primekunst.com

Category: ہومیوپیتھک ادویات

ہومیوپیتھک ادویات کے متعلق تعارف۔

  • ارجنٹم نائٹریکمArgentum Nitricum

    ارجنٹم نائٹریکمArgentum Nitricum

    ”ارجنٹم نائٹریکم“ بطور ایک پولی کرسٹ


    خالد محمود اعوان
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“کا مریض توہمات کا شکار، اور اس میں مختلف قسم کے خوف پائے جاتے ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ کے مریض کوخیالی ہیولے نظر آتے ہیں۔اگرخیالی ہیولے نظر نہ بھی آئیں توبھی سمجھتا ہے کہ کوئی چیز اس کے ارد گرد موجود ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ کا مریض خوفزدہ ، اعصابیت کا شکار، نیم بے ہوش اور کانپناہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں مالیخولیا ، اپنی بیماریوں سے شدیدخوفزدہ، یادداشت کمزور ۔خوف ، انزائٹیزاور بے بنیاد چھپی ہوئی قوت محرکہ جواسے عمل کرنے پر مجبور کرے پائی جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں سوچے سمجھے بغیر کھڑکی سے باہر کودنےکی ترغیب پائی جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“کا مریض خاص مقامات پر جانے سے خوف کھاتا ہے۔کام کرتے وقت سوچتا ہے کہ وہ ضرور ناکام ہو جائے گا۔ اس کی تخلیقی صلاحتیں متاثر ہونے لگتی ہیں، غیر معقول استدلال کرنے لگتا ہے۔ وقت آہستگی سے گزرتا ہے ،سمجھ بوجھ میں کمی،ایسی اضطرابی کیفیت کہ ہر کام کوکرنے میں جلدی کرتا ہے ۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“’اُونچی جگہ سے نیچے کی طرف دیکھے تو ڈرے کہ کہیں میں چھلانگ نہ لگا دوں۔اس لئے اونچائی پر جانے سے اجتناب کرتا ہے۔نیچے سے اوپر کسی بلند عمارت کو دیکھنے سے بھی سخت خوفزدہ ہو جاتا ہے۔اُونچے چھت والے ہال میں جانے سے خوفزدہ ، کہیں چھت اس کے اوپر نہ گر جائے۔پل پر سے گزرتے ہوئے ڈرے کہ کہیں دریا میں چھلانگ نہ لگا دوں۔بلکہ چھلانگ لگانے کا جوش دل میں اُٹھتا ہے۔خوف سے کانپتا ہے اور کمزوری محسوس کرتا ہے ۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں بند اور تنگ جگہوں میں جانے سے خوف کھاتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں کسی امتحان یا اہم ملاقات سے پہلے اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“بعض لوگ ایسی کیفیت میں مضطرب ہو جاتے ہیں اور انہیں سخت غصہ آتا ہے۔یادداشت کھو بیٹھتا ہے۔اگر یادداشت مستقل کھو بیٹھے تو اس کی دوا ”الیومینا“ ہے اس کو کچھ عرصہ تک استعمال کیا جائے تو کام کرتی ہے۔یہ تو تھیں اس کی

    ذہنی علامات۔


    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ کی جسمانی علامات میں دل کی کمزوری نیلاہٹ پن کے رجحان کے ساتھپاءی جاتی ہے۔
    ٭-مستقل آشوب چشم،جس کے ساتھ پیپ کی طرح کے اخراج ، آنکھوں میں درد اور تھکن کا احساس ۔
    ٭- حیض کے آغاز میں معدے میں درد،رحم کی گردن پر زخم جن سے خون رسے۔ماہواری ختم ہو جانے سے ایک دو ہفتے بعد دوبارہ شروع ہو جائے لیکن مقدار میں کم۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں معدے کے پرانے السرجن سے خون کے اخراج کا رجحان پایا جاتا ہے۔میٹھا کھانے کی خواہش ساتھ پیٹ میں ہوا اور تناو۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“میں گلے میں ہیپر سلف کی طرح کی پھانک اٹکنے کا احساس ۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ میں ڈراونی خوابیں آتی ہیں۔اس کے اندر نچلے دھڑ کا فالج بھی ملتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“کے مریض کی تکلیفوں میں اضافہ کھانے کے بعد ہوتا ہے ۔ کھلی ہوا اور سردی سے تکالیف کم ہو جاتی ہیں۔
    ٭-” ارجنٹم نائٹریکم“ کی مریضہ کے رحم ڈھیلے پڑ جانے کے ساتھ جوڑوں میں دردیں ہوتی ہیں،مگر وہاں سوزش نہیں ہوتی۔مریضہ مشکل سے حرکت کر سکتی ہے ۔کیونکہ” ارجنٹم نائٹریکم“ کی دردوںکا گہرا تعلق جوڑوں کی کری ہڈیوں سے ہوتا ہے۔اس لئے اس میں درد ریح، گٹھیا اور سوزش نہیں پائی جاتی۔
    ٭-” ارجنٹم نائٹریکم“میں عام کمزوری کے ساتھ کمر کے محدود حصے میں کچلنے جانے کا احساس جو مریض کو لیٹ جانے پر مجبور کر دے۔
    ٭-” ارجنٹم نائٹریکم“میں دردیں بتدریج بڑھتی ہیں اور انتہائی شدید مقام پر پہنچ کر اچانک بند ہو جاتی ہیں۔
    ٭-ارجنٹم نائٹریکم میں کانوں میں بھنبھناہٹ اور عصبی خرابیوں کے نتیجے میں چکر آتے ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم“ میں مردوں میں جنسی خواہش معیار سے کم اور نامردمی پائی جاتی ہے ۔ مباشرت کرتے وقت ایستادگی ختم ہو جاتی ہے۔اعضائے تناسلی سکڑے ہوئے اور ان میں درد ہوتی ہے۔مر اور عورت دونوں میں جنسی فعل کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔مرد اپنی ایستادگی کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔یہ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہوتاہے۔ایسی صورت میں بستر پر جانے سے ایک دو گھنٹے قبل چھ گولیاں ”ارجنٹم نائٹریکم200 “استعمال کریں۔
    ٭-عورتوں میں ماہواری کے شروع میں معدے کا درد پایا جاتا ہے۔چھاتی کے مسلز میں شدید تشنج۔رات کو ہیجانی شہوت۔تبدیلی کے دنوں (موقوفی حیض) میں جسم کے کسی حصے میں غیر طبعی عصبی جوش پایا جاتا ہے۔لیکوریا کی رطوبت بکثرت،ساتھ رحم کی گردن کھائی ہوئی جس سے خون آسانی سے بہتا ہے۔رحم سے اخراج خون ، ماہواری سے دو ہفتے تک جاری رہے،بائیں بیضہ دانی میں پُر درد تکلیف ہوتی ہے۔
    ٭- ”ارجنٹم نائٹریکم “آنکھوں کی سوزش میں بالخصوص جب ان میں پیپ بھری ہوئی ہو۔یہ اکیوٹ اور کرانک دونوں آشوب چشم کی حالتوں میں مفید ہے ۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم “پلکوں کے پٹھوں کی کمزوری اور اس کی طاقت کو بحال کرنے میں، جزوی فالجی کیفیت میں،دانے دار آشوب چشم (رڑک پڑنے )کی شدید حالت میں اورایسے کورنیا جو روشنی قبول نہ کرےں اوران کے زخموںمیں مفید ہے۔
    ٭-”ارجنٹم نائٹریکم “میں روشنی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ یہ علامات اس کے علاوہ ایکونائٹ،بیلاڈونا،یوفریشیا،گریفائٹس کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔
    ٭-سر دردجوزیادہ محنت کے نتیجے میں ہو، دردسر کی ہڈیوں میں ہوتا ہے۔اگرسرکو زور سے دبانے سے اور کس کر باندھنے سے آرام آئے تو”ارجنٹم نائٹریکم 200“ دوا ہے۔
    ٭-معدے میں درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔کچھ علامات کے ساتھ ادویات دن میں دو بار دی جا سکتی ہیں۔اگر درد ناف سے چاروں طرف پھیلے تو ”ارجنٹم نائٹریکم 200‘دوا ہے۔
    ٭-اگر ڈی منشیا کا مریض سفر کرنے کی پریشانی میں مبتلا ہو اور تنگ جگہوں میں جانے سے اور اونچی جگہوں سے خوفزدہ ہو تو اس کی دوا”ارجنٹم نائٹریکم 200“ ہے۔

