primekunst.com

Category: جلدی امراض

جلدی امراض خارش، ایگزیما چھپاکی

  • سورائسس کا مکمل علاج | ہومیوپیتھک، دیسی اور جدید طریقہ علاج

    سورائسس کا مکمل علاج | ہومیوپیتھک، دیسی اور جدید طریقہ علاج

    سورائسس کا مکمل علاج

    ہومیوپیتھک، دیسی اور جدید طریقہ علاج (مکمل رہنمائی)

    تعارف

    سورائسس (Psoriasis) ایک مزمن جلدی بیماری ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں جلد کے خلیے معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں جلد پر سرخ دھبے اور سفید یا چاندی جیسے موٹے چھلکے بن جاتے ہیں۔

    عام طور پر سورائسس کہنیوں، گھٹنوں، سر، کمر اور ہاتھوں پر زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ بعض مریضوں میں یہ بیماری پورے جسم پر بھی پھیل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ شدید خارش، جلن اور جلد کی خشکی بھی ہوتی ہے۔

    ہومیوپیتھی کے مطابق سورائسس صرف جلد کی بیماری نہیں بلکہ جسم کے اندر موجود ایک مزمن خرابی کی علامت ہے۔ اس لئے ہومیوپیتھی میں علاج کا مقصد بیماری کی اصل جڑ کو ختم کرنا ہوتا ہے۔


    سورائسس کیا ہے؟

    سورائسس ایک Autoimmune Skin Disorder ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام جلد کے خلیوں کو بہت تیزی سے پیدا کرنے لگتا ہے۔ عام طور پر جلد کے خلیے تقریباً ایک مہینے میں تبدیل ہوتے ہیں لیکن سورائسس میں یہ عمل چند دنوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔

    اس کی وجہ سے جلد پر موٹے چھلکے اور سرخ دھبے بن جاتے ہیں۔


    سورائسس کی علامات

    سورائسس کی علامات مریض کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں۔

    عام علامات

    • جلد پر سرخ دھبے
    • سفید یا چاندی جیسے چھلکے
    • شدید خارش
    • جلد خشک اور پھٹ جانا
    • کھجانے سے خون آ جانا
    • سر میں خشکی اور موٹے چھلکے
    • جلد میں جلن

    بعض مریضوں میں جوڑوں کا درد بھی پیدا ہو سکتا ہے جسے Psoriatic Arthritis کہتے ہیں۔


    سورائسس کی تصاویر (Visual Guide)

    psorias types

    1۔ Plaque Psoriasis

    یہ سورائسس کی سب سے عام قسم ہے۔ اس میں جلد پر موٹے سرخ دھبے اور سفید چھلکے ہوتے ہیں۔

    2۔ Scalp Psoriasis

    یہ سر کی جلد میں ہوتا ہے جس میں شدید خشکی اور چھلکے بنتے ہیں۔

    3۔ Guttate Psoriasis

    اس میں چھوٹے چھوٹے قطرے نما دھبے بنتے ہیں۔

    4۔ Inverse Psoriasis

    یہ جسم کے فولڈز جیسے بغل اور رانوں میں ہوتا ہے۔

    5۔ Pustular Psoriasis

    اس میں جلد پر پیپ والے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں۔


    سورائسس کے اسباب

    سورائسس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

    اہم اسباب

    • موروثی رجحان
    • مدافعتی نظام کی خرابی
    • ذہنی دباؤ
    • جلدی انفیکشن
    • ہارمونل تبدیلیاں
    • بعض ادویات
    • غیر متوازن غذا

    سورائسس کے خطرے کے عوامل

    کچھ عوامل سورائسس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

    • زیادہ ذہنی دباؤ
    • موٹاپا
    • سگریٹ نوشی
    • شراب نوشی
    • جلد کی چوٹ

    ہومیوپیتھی میں سورائسس کا نظریہ

    ہومیوپیتھی کے مطابق سورائسس بنیادی طور پر مایازمک بیماری ہے۔

    سورائسس کے اہم مایازم

    Psoric
    Sycotic
    Syphilitic

    اسی وجہ سے ہومیوپیتھی میں Anti-Miasmatic Treatment کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔


    سورائسس کا سب سے طاقتور ہومیوپیتھک علاج

    Sulphur

    یہ سورائسس کی بنیادی دوا سمجھی جاتی ہے۔

    علامات

    • شدید خارش
    • جلد خشک اور کھردری
    • گرمی زیادہ لگنا

    Graphites

    علامات

    • موٹے چھلکے
    • جلد پھٹ جانا

    Arsenicum Album

    علامات

    • شدید جلن
    • رات کو خارش

    Natrum Muriaticum

    علامات

    • سر میں خشکی
    • جذباتی دباؤ کے بعد بیماری

    Thuja Occidentalis

    علامات

    • موٹے چھلکے
    • جلد پر ابھار

    سورائسس کا مکمل ہومیوپیتھک نسخہ

    صبح
    Arsenicum Album 30

    شام
    Graphites 30

    ہفتہ میں ایک بار
    Sulphur 200

    ہر 10 دن بعد
    Thuja 200

    مدر ٹنکچر

    Urtica Urens Q
    10 قطرے پانی میں دن میں دو بار


    سورائسس کے جدید ہومیوپیتھک کلینیکل پروٹوکول (2025)

    جدید ہومیوپیتھک معالج سورائسس کے علاج کو تین مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔

    مرحلہ 1 — Detox

    جسم سے زہریلے مادے خارج کئے جاتے ہیں۔

    ادویات

    • Berberis Vulgaris Q
    • Hydrastis Canadensis Q
    • Chelidonium Majus Q

    مرحلہ 2 — Anti-Miasmatic Treatment

    اس مرحلے میں بیماری کی جڑ ختم کی جاتی ہے۔

    ادویات

    • Sulphur
    • Thuja
    • Psorinum
    • Graphites

    مرحلہ 3 — Constitutional Remedy

    مریض کے مزاج کے مطابق دوا دی جاتی ہے۔

    • Calcarea Carbonica
    • Lycopodium
    • Sepia
    • Natrum Mur

    سورائسس کے دیسی علاج

    نیم

    نیم جلد کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔

    استعمال

    • نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس سے نہائیں
    • نیم کا تیل متاثرہ جگہ پر لگائیں

    ایلو ویرا

    ایلو ویرا جلد کی سوزش کم کرتا ہے۔

    استعمال

    ایلو ویرا جیل روزانہ متاثرہ جگہ پر لگائیں۔


    ناریل کا تیل

    یہ جلد کی خشکی کم کرتا ہے۔

    استعمال

    رات کو متاثرہ جگہ پر لگائیں۔


    ہلدی

    ہلدی میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات ہوتی ہیں۔

    استعمال

    آدھا چمچ ہلدی دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔


    سر کے سورائسس (Scalp Psoriasis) کا علاج

    سر کے سورائسس میں درج ذیل ادویات مفید ہیں۔

    Natrum Mur 200
    Mezereum 30
    Kali Sulphuricum 6X

    بیرونی استعمال

    Calendula Q کو ناریل کے تیل میں ملا کر سر پر لگائیں۔


    بچوں میں سورائسس کا علاج

    بچوں میں نرم ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔

    Graphites 30
    Sulphur 30
    Calcarea Carbonica 30
    Urtica Urens Q


    غذا اور احتیاط

    پرہیز

    • فاسٹ فوڈ
    • زیادہ مصالحہ
    • کولڈ ڈرنکس
    • زیادہ چینی

    مفید غذا

    • سبزیاں
    • پھل
    • زیتون کا تیل
    • پانی زیادہ

    نتیجہ

    سورائسس ایک مزمن بیماری ہے لیکن مناسب علاج، احتیاط اور متوازن غذا کے ذریعے اسے کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں اس بیماری کے مؤثر علاج موجود ہیں جو جسم کے اندرونی نظام کو بہتر بنا کر بیماری کو کم کرتے ہیں۔

  • موہکے اوردیگر تکالیف ، علامات اور ان کا ہومیو پیتھی طریقہ علاج

    ترتیب و تحقیق: خالد محمود اعوان

    موہکے اوردیگر تکالیف ، علامات اور ان کا ہومیو پیتھی طریقہ علاج

    چند ادویات کا مختصر سا تعارف
    ٭-اینٹی مونی کروڈ = ایسے موہکے پائے جاتے ہیں جو سخت ہوں اور ان میں ہڈی کی طرح کا ابھار پایا جاتا ہو۔
    ٭-کلکیریا کارب= موہکوں کی اس وقت دوا ہوتی ہے جب اس میں نوچنے والی خارش ہو،جس سے آسانی سے خون نکل آئے۔ نرم اوراسپنج کی طرح کے ہوں اور ان میں ڈنگ لگنے کا احسا س پایا جاتا ہے۔
    ٭-”کاسٹی کم “=موہکوں میں اس وقت مﺅ ثر دوا ہوتی ہے جب اس کے موہکے ٹھوس اورچوڑے ہوں۔ ان کی مرغوب جگہ گردن کی سطح ،چہرے پر ،پپوٹوں پر ،ناک کی چو نچ پر اورانگلیاں ہوتی ہیں۔
    ٭-ڈلکامارا= اس وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب موہکے ہاتھوں کی پشت پر ہوں سائز میں لمبے،موٹے گوشت والے اور چھونے سے ہموار اور صاف ہوں۔
    ٭-نٹرم کارب “= کے موہکے بہنے والے ،چھیلے ہوئے جو پاﺅں کے انگوٹھوں کی نوک پر نکلتے ہیں۔
    ٭-فیرم پکرم =ان موہکوں کو شفا دیتی ہے جو ہاتھ کی ہتھیلی پر ظاہر ہوں اور درد کرنے والے ہوں یاپاﺅں کے تلووں میں نکلتے ہیں جن کو ’کارنز‘(یہ سخت ہوتے ہیں اور وہ ایریا جہاں نکلتے ہیں موٹا ہوتا ہے ۔ یہ اکثرپاﺅں کے تلووں پر نکلتے ہیں۔ ان کی مشابہت لیکس کی سی ہوتی ہے لیکن یہ ان کی نسبت سخت ہوتے ہیں۔سائز میں چھوٹے اور شدید درد کرتے ہیں۔لیکن یہ خطرناک نہیں ہوتے اور اری ٹیشن کا سبب بھی نہیں بنتے۔ یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتے ہیں) کہتے ہیں۔ان کا رنگ پیلا ہوتا ہے جیسے نیچے پس پڑی ہو لیکن وہ پس نہیں ہوتی۔
    ٭-”نٹرم میور“=کے موہکے ہتھیلیوں پر پائے جاتے ہیں جب ان میں پسینہ آنے کی رغبت پائی جاتی ہو۔
    ٭-نائٹرک ایسڈ=کے موہکے بڑی سائز میں پنڈولیم کی طرح لٹکتے ہوئے جن سے خون آسانی سے بہے اور ان میں درد پائی جائے۔
    ٭-”سیپیا“= کے موہکے لمبے کالے ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش بالوں میں ہوتی ہے۔
    ٭-”تھوجا“= کے موہکوں کے انتخاب کے لئے اس کے موہکے گوبھی کی طرح کے۔فصل کی پیداوار کی طرح کے ،نمدار ہوتے ہیں ۔ان کوچھونے سے آسانی سے خون نکل آتا ہے۔

