primekunst.com

Category: ہومیوپیتھک ادویات

ہومیوپیتھک ادویات کے متعلق تعارف۔

  • سٹیفی سیگریا StaphySagria

    سٹیفی سیگریا StaphySagria

    *ہومیوپتھی میں اس کے بیجوں سے جو دوا تیار کی جاتی ہے اسے سٹیفی سیگریا کہتے
    *اس کا پودا انگور کی بیل سے مشابہ،کاسنی اور نیلے رنگ کے پھول کِھلتے ہیں
    *قدیم سے معدہ کی صفائی اور قے لانے استعمال کیا جاتا
    خارش اور جوئیں مارنے کے لئے
    *اس دوا کا اعصاب سے گہرا تعلق
    سٹیفی سیگریا ایسے مریض کی دوا جو بہت حساس اور شائستہ ہوں۔یعنی غصے کا یک دم اظہار کر دیتے مگر غصّے کو پی جاتے ہیں تو غصّے کو پینے سے جو بداثرات پیدا ہوں گے یہ دوا درست کرتی ہے
    *جیسے غم کے بد اثرات کے لیے اگنیشیا
    دبی ہوئی خواہشات کے بد اثرات کے لیے کونیم
    *مریض معمولی الفاظ سے اپنی insult سمجھتا ہے
    *بچے انتہائی چڑچڑا،بد اخلاق دبلے پتلے،پیٹ پھولا ہوا،پیٹ غذا سے پُر ہونے کے باوجود بچہ شدید بھوک محسوس کرتا
    *بچوں کے دانت بچپن سے ہی سیاہ ہونا اور گلنا سڑنا کے لیے مفید۔
    *تیز دھار آلہ کے زخم کے لیے مفید۔
    *بواسیر کے مسوں میں بھی سخت تکلیف محسوس ہوتی
    *مریضہ چھوٹی چھوٹی جسمانی بیماریوں پر شدید تکلیف کا اظہار۔عصاب میں تناؤ۔چھوٹی تکلیف بہت شدت سے محسوس
    *جلد پر بھی بیماریاں ظاہر ہوتی سر پر ایگزیما ہو جانا جس میں کوئی پھوڑا پھنسی وغیرہ نہیں ہوتا لیکن شدید درد اور تکلیف اظہار کا احساس ہوتا
    *پیشاب نہ کرنے کی حالت میں پیشاب کی نالی میں جلن پیشاب کرتے وقت جلن میں آرام
    *مردوں میں یہ دوا پراسٹیٹ کی تکلیف میں مفید۔پروسٹیٹ گلینڈز بڑھ جائیں تو پیشاب کی تکلیف شروع ہو جاتی
    *سٹیفی سیگریا دوسری دوائیں کے ساتھ ترتیب کے ساتھ استعمال کرنی چاہیئے پہلے کاسٹیکم پھر کولو سنتھ پھر سٹیفی سیگریا پیٹ اور انتڑیوں کے تعلق میں یہ دوا کام آتی اور درد جو باریک اعصابی ریشوں سے تعلق رکھتے
    *پپوٹوں کی سوزش سٹیفی سیگریا اور گریفائیٹس
    سٹیفی سیگریا کے مریض کا سر درد عموما پچھلے حصے سے شروع ہوتا اور سارے سر پر پھیل جاتا جبکہ رسٹاکس کا سر کے فرنٹ سے درد
    *سٹیفی سیگریا کا مریض اندرونی طور پر کپکپاہٹ محسوس کرتا بیرونی جسم نہیں لرزتا
    اندرونی لرزش کے لیے جلسیمیم
    *سٹیفی سیگریا میں حیض کے ایام میں دانتوں میں درد
    *سٹیفی سیگریا کے مریض کا دھیان ہر وقت جنسی معاملات کی طرف رہتا
    کثرت مباشرت،کثرت مشت زنی وغیرہ کے بد نتائج اور انتہائی حالات جب کہ غمگینی۔لاپرواہی۔یاداشت کی کمزوری پیدا ہو جاتی
    کمر درد رات کو زیادہ صبح اٹھنے سے قبل ذیادہ جنسی خرابیوں کے بعد
    مدد گار دوائیں
    کالو سنتھ۔کاسٹیکم
    Q سے لیکر اونچی طاقت