  • ارجنٹم مٹیلکم Argentum Metallicum

    ارجنٹم مٹیلکم Argentum Metallicum

    ارجنٹم مٹیلی کم بطور پولی کرسٹ
    ترتیب و پیش کش:خالد محمود اعوان

    ٭-ارجنٹم مٹیلی کم چاندی کو کہتے ہیں ۔طب یونانی میں چاندی کے ورق طاقت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اصل چاندی جسم کا جزو نہیں بنتی۔آج کل تو سکہ کوٹ کر چاندی کے نام پر ورق بنائے جاتے ہیں۔جو صحت کے لئے سخت مضر ہوتے ہیں۔
    ٭-ارجنٹم مٹیلی کم کا سب سے زیادہ اثر کرکری ہڈیوں پر ہوتا ہے یعنی وہ ہڈیاں جن میں لچک پائی جاتی ہے اور وہ بآسانی مڑ جاتی ہیں۔
    ٭-ارجنٹم مٹیلی کم میں کرکری ہڈیاں موٹی اور سخت ہونے لگتی ہیں،ناک کی کرکری ہڈی موٹی ہو جانے کے باعث سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں کان کی ہڈیوں میں چھوٹی چھوٹی گانٹھیں سی پڑ جاتی ہیں اور وہ سوج کر موٹی ہونے لگتی ہیں ۔یہی علامتیں بڑھ کر ہڈیوں کے کینسر میں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ دماغ پر گہرا اثر کرنے والی ہوا ہے۔دماغ کے خلیے آہستہ آہستہ گھلنے لگتے ہیں اور بڑھاپے کی علامتیں وقت سے بہت پہلے ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں قوتِ فکریہ کمزور ہونے لگتی ہے ۔یہ کمزوری دماغ کے مرکزی حصہ سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ جسم کے دوسرے اعضاءپر قبضہ کر لیتی ہے۔ہاتھ پاوں مڑنے لگتے ہیں ۔ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور یادداشت اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ بعض دفعہ مریض نیم پاگل سا ہو جاتا ہے اور اول فول بکتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں کوئی بات سوچنے سے چکر آنے لگیں تویہ خطرے کا الارم ہے کہ دماغ کے خلیے سکڑرہے ہیں۔اس وقت فورا ”ارجنٹم مٹیلی کم“ اونچی طاقت میں دینی چاہیے جسے پندرہ بیس دن کے بعد دہراتے رہنا چاہیے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “کی لیکسس سے اس پہلو سے مشابہت ہے کہ تکلیفیں سونے کے بعدبڑھ جاتی ہیں خصوصاًاعصاب میں بہت کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔سارے بدن کے اعصاب کمزوری محسوس کرتے ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ کا ٹانگوں کے عضلات سے بھی گہر ا تعلق ہے۔ اعصابی دردیں زیادہ تر دونوں ٹانگوں اور پاوںمیں پائی جاتی ہیں ۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ میں بائی کی دردیں بھی ہمیشہ طوفانی اور بھیگے ہوئے موسم میں زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ برسات کے موسم میں بارش سے پہلے اور بعد میں تکلیف بڑھ جاتی ہیں
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “جلد کے کینسر اور اندرونی جھلیوں کے کینسر میں بہت مفیددوا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “رحم کے منہ کے کینسرمیں بہت کامیابی سے استعمال ہوتی ہے اور مکمل شفاءکا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔اس سے اگر پوری شفا نہ بھی ہوتو لمبے عرصہ تک سکون مل جاتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ کے علاوہ ٹیرنٹولا ہسپانیہ ( TARENTULA HISP) ہیلونائس (HELONIAS) اور کاربواینی میلس (CARBO ANIMALIS ) بھی رحم کے منہ کے کینسر میں بہت مفید ہیں۔
    ٭-ٹرنٹولا ہسپانیہ میں اگر عورتوں میں جلن کے ساتھ شدید خارش ہوتی ہے جو رحم کے اندر تک جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں رحم کے غدود کا بڑھ جانا،رحم کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا،ڈھیلا ہو کر لٹک جانا اور نیچے گرنے کا احساس۔ رحم دباوبرداشت نہیں کر سکتا۔ ماہواری درد سے آتی ہے۔عورت میں شدید جنسی جنون کا پایا جانایہ تمام علامتیں پائی جاتی ہوں تو ان تکالیف کو ٹرنٹولا سے آرام آ سکتا ہے۔
    ٭-”ہیلو نائس“عورتوں کی بیماریوں سے تعلق رکھتی ہے۔اس کا رحم کی گردن سے گہرا تعلق ہے۔ہیلونیس کا تعلق براہِ راست رحم کے کینسر سے ہے اور یہ ضرورکچھ نہ کچھ کام دکھاتی ہے۔رحم کی گردن میںسوزش اور سرخی ظاہر ہواور اسی مرحلہ پرہیلونائس دے دی جائے تو بہت موئثر ثابت ہوگی۔اس کی علامت یہ ہے کہ حیض جلدی جلدی ہوتا ہے یا پھر کئی ماہ کے لئے بند ہو جاتا ہے۔مریضہ کو سخت افسردگی کے دورے پڑتے ہیں اور مریضہ بہت سست ہو جاتی ہے۔شدید لیکوریا آتا ہے جس کے ساتھ خارش بھی ہوتی ہے۔
    ٭-کاربو اینی میلس رحم کے منہ پر کینسرمیں اس کا استعمال اگر ابتدا میں ہی دے دیا جائے تو شفا بخش ثابت ہوتی ہے۔ فم رحم کی طرح رحم کے عمومی کینسر کی بھی دوا ہے۔ اس کینسر میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔حیض عام طور پر جلد اور مقدار میں زیادہ اور لمبا عرصہ چلنے والا ہوتاہے۔ لیکوریاجلن دار،حمل کی متلی جس میں اضافہ رات کو۔دودھ پلانے کے دنوں میں سخت کمزوری اور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ اگر ہیلونائس سے مکمل شفا نہ ہو تو اس کے بعد کاربواینی میلس دینی چاہیے ۔ امید ہے کہ انشاءاللہ ان دونوں دواوں کے نتیجہ میں مکمل شفا ہو جائے گی۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں جگہ جگہ السر پائے جاتے ہیں لیکن کرکری ہڈیوں کے السر میں یہ بالخصوص زیادہ اثر دکھاتی ہے۔وریدوں کے خلیوں سے بھی اس کا تعلق ہے۔اس میں ایک عجیب اور غیر معمولی علامت پائی جاتی ہے جو عام طور پر دوسری دواوں میں نہیں ملتی،وہ یہ کہ عورتوں کے اندرونی اعضاءمیں یہ بائیں طرف اور مردوں کے اندرونی اعضاءمیں دائیں طرف اثر دکھاتی ہے۔عموماً دائیں بائیں یا اوپر نیچے کے دھڑ کا فرق کرنا اسی دوا کا خاصہ ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ میں عورتوں کی اووریز (OVARY)یعنی انڈا بنانے والی تھیلی بیمار ہو کر پھول جاتی ہے اور مختلف قسم کے مادے جم جم کر اسے سخت اور موٹا کر دینے ہیں۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں رحم پھیل جاتا ہے اور اس میں لچک نہیں رہتی ۔رحم میں سختی اور رحم کے منہ پر اینٹھن اور اکڑاو کی علامت ظاہر ہوتی ہیں۔ایسی مریض خواتین کی بہترین دوست ثابت ہوتی ہے اور شفا کا موجب بن جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ ایسا لیکوریا ہو جس میں غیر معمولی بد بو اور تعفن پایا جاتا ہے۔ یہ عام لیکوریا نہیں ہوتا بلکہ کسی گہری مرض کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہوتاہے۔اگر بیماری کے شروع میں ہی ”ارجنٹم مٹیلی کم “ استعمال کی جائے روک تھام ہو جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “اگر ٹانگوں میں درد ہے اور اصل وجہ معلوم نہ ہو سکے تو اسے ضرور استعمال کرنی چاہیے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “سن یاس میں (حیض بند ہونے کے بعد بھی خون جاری ہو جائے) تو اچھا اثر دکھا سکتی ہے۔اس کی مریضائیں عام طور پردبلی پتلی اور لمبے ہاتھوں والی ہوتی ہیں ۔لیکن یہ ضروری نہیں ۔نسبتاًموٹی خواتین کی بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “بعض لوگوں کو نیندآتے وقت یا نیند کے دوران جھٹکے لگتے ہیں۔بشرطیکہ اس تکلیف کا تعلق تھکاوٹ سے ہو ۔ جھٹکوں میں گرانڈیلیا (Grindelia) چوٹی کی دوا ہے۔آرسینک بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔
    ٭-سخت محنت و مشقت سے تھکے ہوئے بدن کو سونے سے قبل جھٹکے لگیں تو”ارجنٹم مٹیلی کم “سے خدا تعالیٰ کے فضل سے فوری شفا ہوتی ہے۔
    ”ارجنٹم مٹیلی کم “کی تکلیفیں عین بارہ بجے ،جب سورج نصف النہار پر ہو،بڑھ جاتی ہیں،چکر آتے ہیں ۔سر کا درد ماتھے اور پیشانی تک محدود رہتا ہے یاپھر سر کے کسی ایک طرف مقام بنا لیتا ہے جو زیادہ تر دائیں طرف ہوتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ کا سر دردآہستہ آہستہ بڑھتا ہے لیکن یک دم ختم ہو جاتا ہے۔اس درد کا چہرے کی اعصابی دردوں سے بھی تعلق ہے۔کیونکہ یہ بنیادی طور پر اعصابی دوا ہے اور سر درد کا بھی اعصاب سے تعلق ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ میں اگر خارش صرف ایک کان تک محدود ہو اور مریض اسے کھجلا کھجلا کر زخمی کر دے اور کان موٹا ہونے لگے تو یہ ”ارجنٹم مٹیلی کم “ کی خاص علامت ہے۔