    ادویات کا تعارف ذرا تفصیل کے ساتھ

    ANTIMONIUM CRUDUM
    ٭-”اینٹی مونیم کروڈ“= اس کے موہکے سخت ، ہموار اور اکثر گروپ کی صورت میں نکلتے ہیں۔ یہ سینگ دار ہوتے ہیں۔ ہاتھوں اورپاوں کے تلو وں پر نکلتے ہیں۔اس میں چنڈیاں (رگڑیا کام کرنے سے جلد کا سخت ہو جانا )جیسے ہاتھ یا پاوں کی ہوتی ہیں۔۔ سخت اور پُر دردگٹے، موٹے اور سینگ دار ہوتے ہیں۔ ناخنوں کی نشو ونما کمزور ہوتی ہے ۔ان جسمانی علامات کے ساتھ مریض کا مزاج جھگڑالو ،بد مزاج ،ناراض اور بغیر کسی وجہ کے ناخوش رہتا ہے۔ تنہائی پسند، کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا۔اگراس کا مریض بچہ ہو تو چھوا جانابلکہ اپنی طرف دیکھنا تک برداشت نہیں کرتا ۔ اس میں بڑھی ہوئی زود حسی اور چڑچڑا پن کے ساتھ زبان پر سفید موٹی تہ پائی جاتی ہے ۔ تمام تکالیف گرمی اور ٹھنڈے پانی میں نہانے سے بڑھتی ہیں ۔مریض سورج کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی مریضہ بے حس ، پتھر دل،اور اپنے آپ کوبہت مصروف اور کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی ہے۔ کھانا اس وقت کھائے گی جب اسے کہا جائے۔ نظام ہضم کی خرابیاں ساتھ زبان پر موٹی سفید تہ پائی جاتی ہے۔
    BELLADONA
    ٭-بیلاڈونا=موہکوں میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جب ان میں سوزش اور جلن دار دردیں پائی جائیں۔چھونے سے بے اطمینانی محسوس ہوساتھ دھڑکن دار دردیں پائی جائیں۔صفرا ءکے مریض ،سست مزاج، پھولی ہوئی ساخت والے ایسے مریض جب اچھے ہوں تو اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں ،لیکن بیماری کی حالت میں ان میں شدت آ تی اور اکثرہذیان (بد حواس) ہو جاتے ہیں۔اس میں سرخ پھوڑے ، مہاسے ،کیلیں نکلتی ہیں ، زخموں میں پیپ ،جلد خشک و گرم ،پھولی ہوئی ہوتی ہے ۔نہایت ذکی الحس ، جلن ہو ،سرخ ،چکنی چکنی ،سرخ دانوں جیسی پھنسیاں جو یکایک پھیل جائیں ۔سرخ داغ ،چہرے پر پھنسیاں نکلیں ۔ غدود متورم۔جلد کا رنگ باری باری لال پیلا ہوتا رہے۔ سوزش کے بعد سختی آ تی ہے۔سرخبادہ۔ یہ دوا اعصاب کے ہر حصہ پر اثر کرتی ہے۔ چنانچہ مقامی طور پر اجتماع خون ۔جلد اور غدود پر بھی اس دوا کا خاص اثر ہے ۔جہاں کہیں بیلاڈونا کامیابی کے ساتھ کام کرے گی وہاں جلد سرخ و گرم ،چہرہ تمتمایا ہوا ہوتا ہے۔
    CALCAREA CARBONICA
    ٭-کلکیریا کارب=کے موہکے چہرے پر،گردن پر اور اوپر والے اعضاءکے آخری حصوں پر،مردوں کے اعضائے تناسلی پر،آنکھ کے کونوں پر، انگلیوں پر پائے جاتے ہیں۔یہ موہکے کالے اور گوشت والے،سخت اور سینگ دارہوتے ہیں ۔ بعض دفعہ ان میں سوزش اور درد پائی جاتی ہے ۔ موہکوں میں مواد کے پھٹ جانے کا رجحان ،جس سے باسی پنیر جیسی بو آئے۔جلد چھونے سے برف کی طرح ٹھنڈی محسوس ہوساتھ ٹھنڈے پسینے آتے ہوں۔ یہ موہکے ان مریضوں کو نکلتے ہیں جن کے اندرسیکریشن (مواد) یا پسینہ دب گیا ہو۔یہ موہکے ایسے لوگوں میں جوسکریفولس(خنازیر کنٹھ مالا ۔دق کی ایک قسم)کا مزاج رکھتے ہوں ،ساتھ ہڈیوں کی گروتھ ناقص ہو۔اس کے مریض مخصوص ساخت کے ہوتے ہیں جن میں چربی چڑھی ہوئی ،پلپلے،عمدہ،پسینے میں شرابور ٹھنڈے اور جلد نمدار اور کھٹی بو والے ہوتے ہیں۔اس کے موہکے گول،بنیاد سے نرم،ایسے جیسے جلد کی رنگت ہوتی ہے ۔ اوپر والی سطح سخت،کھردری،سفیدی مائل، ان میں خارش ہوتی ہے۔خون نکلتا ہے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ان موہکوں میں سوزش ، ڈنگ لگنے والی دردیں، زخموں سے بہنے کا رجحان ، موہکے موٹے ۔ کلکیریا ان لوگوں میں مفید ہے جو بلغمی مزاج ہوں ، سر اور خدوخال بڑے ،جلد پیلی اور چاک کی طرح نظر آتی ہے۔ اس کا مریض صحت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔اس میں بہتری خشک موسم میں ، چھوئے جانے سے آتی ہے۔ تکلیف میں اضافہ دودھ کے، پسینہ کے دب جانے سے آتی ہے۔اس کے مریض بلغمی مزاج، رنگ گورا، بال سنہرے،چہرہ بشرہ عمدہ،نیلی آنکھیں،عمدہ جلد،نوجوانوں میں موٹاپے کا رجحان، ۔سورک کی ساخت ،پیلے ،کمزور،بزدل چلنے کے دوران جلدی تھک جانے والے ۔ چربی چڑھے ، فربہ جسم، مشکل سے حرکت دیا جا سکے ہوتے ہیں۔
    CAUSTICUM
    ٭-”کاسٹی کم“= کے مریضوں کی جلد گندی ، سفید جو زرد پڑ جائے ساتھ موہکے ،خاص طور پر چہرے پرناک کے ارد گرد،اور پپوٹوں اور بھنوﺅں پرپائے جاتے ہیں۔پاﺅں کے تلوﺅں کے موہکے ، کنارے دندانے دار، کھردرے ،کٹے پھٹے ،جن سے خون جلدی بہہ نکلے ،جلد میں کریک اور درد خاص طور پرجہاں جلد فولڈ ہوتی ہے۔ ان میں جلن ،کچاپن اور لگاتار درد ہوتا ہے ۔ مزمن موہکے جو لمبے ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ناک پر، ناخنوں کے نیچے یا فنگرز ٹپس پر نکلتے ہیں۔ ان سے خون آسانی سے نکل آتا ہے۔ سخت ہونے کا رجحان،سوزش اور درد ہوتا ہے۔موہکے ان لوگوں میں نکلتے ہیں جن کے اخراجات دب جاتے ہیں۔موہکے دندانے دار، کھردرے اور اکثر شاخ دار ہوتے ہیں ۔ موہکوں سے نمی اور خون آسانی سے بہ نکلے۔اس کے موہکے چھوٹے اورشاخ دار نہیں ہوتے۔ تمام جسم پر اندرونی اور بیرونی طورپر اور پپوٹوں پر نکلتے ہیں۔ایسی چوٹیں جو ٹھیک ہو چکی ہوں ان میں درد دوبارہ شروع ہو جائے۔اس کے مریض بچے بستر پر اکیلا جانا نہیں چاہتے ۔چھوٹی سی بات پر چیخنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ناامید ،غمگین ،دوسروں سے شدت سے ہمدردی کرنے والے ۔ گہرے دکھوں سے پیدا ہونے والی علامات ،اس کے مریض خوفزدہ رہتے ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔اچانک جذباتی ہوجانے والے ۔اس کے مریض کے مزاج میں حکام بالاکے خلاف نفرت،حکمرانوں کو پسند نہیں کرتا ، نامنصفانہ نظام کے خلاف بغاوت پائی جاتی ہے۔حکومتی مخالفت کا خبط اور جنون پایا جاتا ہے۔سیاست ،سماجی کاموں میں ملوث ہوتا ہے ۔اور نظام کے خلاف رنجیدہ اور غصہ میں رہتا ہے۔ رسم و رواج کے پابند ہوتے ہیں ۔ اس کے مریض ٹھنڈ اور ٹھنڈے مشروبات سے حساس ہوتے ہیں ۔بارش والے موسم میں بہتر محسوس کرتے ہیں ۔
    CINNABARIS
    ٭-”سنابیرس“ میں مقعد پر آتشکی چھالہ پایا جاتا ہے ۔ اس میں خونی پاخانہ ، حشفہ پر پنکھے کی طرح کے آتشکی چھالے پائے جاتے ہیں۔ ان کو ذرا سا چھونے سے خون نکل آتا ہے۔اس میں ”سنابیرس“ ’تھوجا“ سے بہترکام کرتی ہے۔ایسے موہکے جو حشفہ پرپائے جائیں جس سے حشفہ سوجا ہواہو،ان سے خون آسانی سے بہے ۔خصیے بڑھے ہوئے۔غدودوں کی سوجن،آتشک کے خوفناک زخم،آتشک کے دانے جن سے چھلکے اُتریں اور آبلے پائے جائیں۔
    DULCAMARA
    ٭-”ڈلکامارا“ میں موہکے ہاتھوں کی پشت پر اور چہرے پر پائے جاتے ہیں۔اس کے اندر براﺅن رنگ سے کالے رنگ کے جن سے روغن کی طرح کے اخراجات پائے جائیں۔یہ موہکے کمر میں پائے جاتے ہیں۔ ان موہکوں کے ساتھ روماٹک کی شکایا ت پائی جاتی ہیں جن میں ٹھنڈے، نمدار موسم میں یا ایسے موسم جہاں نمی کا تناسب زیادہ ہو میں اضافہ پایا جاتا ہے۔ اس کے اندر ہرپیز زوسٹر،چھالے،گلینڈز میں سوجن اور سختی ٹھنڈ ک سے پائی جاتی ہے۔چھالوں والی خارش ۔ خون بہنے والے حساس زخم ۔ چھوٹے پھوڑے ، سرخ جگہیں،پتی کا اچھلنا،جو ٹھنڈ میں گھومنے سے ہویا معدے میں تیزابیت سے ہو۔ چہرے پر،اعضائے تناسلی پر ، ہاتھوں پر نمدار خارش پائی جاتی ہے۔اس کے اندر موہکے لمبے ،ہموار،چہرے پر اور ہاتھ کی ہتھیلیوں کی سطح پر پائے جاتے ہیں۔اس کے اندر ٹانگوں ،کمر اور جنسی اعضاءکاسوج جانا ۔اس کے اندر موٹے بھورے ،پیلے چھلکے پائے جاتے ہیں۔ جب ان کو کھرچا جائے تو ان سے خون بہتا ہے۔ان موہکوں کے ساتھ گٹھیا کی شکایات جن میں اضافہ ٹھنڈے، نمدار موسم میں یا ایسے موسم میں جہاں نمی کا تناسب زیادہ ہو ہوتا ہے۔
    FERRUM PICRICUM
    ٭-”فیرم پکرم“میں چوڑے یا سادہ موہکے جومحدود جگہ پر گروپ کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں ۔یہ چہرہ پر ،گردن پر، کلائیوں پر ،ہاتھوں پر اورگھٹنوں پر ظاہر ہوتے ہیں ۔مردوں میں اس کے ساتھ بڑھے ہوئے پروسٹیٹ گلینڈزبھی پائے جاتے ہیں۔”فیرم پکرم“ چنڈیوں میں موہکوں اور ایسے موہکے جو ہاتھوں پر نکلتے ہیں جن کی شاخیں ہوتی ہیں یا شاخ دار ہوتے ہیں ۔ چہرے پر لیوپس کی طرح کے موہکوں میں بہترین کام کرتی ہے۔ اس کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ انگوٹھے پر موہکے پیدا ہو رہے ہیں۔اس کی چنڈیوں کی رنگت پیلی دیکھنے میں ایسا لگے کہ ان کے اندر پس ہے لیکن پس نہیں ہوتی پائے جاتے ہیں۔
    GRAPHITES
    ٭-”گریفائٹس“ کے موہکے خاص طور پرانگلی کے ناخن پریا مکئی کی طرح کے موہکے ہتھیلیوں یا پاوں کے تلووں پر پائے جاتے ہیں۔ان کی رنگت ہلکی پیلی ہوتی ہے۔یہ نہ صرف موہکوں کی دوا ہے بلکہ یہ ایگزیما کی طرح کی جلدی علامات پائی جاتی ہیں۔
    LYCOPODIUM CLAVATUM
    ٭-لائیکوپوڈیم =کے موہکے ایسے لوگوں میں جو بد ہضمی میں ،جگر اور پیشاب کرنے کی خرابیوں میں مبتلا ہوں ۔اس کے موہکے شاخ دار، ان پر کریک ہوں ۔ ساتھ چھلکے،پستان کی بھٹنی کے گرد کا گہرے رنگ کے حلقہ یا ہالہ میں تپکن پائی جائے،نم داراس میں سوزش پائی جائے۔مریض گرمی برداشت نہیں کرتا اورگرم خوراک پسند کرتا ہے۔
    NATRIUM MURIATICUM
    ٭-”نٹرم میور“میں بھی موہکے پائے جاتے ہیں۔ اس کے موہکے ہاتھوں پر، ہتھیلیوں پر اور انگلیوں کے جوڑوں پر پائے جاتے ہیں۔ان موہکوں میں کاٹنے کی طرح کی دردیں ہوتی ہیں اس کی جلد دیکھنے میں تیل والی،خشک،کھردری غیر صحت مند یا پیلی ہوتی ہے۔ موہکے پیدا ہونے کا رجحان ایسے لوگوں میں جو جلد کو سلور نائٹریٹ(کیمیائی مادہ جس سے جلایا جائے) سے جلاتے ہیں۔کمی خون کے مریض جن میں ضعف کے آثار ۔جب کہ مادہ حیات کے ضائع ہونے سے،کھل کر ماہواری آنے سے، مادہ منویہ کے ضائع ہونے سے۔ یا دماغی بیماریوں کے نتیجے میں۔شدید کمزوری ،گوشت پوست کم ہو رہا ہو جب کہ کھانا پینا اچھا ہو۔ گلے اور گردن لگاتار دبلی ہوتی ہے گرمی کی شکایات سے ۔ ٹھنڈلگ جانے کی شدید اہلیت۔اس میں چڑچڑا پن پایا جاتا ہے۔اس کے بچے بات کاٹ دیتے ہیں جب ان سے بات کی جائے۔معمولی سی وجہ سے چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے جھگڑے کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے جب اسے تسلی دینے کی کوشش کی جائے ۔احمق،جلدی میں اعصابی کمزوری کی وجہ سے چیزیں ہاتھوں سے گر جائیں۔رونے کا رجحان،اداس رونے والا۔ موڈی بغیر کسی وجہ کے ۔ دوسروں کے سمجھانے سے تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
    NITRIC ACID