  • رسٹاکس کے فوائد

    رسٹاکس کے فوائد

    پورانامRustoxicodendron
    *بچھوبوٹی نام کے ایک جنگلی پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے
    *جس کے ظاہر سے نہایت خطرناک قسم کی خارش شروع ہو جاتی ہے۔شدید بخار،بھوک ختم ہو جاتی،متلی اور سخت سردرد ،غدود سوج جاتے ہیں۔
    *سب سے اہم علامت جلن اورسوزش ہے جس کے نتیجے میں چھالے بنتے ہیں۔
    *جلن جانے والے مریض کو غیر معمولی فائدہ دیتی ہے۔اونچی طاقت میں
    *فالجی اثرات کے لیے مفید دوائی دائیں طرف کے اعضاء پر حملہ آور ہو رسٹاکس اور سلفر
    *اعصابی دردوں میں جن میں آرام کرنے سے تکالیف بڑھے
    * رسٹاکس کا مریض آرام سے لیٹ نہ سکے پہلو پہ پہلو بدلتا رہتا ہے
    * حرکت سے مریض کو آرام ملتا ہے
    * پہلی حرکت پر درد بڑھ جاتا لیکن جسم گرم ہو جاۓ تو دردوں میں افاقہ آجاتا ہے۔
    *سرد اور مرطوب موسم میں رسٹاکس کی تمام علامات تیز ہو جاتی گرمی سے اور گرم خشک ہوا یا موسم میں آرام رہتا ہے
    *بوجھ اٹھانے پر زور لگ جانا رسٹاکس بہت ہی مفید طلب ہے نیز کمر درد کو سخت چیز پر مثلاََ فرش پر لیٹنے سے آرام
    *زیادہ بوجھ اٹھانے کی وجہ سے رحم میں نیچے گرنے کا رجحان رسٹاکس بہتر دوا۔لیکن رحم تک اثر رحم تک محدود نہیں۔ہر عضلہ جسے زیادہ بوجھ اٹھانے سے نقصان پہنچا ہو اس میں رسٹاکس اور ملی فولیم بہترین
    *رسٹاکس کے ایگزیما میں پانی بہت بہتا ہے
    * رسٹاکس کا مرطوب موسم سے گہرا تعلق ہے۔برسات میں جبکہ گرمی بھی ہو اس کی تکالیف بہت بڑھ جاتی ہیں۔
    *رسٹاکس ملیریا کے بخار میں اچھا کام کرتی ہے اگر علامات کے آغاز میں اسے برائیونیا کے ساتھ ادل بدل کر دیا جائے اور حفظ ماتقدم آرنیکا اونچی طاقت میں دی جائے۔
    *ملیریا کے علاوہ وہ بخار جو کھبی کم ہو کھبی زیادہ ہو نیز بے چینی،کپکپاہٹ،اور زبان خشک رہتی ہے مریض سردی محسوس کرتا اور نڈھال رہتا۔زبان میلی مگر نوک مثلث نما سرخ رسٹاکس کی خاص علامت ہے۔متواتر بے آرامی
    *رسٹاکس ٹائیفائیڈ میں بھی کارآمد بخار سر کو چڑھتا ہے،پیٹ میں گڑ گڑاہٹ پیدا ہوتیااور تناؤ،ڈکار باہر نہ آتا نہ، نیچے اترتا دونوں راستے تنگ اور سکڑ جاتے،
    *رسٹاکس کی آ آنکھوں کی انفیکشن میں بھی مفید ہے جبکہ آنکھوں میں سرخی ہواور پیپ پڑ جائے خاص طور پر مرطوب موسم میں تکالیف زیادہ ہوں

