو اس دوا کو مدر ٹنکچر میں پانچ قطروں کی ایک خوراک دن میں تین بار استعمال کریں۔ٹی بی کے مریضوں کواگربار بار زکام ہو جائے تو ”سالیڈیگو ورگا“ 2X میں استعمال کریں۔ -

3عورتوں کے امراض
خالد محمود اعوان صاحب
عورتوں کے امراض
عورتوں کی بیماریاں
1-اگر حمل نہ ٹھہرتا ہویا اسقاط ہو
Sepia CM
پہلی خوراک کے بعد دو ماہ کاوقفہ،پھر تیسری خوراک۔اگر حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعد صرف ایک خوراک اور
Calc.Phos + Ferm Phos + Kali Phos 6X
ملا کر دیتے رہیں
2-اٹھرا کے لئے ایک اور نسخہ
Sulphur 200+Pyrpgenum
ملا کر ہفتہ میں دو بار مسلسل۔جب حمل ٹھہر جائے تو
Calc.Phos + Ferm Phos + Kali Phos 6X
ملاکر دیتے رہیں ۔
3-حمل نہ ٹھہرتا ہو
1- Iris Versicular200اور
Sulphur200باری باری اور
2- Sabina30+ Kali Carb
ملا کردن میں تین بار
4-بار بار حمل ضائع ہوتا ہو
Sabina 30 +Kali Carb
ملا کر دن میں تین بار
5-اولاد کے لئے
1- Pulsatilla 1Mہر دس دن کے بعد
2-Pulsatilla 30روزانہ ایک بار،
3-Ashoka Q
دس قطرے پانی کے گھونٹ میںدن میں تین بار۔
6-عورت حاملہ ہے قبل از وقت دردیں
Kali Carb 30
7-دیسی نسخہ
کچلہ ،آدھ پاو ¿+دودھ ایک کلو+گڑ آدھ چھٹانک
استعمال:-کچلہ کو ایک ہفتہ تک پانی میں بھگو کر رکھیں اور ہر روز پانی تبدیل کرتے رہیں۔سات دن کے بعد کچلے کے نرم پڑ جانے پر اس کو درمیان سے چھری سے کاٹ دیں یا کھول دیں ۔کھولنے پر کچلے کے اندر سے پان کے پتے کی طرح ایک چھوٹا سا پتہ ن گا جسے باہر نکال کرپھینک دیں کیونکہ یہ زہریلا ہے اسے احتیاط سے باہر نکالیں۔اس کے بعد کچلے کو ہاون دستہ میں باریک پیس لیں ۔پھر پیسے ہوئے کچلے کو دودھ میں ملا کر چولہے پر چڑھا دیں اور ساتھ ہی گڑ بھی ڈال دیں ہلکی آنچ پر دودھ کو گاڑھا ہونے دیں۔جب دودھ گاڑھا ہونے دیں جب گاڑھا ہو جائے تو اُتار لیں۔ٹھنڈا ہونے پر مناسب مقدار کی گولیاں بنا لیں۔(میاں بیوی دونوں استعمال کریں)
ایک پیالی نیم گرم ھ میں ایک چمچ دیسی گھی ملا لیں اور روزانہ سوتے وقت ایک گولی اس دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔انشاءاللہ مفید ثابت ہو گی۔
پرہیز:-بڑا گوشت ،دال مسور،دال چنا ،کھٹی چیزیں اور چائے کا استعمال کم کریں۔8-زچگی کا آپریشن کروانے کے بعد سینہ سے
درد اُٹھتا ہو اور ہاتھ پاو ¿ں اکڑتے ہوں۔
CoccusCacti + Cuprum Met.30
ملا کر
9-پیدائش کے بعد Infection
Sulphur 200+Pyrogenum 200
10-ابارشن کے بعد صفائی کروائی گئی
لیکن پھر بھی زہر پھیل جائے تو
Sulphur 200+ Pyrogenum
اگر کمزوری ہو تو
Carbo Veg 30
اگر سردی لگنی شروع ہو جائے تو
Echinacea 30
دس بارہ قطرے پانی کے گھونٹ میں دن میں تین بار
11-بچے کی پیدائش کے بعد اہلیہ سخت بیمار
1- Arnica 200
2- Pulsatilla 30
12-بچے کی پیدائش کے بعد کمر پر
پھوڑایا سر چھوٹا ہو تو
Kali Phos + Silcea 6X ملا کر
13-جسم اور چہرے پر غیر ضروری بال
THUJA 10M
14-ہونٹوں کے اندر ،گالوں پراور
پیشاب والی جگہ پر تکلیف دہ دانے
1- Psorinum1000
صرف ایک خوراک پھر ہفتہ کے بعد
2- Pyroginum 1000
15-رحم باہر آتا ہوایا باہر آنے لگے
1- Rustox 200
2- Podophylum 200
3- Calc.Floor 6X
16-نرینہ اولاد کے لئے
Pulsatilla 30
جب پیریڈ ختم ہوں اور امید بندھنے کا محسوس ہو تو
