primekunst.com

Category: سانس کی بیماریاں

منہ میں بدبو کی اہم وجہ زبان پر پائے جانے والے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ٹانسلزاورحلق میں بھی پائے جاتے ہیں یہ بیکٹیریا ہمارے منہ میں آنے والے غذاؤں میں پروٹین کو توڑتے ہیں لیکن اگر کوئی مکمل طور پرصحت مند نہ ہو تو ان بیکٹیریا کے لیے پروٹین کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

  • کھانسی اور ہومیو پیتھی ادویات

    کھانسی اور ہومیو پیتھی ادویات

    کھانسی میں استعمال ہونے والی مختلف ہومیوپیتھی ادویات
    قسط نمبر ۱
    ترتیب و پیشکش: خالد محمود اعوان

    خشک کھانسی میں استعمال ہونے والی ادویات میں ایکونائٹ ، بیلاڈونا ، برائی اونیا ، فاسفورس ،کاسٹی کم، سپونجیا وغیرہ وغیرہ ہیں۔


    ٭- بلغمی کھانسی جس کی بلغم سفید اور شفاف ہو، دوائیں آرسینی کم البم ،یا کالی میور ہے۔اگر بلغم پیلی اور سبز ہوتو اس کی دوا ہیپر سلف،کالی بائیکرام ہیں۔


    ٭-بلغمی کھانسی میں استعمال ہونے والی ادویات میں ڈروسرا،ہیپر سلف،کالی بائیکرام، سٹانم ، اینٹی مونیم ٹارٹ ہیں۔
    ٭-”ایکونائٹ“ میں لگاتار مختصر،خشک کھانسی ۔ کھردری آواز والی کھانسی ۔چھاتی میں خشکی۔ہرسانس کو اندر کی طرف کھینچتے وقت دم گھٹتا ہوا محسوس ہو۔رات کو انزائٹی ،بے چینی میں اضافہ جوٹھنڈی ہوا میں گھومنے کے بعدہو پائی جاتی ہے۔
    ٭-اگربستر سے اٹھنے کے ساتھ ہی چھینکیں آئیں تو”امونیم میور“ دواہے۔
    ٭- ”اینٹی مونیم کروڈ“ میں چکن پاکس کے بعد آنے والی کھانسی پائی جاتی ہے۔
    ٭-”اینٹی مونیم ٹارٹ “میں میوکس کی شدید خرخراہٹ ،لیکن میوکس کم نکلے ۔چھاتی میں جلن کا احساس ۔ پھیپھڑوں کو جانے والی ہوا کی نالیاں ضرورت سے زیادہ میوکس سے بھری ہوئیں۔کھانے کے ساتھ تکلیف میں اضافہ،دھڑکن اور چھاتی میں گرمی محسوس ہو۔بہتری اُٹھنے پر آتی ہے۔ اینٹی مونیم ٹارٹ کے مریض کی کھانسی کی آواز ڈھیلی لگتی ہے،اور مریض محسوس کرتا ہے کہ اگلی کھانسی میں میوکس باہر نکل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اس میں غنودگی سانس کا پھولنا بڑھا ہوا ۔ اضافہ رات کو اور بسترمیں ہوتا ہے ۔اس کی بلغم لیموں کی طرح پیلی یا اس میں خون کی لکیر پائی جاتی ہے۔”اپی کاک“ کے اندر بھی ڈھیلی خرخراہٹ والی کھانسی جوہر سانس کے ساتھ پیدا ہو۔ ساتھ دمہ،متلی اور اُلٹیاں پائی جاتی ہیں ۔ ”سلیشیا“ میں بھی چھاتی میں خرخراہٹ پائی جاتی ہے۔مریض دیر تک کھانستا ہے اور تھوڑی سی میوکس نکلتی ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے۔
    ٭-کالی کھانسی میںیکایک تشنج کا حملہ ہونے سے قبل بچہ چیخے ”آرنیکا “ 30دوا ہے۔
    ٭-”آرسینی کم البم“میں دموی کھانسی، ساتھ چھینکیں اور جھاگ دار اخراجات۔ان اخراجات میں جلن یا جلن کا احساس پایا جائے۔سانس کی نالی میں کھچاو جس سے سانس لینا مشکل ہو جائے۔ مریض ٹھنڈا،بے چین ، تشویش میں مبتلا،پسینے بھی آ سکتے ہیں۔ساتھ نمایاں تھکاوٹ پائی جائے۔تکالیف آدھی رات کے بعد زیادہ ہوں۔مریض ٹھنڈ سے حساس ہوتا ہے۔