    ٭-نائٹرک ایسڈ= کے موہکے نکلتے ہیں زنانہ اعضائے تناسلی پر ،مقعد پر،گردن کے مہروں پر،ناک کے اندر کی طرف،بیرونی گلے پرپائے جاتے ہیں۔ سینے کی ہڈی پر،پپوٹوں پر،آنکھ کے کونوں پر۔یہ عام طور پر مرکری کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ذیل میں اس کی خصوصیات میں،گوبھی کے پھول کی طرح کے ،سخت،شگاف دار ، لمبے ، دندانے دار،ان میں سوزش پائی جاتی ہے۔چبھن والی دردیں جن میں اضافہ رات کو ہو۔اس کے اخراجات بدبودار ہوتے ہیں۔چھونے سے خون نکل آتا ہے۔موہکوں پر،چھرا گھونپنے والی اور نوچنے والی دردیں ہوتی ہیں۔ اوپر والے ہونٹ پردھونے پر مسلسل درداور خون نکل آتا ہے ۔ چھونے پر درد کرتے ہیں۔جلد کی بیرونی پرت نرم ،پتلی اور نمدارہوتی ہے۔ یہ لمبے دندانے داراوراکثر شاخ دار ،ان سے نمی خارج ہو اور آسانی سے خون نکلنے لگے ۔ ”نائٹرک ایسڈ“ میں چھلی ہوئی اندام نہانی اور آتشکی چھالہ جنسی اعضاءپر پیدا ہوتے ہیں۔حساس ٹیومر جو جنسی ہیجان کے باعث تن جاتا ہے،یوریتھرا کے دخول پرمسہ دارابھار پایا جاتا ہے۔جسم کے کسی بھی حصے میں کھپچی کا احساس ۔تکالیف میں اضافہ چھونے سے ،رات کی ٹھنڈک سے ہوتا ہے۔
    RUTA GRAVEOLENS
    ٭-”روٹا گریولینس“ایسے موہکے جو ”پلانٹر وارٹس“ میں استعمال ہونے والی ادویات میں اس کا مقام سب سے اوپر ہے۔یہ موہکے جس کے ساتھ مسلسل دردیں ہوتی ہیں۔یہ چوڑے، ہموارہوتے ہیں۔خاص طور پر ہاتھوں کی اندرونی طرف ہوتے ہیں۔روٹا میں ٹنڈونز اور ہڈیوں کی پیر ی اوسٹم کے زخموں میں بھی ضرورت پیش آتی۔
    SABINA
    ٭-(سبائنا)= میں انجیر نما مسے جس کے ساتھ ناقابل برداشت خارش اور جلن پائی جائے جو امراض خبیثہ کا نتیجہ ہوں۔ ایسے موہکے جو حشفہ (سپاری) پر پھوٹتے ہیں۔اس کا تعلق تھوجا اور فاسفورک ایسڈ سے ہے جگہ کے حساب سے۔دانے بکثرت نکلیں ( تھوجا ، نائٹرک ایسڈ)،جلد کے مسام سیاہ پڑ جاتے ہیں۔اس کے اندر مسّے بھی پائے جاتے ہیں۔جن سے خون بہنے کا رجحان اور جلن پائی جاتی ہے۔یہ مسے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ان کا زیادہ تعلق رانوں اور پیٹھ کے درمیان والے حصے سے ہوتا ہے۔”سبائنا“کا مخصوص اثر رحم پر،رطوبتی اور ریشہ دارجھلیوں پر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس کا استعمال نقرس میں ہوتا ہے۔اس کی دردیں تکونیہ ہڈی سے لے کرپیڑو(ناف سے نیچے وہ جگہ جہاں بال اُگتے ہیں) تک ہوتا ہے۔اسقاط کا رجحان ،خاص طور پر تیسرے ماہ میں پایا جاتا ہے۔نبض کی دھڑکن شدید تیز ہوتی ہے،مریضہ کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہتی ہے۔
    SEMPERVIVUM TECTORUM
    ٭-سمپر وائیوم ٹکٹورم=میں سینگ کی طرح مسے ہوتے ہیں یہ اس وقت ہوتے ہیں جب کسی کیڑے نے کاٹا ہو یا کوئی زخم متاثر ہو۔یہ دوا کینسر سے پہلے اور کینسر کی حالت میں ایک بہت بڑی زہر کو چوسنے والی دوا ہے۔کیڑے مکوڑوں کے ڈنگ ،زہریلے زخموں اور مسوں پر اس کے ٹنکچر کی پٹی کی جاتی ہے۔
    SEPIA
    ٭-سیپیا=موہکوں کے علاج کی ایک مﺅثر دوا ہے ۔ اس کے موہکے لمبے ،سخت اوررنگ دار ہوتے ہیں۔ اس کو 30 طاقت میں استعمال کریں۔
    SILICEA TERRA
    ٭-”سلیشیا ٹیرا“=کے موہکے گلے پر ،اوپر والے اعضاءپر،کمر اور کہنی سے کلائی تک نکلتے ہیں۔یہ موہکے لمبے ،گوشت والے جن سے مواد پھٹ کر بہہ نکلے۔چھونے سے حساس ہوتے ہیں۔یہ موہکے ایسے لوگوں کو نکلتے ہیں جو سکریفولیس کا مزاج رکھتے ہوں۔ اس کے مریض شور سے ، درد ، اور ٹھنڈک سے حساس ہوتے ہیں۔اس کے مریض اعصابیت کا شکار، چڑچڑے،دموی مزاج،سورک کا مزاج رکھنے والے۔ہلکے رنگ والے ، عمدہ خشک جلد،پیلا چہرہ ، کمزور ڈھیلے مسلز والے۔ایسے مریض جو نیوٹریشن کی کمی کے شکار ہوں۔یہ خوراک کی کمی اس کی کوالٹی کی خرابی کے نتیجے میں نہیں بلکہ جسم کا وہ نظام جس سے وہ ہضم شدہ خوراک کو جذب کر کے اسے استعمال میں لاتا ہے کی خرابی کے نتیجے میں ہو۔اس کے مریض میں جسمانی طور پر اور دماغی طور پر بڑھی ہوئی حساسیت پائی جاتی ہے۔اس بات کایہاں ذکر کرنا ضروری ہے تا کہ مریض اس فرق کو سمجھ سکیں کہ سلیشیا اور نائٹرک ایسڈ میں کیا فرق ہے اور دھوکا نہ کھائیں۔علم التشخیص کے مطابق سلیشیا اور نائٹرک ایسڈ میں مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔دونوں میں جذباتی کیفیت ایک جیسی ہے۔دونوں پتلے اور ٹھنڈے مریض ہوتے ہیں۔دونوں میں تیزابی پسینہ آتا ہے۔دونوں میں ٹیومرز ،موہکے اور فشرز پائے جاتے ہیں ۔ دونوں کے ناخنوں پر سفید دھبے۔بنیادی علامت جس سے فرق کیا جاسکتا ہے وہ نمک اور چربی ہے۔نائٹرک ایسڈ کامریض نمک اور چربی کی خواہش کرتا ہے۔جب کہ سلیشیا کا مریض نمک اور چربی سے نفرت کرتا ہے ۔ سلیشیا میں نمک سے نفرت اور چربی برداشت نہیں ہوتی۔جذباتی علامات میں فرق نائٹرک ایسڈ کا مریض تشویس میں مبتلا،دوسروں پر انحصار کرنے والا اور اس کی خواہش کرتا ہے۔جب کہ سلیشیا کے مریض دوسروں کا خیال رکھنے والے،اور نرم رویہ رکھنے والا ہوتا ہے۔
    STAPHYSAGRIA
    ٭-سٹیفی سیگیریا=کے موہکے انجیر نما جو شاخ در شاخ کی طرح پھوٹیں ،ان میں درد ہوتا ہے۔نائٹرک ایسڈ،تھوجا کی طرح گوبھی کے پھول کی طرح کے ہوتے ہیں اور چھونے سے حساس ہوتے ہیں۔ ویجائنہ میں دانے دار افزائش کے نتیجے میں جماع کے دوران عورت کو تکلیف یا درد ہوتا ہے۔ اس کے موہکے خشک ، اعضائے تناسلی کے موہکے۔ان میں حساسیت پائی جاتی ہے۔ یہ موہکے سائیکوسس کے نتیجے میں یا پارہ کے ناجائز استعمال سے پانی کی سی پیدائشیں ہوتی ہیں۔یہ موہکے نمدار سرخ ناگوار بو والے جن کا تعلق تھوجا سے ہو۔اس میں ایک چھوٹا ساموہکہ (گندم کے دانے کے برابر) جنسی اعضاءپر اور مقعد پرظاہر ہوتا ہے ۔ چھوٹے سے زائد گوشت کی طرح کی پیدائش کے طور پرجس کو تعلق پیشاب کی وہ نالی جو مثانے میں پیشاب لاتی ہے اور اندام نہانی سے ہوتا ہے۔ اس میں حساسیت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔ اگردو انگلیوں کے درمیان رکھ کر زور سے کاٹا جائے تومریض تشنج میں چلا جائے ۔خاص طور پر اگر عورت ہو۔
    SULPHUR
    ٭- سلفر کے موہکے چہرے پر،پپوٹوں کے قریب ، اوپر والے ہونٹ پر ہوتے ہیں۔موہکے ڈھکے ہوئے ساتھ پتلی جلد کی بیرونی پرت پر ہوتے ہیں ۔اس کی جلددیکھنے میں خشک،کھردری ان میں جھریاں پڑی ہوئی اور چھلکے دار ہوتی ہے۔موہکے اور دوسری شکایات ادل بدل کر آتی ہیں ۔ موہکوں کے دب جانے سے دمہ کا پیدا ہونا ۔پتھرکی طرح کے موہکے،یہ خاص طور پر انگلیوں کے ارد گرد نکلتے ہیں۔خارش اور پھوٹ کر بہنے والی خارش یا جلدی خارش ۔جس کو کھرچنے سے بہتری آتی ہے۔غیر حقیقی وہم میں مبتلا،پرانی چیزیں،پرانے کپڑے یا چھڑی ہر چیز خوبصورت نظرآتی ہے،اور ان کو سنبھال کر رکھتا ہے۔مقعد میں سرخی،پپوٹوں میں سرخی ، جسم کے واحد اعضاءپر پسینہ ،جسم کے پچھلے حصوں پر ۔ گرمی کے کوندے آئیں۔بھاری پن، پیٹ جیسے کسی پٹی سے باندھا گیا ہے یا اس کو سپورٹ دی گئی ہے۔اس کے مریض کو بعض اوقات چیزیں چھوٹی اور بعض اوقات بڑی نظر آتی ہیں۔ایسے مریض جو سکریفولیس کا مزاج رکھتے ہوں۔رگوں میں اجتماع خون ،خاص طور پرورید جگری کے نظام میں۔ اعصابیت کے شکار ،جلدی حرکت میں آنے والے جلدی غصے میں آ نے والے،پھولے ہوئے ۔ جلدموسمیاتی تبدیلیوں سے حساس۔ ”سلفر“کا مریض انتہائی گرم خون والا،ہاتھ اور پیرگرم جن کو ہمیشہ کمبل سے باہر نکال دے۔اعصابیت کا شکار،دبلا پتلا ، اس کے مریض کے ،کندھے جھکے ہوئے وہ جھک کر چلے اور بیٹھے۔غذائیت کی کمی ،کندھے جھکے ہوئے۔اس کے مریض ایسے اٹھتے بیٹھتے ہیں جیسے بوڑھے لوگ۔ سلفر کے مریض کے لئے کھڑا رہنا،کھڑے رہنے کے لئے اس کی کوئی بھی حالت ہومشکل پیش آتی ہے۔گندا ،بدبو سے بھرا ہو جلدی بیماریوں میں مبتلا۔دھونے سے نفرت ، ہر نہانے کے بعد تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔نیند سے بیداری میں سست ،زندگی سے بیزار ہوتا ہے۔
    THUJA OCCIDENTALIS
    ٭-تھوجا آکسی ڈینٹلس= کے موہکے کمر پر،سر کے پیچھے گردن والے حصے میں اوپر والے اعضاءپر،چہرہ ، ناک بھنوﺅں پر،آنکھوں پر ، پپوٹوں پر ،بیرونی گلے پر نکلتے ہیں۔دیکھنے میںوہ چوڑے،مخروطی شکل کے چوڑے شاخ دار،دندانہ دار پنکھے کی شکل کے نظر آتے ہیں۔تھوجا کے موہکے جسم کے کسی بھی حصے پر ہو سکتے ہیں۔ اس کے موہکے انجیر نما ،نلی نما،لمبے موہکے ایک ہی سائزکے۔ہاتھوں کی پشت پربد گوشت کی طرح کے ۔ تھوڑی پراور دوسری جگہ پرموہکے اور آتشکی چھالے ، لمبے،بیج بھرے(ایسے پھول جن کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور بیج بھر جاتے ہیں) اور شاخ دار،رسنے والے ،جن سے آسانی سے خون بہہ نکلے۔ہائیڈروجی نائیڈ ساخت کے مریض (جن کے جسم میں پانی کی مقدار زیادہ ہو اور ان کی تکالیف نمدار یا ایسے موسم میں جس میں نمی کا تناسب زیادہ ہو بڑھتی ہیں۔ نتیجے میں استسقاءاور ’ اناسارکا‘پیدا ہوتا ہے ۔ ایسی بے ضرر بیماری بے ضرر افزائیش ایسی بیماری جو سنجیدہ قسم کی نہیں ہوتی اور کوئی نقصان نہیں دیتی فلو کی طرح کی بیماری جس میں غنودگی پٹھوں میں تھکاوٹ اور تشنج ہوتا ہے ۔ ) ہوتے ہیں ۔ ایسے مریض سست الوجود جن پر گوشت چڑھاہوا ہو بال سیاہ چہرے کی رنگت سیاہ اور جلد صحت مند نہ ہو۔ اس کے اندرویکسی نیشن (چیچک سے محفوظ رہنے کے لئے ٹیکہ لگانے کا عمل ) کے بد اثرات کے نتیجے میں شگاف،مسہ یا گومڑجو مرد میں سر ذکر پر اورعورت کی فرج پریا دونوں جنسوں کے مقعد کے ارد گرد پایا جاتا ہے(ان علامات کے لئے انٹی مونیم کروڈ،گریفائٹس اور سلیشیا کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے) ۔ اعضائے تناسلی ،مقعد اور سیون کی میوکس کی سطح پر موہکے یا کنڈائی لوماٹا(آتشکی آبلہ) پائے جاتے ہیں ۔ عورتوں کے اعضائے تناسلی پر پھول گوبھی کی طرح کے بد گوشت پائے جائیں ۔گنوریا کے دب جانے سے آئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔اس کا مریض اپنے نظریات پر بضد ہوتا ہے۔اس کے احساسات بڑے عجیب و غریب ہوتے ہیں”تھوجا“ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ناخن دماغ میں گھسیڑے جا رہے ہیں۔مقعد میں ایسا احساس اُبلتا ہوا سکہ گزر رہا ہے۔ایسا احساس دورانِ پاخانہ مقعد ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ ٹانگیں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔جسم شیشے کا بنا ہوا ہے اور ٹوٹ جائے گا۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی زندہ چیزجسم میں چھلانگیں ماررہی ہے۔اس کا مریض سمجھتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور وہ ٹوٹ جائے گا اور وہ ہاتھ ملاتے وقت تھوڑا سا ہاتھ ملائے گا۔ چلتے وقت بڑا سنبھل کر چلتا ہے۔ایسے جیسے ایک اجنبی شخص اس کے ساتھ لیٹا ہوا ہے۔روح اور جسم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے جیسے وہ کسی سپر طاقت کے زیر اثر ہے۔مر جانے کی خوابیں ،گرنے والا ۔ گاڑھا سبزی مائل لیکوریا ،جوڑوں سے متعلق روماٹزم یا پروسٹیٹ کی سوزش جیسی تکالیف سوزاک کے دبنے کے نتیجے میں آ تی ہیں۔ یہ دوا بطور کرانک کے کام کرتی ہے جب میڈورائینم اپنا کام کر چکا ہو ۔