  • روٹا گر یویلینس

    روٹا RUTA

    *پورا نام روٹا گر یویلینس
    انگریزی نامRue-Bitterwrote
    *اس کے بیجوں کو بھی مختلف قسم کے زہر وں کا اثر زائل کرنے کے لۓ استعمال ہوتا ہے
    *جڑوں سمیت پیس کرعرق نکالا جاتا ہے
    * روٹا کا مریض بہت حساس،جلد غصے میں آ جانے والا،چلنے سے کمزوری،ٹانگیں بوجھ برداشت نہ کرنا،اعضاء میں تھکن اور درد خصوصاََ کمر اور پیٹھ میں درد روٹانمایاں علامات ہیں۔
    *آرنیکا کی طرح چوٹوں میں استعمال ہوتی ہے
    خاص طور پر ہڈی کی چوٹ یا فریکچر کے لئے مفید
    *رسٹاکس سے عام شکل وصورت ملتی ہے یعنی تمام جسم درد کرتا ہے
    *دریں اور تکالیف سرد مرطوب موسم میں پیدا ہوتی ہیں
    *حرکت سے آرام اتا ہے مگر خاص علامات کلائی اور ٹخنے کے جوڑوں کے متعلق ہیں۔درد اور اکڑاہٹ رہتی ہے
    *وزنی چیز اٹھانے کے بد اثرات باقی رہ جائیں اور کھنچاؤ پیدا ہو تو رسٹاکس اور ملی فولیم کی طرح روٹا بھی مفید ہے۔
    *اعصابی ریشے زخمی ہو جائیں تو روٹا اور رسٹاکس مفید ہوتی ہیں
    نشتر،کھینچیوغیرہ سے ہڈی کی جگہ آپریشن کے دوران زخمی ہو جائے تو روٹاتیزی سے مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    *آنکھوں کی دکھ روشنی میں.
    *آنکھوں کی دکھن اور کمزوری جب کہ کثرت مطالعہ،خراب روشنی میں پڑھنا،سلائی،کڑا ہی کام کرنے والے آنکھیں تھکی ہوئی پُر درد آگ کی مانند جلتی ہیں۔
    پاؤں کی ہڈیوں میں درد جسکی وجہ سے زمین پر قدم رکھنے سے دشواری زخم محسوس ہو
    * کلائی میں موچ آنے اور انگلیوں کے کھنچاؤ کو دور کرنے کے لئے بھی روٹا مفید ہے
    *وضع حمل کے بعد مقعد کا باہر نکل آنا
    *بوجھ اٹھانے اور پاخانہ پھرتے وقت مقعد کا باہر نکل آنا۔
    تعلقات
    مد گار دوائیں
    کلکیریا فاس،کلکیریا کارب
    30سے 200

  • لیڈم پال

    لیڈم پال

    *لیڈ م*
    *LEDUM*
    *پورا نام لیڈم پال
    *لیڈ م ایک پودے سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔جس میں ایک خاص قسم کی تیز بو پائی جاتی ہے
    *روایتی طب میں اس پودے کے عرق کو سر درد،دل کے دردوں اور بلغم کے اخراج کے لۓ استعمال کیا جاتا رہا۔
    *لیڈ م کا زہر کہیں پہلوؤں سے سانپ کے زہر سے مشابہ ہوتا ہے۔
    *جوڑوں کی سوجن اور گنٹھیا پاؤں سے شروع ہوتے ہیں اور اوپر کو بڑھتے ہیں۔
    *درد یں رات کو اور بستر کی گرمی سے بڑھتی ہیں۔
    *اعضاء سے کپڑا اتارنے اور ان کو برف کی مانند سرد پانی میں رکھنے سے آرام اتا ہے ۔حالانکہ مریض بہت سردی محسوس کرتا ہے
    *تمام جسم ہاتھ لگانے سے ٹھنڈا۔مریض ٹھنڈک کو محسوس نہیں کرتا۔ہ
    حرارت بدنی کمزوری
    *آنکھ پر چوٹ لگنے پر آرنیکا سے بہتر کام کرتی ہے اور آنکھ میں اگر خون اتر آۓ یا خون جم جاۓ۔
    *تیز نوک دار چیزوں سے پیدا شدہ زخم مثلاََ، کیل لگنا،ڈنگ دار جانور یا حشرات کا کاٹنا مثلاََ بھڑ،مکھی، چوہے کا کاٹنا اور خصوصاََ مچھروں کا کاٹنا
    *زخم ٹھنڈے
    *جوڑوں کی سوجن خواہ تازہ ہو یا پرانی مگر بغیر بخار کے۔
    *مددگار دوائیں*
    چائنا،سیپیا
    30سے200