    ٭-دونوں کانوں کا موٹا ہو جانا کوڑھ کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔یہ مرض بہت آہستہ آہستہ بڑھنے والا ہوتاہے۔اس علامت کے ظاہر ہوتے ہی ہائیڈروکوٹائل(Hydrocotyle) دینی چاہیے۔یہ کوڑھ کی روک تھام کے لئے بہترین دوا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ذیابیطس اور پیشاب میں البیومن آنے کی بیماری میں بہترین دوا ہے اگر دوسری علامتیں ملتی ہوں تو مکمل شفا ہو جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “گردوں کی اندرونی جھلیوں میں خرابیاں پیدا ہو جائیں تو بھی مفید ہے۔
    ”ارجنٹم مٹیلی کم “ میں پیشاب کی دو طرح کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔اگر سیاہی مائل پیشاب ہو تو اس میں البیومن آ رہی ہے۔اگر شوگرآئے تواکثرایسے مریضوں کو لسی کی طرح پیشاب آتا ہے اور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ایسے بچے جو بچپن سے ہی ذیابیطس کا شکار ہو جائیں ان میں یہ علامت ملتی ہے۔اس میں اس وقت مفید ثابت ہو گی جب وہ مریض کی عمومی مزاجی دوا ہو گی۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں ایسے مریض جنہیں ذیابیطس ہو اور گردے جواب دے رہے ہوںاور رات کو بستر پر پیشاب نکل جاتا ہوتو ان سب عوارض میں مفید ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں غیر معمولی کمزوری کا احساس ،بدن بے جان سا،سارا بدن اندرونی طورپر بے حدکمزوری ۔اس گہری تھکاوٹ کا علاج ”ارجنٹم مٹیلی کم “ ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “زیادہ بولنے اور گانے والوں کے لئے بھی مفید دوا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “آواز کے بیٹھ جانے میں بہت شہرت رکھتی ہے۔اس میں آواز بعض دفعہ بالکل بند ہو جاتی ہے۔جوں جوں کوئی بولے آواز غائب ہوتی جائے گی۔
    ٭-اگر بولنے سے تکلیف کم ہونے کی بجائے بڑھتی جائے تو عموماً بوریکس (Borax) استعمال ہوتی ہے۔لیکن اگر مریض مزاجی طور پر ”ارجنٹم مٹیلی کم “کا ہو تو یہ بوریکس سے زیادہ موثر ثابت ہو گی۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں حنجرہ میں شدید درد اور سوزش نمایاں ہوتی ہے۔ہنسنے سے کھانسی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ علامت فاسفورس میں بھی بہت نمایاں ہے۔اگر فاسفورس سے فائدہ نہ ہو ”ارجنٹم مٹیلی کم “ دینی چاہیے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ کے مریضوں کو سردی کی وجہ سے نزلہ زکام ہو جاتا ہے اور گلے پر اثر پڑتا ہے۔سینہ کے بالائی حصہ میں دکھن کا احساس ،دوپہر کے وقت بخار ،سینہ میں شدید کمزوری اور بائیں جانب پسلیوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “پھیپھڑوں کی تکلیف میں بھی مفید ہے۔ویسے چھاتی کی تکلیفوں میں جو عموماً کمزوری اور بلغمی مزاج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں”ارجنٹم مٹیلی کم “ سے زیادہ سٹینم(Stanum) مفید ہے لیکن اگر کوئی ”ارجنٹم مٹیلی کم “کا مزاجی مریض ہو تو سٹینم کے مقابل پر یہ بہت زیادہ مفید ثابت ہو گی۔
    ٭-”سٹانم“پھیپھڑوں کی تکلیفوں کو کم کرنے کے لئے خواہ وہ سل کے آخری مقام تک پہنچ چکی ہوں،عموماً مفید ہے۔بلغمی مزاج کے لئے بہت اچھی دوا ہے۔اگر پھیپھڑے بھاری ہو جائیں اور سوزش کی وجہ سے سختی پیدا ہو جائے ۔سینے کی کمزوری کی وجہ سے آواز نہیں نکلتی اور بولنے کی طاقت میں کمی آ جاتی ہے تو سٹانم مفید ثابت ہوتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “میں وقت سے بہت پہلے بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔بیس پچیس سال کی عمر میں ہی منہ جھریوں سے بھر جاتا ہے۔
    ٭-وقت سے پہلے ظاہر ہونے والے بڑھاپے میں سارساپریلا چوٹی کی دوا ہے۔چنی مم آرس (Chininum Ars) میں بھی وقت سے پہلے آنے والا بڑھاپا نمایاں ہوتا ہے مگر چنی مم آرس کا بے وقت کا بڑھاپالمبی اور گہری بیماریوں کے نتیجے میں ہوتا ہے۔جگر اور تلی جواب دے جاتے ہیں۔
    ٭-سارساپریلا میں جلد سکڑ کربالکل چر مر ہو جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ میں پیٹھ کے بل لیٹنے سے دھڑکن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔اس کا تعلق پھیپھڑوں میں پانی کے اجتماع سے بھی ہے۔ پھیپھڑوں میں بلغم یا پانی بھرا ہوا ہو تو پیٹھ کے بل لیٹنے سے وہ ان تمام خلاوں میں بھر جاتا ہے جن میں سانس کی ہوا بھرنی چاہیے۔بیٹھنے یا کھڑا ہونے پر یہ پانی پھیپھڑے کے اوپر کے حصہ سے نچلے حصہ کی طرف اُتر آتا ہے جس سے مریض سانس لینے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “عورتوں میں حمل کے دوران دل کی دھڑکن زیادہ ہو جاتی ہے۔کبھی کبھاراچانک دل بہت شدت سے دھڑکنے لگتا ہے۔ایسی صورت میں خدا کے فضل سے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم “ کی تکلیفوں میں چھونے سے اور دن کے بارہ بجے اضافہ ہو جاتا ہے۔کھلی ہوا میں اور رات کو لیٹنے سے کھانسی میں کمی واقع ہو جاتی ہے لیکن دیگر جسمانی عوارض میں لیٹنے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔
    ٭- ” ارجنٹم مٹیلی کم “= کا مریض پھرتیلا،اس کا وقت آہستگی سے گزرتا ہے ۔ اُداس،بے چین ہوتا ہے۔
    ٭-’ ’آرم مٹیلی کم “ کے مریض کے اندر خود کشی کا رجحان لیکن موت کا خوف بھی پایا جاتا ہے اس کا مریض زندگی کے ساتھ گزارہ کرنے والا،اپنے آپ پر تنقید کرنے والا، اپنے کو مکمل طورپر فالتو تصور کرتا ہے۔مکمل طور پر مایوس ۔ ساتھ بلڈ پریشر بڑھا ہوا ۔ مسلسل اور لگاتار سوال کرتا جائے ،جواب کا انتظار بھی نہیں کرتا۔
    ٭- ” ارجنٹم مٹیلی کم “= میں مردوں میں جنسی جذبات کے بغیراخراجِ منی ہوتا ہو تودوا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=میں جوڑوں میں گٹھیا کا دردپایا جاتا ہے۔ اس کا دردخاص طور پر کہنی اور گھٹنے میں ہوتا ہے۔ٹانگیں کمزوراور کانپتی ہیں۔خاص طور پر سیڑھیاں اُترتے وقت ۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=ہاتھ کی انگلیوں میں تشنج آتا ہے۔ اگلے بازوکا جزوی فالج پایا جاتا ہے۔محرروں کے ہاتھوں کی اینٹھن اور ٹخنوں کی سوجن پائی جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=سخت کمر درد جس کی وجہ سے مریض کو جھک کر چلنا پڑتا ہے ۔اس کے ساتھ سینے میں گھٹن ہوتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“= پیشاب آور ہے۔پیشاب زیادہ تر گدلا اور باربا رآتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“= میں بغیر جنسی جذبات کے منی کا خارج ہونا۔پیشاب کابار بار آنا جس کے ساتھ جلن ہوتی ہے۔خصیوں میں درد جیسے وہ کچلے گئے ہوں۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“= میں بیضہ دانیاں بہت بڑھی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ نیچے کے رخ پُر درد دباو۔رحم ڈھلکی ہوئی۔رحم کی گردن اسفنج کی طرح کھائی ہوئی ۔ لیکوریا بدبودار،چھیلن پیدا کرنے والا۔رحم کی سرطانی رسولی میں بطور مسکن دوا کے کام کرتی ہے۔بائیں بیضہ دانی میں درد۔موقوفی حیض (سن یاس)میں خون کا آنا ۔ پورے پیٹ میں دکھن کا احساس۔رحم کی بیماریوں کے ساتھ جوڑوں اور اعضاءمیں درد پایا جاتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=میں تھکاوٹ پیدا کرنے والا نزلہ ساتھ چھینکیں ، چہرے کی تمام ہڈیوں میں درد،بائیں آنکھ اور پیشانی کے ابھار میں دردہوتا ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=میں نزلے کے ساتھ سردی لگتی ہے،آنکھوں سے پانی اور سر دردہوتا ہے۔ناک کے پردوں کے زخم اور اس میں خارش ،سونگھنے کی قوت مٹ جاتی ہے۔
    ٭-”ارجنٹم مٹیلی کم“=میں پانی کی طرف دیکھنے سے سر چکراتا ہے ۔ مدہوشی کا احساس پایا جائے ۔اس دوا کا بنیادی اثر ہڈیوں کے جوڑوں پر اور ان کے کیمیاوی اجزاءپر ہوتا۔اس میں ہڈیوں میں بوسیدگی بڑے خفیہ طور پر آتی ہے۔
    خالد محمود اعوان