    ترتیب و تحقیق:
    خالد محمود اعوان
    فون نمبرز0332-2556942 ,
    0308-2486085

  • ایگزیما ، جلدی بیماریاں اور ان کا ہومیوپیتھی علاج

    ایگزیما ، جلدی بیماریاں

    تحریر و تحقیق:خالد محمود اعوان

    AETHIOPS MERCURIALIS MINERALIS
    ٭-اینتھی اوپس مرکیوریالس منرالس=میں ایگزیما میں جلدی علامات میں دانے پائے جاتی ہیں جو چھتے کی شکل میں ہوں،خنازیری دانے،کھجلی والے دانے اور ایگزیما کی طرح کے ہوتے ہیں۔اس دوا کا استعمال سکریفولیس کی تکالیف میں ، آشوب چشم،کان کا بہنا،پُر درد ، پریشان کرنے والی ایسی خارش جس پر کھرنڈ آئے ہوں پھوٹ کر نکلے والی خارش،موروثی آتشک وغیرہ میں مفید ہے۔
    ALNUS RUBRA
    ٭-”النس ربرا“ میں ایگزیما ،کھجلی، خون کی ایک بیماری جس میں جسم پر نیلے داغ پڑ جاتے ہیں۔مزمن ہرپیز( وائرس کے حملہ کی وجہ سے آبلہ نما شگاف پیدا ہونا) کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کو تیزی سے سکون دینے میں مدر ٹنکچر سے لے کر تین طاقت اور بیرونی طور لگانے سے آرام آتا ہے۔جبڑے کے نیچے والے گلینڈز بڑھے ہوئے ۔ عورتوں میں لیکوریا ساتھ رحم کی گردن کھائی ہوئی ہو جس سے خون آسانی سے بہ نکلے ۔حیض کی غیر موجودگی ،ساتھ کمر سے زیرِ ناف تک جلن دار دردیں اورخون ملا پیشاب آتا ہے۔
    ALUMEN
    ٭-الیومن میں خصیہ دانی اور آلہ تناسل کی پشت کاایگزیما پایا جاتا ہے۔ایسے زخم جن کی بنیاد میں سختی ہو۔جب غدود سخت ہو گئے ہوں،کینسر وغیرہ میں،جب نسیں سخت ہو کر پھول گئی ہوں اور ان سے خون بہے اس وقت اس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ایسے زخم جن میں ایک مدت سے سوزش پائی جائے اور نتیجے کے طور پر ان میں سختی آ گئی ہو۔ غدود سخت اور ان میں سوزش۔بالوں کا دائرے کی صورت میں گرنا(ایلوپیشیا)پایا جاتا ہے۔
    AMMONIUM CARBONICUM
    ٭- امونیم کارب= میں ایگزیماہاتھ پاوں کے موڑنے والی جگہوں پر ،ٹانگوں کے درمیان، مقعد اور اعضائے تناسلی پر ہوتا ہے۔اس میں چھالے پائے جاتے ہیں جن میں شدید خارش اور جلن پائی جاتی ہے۔سرخ بادہ کی طرح کی چھپاکی،باجرے جیسے دانے۔مہلک قسم کا لال بخار،جسمانی کمزوری کے با عث پھوٹ کر بہنے والی خارش میں جودیر سے پکتے ہیں۔بوڑھے لوگوں کا سرخبادہ جس کے ساتھ دماغی علامات بھی پائی جائیں۔ ”امونیم کارب“ کا مریض اداس بغیر کسی وجہ سے رونے والابھولکھڑ،بد مزاج ، طوفانی موسم میں اداسی ،اپنے آپ کو گناہ گار سمجھے،اپنے آپ کودنیا پربوجھ سمجھے ، اپھارہ ، پانی سے خوفزدہ ،نہانا پسندنہیں کرتا جسم کو صاف نہ کرنے والا۔گندہ ہوتا ہے۔تکالیف میں اضافہ ماہواری میں ہوتا ہے۔ایسے مریضوں میں جن میں پیدائشی طور پر گندہ رہنے کی عادت ہو ۔ بہت سارے لوگ علامات کے ساتھ سلفر یا سورائنم تجویز کرتے ہیں۔لیکن آپ ایسی صورت میں ”امونیم کارب“ کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اس کو 6 طاقت میں بڑی کامیابی سے استعمال کرتے ہیں۔
    ANACARDIUM ORIENTALE
    ٭-”اناکارڈیم“ میں ایگزیما،جلدی چھالے جو ممکنہ طور پر قطعوں کی صورت میں نکلتے ہیں۔یہ اکثر کہنی سے کلائی تک ہوتے ہیں۔ان میں شدید خارش اور جلن پائی جاتی ہے۔جِلد انتہائی حساس ۔اگر باقی علامات موافق ہوں تو ان موہکوں کا علاج بھی اناکارڈیم سے کیا جاسکتا ہے۔جلدی علامات میں بہتری گرم پانی کے لگانے سے ہوتی ہے۔علامات اس وقت بد تر ہوتی ہیں جب مریض ذہنی دباو میں ہواور متاثرہ جلد کوکھرچے ٭-اناکارڈیم=ایسا ایگزیما جس میں شدید خارش ہو۔ساتھ بڑھی ہوئی زود حسی،چھالے دار پھنسیاں،سوجن،پتی اچھلنا،ایسی پھنسیاں جو بلوط کے زہریلے اثر کے نتیجے میں نکلتی ہیں۔ (زیروفائلم ، گرانڈیلیا، کروٹن)۔جلدی سوزش جن کی رنگت سرخ جامنی رنگ کی ہو جن میں ہلکی سی خارش ہو۔ناخنوں،منہ،زبان مسوڑھوں اور حتیٰ کہ اعضائے تناسلی پر نکلتے ہیں ۔ اعصابی بد نظمی کے نتیجے میں ایگزیما۔ہاتھوں پر موہکے۔کلائی سے کہنی تک زخموں کا پیدا ہونا ۔ علامات میں بہتری سورج کے سامنے لیٹنے سے، گرم باتھ لینے سے، لیٹ جانے سے، صبح کے وقت اور کھانے سے آتی ہے۔اس کی علامات میں زیادتی دماغی مشقت کے دوران ،غصے میں ہوں،خوف سے،مطالعہ کے دوران اور ذہنی دباو کے دوران ہوتی ہیں۔
    ANTIMONIUM CRUDUM
    ٭-”اینٹی مونیم کروڈ“میں منہ کا ایگزیما جو زیادہ پرانا نہ ہو۔نتھنوں کاایگزیما، نتھنے شگاف دار،کھردرے اور کھرنڈ سے ڈھکے ہوئے۔کٹے پھٹے اوران سے بھوسی جھڑے ۔ایسا ایگزیما جس کے ساتھ بد ہضمی پائی جاتی ہو ۔ایسا ایگزیماجس پرموٹا سخت اور شہد کے رنگ جیسا کھرنڈ آتا ہو۔منہ کے کونے پھٹے ہوئے ۔ ہونٹ خشک،تھوک نمکین۔بلغم کی مقدار زیادہ اور چکنی۔گردن اور پشت پر خارش اور درد ۔زبان پر موٹی تہ چڑھی ہوئی جیسے سفیدی کی ہوئی ہو۔مسوڑھے دانت چھوڑ جائیں۔ان سے خون آسانی سے بہے۔کھوڑ والے دانت میں درد۔تالو میں کچا پن،ساتھ شدید بلغم کا اخراج ۔پر درد گوشت خورہ،ذائقہ نرم،پیاس کا فقدان پایا جاتا ہے۔اس میں جلد متاثر ہوتی ہے۔ چنڈیاں ،رگَڑیا کام کرنے سے جِلد کا سَخَت ہو جانا جیسے ہاتھ یا پاوں کی ہوتی ہیں ۔پاوں پر نوک دار مسّے بڑی تعداد میں نمودارہوں۔ خصیوں کی تھیلی اور اعضائے تناسلی پر خارش ۔اس کے مریض کا مزاج جھگڑالو ،ناراض اور بغیر کسی وجہ کے ناخوش رہتا ہے۔بد مزاج ،تنہائی پسند ۔ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا ۔ مریض سورج کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔اور ٹھنڈے پانی سے نہانا برداشت نہیں ہوتا۔
    ANTIPYRINUM
    ٭-اینٹی پائرین =میں جلد پر سرخ داغ پڑ جاتے ہیں، ایگزیما، آبلے ، سخت خارش،پتی اچھلتی ہے جو اچانک ظاہر ہو اور اچانک غائب ہو جائے ۔ پَتّی کی بیماری جس میں چہرہ ہاتھوں اور تولیدی اعضا کی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اور خارش ہوتی ہے۔آلہ تناسل کی کھال پر سیاہ رنگ کے داغ اور بعض دفعہ استسقاءبھی پایا جاتا ہے۔اس کے مریض میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ میں پاگل ہو جاوں گا۔بے چین،پریشان،نگاہ کا اور غیب سے باتیں کرنے کا چھلاوہ۔
    ARBUTUS ANDRACHNE
    ٭-(آربیوٹس انڈرے چنے) میں ایگزیماجس کے ساتھ چھوٹے اور بڑے جوڑوں میں درد بھی ہوتاہے مفید ہے۔جوڑوں کا ورم خاص طور پر بڑے جوڑوں کا۔یہ دوا پیشاب کو صاف بھی کرتی ہے۔کمر درد اور جلدی علامات اپنی جگہ بدلتی رہتی ہیں۔ مثلا جلدی علامات مٹ جائیں تو جوڑوں کی دردیں شروع ہو جائیں پائی جاتی ہیں۔
    ARSENICUM IODATUM
    ٭-آرسینی کم آئیوڈائیڈ=میں داڑھی کا ایگزیما،جس سے پانی جیسی رطوبت نکلے۔ جلد خشک ،جس سے چھلکے اتریں،اس میں خارش ہوتی ہے۔بڑے پیمانے میں پتلی پتلی تہیں اُتریں۔تہ کے نیچے سے رطوبت نکلتی ہے۔ایک پیدائشی جلدی مرض جس میں جلد سخت اور خشک ہو جاتی ہے(مچھلی کی جلدکی طرح)۔خنازیر کی موٹی موٹی گانٹھیں،آتشک کی گانٹھیں۔کمزور کر دینے والے رات کے پسینے ۔ ایسی خارش جس میں دھونے میں اضافہ ہو۔لاغری ۔سوراسس۔ایکنی سخت ،چھرے کی طرح کے سخت گول کیل جن کی تہ بڑی سخت اور اوپر چھوٹی سی پھنسی بن جائے۔
    ARUNDO MAURITANICA
    ٭-ارنڈو میوریٹیکا=میں کانوں کے پیچھے ایگزیما پایا جاتا ہے۔ ایگزیما ،خارش اورسرسراہٹ محسوس ہوتی ہے خاص طور پر چھاتی میں اور ہاتھوں میں۔انگلیوں اور ایڑیوںمیں شگاف(پھٹ جانا) پایا جاتا ہے۔یہ دوا بنیادی طور زکام کی حالتوں میں نیز ”ہے فیور“ میں کام آتی ہے۔ اس کا ”ہے فیور“ تالو میں جلن اور خارش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ مردوں میں ہم آغوشی کے بعد منی کی نالیوں میں درد ہوتا ہے۔
    BACILLINUM
    ٭-بیسی لینم میں رنگ ورم،سکری ،پپوٹوں کا ایگزیما،گردن کے گلینڈز بڑھے ہوئے اور سخت۔ناشتہ سے قبل اسہال پائے جائیں،ضدی نوعیت کی قبض جس کے ساتھ ناگواربو کے اخراج پائے جاتے ہیں۔،بیسی لینم میں تکالیف رات کو اور صبح سویرے اور ٹھنڈی ہوا میں بڑھتی ہیں۔یہ دوا پھیپھڑوں میں رکے ہوئے خون کو منتشر کرتی ہے۔اس طرح ٹی بی کا تدارک کرنے والی ادویات کا راستہ صاف کرتی ہے۔
    BALSAMUM PERUVIANUM
    ٭-بالسمم پیروویم= ناک میں ایگزیما ساتھ زخم،اخراجات کھل کر گاڑھے ۔پرانا نزلہ جس میں بدبودار اخراجات پائے جائیں۔
    BERBERIS AQUIFOLIUM
    ٭-بربرس ایکوفولیم=خشک ایگزیما،سوراسس،جوانی کی کیلیں ،جلدخشک ،کھردری ،چھلکوں والی،چندیا پرخارش والی پھنسیاں نکلیں جو چہرے اور گردن تک پھیل جائیں۔چھاتیوں پردرد والے گومڑے نکلیں ۔شدید قسم کی خارش،غدود میں سختی پائی جاتی ہے۔اس کو مدر ٹنکچر میں بڑی مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔یہ دوا چہرے کو صاف کرتی ہے۔جن چہروں پر کیل ،چھائیاں ،داغ ،چہرہ پھولا ہوا اور پمپلز،پیلی جلد،مومی، پیلی سفیدہوتی ہے۔رخساروں پر گرمی کے کوندے۔چہرے پر بیماروں والے اثرات پائے جائیں۔ یہ دوا تمام غدود کو طاقت دیتی ہے اور جسم کی پرورش کرتی ہے۔
    BERBERIS VULGARIS
    ٭-بربیرس ویلگریس=مقعد اور ہاتھوں کا ایگزیما،ایگزیما کا مواد دائرے کی صورت میں بعد میں ایگزیمائی سوزش پائی جائے۔چپٹے مسّے،خارش،جلن جوکھجلانے سے بڑھیں ۔ ٹھنڈک سے بہتری آئے۔تمام جسم پرچھوٹی چھوٹی پیپ دار پھنسیاں پائی جائیں۔
    BIXA ORELLANA
    ٭-بکسا اوریلانا=کا استعمال کوڑھ،جذام ،ایگزیما اور ایک مرض جس میں جلد ہاتھی کی کھال کے مشابہ ہو جاتی ہے تجویز کیا جاتا ہے۔
    BORAX VENETA
    ٭-بوریکس ویناٹا= میں ایگزیما،ہاتھ پاوں کی انگلیوں کا ایگزیما اور ناخنوں کا گرنا،زنانہ شرم گاہ کی بیرونی تکون کی خارش ۔اس کی مریضہ کا بظرپھولا ہوا ،درد سے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔دانے نکلتے ہیں جن میں خارش ہو۔جلدغیر صحت مند ،ذرا سی چوٹ بھی پک جاتی ہے۔ داد ،سرخبادہ کی سوجن اور تناو۔چہرے کا سرخبادہ،ہاتھ کی انگلیوں کی پشت پر خارش ۔جب بچہ ایک چھاتی سے دودھ پی رہا ہو تو درددوسری چھاتی میں ہوتا ہے۔سردیوں میں ہاتھ پیر پھٹ جاتے ہیں،مریضہ کوکھلی ہوا میں سکون ملتا ہے۔ہاتھوں کی انگلیوں کی سوجن،خارش ،ڈنگ لگنے جیسا دردہوتا ہے۔ اس کی مریضہ جھولا نہیں لے سکتی جب جھولا نیچے آتا ہے شدید ڈر لگتا ہے ۔ سیڑھیاں اترنا خوف کی وجہ سے مشکل ہو جاتا ہے۔نوجوان لڑکیوں کی ناک لال ہوتی ہے۔ منہ میں سفید رنگ کے چھالے پڑتے ہیں۔ لیکوریا میں انڈے کی سفیدی جیسی رطوبت آتی ہے ، ساتھ یہ احساس پایا جاتا ہے جیسے گرم پانی بہ رہا ہے۔حیض وقت سے بہت پہلے، درد کے ساتھ ، کثرت کے ساتھ چھچھڑے خارج ہوں پیٹ میں مروڑ۔ بانجھ پن میں یہ دوا استقرار حمل کو آسان بناتی ہے۔بالوں کے آخر پر گانٹھیں پڑ جاتی ہیں۔ جلدی علامات میں اس کو تیسری طاقت میں استعمال کرنا چاہیے۔
    CALCAREA SULPHURICA