  • آرنیکا

    ھُوالشافى
    🌾 آ رنیکا
    ARNICA
    *پورا نام آ رنیکا مونٹیینا
    (Arnica Montana)
    *ہومیوپتھی میں اس دوائی کا اہم مقام
    *پہاڑی پودا۔پہاڑی تمباکو کے پودے سے تیار کی جاتی ہی
    چوٹوں کے لیے بہت ہی مفید
    *پرانی اور نئ ہر قسم کی چوٹوں کے لیے مفید
    *پہلی اور آخری علامت دکھن کا احساس خواہ بیماری سے ہو یا چوٹ سے
    *دکھن کی وجہ سے مریض ایک ہی کروٹ پر آرام سے لیٹ نہیں سکتا کروٹ بدلتا رہتا ہے
    *بستر نرم ہونے کے باوجود سخت محسوس کرتا
    *جسمانی محنت سے تھکن اور درد کا احساس ہو تو نہایت ہی مفید علامات دیکھ کر ساتھ برائیونیا بھی دی جائے۔
    *درد اس قدر کہ مریض نہیں چاہتا کہ اسے کوئی چھوےاس کی طرف کوئی آۓ بھی دور سے روکتا ہے(یہ درد خصوصاََ گنٹھیا کے دردوں میں پایا جاتا ہے)
    *چوٹ اور ضرب کے بد اثرات کے لیے مفید
    *آرنیکا کی اہم علامت خون منجمد کرنا
    آرنیکا جمے ہوئے خون کو پگھلا دیتی ہے لیکن ایلو پیتھک دواؤں کی طرح ذیادہ پتلا بھی نہیں کرتی۔ بوقت ضرورت خون کو جمنے کی صلاحیت کو زائل نہیں کرتی۔
    *وضع حمل ایک چوٹ کی مانند آرنیکا وضع حمل کے بعد کی دردوں کی دوا ہے
    *حاملہ عورتوں کی دردیں جن سے رات کو نیند نہ آئے
    *بد بودار اخراجات(خصوصاََ بخار میں پاخانہ اور ریاح گندے انڈوں کے مانند)
    *ایسا بخار جو اچانک آۓ اور جلد پر سرخ دانے نکلیں یا جم کا دماغ پر اثر ہو
    *غنودگی کے لیے بہتر ین خصوصاََ بخار میں جواب دیتے غنودگی میں چلا جاتا
    *پیشاب ،پاخانہ وغیرہ غنودگی میں اخراج ہو جانا
    *سر گرم چہرہ سیاہی مائل سرخ اور جسم ٹھنڈا یعنی سر کی طرف اجتماعِ خون چونکہ سر کی طرف اجتماعِ خون ہوتا لہذا دو بڑی دواؤں میں سے ایک ہے۔دوسری اوپیم جس میں خون کے ساتھ خراٹے بھی پاۓ جاتے ہیں
    *آرنیکا اور رسٹاکس حرکت سے سکون
    جبکہ ارسنک البم حرکت سے بے چینی
    *عارضی چڑچڑا،غمگین،پریشان اور مایوس رہتا ہے
    *جلد پر نیلے اور سیاہ داغ(خواہ چوٹ سے ہوں خواہ کسی بیماری سے)
    خون کا رنگ بھی سیاہی مائل ہو تا ہے اور پتلا ہوتا ہے
    *تازہ چوٹوں کی وجہ سے خون نکلنا۔خون جلد کے نیچے جمنا آرنیکا اس کے لیے مفید
    *پھنسیاں نہایت پُردرد چھوٹی چھوٹی پکنے سے پہلے ہی مرجھا جائیں۔
    مددگار دوائیں
    ایکونائٹ سب سے اچھا کام کرتی ہے۔
    اس کے علاوہ،اپی کاک،کلکیریا کارب،نیٹرم سلف، سورائینم،رسٹاکس،برائیونیا
    30سےلیکرCM تک