  • بپ ٹیشیا“ بطور پولی کرسٹ

    اس کا مریض ذہنی طور پر جنگلی،بغیر مقصد،ضرورت اِدھر اُدھر گھومنا چاہتا ہے ۔
    غور و فکر کی نااہلیت ۔دماغی فتور،خیالات تذبذب کا شکار۔خیالی خیالات کی بھرمار کی وجہ سے شخصیت منقسم۔
    مریض سمجھتا ہے کہ اس کا جسم کئی حصوں میں ٹوٹا ہوا ہے یا ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ یا اس کا جسم ٹوٹ گیا ہے ۔ وہ ان بکھرے ہوئے حصوں کو جمع کرنے کے لئے بار بار کروٹیں بدلے(کاجوپٹم) ۔
    ہذیانی کیفیت آوارہ گھومے ،بڑبڑائے،بالکل بے پرواہ ۔ بات سنتے سنتے سو جائے ۔مالیخولیا کے ساتھ خماری پائی جائے۔ان کا استعمال ان بیماریوں میں ہوتا ہے جن میں تعفن پایا جاتا ہو۔آنتوں میں تعفن پایا جاتا ہے۔
    ٹائیفائیڈ کی بیماری میں ایسے اسہال آتے ہوں جن میں انتہائی خطرناک بد بو ہو تواس سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ایسے اسہال جن میں کھلے اسہال نہیں ہوتے،معمولی یا درمیانے درجے کے،لئی کی طرح کے اسہال ہوتے ہیں لیکن ان میں شدید بدبو ہوتی ہے کی اولین دواہے۔
    ٭-اگر گلے کی تکلیف میں درد نہ بھی ہو لیکن گلا متعفن ہو تو اس میں”بپ ٹیشیا“بہت موثر دوا ہے۔
    ٭-خون میں زہر پھیل جائے اور رحم یا جسم کے کسی دوسرے عضو میں زخم متعفن ہوں تو ان میں بھی ”بپ ٹیشیا“بہت اچھی ہے۔
    ٭-”بپ ٹیشیا“دانتوں کے لئے بھی مفید دوا ہے۔دانت اور مسوڑھے خراب ہوں ،بد بودار پیپ بننے لگے اور مسوڑھے دانت چھوڑ دیں توبھی دوا ہو سکتی ہے۔
    ٭-”بپ ٹیشیا“ کا مریض غنودگی اور نیم بے ہوشی کی کیفیت میں رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اعضاءالگ الگ ہو گئے ہیں۔اس کی شخصیت اعضاءمیں بکھر جاتی ہے۔اس کی غنودگی الگ الگ اعضاءپر قبضہ کئے رکھتی ہے۔جب اسے مجبور کر کے اُٹھایا جائے تو پھر وہ غنودگی کے عالم میں ہی اٹھتا ہے اور بکھرے ہوئے اعضاءکو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بعض دفعہ ان سے مخاطب بھی ہوتا ہے۔ بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ اس کی ایک ٹانگ اس کی دوسری ٹانگ سے باتیں کر رہی ہے ۔ اسے جھنجھوڑ کر کوئی سوال کیا جائے تو سوال کا جواب دیتے دیتے پھر سو جاتا ہے۔”بپ ٹیشیا“ ایسے ذہنی الجھاوطرح کے۔ کا بہترین علاج ہے بشرطیکہ اس کی کچھ دوسری علامتیں بھی پائی جاتی ہوں۔٭-اس کے اسہال مٹیالے یا ہلکے زرد رنگ کے بعض دفعہ سلیٹی رنگ کے لئی کی طرح کے ہوتے ہیں ۔بعض اوقات ماتھے پر پسینہ آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مریض کی تمام طاقتیں جواب دے رہی ہے۔جب یہ صورت حال ہو تو زبان چمڑے کی طرح اکڑ کر خشک ہو جاتی ہے اور دانتوں کے ارد گرد زخم بننے لگتے ہیں اور بد بو آتی ہے۔اگر اس کیفیت میں بروقت ”بپ ٹیشیا“ مل جائے تو مریض اکثر موت کے کناروں سے لوٹ آتے ہیں۔
    ٭-انتڑیوں میں فالجی کمزوریوں کی وجہ سے اپھارہ بڑھتا ہے۔اس میں پوری طرح فالج ظاہر نہیں بلکہ جو عضو ماوف ہو جاتا ہے اس کے زخموں کے ارد گردفالجی اثر ہوتا ہے۔اس میں احساس مدہم ہو جاتا ہے اور درد محسوس نہیں ہوتا۔
    ٭-اس کے بخار دوپہرسے پہلے گیارہ بجے سردی لگتی ہے۔نڈھال کر دینے والے بخار ،ٹائیفس بخار، سارے جسم پر گرمی اور کسی کسی وقت سردی لگتی ہے۔
    سارے جسم میں گٹھیا کا درد پایا جاتا ہے۔
    ٭- اس کے اندر اسقاط کا خطرہ اگر مریض ذہنی ڈپریشن ،شاک ،کم درجے کے بخاروں میں مبتلا ہو کے نتیجے میں ہو تو دوا ہے۔عام حالتوں میں ماہواری جلدی،اور کھل کر آتی ہے۔نفاس تیزابی ،بدبودار ، پرسوتی بخار بھی پایا جاتا ہے۔اس دوا کا استعمال ٹائیفائیڈ کی مرض میں بطور احتیاطی تدبیر کے بھی ہوتا ہے۔

    Baptisia (BAPT): کا کردار فلو میں
    ٭-فلو میں=بپٹیشیا کا مریض دیکھنے میں غنودگی میں اور ایسے جیسے شراب پی ہوئی ہو۔شدید نزلہ ساتھ تیز بخار اورتمام جسم کچلاہوا محسوس ہوتا ہے۔شدیداور اچانک آتا ہے۔
    ٭-تمام جسم میں یہ احساس کہ کچلا گیا ہے اور دکھن پائی جاتی ہے۔جسم اور اعضاءبکھرے ہوئے یا منتشر محسوس ہوتا ہے۔
    ٭-چہرہ ڈل اور سرخ دیکھنے میں دھندلا،سست اور کاہل کہ کسی وقت نیند میں چلا جائے گا۔بستر سخت محسوس ہوتا ہے۔(اس کا مقابلہ آرنیکا اور پائروجینیم کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔)
    مدہوش کر دینے والے سر درد ہوتے ہیں۔جس کے ساتھ بوکھلاہٹ پائی جاتی ہے۔ایسا ہذیان جس کے ساتھ عجیب و غریب احساس پایا جاتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ لیٹا ہوا ہے۔یا اس کے اعضاءبکھرے ہوئے ہیں۔مریض کو سونگھنے میں بو آتی ہے۔

  • Selection through Body Language

    Selection through Body Language

    While words spoken by the tongue describe an event, body language tells the complete story. Body language is like a telescope that peers into the human heart and mind, bringing distant news. Body language helps unlock locks that language fails to open. A patient’s personality can be better understood when, during case-taking, we not only listen carefully to the words spoken by the patient, but also pay attention to their tone and manner of speaking.

    For example, notice the cold, flat, and dry tone of Anacardium. Even if describing a murder, they would sound as if buying onions from a street vendor – the extreme of heartlessness. A Gelsemium patient will have weakness evident in every part of their body. Whatever the complaint, if weakness is prominent in the symptoms, never forget Gelsemium.

    You will sense the bureaucratic attitude of Nux vomica. They will describe symptoms with extreme precision and order. The governing style of Lycopodium, Nux vomica, and Aurum metallicum is prominent. Medicines exhibiting a bureaucratic attitude include Nux vomica, Aurum metallicum, Platina, and Lycopodium.

    You may have noticed some patients who come to the clinic, sit down, and don’t initiate conversation until you address them. Examples include Natrum muriaticum, Aurum metallicum, Baryta carbonica, Bryonia, Sepia, Silicea, etc. What is Natrum muriaticum? It’s a deep sea of emotions without surface waves. To understand Natrum muriaticum, be sure to watch the English film “Titanic”.

    From my article “Selection through Body Language…”

    زبان سے ادا کیے گئے الفاظ اگرچہ واقعہ بیان کرتے ہیں لیکن باڈی لینگویج مکمل واقعہ بیان کرتی ہے۔ باڈی لینگویج دراصل وہ دور بین ہے جو انسانی دل و دماغ میں جھانک کر دور کی خبر لاتی ہے۔ باڈی لینگویج سے ایسے قفل کھولنے میں مدد ملتی ہے جنہیں زبان کھولنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مریض کی شخصیت کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے
    لہذا کیس ٹیکنگ کے دوران جب مریض کی زبان سے ادا کئے گئے الفاظ کو غور سے سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لب و لہجہ پر بھی دھیان دیتے ہیں۔
    مثلاً اناکارڈیم کے سرد ،سپاٹ اور خشک لہجہ پر غور کریں اگر وہ کسی قتل کا واقعہ بھی سنا رہا ہوگا تو یوں جیسے ریڑھی والے سے پیاز خرید رہا ہے۔سنگدلی کی انتہا ہے۔
    جیلسیمیم کا مریض ہو گا تو نقاہت اس کے انگ انگ سے عیاں ہو گی۔شکایت کوئی بھی ہو اگر علامات میں نقاہت نمایاں ہو تو جیلسیمیم کو کبھی نہ بھولیں۔
    نکس وامیکا کا بیوروکریٹک رویہ ، آپ محسوس کریں گے۔کہ یہ علامات بیان کرے گا تو انتہائی نفاست اور تر تیب سے ، لائیکو، نکس اور اورم میٹ کا اندازِ حکمرانی نمایاں ہوتا ہے۔بیورو کریٹک رویہ جن دواؤں میں پایا جاتا ہے نکس وامیکا، اورم میٹ ،پلاٹینا، لائیکو پوڈیم اس میں شامل ہیں ۔
    آپ نے دیکھا ہو گا بعض مریض کلینک میں آ کر بیٹھ جائیں گے اور جب تک آپ ان سے مخاطب نہ ہو ں وہ بات چیت میں پہل نہیں کرتے۔مثلاً نیٹرم میور، اورم میٹ، برائٹا کارب، برائی اونیا، سیپیا، سلیشیاوغیرہ۔ نیٹرم میور کیا ہے۔ جذبات کا ایک گہرا سمندر ہے جس کے اوپر لہریں نہیں اٹھتیں۔ اگر نیٹرم میور کو سمجھنا ہے تو انگریزی فلم Titanic کو ضرور دیکھئے۔
    میرے آرٹیکل باڈی لینگویج سے انتخاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔Dr Banaras khan

  • Ledum Palustre 1

    Ledum Palustre 1

    جادواثردوا”لیڈم پال”LEDUM PAL

    میں مغرب بعد ڈسپنسری کے سامنے والی سڑک پار کرکے دوسری طرف ایک دوست کے گھر جارہاتھا.سڑک پار کرنے لگا تواچانک میرے دائیں پیر کے ٹخنے کے پاس ایک ہلکی سی چبھن ہوی.میں سمجھا کانٹا ہوگا.مگر تین قدم کا فاصلہ طے کرکے سڑک پار کرتے کرتے شدید جلن اور ٹیس ہونے لگی. میں نے پلٹ کر ٹارچ جلائی تو ایک بچھو تھا جو کچل جانے کی وجہ سے تڑپ رہاتھا.اتنے میں کئی تیز رفتاگاڑیاں گذریں اور انہی میں سے کسی پہیے کے ساتھ چپک کر بچھو بھی چلاگیا.
    میں چند قدم کا فاصلہ طے کرکے اپنے دوست کےگھر پہنچا انھوں نے کرسی پیش ڈاکٹرصاحب بیٹھئے. لیکن میں بیٹھتے ہوے لڑکھڑاگیا. درد.ٹیس اور جلن کی ایک لہر تھی جو پیر کے اوپری حصے کی طرف بڑھ رہی تھی. دوست نے مجھے سہارا دے کر واپس ڈسپنسری میں پہنچایا.میں نے آتے ہی LEDUM PALکی ایک خوراک کھائی اور ایک بوند ڈنک والی جگہ پر گرادی. چند سکنڈ میں درد جلن ٹیس ختم ہوچکی تھی اور زھر جو اوپر چڑھ رہاتھا اس کی تکلیف غائب ہوگئی. پانچ منٹ میں بالکل ٹھیک ہوچکاتھا.
    کل ایک تیرہ چودہ سال کے لڑکے کو میرے پاس لایا گیا. وہ کپڑے کی دکان پر کام کرتا ہے. اس نے کپڑے کی گانٹھ کھولی جس میں ایک بچھو چھپا بیٹھا اس نے لڑکے کی شہادت کی انگلی پر ڈنک ماردی. وہ روتا ہوا ایا تھا. درد اور ٹیس بازو تک پہنچ چکی تھی.لوگوں نے ایک کپڑا اس کی کلائی پر باندھ دیا تھا.
    سب سے پہلے میں نے وہ کپڑا کھلوایا پھر LEDUM PAL.200کی ایک خوراک کھلائی ایک بوند نیش زدہ انگلی پر ٹپکائی. دو منٹ کے اندر اسکا رونا دھونا بند ہوگیا. میں نے دوا گولیوں میں دے کر رخصت کر دیا.
    اج افطار کیلیے کچھ خریدنے نکلا تو اس لڑکے کے والد مل گئے. انھوں نے کہا کہ “ڈاکٹر صاحب اپ کی دوا نے تو جادو اثر دکھایا.اپ کی ڈسپنسری میں ہی ٹھیک ہوگیا تھا. گھر اکر بھی کوئی تکلیف نہیں ہوی.کل شام اپ چوک پر موضوع گفگتو تھے”
    میں نے دل ہی دل میں عظیم ترین ڈاکٹر سر ھنیمین کا شکریہ اداکیا کیونکہ یہ تو انہی کی ایجادات کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا.
    یہ دوا ہر گھر میں ہونی چاھیے. سانپ. بچھو.کوئی دوسرا زہریلا جانور اگر کاٹ لے تو زہر اتارنے کی یہ کامیاب ترین دوا ہے.
    قسیم اختر.7980018880

  • Nux vomica

    Nux vomica

    ومیوپیتھک دوا: نکس وامیکا (Nux vomica)

    نکس وامیکا کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر بنارس خان اعوان کی ایک بہترین تحریر ماخوذ

    ٹھندے خشک موسم کی دوا ہے۔


    نکس وامیکا دراصل شاہوں، شہنشاؤں، شہزادوں اور سورماؤں کا خاندان ہے۔ اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو رومن ایمپائر کی مثال نکس پر بہت فٹ بیٹھتی ہے۔ یہ لوگ بڑے جنگجو، مہماتی، عیاش اور بے خطر تھے۔
    میٹریا میڈیکا کی پولی کریسٹ دواؤں میں اس کا درجہ باشاہوں کا سا ہے۔ این ایم چودھری کے بقول اگر انسانی آبادی کو کردار اور رویے کی بنا پر تقسیم کیا جائے تو نکس کے حصہ میں دو تہائی آ جائے۔یہ لوگ جس شعبہ زندگی میں بھی ہوں اپنا نمایاں مقام بنا لیتے ہیں۔اپنے مقصد کے حصول کے لیے، اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے انہیں چاہے کتنی بھی قیمت چکانی پڑے دریغ نہیں کرتے۔

    بقول افتخا رعارف
    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

    ٹیوبر کلونیم کی طرح یہ لوگ اپنی زندگی کی موم بتی دونوں سروں سے جلائے رکھتے ہیں۔اور اس فانی دنیا کو خیرباد کہنے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ ان کی گاڑی کی طرح ان کی زندگی کی گاڑی بھی ٹاپ گےئر پر دوڑتی ہے۔

    چار ایسی ٹاپ کلاس دوائیں ہیں جو پلے بوائے کوکوالیفائی کرتی ہیں اور وہ ہیں، نکس وامیکا، ٹیوبر کلونیم، لیکسیس اور لائیکوپوڈیم۔ اچھے سے اچھا کھانا،شراب ، شباب اور اقتدار کا نشہ۔ یہ چار صفات اگر کسی ایک شخصیت میں دیکھنی ہوں تو وہ نکس وامیکا ہے۔ان چارو ں صفات میں یہ انتہا پسند ہے۔اس میں نہ صرف اقتدار کی ہوس ہوتی ہے بلکہ یہ اسے حاصل کرنا اوراس سے کام لینا بھی جانتا ہے۔

    اکثر نکس حضرات جب ان کی شادی کی عمر گذر جاتی ہے تب انہیں شادی کا خیال آتا ہے لیکن اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔
    بابر عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔

    نکس اپنے آفس میں یہ تصور ہی نہیں کر سکتا کہ وہاں چائے اور دیگر کھانے پینے کے لوازمات میسر نہ ہوں۔ آئے دن پارٹیاں نہ ہوں، ہلہ گلہ، موسیقی نہ ہو، مقابلہ بازی کی فضا نہ ہو
    ۔نکس جس محکمہ کا باس ہوتا ہے وہاں نہ خود ٹک کر بیٹھتا ہے نہ عملہ کو ٹک کر بیٹھنے دیتا ہے۔نکس جس آفس کا باس ہوتا ہے، اس عملے کی سختی آئی رہتی ہے۔کیونکہ اس کا ہر آرڈر کن فیکون کی طرح ہوتاہے۔ یعنی ادھر منہ سے بات نکلی ادھر پوری ہونی چاہیے۔I want this immediately اس کا محبوب تکیہ کلام ہوتا ہے۔

    کسی بھی ایسی جگہ جہاں رش ہو ۔ مثلاً بنک، پوسٹ آفس وغیرہ جہاں لمبی لائینیں لگی ہوں ان کے لئے لائن میں کھڑے ہو کر انتظار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    سڑک پر لال اشارے کی بتی پر رکنا ان کے لئے انتہائی صبر آزما ہوتا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں اس طرح ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔

    بے صبرے پن کے حوالے سے یہ آرسنک، ارجنٹم نائٹرکم اور سلفر کے قریب ہے۔

    آفس میں اس کی میز کی درازیں مختلف مسکن، Pain Killer اور ہاضمے کے چورن وغیرہ سے بھری ہوتی ہیں۔نکس وامیکا جہاں ظاہر ہو گی وہاں آپ کو نظام انہضام کی شکایات ضرور ملیں گی۔

    اس کو اگر کہہ دیا جائے کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں اور کچھ کام نہ کریں تو اس کے دماغ میں کھلبلی ہونے لگتی ہے۔

    ٹیرنٹولا ، ہیپر سلفر اور اسارم کی طرح اس کے اعصاب کی تاریں ہر وقت تنی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ نیند میں بھی اس کا دماغ فعال(Active) رہتا ہے۔ رات کو دیر تک جاگنا اور صبح کو دیر تک سونا اس کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔علی الصبح چار بجے اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

    دوستی کے حوالے سے یہ لوگ صنف مخالف سے دوستی پسند کرتے ہیں اور ان سے اپنی تعریفیں سن کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

    رشتے ناتوں اور دوستی کے معاملے میں یہ لوگ ذرا خود غرض ہوتے ہیں جبکہ انہیں یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ بہت مخلص ہوتے ہیں۔خبط عظمت میں مبتلا یہ لوگ دلوں کی بجائے سروں پر حکومت کرنے کے فن سے آشنا ہوتے ہیں۔۔ان کے برعکس فاسفورس کی محبت انتہائی آئیڈل،کتابی اور غیر مشروط ہوتی ہے۔مندرجہ ذیل جملہ فاسفورس کے لئے ہے۔
    HER LOVE IS SO INNOCENT AND UNCONDITIONAL THAT ONLY A ROBOT OR ADEVEL COULD RESIST IT.