    ٭-”کلکیریا سلف “میں بچوں میں خشک ایگزیما پایا جاتا ہے ۔ ایگزیما اور بے حس و حرکت غدودوں میں سوجن پائی جاتی ہے۔یہ ایک خون صاف کرنے والی دوا ہے یہ خون کی دھار سے ضائع شدہ اجزاءکو ہٹانے میں مدد کرتی ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب وہاں پیپ کی موجودگی ہو۔ایکنی ،پھوڑے،بائلز اور پمپلز پائے جائیں ۔کلکیریا سلف میںایسے کٹس،زخم،اور وہ زخم جو کچلے جانے پر ہوںان سے پیلی پس خارج ہو رہی ہواوروہ روبصحت نہ ہو رہے ہوں۔جلدی بیماریاں جس کے ساتھ پیلی پپڑیاں پائی جائیں۔بالوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے بہت سارے پمپلز،کھرچنے پرخون نکلے پایا جاتا ہے۔”کلکیریا سلف “کا بنیادی دائرہ اثر جگر،گردے اور جوڑنے والے ٹشوز پر ہوتا ہے۔یہ جگر کو صاف کرنے والی دوا ہے۔یہ پانی اور ضائع شدہ،ٹوٹ پھوٹ کے شکار ریڈ بلڈ سیلز کو جدا کرتی ہے۔اگر یہ ریڈ بلڈ سیلز کو باہر نہ نکالا جائے تو نزلاتی اخراجات اور جلدی خارش کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں۔(یہی کام وائٹ بلڈ سیلز کے ساتھ نٹرم سلف کرتی ہے) یہ دونوں ادویات ایک ساتھ اچھا کام کرتی ہیں۔٭-کلکیریا سلف کا مقابلہ ہیپر سلف،سلیشیا سے کیا جاتا ہے۔یہ ہیپر سلف سے زیادہ گہرا کام کرتی ہے ،جب ہیپر سلف کام کرنابند کر دے تو کلکیریا سلف کام آتا ہے۔سلیشیااس سے قبل استعمال ہوتی ہے ۔ مواد کے اخراج کے نکلنے میں بطور حفظ ماتقدم کے استعمال کرنی چاہیے۔
    CALENDULA OFFICINALIS
    ٭- کیلنڈولا آفیشی نیلس میں ایگزیما جیسی حالت کے ساتھ بہرہ پن ہوجو مرطوب موسم میں یا مرطوب جگہ پر بڑھتا ہے۔ رحم میں غیر معمولی اضافی نشو ونماکی وجہ سے خلیوں کی جسامت میں اضافہ ساتھ اپھارہ اور تیزابیت پائی جائے تو ”کیلنڈولا“10M دوا ہے۔
    CANTHARIS VESICATORIA
    ٭- کینتھرس ویسی کیٹوریا میں خصیوں اور آلاتِ تناسل کے ا ٓس پاس کا ایگزیما جو کثرت سے پسینہ آنے کے بعد بنا ہو۔یہ دوا آگ سے جلے اور ایگزیما میں خارجی طور پر کام آتی ہے۔ کینتھرس میں زہر آلودجلدی سوزش ساتھ خون بہنا پایا جاتا ہے۔ گینگرین بننے کا رجحان۔ پھنسیوں سے آٹے کی طرح کے چھلکے اُتریں۔آبلے والی پھنسیاں جس کے ساتھ جلن اور خارش ہو۔جلددھوپ سے جھلسی ہوئی،جلی ہوئی اس میں کچا پن اورجلن دارٹیسیں جس میں کمی ٹھنڈک پہنچائے سے آئے ۔ سرخبادہ ، چھالوں کی طرح کے ساتھ شدید بے چینی۔رات کو پاوں کے تلوے جلتے ہیں۔
    CHRYSAROBINUM
    ٭-کرائی ساروبن= میں کان کے پچھلے حصے کا ایگزیما۔کان اور آس پاس کی جگہ ایک کھرنڈ سے ڈھک جاتی ہے۔کیل مہاسے ،خاص طور پر رنگ وارم، سوراسس،وائرس کے حملہ کی وجہ سے آبلہ نما شگاف، گندا موٹا کھرنڈ آنے کا رجحان ۔آنکھ کی پلکوں کی سوزش ۔آشوب چشم ۔پتلی کی سوزش چندھیا پن ۔بینائی کے اعصاب کی زود حسی۔یہ دوا جلد میں زبردست سوزش لاتی ہے۔چنانچہ اس کے زیر اثر داد،خراش کے دانے (سوراسس)،چمبل ،پیر میں داد۔گلابی دانے اور مہاسے وغیرہ پائے جاتے ہیں۔اور ان میں استعمال نہایت کامیابی سے ہوا ہے۔بدبودار چھالے۔ان کے اوپر کھرنڈ ہو۔یہ آبلے باہم مل جائیں ۔اور پھر ان کے اوپر جیسے ایک ہی کھرنڈ آ گیا ہو۔یہ کھرنڈ ساری چندیا کو گھیر لیتا ہے۔اس میں زبردست خارش۔خاص طور پر ٹانگوں ،رانوں اور کانوں پر خشک نوکدار پھنسیاں ،خاص طور پر آنکھوں اور کانوں کے آس پاس ان کے اوپر کھرنڈ جمتا ہے۔اور نیچے پیپ آ جاتی ہے۔(یہ علامت مزیریوم میں بھی پائی جاتی ہے)جلد کی ایسی حالتوں میں بہترین کام کرتی ہے ۔
    CICUTA VIROSA
    ٭-سائیکیوٹاوروسا=میں جلد پر ایگزیما جس میں خارش نہ ہو، رطوبت خشک ہو کر سخت ہو جاتی ہے اور اس کی رنگت لیموں کے چھلکے جیسی زرد ہو جاتی ہے۔دانے کے دبنے کے بعد ہونے والی دماغی خرابیاں ۔ اُبھری ہوئی پھنسیاں اتنی بڑی جتنی مٹر کے دانے،زرد رنگ کی پرانی پھنسیاں ۔پرانے زرد زخم ایک جلدی مرض، جراثیمی مرض ، جلد سرخ و متورم ہوکر چھوٹے چھوٹے چھالے بنتے ہیں جن سے پانی رستا ہے۔ ”سائیکیوٹا وروسا“میں جلدی علامات میں خارش والے چھالے،ساتھ منہ پرپیلی سکیب،جلد کھردری،گل مونچھے(منہ کے ایک طرف بالوں کا اُگنا) پایا جاتا ہے۔یہ دوا بالخصوص اعصاب کو متاثر کر کے تشنجی کیفیات لاتی ہے۔جسم کمان کی طرح اکڑ جاتا ہے۔سر ،گردن اور ریڑھ پیچھے کی طرف جھک جاتے ہیں۔
    COMOCLADIA DENTATA
    ٭-کوموکلیڈیا ڈنٹاٹا= میں جلد سرخ اور پمپلز خارش زدہ،سرخ بخارکی طرح پورے جسم پر سرخی۔سرخبادہ، گہرے زخم جن کے کنارے سخت ہوں۔جذام۔جلد پر سرخ دھاریاں(یوفوریبیا)دھڑ کا ایگزیما (گومڑے کی طرح کا) اور ہاتھ پاوں پر چھالوں کی طرح کے۔اس میں رسٹاکس کی طرح کی بہت سی جلدی علامات پائی جاتی ہیں ۔لیکن اس کی مخصوص علامت دائیں آنکھ میں درد کا پایا جانا ہے۔ ایسے جیسے آنکھ کو باہر کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔اس میں اضافہ گرم اسٹو کے قریب جانے سے ہوتا ہے۔اس دوا کا بنیادی اثرآنکھ اور جلدی علامات پر بہت اہم اور قابل ذکر ہوتا ہے۔ہڈی کے گڑھوں کی شکایتیں ،کمر کے نچلے حصہ کی تکونیہ ہڈی کولہے کی ہڈی اور پیٹ کا درد۔درد تپکن کے ساتھ آتا ہے اور حرارت سے بڑھتاہے ۔جوڑوں اور ٹخنے میں درد ہوتا ہے۔
    CORNUS ALTERINFOLIA
    ٭-کورنس ایلٹرنی فولیا=اس میں چہرے اور گردن پر چھوٹے چھوٹے چھالے اور ان میں خارش ہوتی ہے۔دائیں کلائی اور دائیں طرف ٹھوڑی پر خارش،چھوٹے چھالے ،ان میں سے ایک اندھا،اگلے دن ایک اور نکل آئے۔ماتھے پررنگ وارم۔اس کے جوشاندے نے اندرونی اور بیرونی طور پر ایگزیما کو درست کیا ہے۔جلد میں ہر جگہ کریک پائے جاتے ہیں خاص طور پر وہ جگہیں جو فولڈ ہوتی ہیں یا جہاں کریز ہوتی ہے۔ان سے چپکنے والاپانی بہتا ہے۔اس کا مریض تھکا ماندہ،نیند خراب،بخار،بے چینی،ایگزیما،جلد میں کریک،چھاتی ٹھنڈی ایسی جیسے برف سے بھری ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔
    CORNUS CIRCINATA
    ٭-”کورنس سرسناٹا“میں دودھ پیتے بچوں کے چہرے پر آبلہ دار ایگزیما ، شیرخوار کے بچوں کے منہ کے آبلے۔آبلہ دار پھنسیوں کے ساتھ جگر کی پرانی خرابی آنکھ کے ڈھیلوں میں درد۔یا معدہ میں سوزش کی وجہ سے منہ کے چھالے پائے جاتے ہیں۔یہ دوا میوکس ممبران کے چھالوں اور زخموں کی ایک مشہور دوا ہے۔اس میں مزمن ملیریا،سوزش جگر ، یرقان۔صبح کے وقت کمزوری۔ معدے کے گڑھے میں درد،معدہ پھولاہواہوتا ہے۔
    FERRUM ARSENICUM
    ٭-”فیرم آرسینی کم“=جلد خشک ایگزیما،سورائسس،زرد زخم ( ایک جلدی مرض جس میں چھوٹے چھوٹے چھالے بنتے ہیں جن سے پانی بہتا ہے)۔جگر اور تلی بڑھی ہوئی ساتھ بخار،غیر ہضم شدہ خوراک کے پاخانے،البیومنیریا پایا جاتا ہے۔سادہ نوعیت کا اور مہلک انیمیا اور سبز بھس پایا جاتا ہے۔
    FORMALINUM
    ٭-فارمالینم = میں زخم کے آس پاس ایگزیما پایا جاتا ہے۔جسم کے دائیں بالائی حصہ پر پسینہ بکثرت آتا ہے۔جلد ادھڑ جاتی ہے۔ جھریاں اور جلدایسی جیسے چمڑے پر پڑی ہوئی شکنیں ہوں۔ اس سے چھلکے اتریں۔چھوت اور بدبو کو دور کرنے کے لئے نہایت مقوی دوا ہے۔یہ دوا ان تمام حقیقی اور امکانی جراثیم کو مارتی ہے۔ جو انسانی جسم میں آ کر نقصان کا باعث بن سکتے ہوں۔اس دوا کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تندرست ریشوں کو قائم رکھتی ہے۔یہ دوا مہلک قسم کی رسولیوں کے لئے بھی مفید ہے۔
    FULIGO LIGNI
    ٭-”فیولیگولِگنی“ کا اثر غدودی نظام پر،میوکس ممبران پر اور ضدی قسم کے السرزپر،جلد کی بیرونی پرت پر،چنبل(جلد پر خارش)۔منہ کی بلغمی جھلیوں کی پرانی خراش،اندام نہانی کی سوزش۔رحم سے اخراج خون ۔کینسر،خاص طور خصیہ دانی کا کینسر،خون میں کینسر کے خلیوں کی موجودگی ،بچہ دانی کا کینسرجس کے ساتھ بچے دانی سے اخراج خون جو دو ماہواریوں کے درمیان ہو ۔افسردگی،خود کشی کا رجحان پایا جاتا ہے۔
    GRAPHITES
    ٭- ”گریفائٹس“ کا ایگزیما عموماً کانوں کے پیچھے،سر کے بعض حصوں میں ،کہنیوں اور ہاتھوں کے جوڑوں پرہتھیلیوں پر، گھٹنوں پر ، بریسٹ کی نپل پر ہوتا ہے۔اس سے چپکنے والا مادہ ضرور نکلتا ہے اور پھر سخت سا کھرنڈ بن جاتا ہے۔ میزیریم (Mezereum)کے اخراجات بھی چپکنے والے ہوتے ہیں جو سر کے اوپر ایک خول سا بنا دیتے ہیں۔بعض چھوٹے بچوں کو بہت شدید قسم کا ایگزیماہوتا ہے اور وہ خارش کر کے جسم کو لہو لہان کر لیتے ہیں اور بہت تکلیف دہ صورت حال ہو جاتی ہے۔ان کے ایگزیما کی علامتیں ”گریفائٹس“ کے علاوہ سورائنم (Psorinum) سے بھی ملتی ہیں۔ ان کے اندر اکثر کسی گہری بیماری کا فاسد مادہ موجود ہوتا ہے۔ گریفائٹس کا ایگزیماپپوٹوں پر اور اس میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ ناک کا ایگزیما،منہ اور ٹھوڑی کے ارد گرد نمدار ایگزیما۔جلد کھردری ،سخت ،جلد کا وہ حصہ جہاں پر ایگزیما نہ ہومستقل خشکی پائی جاتی ہے۔ ایسا ایگزیما جس سے شہد کی طرح کا مواد نکلتا ہے۔ ”گریفائٹس “ کے اخراجات اور مواداگر اچانک کسی بھی وجہ سے بندہو جائیں۔تو اس کے نتیجے میں کرانک نمونیہ ہوتا ہے جو موت کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے ۔ایسی حالت میں اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔عضو تناسل پر نملہ دارخارش ۔انگور آئے زخموں کے پرانے نشانوں کے ارد گرد ابھار اور ریشہ دار پھوڑے۔ایگزیما اور اندرونی بیماریاں مثلاً خون کی کمی ،قبض،موٹاپا اور رطوبتیں خارج کرنے والے بغیر نالی کے گلینڈزجو خون میں ہارمون خارج کرتے ہیں مثلاً لبلبہ،تھائیرائیڈ،پچوٹری گلینڈز کی کارکردگی کمزورہو ایگزیما کے ساتھ ادل بدل کر آئیں تو اس کی دوا ”گریفائٹس“ہے۔اس کے مریض جسمانی طور پر مقابلتاً مضبوط ہوتے ہیں۔ جلدی امراض کا رجحان ۔جلن دار خونی بواسیر،سخت قبض ، فضلہ انتڑیوں کے نچلے حصہ میں بڑے بڑے ٹکڑوں کی شکل میں تہ بہ تہ جمع ہوتا رہتا ہے۔جلد خشک۔ناخن بدوضع اور بھربھرے۔ قبض ۔ توند نکلی ہوئی ہوتی ہے۔گریفائٹس کامزاجی مریض ہر وقت متفکر نظر آتا ہے۔غمگین اور مایوس ہوتا ہے۔ذہن پر غبار سا چھایا رہتا ہے۔سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہو تی ہے۔صبح اُٹھنے پر چکر آتے ہیں اور ذہن سن سا محسوس ہوتا ہے۔ایسے مریض میں بیان کردہ ایگزیما کی علامات پائی جائیں تو گریفائٹس بہت کارآمد دوا ہے۔
    HIPPOZAENIUM
    ٭-ہائپوزینیم = ایگزیما ،خوفناک سرخبادہ۔چھالے، اور پھوڑے ،زخم،آتشکی چھالے ۔جسم کی وہ شریان جس سے بے رنگ عرق نکلتا ہے اس میں سوجن آ جاتی ہے۔غیر مستحکم جوڑ وں میں سوجن،بازو میں گانٹھیں پائی جاتی ہیں۔”ہائپوزینیم“یہ ایک قوی الاثر نوسوڈ ہے جس کو ڈاکٹر جے جےگرتھ ولکین سن نے متعارف کروایا ہے۔اس کی علامات کا احاطہ تپ دق ،کینسر ،سفلس وغیرہ میں جزو لازم ہے۔اور پرانے نزلے ،سکریفولیس سوجن ،خون کی خرابی ،سرخبادہ میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ ناک کی پرانی سوزش،خراش دارمواد کا اخراج پایا جاتا ہے۔ ناک سوجی ہوئی نزلہ ،نتھنوں کا پھوڑا ،زخم تیزابی اخراجات خراش دار ،خونی،ناگوار بو والے،ناک کے اگلے سوراخوں پر ٹی بی کی گانٹھیں۔سامنے والے سائنس(ناک کے اندرونی حصہ میں پایا جانے والا گڑھا) اور حلقوم پر گومڑ اور زخم پائے جاتے ہیں ۔
    HYDRASTIS CANADENSIS
    ٭-ہائیڈراسٹس=بالوں کی ایک لکیر کے ساتھ پیشانی پر ایگزیما پایا جاتا ہے۔
    HYDROCOTYLE