  • ہائپیریکم

    *ہا ئپیریکم*
    *یہ دوا چوٹ زدہ اعصاب کے لیے آ رنیکا کا کام کرتی ہے
    *اعصا ب پر چوٹ لگنے کی مثال کے طور پر ہاتھوں پیروں کی انگلیوں پر چوٹ لگنا( یاد رہے کہ انگلیوں کے سروں پر حِس والے عصاب تمام جسم سے زیادہ واقع ہیں)
    *چوتڑ کے بَل گرنے سے دمچی کی ہڈی پر چوٹ لگنا دماغ پر چوٹ لگنا۔ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگنا۔چوھے کا انگلی پر کاٹ جانا۔پاؤں میں کیااور دیگر نوکدار چیزوں کا لگنا
    نوک دار آلات سے پیروں وغیرہ میں زخم آنے کے لئے عموما
    ََ “لیڈ م” بھی اعصاب پر چوٹ لگنے کی دوا ہے لیکن ان میں *دو طرح کا فرق ہے اگر درد صرف چوٹ یا زخم کے مقام پر ہو گا تو لیڈ م دوا ہو گی لیکن اگر اعصاب کے ذریعے سے
    جسم کی طرف بڑھنا شروع ہو جاۓ تو ہا ئپیریکم دوا ہو گی۔دوسرا فرق یہ ہے کہ لیڈم کے زخم پر حس نہیں ہوتے لیکن ہا ئپیریکم کے زخم انتہائی پُر حِس ہوتے ہیں۔کہ چُھونے تک برداشت نہیں ہوتا۔*
    *چوٹ لگنے کے بعد شدید درد جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی عصب زخمی ہو گیا ہے
    *کیل کے پاؤں میں لگنے سےکزازی کیفیت کا پیدا ہونا
    *ہر قِسم کے علامات جو سر،ریڑھ کی ہڈی اور دیگر اعصاب پر چوٹ لگنے سے پیدا ہوں مثلاََ تشنج وغیرہ
    *آپریشن کے بعد کی درد یں مارفیا کی ضرورت نہیں رہتی۔
    *دوا کی مرکزی علامات*
    اعصاب پر چوٹ لگنا جب کہ درد چوٹ کے مقام سے جسم کی طرف بڑھیں۔ زخم کا مقام پر حِس دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ کی وجہ سے تازہ وپرانے اثرات ہیں۔
    *تعلقات*
    ارسنک البم،کیمموملاQسے30

  • ہومیوپیتھک دواؤں اور نسخہ جات طریقہ استعمال 1

    ہومیوپیتھک دوا لینے کا طریقہ

    1۔ مدر ٹنکچر1-Qتا1x-30تا6x روزانہ تین بار
    2۔200 طاقت عموما تین دن روزانہ ایک بار۔پھر ہفتہ میں ایک بار
    3۔1M – 1000 ہفتہ میں ایک بار
    4۔ایک لاکھ یا CM پندرہ دنوں یا مہینہ میں ایک بار
    بعض معالجین200اور1000 طاقت کی دوا روزانہ تین بار استعمال کراتے ہیں ان کے تجربے کے مطابق اس کے ابھی اچھے نتائج دیکھنے میں آئے ہیں۔
    حادامراض مثلاً ہیضہ،درد قولنج ، جریان ، حمل کا تکالیف وغیرہ کے فوری اور شدید حملہ کی صورت میں مجوزہ ادویات کو ابتداء میں دس پندرہ منٹ کے وقفہ سے بھی دہریا جا سکتا ہے۔