    ان کی زندگی بہت فاسٹ ہوتی ہے۔ ہمارے ایک دوست تھے نکس۔ بہت فاسٹ ڈرائیونگ کرتے تھے ۔ میں نے انہیں پوچھا کہ آپ کتنی سپیڈ تک ڈرائیو کرتے ہو۔ کہنے لگے میں نے کبھی سپیڈو میٹر کی طرف دھیان نہیں دیا ۔ٹاپ گےئر پر جتنا ایکسیلیٹر دب سکے دبا دیتا ہوں۔مزید کہا، میرا یہ اصول ہے کہ اگر سڑک پر کوئی گاڑی میری گاڑی سے آگے جا رہی ہو تو میں سمجھتا ہوں میں SLOW ڈرائیونگ کر رہا ہوں۔

    یہ شخص کبھی مطمئن نہیں ہوتا اس میں قناعت کا فقدان ہوتا ہے۔ہل من مزید کے فلسفہ کے مطابق خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے۔اس کی خواہشات کو غالب نے اچھی طرح بیان کیا ہے۔

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    کینٹ ریپیرٹری میں اس عادت کو Discontended لکھا گیا ہے۔اس حوالے سے یہ اناکارڈیم، ہیپر، کلکیریافاس، سلفراور ٹیوبرکلونیم کا مقابلہ کرتا ہے۔

    میٹیرا میڈیکا کی بڑی (پُٹھی)دوا ہے۔یعنی الٹ چلنے والی۔ وہ کیسے؟ مثلاً یہ لوگ اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ ان کی بات یا مرضی پر نہ چلیں توطوفان اٹھا دیتے ہیں۔ یہی چیز ہمیں نکس کے فزیکل لیول پر بھی نظر آتی ہے۔ مثلاً پاخانے کی حاجت ہے، مریض زور لگا رہاہے لیکن نہیں آتا ۔زور لگانا چھوڑتا ہے تو تھوڑا سا آ جاتا ہے۔پیشاب کی حاجت بھی ہے اور پیشاب رکا ہوا بھی ہے ۔ مریض پیشاب کرنے کے لئے زور لگا لگا کر پسینے پسینے ہو جاتا ہے لیکن پیشاب نہیں آتا ۔جوں ہی تھک ہار کر زور لگانا چھوڑتا ہے تو تھوڑا سا پیشاب نکل آتا ہے۔

    یہی کیفیت قے کی ہے۔ جی متلا رہا ہے۔ مریض الٹی کرنا چاہتا ہے لیکن ہوتی نہیں۔اور پھرخود بخود ہوبھی جاتی
    ہے۔

    پیشاب رک رک کر آ رہا ہو تو مریض کوہلکے گرم پانی کے ٹب میں بٹھانے سے بعض اوقات افاقہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو نکس وامیکا یقینی دوا ہوتی ہے

    ۔یہ لوگ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں۔ مرضی کے خلاف بات اک ذرا برداشت نہیں

    ۔ایک شخص نے محض اس بنا پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی کہ اس کے منع کرنے کے باوجود تین دن تک لگاتارگوبھی پکاتی رہی۔

    نکس اگر گھر میں اپنے بچے کو پڑھا رہا ہو اور بچہ سوال کا جواب دینے میں ذرا سی دیر کر دے تو فوراً ایک تھپڑ بچے کے منہ پر جا پڑتا ہے۔

    نکس کسی کو سوچنے کے لئے بھی زیادہ وقت نہیں دیتا۔اور یہی نکس جب اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں کوئی گیم مثلاً کیرم بورڈ وغیرہ کھیل رہا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے اور بچوں کے رویے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا۔ یعنی ابا جی بھی بچوں میں مل کر بچوں کی طرح جذباتی، ہیجانی اور ہر حالت میں گیم جیتنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔یعنی آپ محسوس کریں گے گویا چار بچے کیرم کھیل رہے ہیں۔

    آپ نے ایک کرکٹ کے کھلاڑی کو دیکھا ہو گا جب بھی وہ کسی کا کیچ پکڑتے یا اسے رن آؤٹ کرتے ہیں تو تیزی سے بار بار اپنا مکہ فضا میں لہراتے ہیں اور اپنے دانتو ں کوآپس میں اس زور سے دباتے ہیں جیسے مد مقابل کو کچا ہی کھا جائیں گے ۔خوشی،غصہ اور احساس برتری کا ملا جلا رحجان، یہ نکس کا سٹائل ہے۔اس کے علاوہ ہماری کرکٹ ٹیم کے ایک فاسٹ باؤلر نکس وامیکا کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔صحت کو داؤ پر لگا کر ریکارڈ بنانے کے چکر میں رہتے ہیں۔

    یہ لوگ جب غصے میں آتے ہیں تو۔۔۔۔۔ہمارے ایک میجرصاحب جاننے والیہیں۔ان کا ایک ملازم ہے۔جب غصے میں اسے ڈانٹنے پر آتے ہیں تو چھوٹی موٹی ڈانٹ پلا کر ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ ملازم بے چارے کو رلا کر چھوڑتے ہیں۔جی بھر کر غصہ اور بھڑاس نکال لینے کے تھوڑی دیر بعد اسے پاس بلائیں گے۔ اس کی دلجوئی بھی کریں گے اور جیب سے سو روپے بھی نکال کر دے دیں گے۔

    ریپرٹری میں اس عادت کی Rubricہے: Scolding, Abusive
    یہاں نکس کے مقابلے میں جو دوائیں آتی ہیں۔ ان میں کیمومیلا، لائیکو پوڈیم، ہیپرسلفر اور اناکارڈیم ہیں۔

    ایسی نوجوان مائیں جنہیں بچوں کی پرورش کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور بار بار IRRITATE ہوتی ہیں اور بجائے صبر کے بچوں کو دو چار تھپڑ لگا دیتی ہیں انہیں نکس وامیکا لے لینا چاہیے۔

    نکس ایسی خوتین کی بھی دوا ہے کہ اکیلے میں ان کے دل میں ایک عجیب اور بے تکا خیال آتا ہے کہ وہ اپنے خاوند کو قتل کر دیں۔

    یہ لوگ گہرے رنگ کے شیشوں کا چشمہ پہننا پسند کرتے ہیں۔فاسفورس اور ٹیوبر کی طرح خاموشی اور تنہائی سے ان کی جان جاتی ہے۔نکس پیسہ کمانے کا فن جانتا ہے۔اور جتنی تیزی سے پیسہ کماتا ہے اتنی ہی تیزی سے اسے خرچ کرنا اور لٹانا بھی جانتا ہے۔

    نکس اگر مریض کے روپ میں ہو تو اتنے پیارے نپے تلے ربط اور ترتیب سے اپنا کیس بیان کرے گا کہ درمیان میں آپ کو ٹوکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔کینٹ نے لکھا ہے،
    IDEAS ABDUNDANT, CLEARNESS OF MIND.
    ان کی ہربات میں ایک
    سلیقہ ہوتا ہے، انہوں نے ہر کام کے لئے ایک S.O.P.یعنی (STANDARD OPERATING PROCEDURE) بنایا ہوتا ہے۔

    میرے ایک دوست ہیں۔ نکس وامیکا کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ جب کبھی وہ مجھے اپنے ہاں بلاتے ہیں تو سب سے پہلے ٹیلیفون پر ملاقات کا وقت طے کریں گے وقت طے ہو جانے پر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ دو بجے کا مطلب ان کے نزدیک ایک بج کر ساٹھ منٹ ہوتے ہیں۔اورجب میں ان کے گھر جاتا ہوں تو اکثر مجھے کال بیل نہیں بجانی پڑتی، اوپر بالکونی پر کھڑے میرا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔وہیں سے آواز لگائیں گے، گاڑی سامنے دیوار کے دائیں جانب پارک کریں اس طرف سایہ ہے اور گاڑی ہماری نظروں کے سامنے بھی رہے گی۔گاڑی کو ڈبل لاک لگا دیں۔ دروازہ کھلا ہے سیدھا اوپر تشریف لے آئیں۔صاف ستھرے ڈرائنگ روم میں داخل ہونے پرمیرے ساتھ ان کا انداز کچھ یوں ہوتا ہے۔ آپ اس صوفہ پر بیٹھیں یہاں سے ہیٹر آپ کے قریب ہو گا۔اچھا آج سب سے پہلے ہم سیاست پر بات کریں گے، پھر کھانا ہو گا کھانے کے بعد چائے اور چائے کے دوران مزید گپ شپ ہو گی۔ چار بجے مجھے اسلام آباد جانا ہے لہذا چار سے پہلے ہم یہ محفل برخواست کر دیں گے۔ ڈایننگ ٹیبل خوب سجا کر رکھتے ہیں۔ڈایننگ ٹیبل پہ ان کی ہدایات کچھ اس طرح ہوں گی۔ آپ اس کرسی پر بیٹھیں، کرسی کو ذرا قریب کر لیں ، گلاس آپ کی دائیں جانب پڑا ہے۔ روٹیاں ساتھ ساتھ آتی رہیں گی تاکہ گرم گرم مل سکیں۔ نیپکن اپنے سامنے بچھا لیں۔کھانے کے دوران ان کی ہدایات کا سلسلہ جاری رہتا ہے یہ لیجیے وہ لیجیے۔قائل ہوتے کم ہیں کرتے زیادہ ہیں۔سننے کی بجائے سنانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں کسی مشین کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا ہوں۔ہر بات میں پروٹوکول ۔کالی کارب کی طرح لگی لپٹی کے بغیرصاف ستھرے ، دو اور دو چار کے لہجے میں بات کرتے ہیں ۔بہت اچھے ہیں لیکن انہیں مل کر اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا، چاشنی، جذبات کی گرمی اور وضعداری کی کمی محسوس ہوتی ہے۔جیسے کوئی چیز بیک وقت آپ کو اپنی طرف کھینچ بھی رہی ہو اوردھکیل بھی رہی ہو۔مصافحہ کرنے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی روبوٹ سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔جبکہ فاسفورس کو ملنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھائیں تو وہ سینہ پھیلا دیتا ہے۔اور اتنی گرم جوشی سے ملتا ہے کہ طبعیت خوش ہو جاتی ہے۔