    ٭-(ہائیڈرو کوٹائل) میں خشک اچانک پھوٹنے والی جلد،اوپر والی جلد موٹی اس سے چھلکے اترنے لگتے ہیں۔دھڑ،بازووں ،ٹانگوں ،ہتھیلیوں اور تلووں کا چمبل،سینہ پر پیپ بھری پھنسیاں ،چکر دارجگہیں ،چھلکے دار کنارے۔ناقابل برداشت خارش۔خاص طور پر تلووں میں پسینہ زیادہ آتا ہے۔آتشک کے فتور ۔کیلیں کوڑھ،فیل پا ۔چہرے کی جلد کی ٹی بی پائی جاتی ہے۔یہ دوا ان حالتوں میں مفید ہے جب کہ کسی عضو کی اندرونی ساخت میں سوزش آئی ہو۔
    ICHTHYOLUM
    ٭-”اکتھیولیم“=میں چھلکے اترنے والا ایگزیما جس میں خارش ہو۔ کئی کئی پھوڑے اکٹھے نکلتے ہیں۔چہرے کی جلد خشک ،ٹھوڑی پر کیل، گرمی،سوزش اوراس میں خارش ہوتی ہے۔دوران حمل سخت خارش ۔چمبل ،کیل ،گلابی دانے سرخبادہ۔ یہ دوا بلغمی جھلیوں ،گردوں اور جلد پر فوری اثر کرتی ہے۔زبردست دافع کِرم ہے۔ سرخی ،درد ،سوزش اور تناو کو کم کرتی ہے۔بوڑھوں کی موسم سرما کی کھانسی کی شاندار دوا ہے۔دائیں کندھے اور دائیں پاوں کا لنگڑا پن پایا جاتا ہے۔پرانی پتی اچھلتی ہے ۔ٹی بی میں یہ دوا بطورنیوٹریشن مدد دیتی ہے۔
    INSULINUM
    ٭-(انسولین)ڈاکٹر ایف ولیم بیکر نے ہومیو یتھک طریق سے اس کے تجربات کئے ہیں ان کے مطابق یہ چہرے کی کیلوں ،کاربنکل ،جلد کے سرخ داغ اور خارش والے ایگزیما میں بھی مفید ہے۔ نقرس،ابتدائی ذیابیطس جب کہ جلدی علامات رہنمائی کرتی ہوں ایسی حالت میں کھانے کے بعد تین بار استعمال کریں۔ اس میں ضدی امراض ۔پھوڑے پھنسیاں ،پھولی ہوئی رگوں کے زخم جس کے ساتھ پیشاب کی زیادتی پائی جاتی ہے۔
    IRIS VERSICOLOR
    ٭-”آئی رس ورسی کولر“=میں ایگزیما جس میں خارش رات کو ہو۔ہرپیز اوسٹر(ایک جلدی مرض جس میں جسم کے بائیں جانب چکتے پڑتے ہیں اور ران پر سوزش آتی ہے) ساتھ بد ہضمی پائی جاتی ہے۔پیپ دار پھنسیاں۔سوراسس (ایک مزمن جلدی مرض جس میں جلد پر چھلکے سے نمودار ہو جاتے ہیں)جس میں ناہموار چمکدار چکتے نمودار ہوتے ہیں۔بائیں طرف کے عرق النساءجو چوتڑ کے جوڑ سے گھٹنوں تک ہو، ایسا محسوس جو جیسے چوتڑ کے جوڑکو پلاس سے دبایا جا رہا ہے۔سوزاک کے نتیجے میں پیداہونے والا گٹھیا کا دردپایا جاتا ہے ۔
    JABORANDI
    ٭-’جبرانڈی “(پلو کارپس)میں خشک ایگزیما پایا جاتا ہے۔ پورے جسم پر پسینہ کثر ت سے آتا ہے۔جلد کی مستقل خشکی۔ ایک طر ف کے ا ٓدھے حصے پر پسینہ آتا ہے۔پسینہ کے ساتھ سردی لگتی ہے۔یہ دوا غدود کو تقویت پہنچاتی ہے۔پسینہ خوب لاتی ہے۔لیکن جب رات کو ٹی بی کے مریضوں کو پسینہ بکثرت آتا ہو نہایت موثر دوا ہے۔
    JUGLANS CINEREA
    ٭-”جنگلانس سنیریا“میں ایگزیما جو خاص طور پرنیچے کے اعضاءپر، تکونی ہڈی (جو کمر کے پانچویں مہرے اور دمچی کی ہڈی کے مابین واقع ہوتی ہے) پر اور ہاتھوں پرپایا جاتا ہے۔جلد سرخ جیسے سرخ بخار کے انتشار کے باعث آتا ہے ۔ یرقان ،ساتھ جگر اور دائیں طرف کے کندھے کے جوڑمیں درد پائی جاتی ہے۔خارش اور چبھن جیسے نوکیلی چیز کے چبھنے سے آئے،چھالے۔جلد پر سرخ دھبے پڑ جائیں اور سرخبادی جیسی سرخی پائی جاتی ہے۔
    KALIUM ARSENICOSUM
    ٭-(کالی آرسینی کم)= میں پرانا ایگزیما جس میں ناقابل برداشت خارش ہو جوگرماہٹ سے ،کپڑے اُتارنے سے ،اور چلنے پھرنے سے بڑھتی ہے۔،جلد خشک،چھلکے والی مرجھائی ہوئی ۔کیل ،مہاسے جن میں ایام حیض میں تکلیف میں اضافہ ہو۔ چمبل سرخ دانے اور ناسور۔بازووں اور گھٹنوں کے جوڑ پر سے جلد پھٹ جاتی ہے۔ نقرسی گانٹھیں جن میں موسم کی تبدیلی سے زیادتی ہو۔جلدی کینسر جب کہ بیرونی علامات ظاہر ہوئے بغیر ہی اچانک مہلک آثار آ چکے ہوں۔جلد کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی گانٹھیں نمودار ہوں۔اس دوا میں ضدی اور مہلک قسم کے جلدی امراض کا رجحان پایا جاتا ہے۔اس کا مریض گھبرایا ہوا اور خون کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔عورت کے رحم کے منہ پر آتشکی یا سوزاکی دانے نمودار ہوتے ہیں۔
    KALIUM MURIATICUM
    ٭-”کالی میور“=میں ایگزیما، کیل ،سرخ داغ ،ساتھ چھالے جن میں سے گاڑھا اور سفید مواد بھرا ہوا ہو۔خشک آٹے کی طرح چھلکے اتریں۔ چکنائی پیدا کرنے والی تھیلی کی سوزش۔
    KALIUM SULPHURICUM
    ٭-کالی سلف“ =کی جلدی علامات میں ایگزیما ،چنبل (آرس، تھائی رائیڈینم) ، جلن،خارش ،پھنسیوں میں خارش،پتی اچھلتی ہے۔ناک کے غدود، عورت کی چھاتی پر رسولی جلد کا سرطان،روغن پیدا کرنے والے غدودوں سے روغنی اجزاءکا غیر معمولی اخراج،ایک جلدی متعدی بیماری جس پر موٹا کھرنڈ آتا ہے۔سر کی جلد یا داڑھی پررنگ وارم جس کے بڑی مقدار میں چھلکے اتریں۔
    KREOSOTUM
    ٭-”کریازوٹم“ انگلیوں کی سطح کی پشت پر اور ہاتھوں کی چمبل پائی جاتی ہے ۔ خارش میں اضافہ شام کی طرف بڑھتے وقت ہوتا ہے ۔ تلووں میں جلن۔ بوڑھاپے کی گینگرین۔چھوٹے زخموں سے اخراج خون آسانی سے ہوتا ہے۔ (کروٹیلس ، لیکسس ، فاسفورس)چھالے اور ہرپیز ۔ خون کا زیر جلد جمع ہونا۔اس کے اندر خراش دار اور بدبودار اور جلن پیدا کرنے والی رطوبتیں ۔اخراج خون ۔زخم ،کینسر ۔جسم سے جو بھی مواد یا رطوبت خارج ہو۔اس میں سڑاوبڑی تیزی سے آتا ہے۔ جلن کے ساتھ دردیں ۔کینسر کا رجحان والے مریض میں بھی کریازوٹم مفید ہے۔
    LOBELIA ERINUS
    ٭-”لوبیلیا ارینس“= میں مہلک افزائش جس کی بڑھوتی تیزی سے ہوتی ہے۔ پیڑو کی تہ میں بہنے والا کینسر پایا جاتا ہے۔اس کے اندر پیٹ میں شدید قسم کے پیچ کس کی طرح کسنے کی طرح کی دردیں ۔ جلد پر شدید خشکی جلد پر شدید خشکی ناک اور منہ سے متعلق میوکس ممبران،برانڈی کا ذائقہ محسوس نہ ہو،خشک ایگزیما کے نشان پہلی انگلی پرپائے جائیں ۔ چہرے کی مہلک بیماریاں ،سر پستان کا کینسر پایا جاتا ہے۔
    LOBELIA INFLATA
    ٭-”لوبیلیا انفلاٹا(انڈین تمباکو)ایسا بہرہ پن جو ایگزیما کے اخراجات کے دب جاتے کے نتیجے میں آئے ۔جلد میں سوئی گڑنے جیسا درد،خارش اور اس کے ساتھ سخت متلی پائی جاتی ہے ۔اس کے مریض میں کھانے کے بعد معدے میں ترشی پیدا ہوتی ہے۔دم پھولتا ہے۔کلیجہ میں جلن اور رال بکثرت آتی ہے۔متلی اور قے شدید قسم کی ۔ایسی کمزوری جس کی بنیادی وجہ معدہ ہوپائی جاتی ہے۔
    LYCOPODIUM CLAVATUM
    ٭-لائیکوپوڈیم کلیوٹم=میں کانوں کے پیچھے نم دار ایگزیمابہتا ہے ۔ایسا پرانا ایگزیما جس سے خون آسانی سے گرنے لگے ،جلد پر زخم بن جاتے ہیں۔جلد کے نیچے پھوڑے جن کوسینکائی کرنے سے تکالیف بڑھتی ہے۔چھپاکیHivesجو گرمی سے بڑھے، تیز خارش ،پھٹے ہوئے زخم میں خارش ۔کیل ۔پرانا ایگزیماجس کے ساتھ پیشاب کی تکالیف ہوں۔ جلدموٹی ،سخت ۔وریدیں پھیلی ہوئی۔تل رسولی جو ابھر رہی ہو۔بھورے داغ ،چھائیاں خاص طور پر چہرہ اور ناک کے بائیں طرف۔ جلدخشک سکڑی ہوئی ۔خاص طور پر ہتھیلی پر۔اورچمبل پائی جاتی ہے۔اس کے مریض کے پسینہ سے پیاز کی طرح کی بو آتی ہے۔یہ دوا تقریباًان تمام حالتوں میں جہاں جہاں یہ بطور دواکام کرتی ہے۔ وہاں آلات بول اور نظام ہضم اور جگر کی خرابیاں لازمی طور پر پائی جاتی ہیں۔ماتھے پر گہری لکیریں ،یا بل پائے جاتے ہیں۔اس کے مریض کی مزاجی علامات میں ذہنی طور پر مالیخولیا کا مریض ، اکیلے رہنے سے خوفزدہ ۔چھوٹی چھوٹی چیزیں اس کو برہم کرتی ہیں، انتہائی ذکی الحسی ۔کسی نئے کام کواپنے ذمے لینے سے نفرت کرتا ہے۔خود اعتمادی کی کمی ۔ یادداشت کمزور،خیالات تذبذب کا شکار ۔لفظ اور ہیجے غلط لکھے۔لائیکوپوڈیم کے مریض کی دماغی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔یادداشت کمزور ۔ رات کا اندھا پن۔بھوک کی کمی یا بے رغبتی تھوڑی سی خوراک سے پیٹ بھر جائے۔پیٹ پھولا ہواہوتا ہے۔
    MANGANUM ACETICUM
    ٭-مینگانم اساٹیکم= میں ایسا پرانا ایگزیماجس کے ساتھ قلتِ حیض بھی ہو۔ایام حیض میں یا موقوفی حیض کے زمانہ میں تکالیف بڑھتی ہیں۔جوڑوں کے آس پاس کی جلد میں پیپ پڑ جاتی ہے۔سرخ داغ نمایاں ہوتے ہیں ۔اس میں خارش جسے کھجلانے سے کمی آتی ہے۔کہنیوں وغیرہ کے موڑ پرگہری دراڑیں پڑتی ہیں۔چمبل اور سکری اترتی ہے۔ زخموں کے ارد گرد جلن ہوتی ہے۔
    MEZEREUM
    ٭-میزی ریوم=میں ایگزیما جس میں ناقابل برداشت خارش ہو۔ ٹھنڈک اور ساتھ خارش جس میں اضافہ بستر میں ہو۔زخموںمیں خارش اور جلن ۔ آس پاس آبلے بنتے ہیں۔ان کے چاروں طرف چمکدارآگ کی طرح کے سرخ نشان جیسے عورت کی چھاتیوں کی نپل کے گرد نیلا نشان کا حلقہ ہوتا ہے بنتا ہے۔زونا(ایک چھوت والی بیماری جس میں خارش اور درد کرنے والے چھالے پائے جاتے ہیں)ساتھ جلن دار دردیں ۔ ہڈیوں اور خاص طور پر لمبی ہڈیوں کی سوزش اور سوجن پائی جاتی ہے۔ہڈیوں کے ناسور ،ہڈی کا پھوڑا یاکسی ہڈی کا باہر کی طرف بڑھ جانا جس میں دردیں جو رات کو بڑھ جائیں۔درد چھونے سے اور مرطوب موسم میں بڑھتا ہے۔ خارش والے زخمو ںپر موٹا کھرنڈ آتا ہے۔جس کے نیچے سے بدبودار پیپ آہستہ آہستہ بہتی ہے۔
    MURIATICUM ACIDUM
    ٭-”میوریاٹک ایسڈ“= میں ہاتھوں کی پشت پر ایگزیما ۔ جلد پر گومڑے اور آبلے دار پھنسیاں جن میں خارش زیادہ ہو۔نیچے والے اعضاءپرکاربنکل کے زخم جن سے ناگواربو آتی ہو۔لال بخار جس میں سرمئی رنگ کے ددوڑے جن میں خارش کم ہو، باریک دانے ۔ مقعد میں خارش ہوتی ہے ۔ پیشاب کرتے وقت کانچ نکلتی ہے۔ایام حمل کی بواسیر،مسوں کی رنگت نیلی ،گرم اور ان میں سوئی گڑنے جیسا دردہوتا ہے۔
    NATRIUM MURIATICUM
    ٭-”نٹرم میور“ = میں ایگزیما ،جلد سرخ ،کچی اورمتورم ۔یہ تکلیف نمک کھانے سے اور ساحلِ سمندر پر بڑھتی ہے۔جلدچکنی ۔خاص طور پر جہاں بال ہوں ۔خشک دانے بالخصوص چندیا کے بالوں کی جڑ میں اور جوڑوں کے موڑزپر۔بخار کے چھالے۔ چھپاکی جس میں خارش اور جلن ہو۔ خارش اور جلن اعضاءکے موڑ پر۔اعضا ءکے موڑوں پر پیپ دار خارش سر کی چوٹی کے ارد گرد کے اور کانوں کے پیچھے کھرنڈ دار پھنسیاں، ہتھیلیوں پر مسے نکلتے ہیں۔یہ دوا بالوں کی جڑوں کو متاثر کرتی ہے۔گنج پن میں،پتی اچھلتی ہے جس میں محنت کرنے بعد کھجلی ہو ۔جلد پر چکناہٹ پائی جاتی ہے۔
    OSMIUM METALLICUM
    ٭-اوسمیوم میٹ =ایسا ایگزیما جس کے ساتھ شدید خارش پائی جائے۔جلدسوزش والی۔پمپلز میں خارش۔بدبو دار پسینہ،بغلوں کے پسینے سے لہسن کی سی بوآتی ہے۔جس میں اضافہ رات کو ہو۔بڑھتے ہوئے ناخنوں کے ساتھ چمٹی رہتی ہے۔
    PETROLEUM
    ٭-”پٹرولیم“ میں ایگزیماجو کان میں اور پیچھے ہواور ایسا ورم جو جلد کا آپس میں رگڑنے کے نتیجے میں آئے ساتھ خارش پائی جائے۔آواز برداشت نہیں ہوتی اگر بہت سے لوگ باتیں کر رہے ہوں۔(پٹرولیم) میں تر ایگزیما جس میں جلن اور خارش ہو۔جلد پر خارش رات کو،سردیوں میں ہاتھ ،پیروں کا پھٹ جانا،بستر کے زخم ،جلدخشک،کھچی ہوئی سکڑی ہوئی ، نہایت حساس،کھردری،کٹی پھٹی،چمڑے جیسی ۔ہرپیز،ذرا سی چوٹ بھی پک جاتی ہے، (ہیپرکی طرح) رگڑ ،خراش (مرطوب جلد کی تہوں کے درمیان کی سطحی سوزش)ہاتھوں کا چمبل ۔موٹے سبز۔کھرنڈ ان میں جلن اور خارش ہو۔سرخ ،کچے ،پھٹاو،جن سے خون نکلے۔ایگزیما،چیر ۔ دراڑیں جو موسم سرما میں زیادہ تکلیف دیں۔
    PHOSPHORICUM ACIDUM