Aurum Mure CM
صرف ایک خوراک نیز حمل کے تیسرے ماہ سے روزانہ ایک کپورا کھائیں۔
17-ڈلیوری آسان ہونے کے لئے
1- Pulsatilla 30 دن میں تین بار
Kali Phos + Mag.Phos 6X 2
کی چھ چھ گولیاں لے کر نیم گرم پانی میں حل کر کے چمچ چمچ کر کے پلائیں
18-بچہ،بچہ دانی میں الٹا ٹیڑھا
PULSATILLA 200
19-بچہ پیٹ میں فوت ہو گیااور
آپریشن سے نکالاہو نیز پیٹ درد
1 Pyrogenum+ Sulphur 200
ملا کرہفتہ میں دو باراور ساتھ
Echinatia Q
دس دس قطرے پانی کے گھونٹ میں
20-حمل کے ۹ ماہ گزر جائیں اور بچہ
پیدا نہ ہوتا ہو
Pulsatilla 30
21-بچہ دانی چھوٹی ہے اور اولاد نہیں ہوتی
Calc.Phos+Kali phos+Silcea 6X
22-یوٹرس میں غدود،اولاد نہیں ہوتی
1 Arnica+Lachesis 200
2 Calc.Floor+Silcea 6X
23-یوٹرس کا منہ تنگ،اولاد نہیں ہوتی
Calc.Phos+Ferm Phos+
Kali phos+Calc.floor+ Silcea 6X
24-بچہ سات ماہ کا تھا پیٹ میں فوت ہو گیا
Calc.Phos + Kali phos +
Ferm.Phos + Silcea 6X
25-رحم کے ورم کے لئے
1- Caulophyllum+Bryonia
2- +Podophyllum 200
Calc.Phos+Ferm Phos+
Calc.floor +Kali Mure 6X
26-یوٹرس میں گلٹی یا رسولی
1- Bryonia+Thuja 200
2- Calc.Phos+Ferm Phos
+Kali phos+Silcea 6X
27-یوٹرس میں گلٹی یا رسولی)یا پھر یہ نسخہ)
1- Bryonia+Sulphur 200
2- Belladona+200
Caulophyllum 200+Podophyllum 200
ملا کر نمبر1 اور نمبر2 باری باری ہفتہ میں دو بار
28-رحم کی تکلیف کے لئے
Kali phos+Ferm Phos+Silcea 6X
29-ماہواری رک گئی ،ایام میں داغ درد
1- Sulphur 1M
صرف ایک خوراکاس کے ایک ہفتہ بعد
Pulsatilla 30دن میں تین بار
30-ماہواری کے وقت درد،
مقدار کم اورباربار پیشاب
1- Arnica + Belladona 200
2- Bryonia + Pulsatilla 30
اگرفرق نہ پڑے تو
Sulphur 200ہفتہ میں دو بار
31-ماہواری عرصہ سے بند
Nat.Mure 1000
پندرہ روز کے بعد ایک خوراک چند ماہ تک
32-ماہواری میں بے قاعدگی
1- Psorinum 1000ہفتہ میں ایک بار
2- Calc.Phos+Ferm.Phos+Nat.Mure 6X
33-ماہواری بند ،جوڑوں میں درد
Pulsatilla 1M
34-ماہواری میں زیادہ بلیڈنگ،
پیٹ درد،کمزوری
1- Calc.Carb+Murex
+Millifolium 30
2- Ferm.Phos+Mag.Phos + Silcea 6X
35-ماہواری کے وقت پیٹ درد
Arsenic+Belladona+
Caulophylum 200
36-دوران حمل بلیڈنگ اور ساتھ بوجھ
1- Sabina 30
2- VIBURNUM OPOLUS Q
دس قطرے پانی کے گھونٹ میں دن میں تین بار
37-یا پھر یہ نسخہ
1- KALI CARB 30
2- PASSIFLORA Q
38-دورانِ حمل الٹیاں
1- ARSENIC + COCCULUS+
IPECOC + PULSATILLA 30
2- CALC PHOS + FERM. PHOS+ KALI PHOS 6X
39-دورانِ حمل اُلٹیاں)یا پھر یہ نسخہ)
SULPHUR + ZINCUM MET. 200
40-دورانِ حمل الٹیاں
ABSINTHIUM + ONATHNAE CROCRATE 6
ملا کردن میں تین چار بار
41-بائیں چھاتی میں درد ،آپریشن
بھی کرایا ہے
BRYONIA + CALC.FLOOR + PHYTOLACA 30
42-ہسٹریا
NUX MOSCHATA 30
43- پستانوں میں دودھ کا جم جانا اور پھٹ جانا
1- PULSATILA 30دن میں تین بار
2- CARCINOCIN 30 ہفتہ میں ایک بار
44-اٹھرا کے لئے اور نسخہ
1- SEPIA 30دن میں تین بار
2- KALI PHOS 1000 مہینہ میں ایک بار
45-لیکوریا،پانی کا رنگد ار جہاں
لگے کھجلی پیداکرے
1-Sulphur 200 + Pyrogenum
2- Arsenic 30 دن میں تین بار