    ایک صاحب نائی کی دکان پر بال بنوانے گئے۔دوران حجامت نائی کو ہدایات دے دے کر زچ کر دیا۔مثلاً کرسی کی پشت کو سیدھا کرو، داڑھی کو مزید صابن لگا کر گیلا کرو۔ استرے کو درست زاویے سے چلاؤ۔قینچی یوں نہیں چلاتے بلکہ یوں چلاتے ہیں۔ بالوں کو سامنے کے رخ سے لمبا اور ساےئڈوں سے کم لمبا رکھو۔تم نے دائیں مونچھ پتلی اور بائیں موٹی کر دی ہے۔ دونوں کو احتیاط سے برابرکرو۔تولیے کو سیٹ کرو۔ نائی بے چارہ بہت اپ سیٹ ہوا۔ خاموشی سے حجامت بناتا رہا۔ جب فارغ ہوا تو گاہک نے پوچھا کتنے پیسے؟۔رہنے دیں جناب ۔ نائی نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔ ہم اپنی برادری والوں سے پیسے نہیں لیتے۔ یہ صاحب نکس وامیکا تھے۔

    نکس کے۔نہ صرف ڈاکٹر صاحب بلکہ ان کے مریض بھی وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ان سے بحث میں پڑ جائیں یا ان کی کسی دلیل کو رد کر دیں تو لائیکوپوڈیم کی طرح ان کا پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔مزاج کے خلاف کچھ برداشت نہیں کرتے۔کینٹ نے لکھا ہے۔

    INTOLERANT TO CONTRADICTION
    کیموملا کی طرح ان کے چڑچڑے پن کی کوئی حد نہیں ہے۔
    بعض پروفیسر اور پڑھاکو حضرات جو پڑھائی میں دن رات ایک کر دیتے ہیں، کسی پروجیکٹ میں پڑ کرہفتوں گھر سے باہر ہی نہیں نکلتے۔ چائے کافی پی پی کر اور مرغن غذائیں کھا کھا کر معدہ خراب کر بیٹھتے ہیں۔ ان کی خاص دوا ہے۔ کھانے پینے میں ہر ایسی غذا یا مشروب جو ان کے بدن میں تحریک پیداکرسکے انہیں پسند ہوتی ہے۔ ریپرٹری میں اس کے لئے RUBRIC: STIMULANTS DESIRE ہے۔اگر انہیں ہومیوپیتھی سے دلچسپی پیدا ہو جائے تو پھر اپنی اہلیہ کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔سلفر کی طرح یہ لوگ اپنے علم اور برتری کو شو آف بھی کرتے ہیں۔ایسے ڈاکٹر حضرات جو بہت زیادہ دیر تک کلینک پر بیٹھتے اور سٹڈی کرتے رہتے ہیں انہیں کبھی کبھی نکس لے لینا چاہیے۔

    (ڈاکٹر بنارس خان اعوان)

    نوٹ: جنوری 2007 ایشین ہومیوپیتھک میڈیکل لیگ کے انٹرنیشنل سیمینار منعقدہ بھوربن مری میں پڑھا گیا۔

  • ہومیو پیتھک ڈاکٹر اور کلینک

    ہومیو پیتھک ڈاکٹر اور کلینک

    ہومیو پیتھک کلینک ، جہاں تمام پیچیدہ امراض، مثلا، امراض مردانہ وامراض زنانہ، موٹاپا.
    ذہنی و اعصابی نفسیانی۔ سردر، درد شقیقہ ڈپریشن، ٹینشن، مرگی، اعصابی تھکان فالج
    الرجی و کینسر کا علاج کیا جاتاہے۔ہیپا ٹائٹس بی اور سی کا بھی علاج کیا جاتاہے.
    اولاد کا نہ ہونا. عورتوں کے امراض ، حیض کا درد سے آنا . دیر سےانا یا بہت جلدی آنا.
    رحم میں رسولیاں یا پستانوں‌میں‌رسولیوں کو ہونا
    بچوں کے جمعلہ امراض. سوکھا پن، دیر سے چلنا یا دیر سے باتیں‌کرنا، ذہنی طور پر پست ہونا
    جوڑوں کا درد. نشہ میں مبتلا لوگوں‌کا مفت علاج کیا جاتاہے

    [fluentform id=”1″]

  • ابراٹینم Abrotanum

    ابراٹینم Abrotanum

    ابراٹینم ایک ایسی دوا ہے جس کا نام سنتے ہی انتقال مرض کا مضمون
    ذہن میں ابھرتاہے.
    انتقال مرض کا انگریزی میں Metastasis کہتے ہیں.
    بیماری ایک عضو چھوڑ کر دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے.
    کن پیٹروں کی بیماری میں‌یہ عادت پائی جاتی ہےکہ گلےپر اور کان کے پیچھے
    جو ابھار پیدا ہوتاہے وہ وہاں سے دب جاتاہے اور اعضائے تناسل کیطرف منتقل ہو جاتاہے.
    -دبنے کی مختلف وجوہات ہیں، مثلا جراثیم کش دواؤں کا استعمال سے یا مقامی طور پر لیپ
    وغیرہ کرنے کے نتیجہ میں بھی ایساہوتاہے اور بعض اوقات بخارکی حالت میں سردی لگ جانا وجہ
    بن جاتاہے.
    وہ سب دوائیں جو انتقال مرض میں کام آتی ہیں اور اسے واپس اپنی پہلی جگہ کی طرف لوٹا دیتی ہیں
    ان میں ابراٹینم کو نمایان مقام حاصل ہے.
    بعض اوقات اسہال کے دب جانے کے نتیجہ میں اچانک جوڑوں کے درد شروع ہوجاتے ہیں اور کبھی دل پر
    شدید حملہ ہو جاتاہے.
    اسی طرح بعض دفعہ عورتوں‌کے ایام حیض کا خون اچانک بند ہوجانے پران کوذہنی یا دوسرے عوارض لاحق
    ہوجاتے ہیں.
    – اگر کسی مریض کو جووڑوں میں درد کی بیماری ہو مثلا گاؤٹ Gout یا وجع المفاصل اور ساتھ ہی دل میں‌کچھ بے چینی کا
    احساس پایا جائےجیسے دل کو چھیلتا ہو گزرتاہو، نیز ایسے مریضوں کو اگر نکسیر اور پیشاب میں خون آنے کی تکلیف بھی ہو
    تواس بات کا بھاری امکان ہے کہ یہ مریض ابراٹینم سے شفا پاے گا.
    -مزاجی لحاظ سے ابراٹیم کا مریض‌اسہال سے آرام پاتاہےکیونکہ وہ فاسدے مادے جو جوڑوں میں تکلیف پیدا کرتے تھے
    اسہال کے ذریعہ خارج ہوتے رہتے ہیں.
    ایسے مریضوں کا اگر اسہال کے ذریعہ علاج کیا جائے تورفتہ رفتہ اسہال بھی دور ہو جا ئیں گے اور جوڑوں میں درد کی
    شکایت بھی ختم ہو جائے گی.
    اگر جوڑوں‌کے درد کسی دوا یا مقامی علاج مثلا ٹکور وغیرہ سے ٹھیک ہو جائیں اور اسہال لگنے کی بجائے پلوریسی
    pleurisy یعنی ذاب الجنب کی تکلیف شروع ہو جائےجو ملتی جلتی دواؤں سے ٹھیک نہ ہو تو ہومیو پیتھ کو فرض ہے
    کہ وہ تحقیق کرے کہ ذات الجنب کی تکلیف شروع کیسے ہوئی تھی.اگر اس سے پہلے جوڑوں کے درد پائے جاتے تھے
    جن کے ٹھیک ہونے کے بعد پلوریسی شروع ہوئی تو لازما ابراٹینم ہی اس مریض کی دوا ہو گی.
    پلوریسی ٹھیک ہونے پر کسی نہ کسی جوڑ میں تکلیف دوبارہ شروع ہو جائے گی. اس کا علاج مسلسل ابراٹیم سے ہی جاری
    رکھنا چاہیے. اللہ تعالی نے چاہا تو اسی سے جوڑ درد بھی ٹھیک ہو جائیں‌گے.
    یہ دوا بچوں کے سوکھے پن میں‌بھی بہت مفیدہے. کلکریا کارب کا سوکھا پن صرف ٹانگوں‌سے تعلق
    رکھتا ہے جبکہ ابراٹینم کا سوکھا پن بھی گوٹانگوں‌سے شروع ہوتاہے مگر ٹانگوں‌تک محدود نہیں
    رہتااور اوپر کے بدن کی طرف منتقل ہونے لگتاہے.صرف اسی ایک علامت کا پایا جانا ہی کافی ہے.
    اگر30 طاقت میں دن میں‌تین بار دوا شروع کروائی جائے تو اللہ کے فضل سے یہ مکمل شفا
    کا موجب ہو سکتی ہے.