    ٭-فاسفورک ایسڈ میں ایگزیما مردوں میں خصیہ کی تھیلی پر پایا جاتا ہے۔جریان منی حتیٰ کہ نرم پاخانہ ہو خارج ہو۔
    PLUMBAGO
    ٭-پلمبیگو میں ایگزیمااندام نہانی پر پایا جاتا ہے۔
    PRIMULA OBCONICA
    ٭-پریمیولااوبکانیکا(موسم بہار کا گلاب) میں چہرے پرتر ایگزیما ، ٹھوڑی پر چھالے ۔بازووں پر،کلائیوں پر،کلائی سے کہنی تک،ہاتھوں پر،گومڑے اورکھال کھچی ہوئی ۔شدید خارش جس میں اضافہ رات کو ہو ۔ جلد سرخبادہ کی طرح سرخ اور سوجا ہوا۔چھوٹے دانے ابھرے ہوئے ۔ جلدی علامات کے ساتھ دماغی علامات پائی جاتی ہیں۔کندھوں کے ارد گرد گٹھیاوی دردیں۔ہتھیلیاں خشک اور گرم،انگلیوں اور جوڑوں سے کریکنگ کی آوازیں آئیں۔انگلیوں کے درمیان خارش ہوتی ہے۔ ہاتھوں کی پشت پر ارغوانی دھبے،ہتھیلی کی جلد سخت،انگلیوں پر چھالے پائے جاتے ہیں۔
    PSORINUM
    ٭-”سورائینم“= میں کانوں کے ارد گرد کے ایگزیما سے جارہانہ اخراجات ۔ کانوں کے ارد گرد ایگزیما ۔،تمام جسم پر کھرنڈدار دانے ۔ہر مشقت کے بعد پتی اچھلتی ہے ۔ انگلیوں کے ناخنوں پر چھالے نکلتے ہیں ۔ جلد گندی جودیکھنے میں سیاہ نظر آئے ۔جلد خشک، بے رونق ،بال کھردرے ۔ ناقابل برداشت خارش۔داد کے دانے خاص طور پر کھوپڑی پراور ایسے جوڑ جن کی موبلٹی متاثر ہو ساتھ خارش ہو۔ جس میں اضافہ بستر کی گرمی سے ہو۔غدود بڑھے ہوئے۔چکنائی والے غدود کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔جلد چکنی ،سست رو،اس کے زخم بڑی سستی سے بھرتے ہیں ۔ مریض سرد مزاج ، سردی قطعاً برداشت نہیں ہوتی،پسینہ زیادہ آتا ہے۔اس کے تمام اخراجات پسینہ ،بلغم اور پیشاب وغیرہ بد بودار ہوتے ہیں۔زکام کا رجحان پایا جاتا ہے۔سورائینم کی ایک مصدقہ علامت کہ اس کے اندرکتے کی سی بھوک جو بھوک کے بغیر ہو۔زندہ دل لوگوں کے جذبات کے دب جانے سے ناامیدی پائی جاتی ہے۔جس میں اضافہ اچانک موسم کی تبدیلی سے آئے۔ خارش،بھوک کے ساتھ سردردیا سردرد سے پہلے بھوک معلوم ہوتی ہے۔
    RHUS DIVERSILOBA
    ٭-رس ڈائیورسیلوبا=یہ دوا رسٹاکس کے اثرات کو ختم کرتی ہے۔اس کی جلدی علامات میں شدت،خوفناک خارش چہرے ،ہاتھوں اور اعضائے تناسلی پر سوجن پر ، جلد بہت حساس ایگزیما اور سرخبادہ ،شدید اعصابی کمزوری،تھوڑا سا کام بھی تھکاوٹ کا باعث ہو،تھکاوٹ کے باعث نیند کے لئے جھک جانا پایا جاتا ہے۔
    RHUS TOXICODENDRON
    ٭- رسٹاکس میں جلد سرخ ،سوجی ہوئی جس میں شدید خارش ہو۔ چھوٹی سی تھیلیاں، ہرپیز چھپاکی،آبلے ،چھوٹی چھوٹی تھیلیاں بہنے والی ۔ گلینڈز سوجے ہوئے۔ خلیوں کے نسیج کی سوزش۔جلن والی ایگزیمائی پھنسیاں جس میں جلن کے ساتھ چھلکے بننے کا رجحان پایا جائے۔ٹھنڈی ہوا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
    SANICULA AQUA
    ٭-سینی کیولا میں جلد گندی ،گریس کی طرح کی ،بھوری مائل،جھریاں پڑی ہوئیں۔ایگزیما،انگلیاں پھٹی ہوئی(پٹرولیم،گرے فائی ٹس)
    SARSAPARILLA OFFICINALIS
    ٭- سارساپریلا آفیشی نیلس= میں پھنسیوں کا اچانک پھوٹنا جو گرم موسم میں اور ویسی نیشن سے،پھوڑوں اور ایگزیما کے بعد آئے۔اس میں جلد سوکھی ،سکڑی ہوئی (یہ علامت ابراٹی نم،سینی کولا میں بھی پائی جاتی ہے)جلدخشک ،ڈھیلی،تر دانے داراور ان میں خارش۔ زخم ۔کھلی ہوا لگنے سے دانے نکلیں۔خارش جو ہر سال بہار کے موسم میں ہواور اس کے اوپر کھرنڈ آتا ہے۔دراڑیں ،ہاتھ پاوں پھٹے ہوئے۔جلد سخت ہوتی ہے ۔ شدید جلدی امراض جو موسم گرما میں آئیں۔سارساپریلا میں جلد پر لال ابھار والے دھبے ظاہر ہوں۔ جیسے آپ گرم کمرے سے ٹھنڈی ہوا میں جائیں۔جلد خشک ،سرخ پمپلز ،صرف خارش جب آپ گرمی کے سامنے ظاہر کریں۔نتھنوں اور منہ کے گوشوں کے قریب پھنسیاں اور مہاسے جیسی ساختیں جو پیدائشی طور پر آتشک مریض کو نکلتی ہیں۔ ان میں گہری جلن پائی جائے۔جلد سے پھوٹ پڑنے کے عمل کی بنیادی وجہ شدید سوزش ہوتی ہے۔بچہ چیختا ،اور بے چینی محسوس کرتاہے۔کھرنڈکھلی ہوا میں الگ ہو جائیں اور جلد سے مل کر جلد کھردری ہو جائے۔ایسے زخم جوچھالے پھوٹ پڑنے سے آئیں اور دائرے کی صورت میں بڑھیں،کھرنڈ پیدا نہ ہو،جس کی بنیاد میں زخم جو انگورآیا ہو،کنارے سفید،جلد ایسے ظاہر جیسے گرم پٹی کے دبانے سے ہو۔خون آب،سرخ اخراجات۔ایسے زخم جو پارہ کے ناجائز استعمال کے نتیجے میں آئیں۔جلدی سکڑی ہوئی۔داد جسم کے تمام حصوں پر،داد،سفلس کی مرض میں مبتلا مریض کے چھالوں کے پھٹنے سے بننے والے زخم۔یہ سفلس کے دوسرے درجے میں کام آتی ہے۔۔بہت سارے چھوٹے موہکے پائے جاتے ہیں۔
    SAXONITE
    ٭-سیکونائٹ =کا اثر جلد کو صاف کرنے اور اس کی شدت کو کم کرنے میں اور ناخوشگوار بُو سے چھٹکارا پانے میں اچھا کام کرتی ہے۔ اس میں ایگزیما،جلد جیسے حرارت سے جھلسی ہوئی،جلن دکھن اور خونی بواسیر پائی جاتی ہے۔
    SCROPHULARIA NODOSA
    ٭-”سکروفیلیریا نوڈوسا“ میں کانوں کے پیچھے اور ناف کے ارد گرد ایگزیما پایا جاتا ہے۔ماہواری سے قبل اور بعد میں بہرہ پن۔جس میں ماہواری کے بہاو سے بہتری آتی ہے۔کانوں میں گھنٹیاں بجیں جس سے اچانک سماعت ختم ہو جائے۔”سکروفیلیریا نوڈوسا“ گلینڈز کی سوجن اور مواد کے بہنے کی مفید دوا ہے یہ چھاتیوں کے اندرکی گانٹھوں میں بھی مفید ہے ۔اس کو مدر ٹنکچر میں استعمال کریں۔
    SKOOKUM CHUCK AQUA
    ٭اسکوکم چک ایکوا=جلدی امراض ،ایگزیما اور جلد خشک ہوتی ہے۔خوب بہنے والا نزلہ،اور مسلسل چھینکیں آتی ہیں۔جلد اور بلغمی جھلیوں سے اس کا خاص تعلق ہے۔نزلہ پتی اچھلنا،خون میں یورک ایسڈ کی کثرت پائی جاتی ہے۔=اسکوکم چک
    STAPHYSAGRIA
    ٭-سٹیفی سیگیریا= میں سر ،چہرہ کانوں یا کسی دوسرے عضو کا ایگزیما۔اس کے اُوپر موٹا خشک کھرنڈ اور شدید خارش۔کھجلانے سے خارش اپنی جگہ بدل دیتی ہے۔انجیر نما موہکے جو شاخ درشاخ کی طرح پھوٹیں۔ہاتھ پاوں کی انگلیوں کی چھوٹی ہڈیوں کی سوزش۔ نقرسی گانٹھیں ۔ رات کو پسینہ بکثرت آتا ہے۔ویجائنہ میں دانے دار افزائش کے نتیجے میں جماع کے دوران عورت کو تکلیف یا درد ہوتاہے۔ایسی مریضائیں جو سکریفولس کا مزاج رکھتی ہیں ان کی اندام نہانی میں دانے دار افزائش میں ڈنگ لگنے والی ،اور والوا میں نوچنے والی خارش پیدا ہوتی ہے۔یہ دوا ایسے اعصابی امراض میں جن میں سوزش نمایاں طور پر غالب ہو۔آلاتِ بول ،آلاتِ تناسل اور جلدی امراض میں مفید ہے۔
    STRONTIUM NITRICUM
    ٭-سٹرونشیم نائٹریکم=میں ایسابخار جو ایگزیما جو کان کے باہر ہو اس کو مرہموں کے ذریعے لگاکر دبا دیا جائے اور اب وہ خون کی کمی کے شکار ہوں اور پھولے ہوئے ہوں کام آتی ہیں۔
    SULPHUR IODATUM
    ٭-سلفر آئیوڈائیڈ= میں ضدی نوعیت کی جلدی امراض خاص طور پر حجامی خارش اور ایکنی اور بہنے والا ایگزیما پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر ہیرنگ کے مطابق جرمن خسرہ میں بحالی صحت کی صورت میں پاوں پر خارش ظاہر ہوتی ہے۔اگرخارش ظاہر نہ ہو اور دوسری علامات ظاہر ہو جائیں جب خارش بالکل نہ ہو تو بچوں میں”سلفر آئیوڈائیڈ“ بہت بہتر ہے ”سلفر فلیوم‘ ‘ سے۔
    THYROIDINUM
    ٭-تھائیرائیڈینم=سوراسس جس کے ساتھ موٹاپایا پایا جائے ( اس دوا کو مرض کے شروع میں نہ دیں)۔جلد خشک،گندی۔ہاتھ اور پاوں ٹھنڈے،ایگزیما،رحم میں ریشہ دار رسولیاں،بھورے رنگ کی سوجن ۔ غدود سوجے ہوئے ان میں پتھر کی طرح کی سختی پائی جائے۔سست رفتار کیسز ۔ یرقان کے ساتھ شدید خارش۔جلد کا مچھلی کی جلد جیسا ہو جانا۔چہرے کی جلد کی ٹی بی۔خارش جو پھوٹ کر بہنے والی پھنسیوں کے بغیر ہو اور ایسی خارش میں اضافہ رات کو ہو۔نہایت مقوی پیشاب آور ہے۔جلدی بیماری جس میں چہرے کی جلد کے نیچے کی بافتیں پھول جاتی ہیں اور مختلف اقسام کے اڈیما پائے جاتے ہیں۔اس کا مریض چڑچڑا ،ذرا سی مخالفت یا تردید برداشت نہیں کر تا،طیش میں آ جاتا ہے۔،چھوٹے چھوٹے باتوں میں جھگڑنے کرنے والا۔ہڈیوں کا ٹیڑھا پن ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جلد جوڑ دیتی ہے۔جوڑوں کی پرانی درد پائی جاتی ہے۔
    TITANIUM METALLICUM
    ”ٹیٹانی ام مٹیلی کم“ایگزیما،جلد کی ٹی بی،ناک کی جھلی کا ورم،ضعف گردہ کے ساتھ جنسی کمزوری پائی ہے۔ دورانِ مباشرت سرعت انزال پایا جاتا ہے۔
    TORULA CEREVISIAE
    ٭- ٹورو لاسریوزی آئی=میں بار بار پھوڑے نکلتے ہیں۔خارش والا ایگزیما جو ٹخنوں کے آس پاس نکلے۔رنگ بدلنے والی داد کی ایک متعدی بیماری پائی جاتی ہے۔
    TUBERCULINUM
    ٭-ٹیوبرکولینم=میں مزمن ایگزیما،شدید خارش جس میں اضافہ رات کو ہو۔ بچوں میں دق کے ایکنی پائے جائیں۔خسرہ ،سوراسس (تھائیراڈینم)
    USTILAGO MAYDIS
    ٭-(اسٹی لیگو میڈس) میں گنج۔چھوٹے چھوٹے پھوڑے نکلنے کا رجحان ۔ جلد خشک ،ایگزیما،تانبہ کے رنگ جیسے داغ۔سخت خارش۔دھوپ سے جھلسا ہوا۔ سوراسس ( اندرونی اور بیرونی استعمال ہوتا ہے)۔
    VINCA MINOR
    ٭-ونکا مائنر میں چہرے اور سر کی کھال پر ایگزیما پایا جاتا ہے۔اس سے ناگوار بو آتی ہے۔اس سے جوئیں پیدا ہوتی ہیں۔اخرجات پر چھلکا یا پرت اُتریں۔ان اخراجات سے بال آپس میں جڑ جائیں۔جووں کے باعث بالوں کا سٹ جانابھی پایا جاتا ہے۔
    X-RAY
    ٭-ایکس ریز=میں جلد خشک ،خارش والا ایگزیما۔ناخنوں کی جڑ کے ارد گردسرخ داغ۔جلد خشک ،جھریاں پڑی ہوئیں۔پر درد کٹاو۔مسوں کی افزائش ، ناخن موٹے ۔سوراسس پائی جائے۔
    ZEA ITALICA
    ٭-زیااٹیلیکا=کے اندر ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جو جلدی بیماریوں میں خاص طور پرسرخی مائل ایگزیمامیں شفا پائی جاتی ہے۔اس کے مریض کے اندر نہانے کا جنون۔خود کشی کرنے کی قوت محرکہ پائی جاتی ہے۔خاص طور پر ڈوبنے کی مرجانا پایا جاتا ہے۔آسانی سے غصے میں آ جانے والا،بھوک بڑھی ہوئی بلکہ ندیدہ پن کے ساتھ بدہضمی ادل بدل کرآتی ہے۔کلیجے کی جلن،متلی ،اُلٹیاں شراب پینے سے بہتری آتی ہے۔ دورانِ علاج مشاہدے میں جو علامات آئی ہیں ان میں مزمن ملیریا،مزمن پروسٹیٹ کی سوزش، مزمن سوزاک،مزمن استسقاءپایا جاتا ہے۔
    ZINCUM METALLICUM
    ٭-زنکم مٹیلی کم“ =میں ایگزیما ،خاص طور پران لوگوں میں جوخون کی کمی اور اعصابی تکالیف میں مبتلا ہوں ہوتا ہے۔نسیں پھولی ہوئی خاص طور پر ٹانگوں کی۔پیروں اور ٹانگوں پرچیونٹیوں کا رینگنا جیسے جلد پر کھٹمل رینگ رہے ہوں۔ایسی حالت میں نیند کو محفوظ بنا نے کے لئے بطور احتیاطی تدبیر کے استعمال کریں۔رانوں اور گھٹنوں کے خلاءمیں خارش اورپھوٹ کر بہنے والی خارش کا رخ اندر کی طرف ہوتا ہے۔اگر جلدی بیماری دب جائے یا بہت سست رفتاری سے جلد پر ظاہرہو اور آہستہ آہستہ دانے نکلیں تو زنک کی ایک دو خوراکیں ان کے ظاہر ہونے کی رفتار کو تیز کر دیتی ہیں۔عموماًایسی عورتیں رات کے وقت اپنے پاوں بستر سے باہر نکال کر آپس میں رگڑتی ہیں۔یا بعض مریض اپنی ٹانگوں کو مسلسل ہلاتے رہتے ہیں۔اس کے مریض کے مزاج کے اندر کام کرنے اور گفتگو کرنے سے نفرت یا بیزاری پائی جاتی ہے۔اس کے مریض کا حافظہ کمزورہوتا ہے۔شور بالکل برداشت نہیں ہوتا۔دماغی اور جسمانی محنت سے جی چراتا ہے۔سست ،کاہل الوجود اور بے شعوری کے ساتھ دماغی کمزوری پائی جاتی ہے۔