    ہومیوپیتھک نسخہ جات اور مرکبات بنانے کی فلاسفی:
    (حوالہ جات کے مطابق)
    (۱)میں بعض دواؤں کو ملا کر فارمولے بناتا ہوں۔مگر ان کے پس منظر میں گہری فلاسفی ہوتی ہے۔جہاں دوؤں کے مزاج ملتے ہوں اور انہیں اکٹھا کر دیا جائے تو وہ ایک دوسرے کو طاقت دیتی ہیں،باہم ٹکراتی نہیں ہیں انہیں ملا کر دے دیں تو زیادہ طاقتور نسخہ بن جاتا ہے۔
    (۲) دو تین دواؤں کو ایک دوسرے کے بعد دینا یا ملا کر ایک نسخہ کی صورت میں دینا یسا فن ہے جو دواؤں کے مزاج کے گہرے مطالعہ اور تجزیے سے نصیب ہوتا ہے۔
    (۳) وقت بچانے کیلئے بعض دفعہ مجبوراً دوائیں ملا کر دینے کوئی حرج نہیں ہے۔اور ایسے نسخہ ہنگامی صورت میں کام آتے ہیں۔مگر ہر دوا کا مزاج سمجھنا اپنی ذات میں انتہائی ضروری ہے تاکہ اگر ایک صحیح دوا مل جائے تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔
    اگر روزمرہ کی مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ ملے تو مرض کے حوالے سے دوائیں دی جاتی ہیں۔میں بھی ہمیشہ وقت کی کمی کی وجہ سے ایسے نسخوں کی تلاش میں رہا جن سے جلد فائدہ ہوجائے۔لمبے تجربے کے پیش نظر احتیاط سے بنائے ہوئے یہ نسخے کام اکثر صورتوں میں آجاتے ہیں۔ لیکن جو مرض باقی رہ جائیں ان کے بارہ میں مذکورہ بالا طریق استعمال کرنا لازم ہے۔
    عام طور پر ہومیو پیتھ اس فلسفے کو قبول کرتے ہیں کہ ہومیو پیتھی کی ایک دوائی کو دوسری میں نہ ملایا جائے۔میں بھی شروع شروع میں ایسا ہی کرتا رہا۔مگر مجھے یہ طریق بدلنا پڑا۔اسکی وجہ میری یہ مشکل تھی کی ایک دوا کی پہچان کیلئے جتنا وقت چاہئے وہ اکثر میسر نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصروفیاے مجھے مجبور کرتے تھیں کہ اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں ایسے مرکبات بنا لو جو اکثر مریضوں کیلئے کار آمد ثابت ہوں۔ جن کو فائدہ نہ ہوا انہیں متبادل مرکبات دیا کرتا تھا اور آخر پر جو چند مریض رہ جاتے تھے ان کا علاج مذکورہ طریق پر کرتا ہے۔
    پس مرکب بناے پر مجبور ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ ہومیو پیتھک طریقہ علاج تو دن بدن نئی دواؤں سے مزّین ہو رہا ہے اور ایسی دوائیں دریافت ہو رہی ہیں جو سابقہ دواؤں سے بہتر اثر دکھاتی ہیں یا سابقہ دواؤں میں ان مریضوں کا علاج نہیں۔اس لیے جو مرکبات بنائے جاتے ہیں تو دراصل ایک نئی دوا وجود میں آتی ہے۔کیونکہ اکثر دوائیں جو پہلے استعمال ہو رہی ہیں وہ قدرتی مرکبات ہی تو ہیں۔مثلاً نکس وامیکا کو ایک دوا کہنا اس لئے درست نہیں کہ نکس وامیکا تو بہت سی دواؤں کا قدرتی طور پر بننےوالا ایک مرکب ہے۔پس میں ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے مرکبات پر اس پہلو سے غور کرتا ہوں کہ آخری نتیجہ کے طور پر ان کی کونسی علامات قابل اعتبار ہیں ہر گز ضروری نہیں کہ ہر دوا جو اس مرکب میں شامل ہو اس کی تمام علامات مرکب میں بھی موجود رہیں کیونکہ دوائیں ایک دوسرے کے اثر کو اندر ہی زائل بھی کرتی رہتی ہیں آخری صورت میں بعض دفعہ بالکل مختلف تاثیر بھی ظاہر ہوتی ہے۔