    اگر جوڑوں کے دردوں کے عوارض بظاہر ٹھیک ہو جائیں لیکن مریض کا دل بیمار پر جائے تو متعلقہ دواؤں کی تلاش میں
    ابراٹینم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے.
    اسہال اچانک بند ہوجانے کے نتیجہ میں بعض اوقات جوڑوں کے درد کے علاوہ خونی بواسیر کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔
    اس کا علاج بھی ابراٹینم سے ہی کیا جائے ۔ ایسے مریضوں کا عمومی مزاج سردی بہت محسوس کرتاہےاور تکلیفیں
    ٹھنڈے اور بھیگے موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ایسے مریض کو اکثر کمر درد رہتی ہے جو ہمیشہ رات کو بڑھ جاتی ہے۔
    کمر کا دردجو رات کو پچھلے پہر یعنی تین چار بجے بڑھے اور ابراٹینم کی نہیں بلکہ کالی کارب کی نشان دہی کرتاہے

    اسہال سے بہتری محسوس کرنے کی علامت کسی حد تک نیٹرم سلف اور زنک میں بھی پائی جاتی ہے
    لیکن ان دوسری امتیازی علامتیں بغیردقت کے شناخت کی جا سکتی ہے۔

    ابراٹینم کے درد بعض اوقات تیز اور کاٹنے والے ہوتے ہیں جو جوڑوں کے علاوہ خواتین کی بیضہ دانیوں Ovaries
    پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں.ایسی مریضہ جس کی بیضہ دانی میں‌اس قسم کے کاٹنے والے درد ہوں اور وہ جوڑوں
    کے درد کی بھی شاکی رہے یا رات کو بڑھےوالا کمر درد ابراٹینم کے مشابہ ہو اور اسے اسہال سے آرام آتاہو تو اس کے بانچھ پن
    کا ابراٹینم ہی بہترین علاج ثابت ہو گا.
    ماخوذعلاج بالمثل از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب
    www.allahshafi.com

  • Calendula officinalis کیلنڈولا

    Calendula officinalis کیلنڈولا

    کیلنڈولا CALENDULA

    *پودے کی ایک قسم
    *انگریزی میں Marigold کہتے ہیں۔
    *کیلنڈولا کے لوشن عام طور پر سادہ زخموں کے لئے بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
    *زخموں کو پیپ بننے سے روکتی ہے
    دردوں کو دور کرتی ہےاور جو زخم بھر نہ رہے ہوں ان کے لیے بہت ہی مفید دوا۔
    *دانت نکلنے کے بعد خون بند نہ ہو تو کیلنڈولا بہت مفید اثر رکھتی ہے
    وضع حمل کی خراشیں اور زخم لوشن استعمال کریں۔
    *اگر علامات زخم کو قائم رکھنے کا سبب بنی ہوئی ہوں تو ہر قسم کا مقامی علاج موقوف ہونا چاہیئے کوئی سادہ سی پٹی کر لی جاۓ
    ہر قسم کے بیڈ سور کے لئے عموماََ آرنیکا اور ہا ئپیریکم استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اگر دونوں کام نہ کریں تو کیلنڈولا دو سو دینے سے فائدہ ضرور ہو گا
    *پرانے زخم جو مندمل نہ ہوں ان کے اندر مال کا رجحان پیدا کرنے میں کیلنڈولا 200بہت مؤثر ثابت ہوئی ہے جن زخم کو بیرونی طور پر لوشن کے استعمال سے فائدہ نہیں ہوتا
    ایسے مریض جن کا آپریشن ہوۓ ہوں ان کے زخم مندمل نہ ہوتے ہوں۔بشرطیکہRediationسے اردگرد کے خلیے ضائع نہ کیے ہوے ہوں۔
    *کیلنڈولا اندرونی جسمانی کمزوری کو دور کرتی اور جسمانی صلاحیت بیدار کرتی
    جبکہ ہیپر سلف اور سلیشیا انفیکشن کا مقابلہ کرتی۔
    مددگار دوائیں
    ہیپر سلف،ارنیکا
    نوٹس از میٹر یا میڈیکا
    J.T KENt
    * علاج بالمثل از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب

    نو ٹس از میڈیا میڈیکا ازبورکی(boericki)

    عمومی تکالیفمفلوج سرد کھانے سے بہت احساس
    *سر:نروس،آسانی سے ڈرنے والا،شدید قسم کا سر درد
    بوجھل سر،گلینڈ کی سوزش،ہاتھ لگانے سے بھی درد،گردن کے دائیں درد،خشکی کے زخم
    *آنکھیں: آنکھ کی چوٹوں اور آنکھ کے آپریشن کے بعد کی تکالیف کے لیے
    *کان:بہرہ پن،شور اور دور کی آوازیں ذیادہ سننا،قریب کی نہ سننا
    *ناک:ایک نتھنےمیں نزلہ سبزمواد کے اخراج کے ساتھ
    *سانس:کھانسی،سبز بلغم کے ساتھ
    عورتوں کے مسائل:حیض کے ساتھ کھانسی,pelvis (پیڑو)میں بھرے ہونے اور وزن کا احساس groin(چڈھا) میں کھنچاؤ۔اچانک حرکت سے درد
    جلد:پیلی۔گالوں پر جلن۔پھولی ہوئی گالیں۔
    بخار:سردی۔کھلی ہوا کا بہت احساس, کمر میں کپکپاہٹ،شام کو بخار

  • کونیم Conium Maculatum

    کونیم Conium Maculatum

    کونیم Conium Maculatum

    *پورا نام کونیم میکولیٹم
    *کونیم کا زہر ایک پودے سے حاصل کیا جاتا
    *اردو میں چوکیاں اور انگریزی میںHemlock poisonکہتے
    *کونیم یونانی لفظ Konsaسے لیا گیا مطلب چکر دینا۔اس زہر سے شدید چکر آتے ہیں
    *دسویں صدی میں بطور دوا زہر استعمال ہوتا تھا خصوصاََ غدود کی بیماری اور مرگی،کالی کھانسی،
    روم اور یونان کی سلطنتوں میں اسے قانونی طور پر موت کی سزا دینے کے لیے استعمال
    *سقراط کو یہی زہر دیا گیا
    *زہر مکمل طور پر مفلوج کر دیتا فالج پاؤ سے اوپر کی طرف جاتا ۔شدید چکر آتے غشی طاری ہوتی
    * چکر اس دوا کی خاص علامت ہےکونیم میں اکثر لیٹے ہوے چکر آتے سر دائیں، بائیں گھمانے سے،بستر گھوم جاتا،آنکھ کے ذرا سی حرکت کرنے سے بھی چکر زیادہ ہوتے
    *نوجوان بیوائیں یا ایسی جذباتی خواتیں جن کی شادی نہ ہو سکے ان کے دبے ہوۓ جذبات کے نتیجےمیں۔
    *کونیم کا مریض چڑچڑا اور بد مزاج ہو جاتا چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرا جاتا ہے اور بے چینی اور اکتاہٹ
    *کونیم غدودوں کی سختی اور گانٹھوں کو تحلیل کرنے میں مفید چوٹ کے بد اثرات
    *کونیم میں ٹھنڈ سے تکلیف بڑھتی ہے جو غدود سوج جاتے
    *عورتوں کے سینے میں بھی چھوٹی چھوٹی گا نٹھیں اور ابھار سے بننے لگتے ہیں۔ پستانوں میں سخت گومڑ۔زرا سے چلنے پھرنے سے درد یں
    *اشوب چشم آنکھیں قطعََا برداشت نہیں رکھتیں حالانکہ سرخی معمولی ہوتی
    نظر کی کمزوری کے لیے بھی مفید
    جسم پر کمزوری لرزہ،تشنجی جھٹکے،چکر کونیم عام تصویر پش کرتے ہی
    *اگر پیشاب خارج کرنے میں دقت ہو اور پوری طرح فراغت نہ ہو تو بعید نہیں کہ یہ بات پراسٹیٹ گلینڈ کی بیماری کی نشاندہی کرتی ہو
    *اگر یہ مریض کونیم کا ہو ا تو کونیم بر وقت شروع نہ کرانے کی صورت میں پراسٹیٹ گلینڈ میں کینسر بھی بن سکتا بہترین دوا سلیشیا ایک لاکھ
    *یاداشت کی کمزوری اور عموماََ دماغی کمزوری جس سے مریض سوچ بچار نہیں کر سکتا پائی جاتی نیز کونیم غم کے نتیجےمیں پیدا ہونے والے اثرات سے بھی تعلق
    *کونیم کا مریض کے لئے شراب اور الکحل وغیرہ نا قابل برداشت نشہ اور چیزوں سے لرزہ دماغی اور جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے سردرد شدید ہوتا ہے
    بسا اوقات عورتوں میں رحم نیچے گرنے کا احساس ہوتا اور بوجھل پن نمایاں،خاوند کی وفات یا علیحدگی کے غم کے نتیجےمیں رحم میں فالجی علامات پیدا ہو جائیں۔جلد کے سن ہونے کا احساس،ہاتھ پاؤں کا سونا چکر بھی پاۓ جائیں۔
    *کونیم عورتوں مردوں کی جنسی امراض میں بھی مفید
    حیض کے ابتدائی ایام میں خون کی مقدار کم ہو تو رحم میں تشنج
    *خواہش جماع زیادہ۔استادگی بغل گیر ہونے پر ختم۔خیال جماع یا عورت کی موجودگی پر ہی انزال ہو جانا
    *سونے پر یا آنکھیں بند کرنے پر پسینہ آنا شروع ہو جاتا یہ علامات بس کونیم میں ہے
    * کونیم کی علامات کا کو لس سے ملتی۔دونوں میں چکر ۔فرق یہ کہ کونیم لیٹے لیٹے محسوس ہوتے کاکولس مئ چکر عموماََ اٹھنے چلنے پر آتے