    طالب دعا:خالد محمود اعوان

  • چیچک CHICKEN POX , VESICLE

    چیچک
    CHICKEN POX , VERICELL
    40-A : چینی علاج
    49-Aچیچک کا ٹیکہ : کے بد اثرات کے لئے خصوصاً تھوجا مفید ہے باقی ٹیکوں کے لئے آرنیکا مفید ہے اصل بات یہ ہے کہ جو علامات ظاہر ہوں اس کاعلاج کریں ۔
    چیچک: لگاتار دو تین دن تک اور پھر 36گھنٹہ تک ان پھنسیوں کی شکل بدلتی رہتی ہے مثلاً پھٹ جاتی ہے خشک ہو جاتی ہے مٹ جاتی ہیں داغ بھی پڑ جاتے ہیں مستقل نشان رہ جاتے ہیں ان دانوں کی شکل گول Ovel یعنی انڈے جیسی ہوتی ہے ہاتھو پاؤں ، سر چہرہ پر کم نکلتے ہیں دانے بمقابلہ جسم کے ۔
    نوٹ: چھیلتے رہنے سے ان دانوں کو انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے بڑے بڑے چھالے بن جاتے ہیں خطرناک پھوڑے بن جاتے ہیں ۔Septic حالت ہو سکتی ہے یعنی خون زہریلا ہو جاتا ہے گلا کے دانے متورم ہو کر پھولکر سانس کی نالی کی سوزش پیدا کر کے سانس بند کر سکتے ہیں موت تک ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ اس لئے ہر علامت کو مد نظر رکھ کر علاج کریں ۔ان کاعلاج Antimonium Crude اور Antimonium Tartہے ملا کر بھی دے سکتے ہیں ۔دیکھیں جلدی بیماریاں ، ’’چھالے ‘‘Impetigo جلن نہیں ہوتی ان چھالوں میں ۔
    داغ: رہ جائیں جلدپر تو چیچک کا نوسوڈ CMمیں دیں ۔دو تین خوراکیں ماہوار تو انشاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہوگا دو تین خوراکوں کے بعد انتظار کریں خود بخود جلد ٹھیک ہوگی ۔
    Sulphur: میں جلن ہوتی ہے چونکہ دریدوں کی دوا ہے اس لئے چیچک کے دانوں کا رنگ Purplish یعنی ارغوانی ہوگا مریض کو جلن ،بخار وغیرہ ہوگا (وریدوں میں جب اجتماع خون ہو گا تو نیلا سا ہوگا سرخ نہیں ہوگا) ساتھ پیاس ہوگی بہت۔ کینٹ 960
    ؓ85-B نوٹ: سلفر کی جلدی بیماریوں میں اندرون جسم آگ لگی ہوتیہے بیماری کا کوئی بھی نام ہو۔
    پیاس: نہ ہوتو پلسٹیلا دیں مریض کو گرمی لگے گی دانوں کا رنگ سرخ نہیں ہوگا۔
    آنکھوں : سے تیز پانی آئے ، سرخی ہوتو یو فریزیا دوا ہے ۔
    Aconite: میں بہت بے چینی شدید بخار ہوتا ہے یہ کیفیت شرو ع میں ہوتی ہے جب دانے نکلنے والے ہوں یا پوری طرح نہ نکل رہے ہوں ایکونائیٹ دیں 1000 کی ایک دو خوراکیں گھنٹہ دو گھنٹہ کے وقفہ سے پھر سلفر دیں تاکہ دانے کھل کے نکل آئیں ۔
    ایگزیما دیکھیں ۔
    Variola Varicella
    Rhustox: کے چھالوں میں آگ لگی ہوتی ہے بڑے چھالے ہوتے ہیں ۔ میلینڈرینم بھی دیکھیں ۔
    علاج : کیلئے میلینڈرینم بھی دیکھیں۔
    نوٹ: چیچک کے کئی نام ہو سکتے ہیں اس کی شکل کے لحاظ سے اور کچھ تفصیلات کے لحاظ سے ، علامات کی کمی بیشی کی وجہ سے طبی اصطلاحیں بدلنی پڑتی ہیں لیکن ہومیو پیتھی میں اصل علامات پر نیز رکھنی پڑتی ہیں (چیچک نام کی بیماری یااس کا کوئی اور نام بھی ہو کچھ بھی رکھ لیں )کہ مریض کو کیا تکلیف ہے بیمار یکی کیا نوعیت ہے ۔ہومیو پیتھی میں ان علامات کا علاج ہوگا۔ مثلاً چیچک چھالوں میں اگر شدید جلن ہے (جو Herpy Zester کی علامت ہے ) تو دوائی مختلف ہوگی اگر ساتھ شدید بخار ہے تو دوا بدلنی پڑے گی اگرمریض نے چھیل چھیل کر بر ا حال کر لیا ہے تو علاج اور ہوگا۔اگر اس بیماری کا اثر دماغ کو متاثر کر رہا ہے (جسے Encephaitis کہتے ہیں شاذ و ناذر ہی دماغ پر بُرا اثر ہوتا ہے چیچک کا ) خلاصہ کلام یہ ہے کہ چیچک معروف مرض ہے لیکن اس کا علاج چیچک نام کی بیماری کانہیں ہوگا بلکہ جو جو علامات ظاہرہوں گی ان علامات کا علاج ہوگا ہماری ہومیو پیتھی میں چیچک کے نام کی دوائی دی جاتی بلکہ کوئی بھی بیماری ہو اس بیماری کے نام کی دوائیں نہیں بلکہ علامات کا علاج ہوتا ہے بیماری کا کوئی بھی نام ہو ۔چیچک کا عمومی تعارف مندرجہ ذیل ہے ۔
    چیچک: کی بیماری میں جلد پر چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکلتی ہیں جن میں پانی بھر اہوتا ہے بچوں بڑوں یعنی جوانی میں بھی یہ بیماری ہوسکتی ہے یہ بیماری ایک سے دوسرے کو لگتی ہے (یعنی Contageousہے ) چھوت کی بیماری ہے وبائی بھی ہے سردیوں اور موسم بہار میں آتی ہے عموماً دراصل قوت دفاع کی کمزوری کی وجہ ہے پہلے 24گھنٹہ ہلکا سا بخار سردرد ہوتا ہے پھر دانے نکلتے ہیں پھر بخار کچھ بڑھ سکتا ہے کمر اور سینہ پر پیٹ پر دانے نکلتے ہیں شروع میں گچھوں کی شکل میں یعنی کئی کئی پھنسیاں سی اکٹھی نکلتی ہیں لگاتار ۔
    Vaccination دیکھیں ۔
    135-A نوٹ: اگر Chicken Pox کی Vaccination کروانے کے بعد ٹیکہ پھول جائے (ٹیکہ پھولنے کو انگریزی میں کہتے ہیں کہ Vaccination has Taken یعنی اب اسے چیچک نہیں ہوگی کیونکہ ٹیکہ کا اثر ہوگیا ہے ) تو اگر Vaccinationکروانے کے بعد فوراً Malandrinum دیں گے ٹیکہ پھولے گا نہیں کوئی ابھار نہ بنے گا اور نہ ہی چیچک ہوگی کیونکہ میلینڈرینم نے Vaccination کا بد اثر بھی توڑ دیا اور بیماری پر بھی قبضہ کر لیا۔
    135-A نوٹ: Malandrinum دیں چیچک کی وبا کے دوران تو حفظ ماتقدم کا کام دیتی ہے یعنی چیچک نہیں ہوتی اسی لئے ضدی ایگزیموں اور بگڑی ہوئی خارشوں کی بھی دوا ہے میلینڈرینم ۔