primekunst.com

Tag: میتھی

  • میتھی دانے کے فائدے

    میتھی دانے کے فائدے

    میتھی قدرت کا بہترین تحفہ

    سارہ اسماعیل

    میتھرے یا میتھی دانے ہمارے کچن میں روزمرہ استعمال ہونے والا قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے جو دوائی کے طور پر ہزاروں سال سے استعمال ہو رہا ہے۔ کئی وٹامنز اور منرلز پر مشتمل اس کم قیمت لیکن بے بہا فوائد رکھنے والی چیز کا اصل وطن افریقہ ہے ، لیکن اب یہ ساری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔ قدیم یونان میں گھوڑے جب بیمار ہوتے اور کسی خوراک کو منہ نہ لگاتے تو یہ اس کے پتے کھانے کے بعد تندرست ہونے لگتے تھے۔ اطباء کہتے ہیں کہ اگر اس کی افادیت کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں میتھی دانہ موجود نہ ہو۔

    نزلہ و زکام کے لیے

    نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال از حد مفید ہے۔ صبح و شام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کر کے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

    بالوں کی خوبصورتی کے لیے

    لمبے ، گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ، اس مقصد کے حصول کے لیے (ایلوویرا) کو درمیان سے اس طرح کاٹیں کہ دونوں سرے جڑے رہیں۔ اس گھیکوار میں میتھرے بھر کر دھاگے سے باندھ کر ہفتہ، دس دن فریج میں رکھ دیں ، اس کے بعد میتھرے گھیکوار سے نکال کر کڑوے تیل میں جلالیں۔ یہ تیل انشاء اللہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ آزمودہ اور آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جو بھی تیل آپ بالوں کے لیے استعمال کرتی ہیں ، اس میں میتھرے ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور پندرہ دن بعد وہ تیل استعمال کرنا شروع کریں ، بالوں کو سیٹ کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے میتھرے کا ابلا ہوا پانی لگا کر رول کرنے سے بالوں میں گھنگھریالا پن آ جاتا ہے اور بال سیاہ چمکدار، گھنے اور لمبے ہو جاتے ہیں۔

    کھانے میں اس کا استعمال

    اس کو اچار میں استعمال کریں یا پیس کر آٹے میں شامل کر کے روٹی بنا لیں یا سبزیوں اور دالوں میں ملائیں۔ غرض ہر ڈش میں اس کی خوشبو بہت اچھی لگتی ہے۔ کڑھائی گوشت یا ٹماٹر گوشت میں میتھرے اور ثابت دھنیا ایک ایک چمچ بھون کر پیس کر ڈالیں (جب کہ ہنڈیا تیار ہو چکی ہو) اور ایک نئے لذیذ ذائقہ کا لطف اٹھائیں۔ مصالحہ والی بریانی میں بھی چند دانے پیس کر ڈال کر دیکھیں اور اچار گوشت تو اس کے بغیر بنتا ہی نہیں۔

    سوجن اور بادی کے لیے

    جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاؤں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے یعنی چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھرے ضرور استعمال کریں۔ عورتوں میں سن یاس کے بعد پائے جانے والا ڈپریشن اور پسینے کی زیادتی کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے لیے یا تو اس کا پانی ابال کر پی لیں یا چاول بناتے وقت اس کی پوٹلی ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیں۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض اگر 25 گرام میتھی دانہ اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیں تو اس سے شوگر لیول اور کولیسٹرول اعتدال پر آ جاتا ہے۔
    ٭٭٭

  • میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی کے بے شمار فوائد

    میتھی دنیاپھر میں استعمال ہونے والی ایک بوٹی ہے۔ جسے عام طور  پر لوگ خوشبو کے لے استعمال کرتے ہیں۔ میتھی خوشبو کےساتھ ساتھ صحت کے لے بے شمار فوائد لیے ہوئے ہے۔
    میتھی کاشت کی جاتی ہے۔ میتھی جب تازہ ہو تو زیادہ خوشبو نہہں ہوتی۔ لیکن جب خشک ہو جاتی ہےتو اس کی خوشبو بہت بڑھ جاتی ہے۔احادیث میں بھی میتھی کا ذکر ملتاہے.
    میتھی کا استعمال صرف خوشبو اور ذائقہ کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ بے پناہ طبی فوائد بھی رکھتی ہے۔ میتھی پتوں کی صورت میں ہو یا بیج کی، یہ اپنے اندر متعدد مفید نیوٹرنٹس رکھتی ہے
    حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا. ’’میتھی سے شفا حاصل کرو ‘‘ایک اور حدیث میں حضرت محمد ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
    ’’میری امت اگر میتھی کے فوائد سمجھ لے تو وہ اسے سونے کے ہم پلہ خریدنے سے بھی گریز نہیں کرے گی‘‘۔

    ہندی ‘ اُردو ‘بنگالی ‘گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ، فارسی میں شملیت، پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے۔
    لا طینی زبان میں اس کا نام Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اچار کے مسالے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ یونانی اور آیورویدک دوائوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سالن پیشاب آور ہے۔ میتھی موسم سرما کے امراض ‘ کمر درد ‘تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔
    میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں۔ چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کے لیے اکثر اُبٹنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔
    × میتھی شوگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے. اس مقصد کے لیے آدھا چمچ روزانہ صبح شام استعمال کرین.
    ×میتھی پشاب آور ہے.
    × اگر گلہ درد کررہا ہو اور سوجن بھی ہو تو میتھی کا جوشاندہ پینے سے ٹھیک ہو جاتاہے.
    ×سانس کی تنگی کو ٹھیک کرتی ہے. اور کھانسی کی شدت کو بھی کم کرتی ہے.
    × پیٹ سے ہوا خارج کرتی ہے اور بواسیر کو کم کرتی ہے.
    × میتھی کے پتوں‌کو پستان پر لیپ کرنے سے دودھ بالکل منقطع ہو جاتاہے.
    ×میتھی کھانے سےحیض اور پیشاب کھل کر آتاہے اور مثانہ کو طاقت دیتی ہے.
    ×مثانہ کی سردی میں میتھی سب سے کامیاب دوا اور غذاہے.
    ×جوڑوں کا درد،ذیابطیس کا مرض دور کرتی ہے.
    ×اسے لگاتار کھانے سے سردی سے بخار اور اعصابی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے
    ×اس کے بیجوں کا سفوف ہاضمہ کے تمام امراض کو ختم کر دیتا ہے.
    ×درد کمر اور جگر کے درد کو ختم کرتی ہے اور شفاحاصل ہوتی ہے.
    ×اعصاب کو طاقت دیتی ہے اور جسم سے رعشہ ختم کر دیتی ہے.
    ×میتھی مسلسل کھانے سے سر درد ہو سکتی ہے.
    × میتھی گرم مزاج والوں کے لیے نقصاں دہ ہے. مگر اسے پالک ملا کر پکائے جائے تواس کی اصلاح ہو جاتی ہے.
    ×میتھی کے بیج کے سفوف کی پٹیاں باندھنے سے رسولی پھٹ جاتی ہے اور جذب ہوجاتی ہے.
    ×روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ 329 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ بھوک کو کم کرتا ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ابھی آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔
    ×میتھی کو شہد کے ساتھ ملاکر استعمال کرنے سے اسہال شروع ہوجاتے ہیں۔
    ×میتھی کے طبی خواص میں سب سے بڑا فائدہ ذیابیطس کے علاج میں مضمر ہے۔ اگر میتھی کے بیجوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح کے وقت اس کا عرق استعمال کیا جائے تو ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کا تناسب کم ہوجاتا ہے۔ –