    ٭-”بیلاڈونا“ بچوں کی کھانسی میں بچہ کھانسنے سے پہلے چیختا ہے۔کھانسی بہت شدید ہوتی ہے۔بخار کی صورت میں چہرہ سرخ ۔ کھانسی کے ساتھ نرخرہ میں خشکی ۔گلے میں سرخی ساتھ نرخرہ میں چھیلن۔ کھانسی مختصر جس میں بھونکنے والی آواز آئے ،تشنجی ،جلن دار اور سنسناہٹ والی کھانسی ۔شدید کالی کھانسی (کھوں کھوں کرنے والی)نرخرے میں تشنج جس سے کھوں کھوں کرنااور سانس لینا مشکل ہو ۔ چہرہ سرخ،پتلیاں پھیلی ہوئی۔بچہ کھانسے سے پہلے چیخے ۔ کھانسی کا اختتام چھینکوں کے ساتھ ہو تا ہے ۔ خشک،تشنجی،با ربار تنگ کرنے والی کھانسی جیسے گلے میں گرد رکھی ہو ،رات کو شدت ہو کہ مریض بستر پر اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔
    ٭- ”بریٹا کارب“ میںٹانسلز سوجے ہوئے ،ساتھ تیز بخار،زبان پر سفیدی کی تہ کوٹ کی ہوئی ،خشک کھانسی اور سانس بدبودار ۔اکثر بچوں میں عام بیماری ہے ۔ ان کو اس سے بچانے کے لئے 1000طاقت میں ہفتہ میں ایک بار ،تین ماہ تک استعمال کروائیں۔
    ٭-”بریٹا میور“میں کنٹھ مالائی (بلغمی مزاج) بچوں میں مزمن کھانسی پائی جاتی ہے۔
    ٭-گنوریا(سوزاک) کے دبنے کے نتیجے میں کھانسی آئے تو۔(بینزوک ایسڈ،سیلی نم) دوا ہے۔
    ٭-”برائی اونیا“کا مریض پیاسا ،چڑچڑا،کھانسی خشک ،چھاتی زخمی محسوس ہو، کھانستے وقت چھاتی کو تھامنا پڑے تا کہ تکلیف نہ ہو۔کھانسی تمام جسم کو ہلا کر رکھ دے ۔بچہ چھلانگ مار کر بستر سے اُٹھ جائے اورگہرا سانس لینے کی تگ ودو کرے۔ اس کا مریض زود حس ہوتا ہے، حرکت سے ،کھانے یا پینے سے،اس کے بعدتکلیف میں اضافہ ہو ۔ پیاسا ہوتا ہے ۔ٹھنڈے پانی کی طلب۔کھوں کھوں کی آواز سے ساتھ خشک کھانسی جو بالآخر الٹی پر ختم ہوپائی جاتی ہے۔
    ٭-”کلکیریا فاس“میں صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک کھانسی پائی جاتی ہے۔
    ٭-ایسی کھانسی جس میں نہانے کے بعد بہتری آئے تو کلکیریا سلف دوا ہے۔
    ٭-کوریلیم روب“کی کھانسی گہری آواز،کھردری ،بھاری آواز والی کھانسی جس میں اضافہ دن کے بارہ بجے کے بعد ہویا خسرہ کی تکلیف کے بعد ہو۔تشنجی کھانسی، ساتھ بطخ کی طرح ٹک ٹک کی آواز والی،الٹیاں کرتے وقت زور لگانے والی آواز اور الٹیاں پائی جاتی ہیں۔
    ٭-”سنا“ میں چھینکوں کے ساتھ خشک کھانسی یا تشنجی کھانسی جس میں صبح کے وقت اضافہ ہو۔مریض میں خوف پایا جاتا ہے کہ بولنے سے یاحرکت سے کھانسی نہ شروع ہو جائے۔کھانسی کا تعلق خون میں ایوسیینوفلز کی بڑھتی ہوئی مقدار سے ہوتا ہے جو پیٹ میں کیڑوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر لکھنے کے دوران کھانسی ہو تو”سنا “دوا ہے۔
    ٭-”کلکیریا کارب“میں کھانسی کا رجحان پایا جاتا ہے ۔اس کی کھانسی رات کو خشک اور صبح کوڈھیلی ہوتی ہے ۔بلغم کا اخراج آسانی سے ہوتا ہے۔مختلف مشاغل کے دوران ،جیسے کھانے کے دوران یا کھیل کے دوران کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کے مخصوص مریض پھولے ہوئے گول مٹول ،پسینے میں شرابور ہوتے ہیں ۔ایسی کھانسی میں مفید ہے۔
    ٭-ایسی مریضہ جس کے مینسز جلدی، وافر مقدار میں ہوں اور ساتھ دمہ کی تکلیف بھی ہو تو”کلکیریا “200میں ہر دس دن کے بعد صرف تین خوراکیں بعد میں ایک ہزار کی ایک خوراک۔
    ٭-”کاسٹی کم“کی کھانسی میں گلے میں کچاپن ، گلا کھردرا،بیٹھا ہوا اور خشک کھانسی۔ چھاتی ایسے لگے جیسے بلغم سے بھری ہوئی ہے۔معمولی ساکھانسے پر کم گہری میوکس باہر نکل جائے۔برف والے ٹھنڈے پانی سے بہتری آئے ۔گہری بلغم باہر نکالنے کی نااہلیت۔کھانسنے سے پیشاب نکل جائے۔ ” کاسٹی کم“ کا مریض لگا تا ر گلے کو صاف کرتا رہتا ہے۔میوکس باہر نکالنے کے لئے گہری کھانسی نہ کر سکے۔ٹھنڈا پانی پینے سے کھانسی میں ریلیف ملتا ہے۔ کھانسی کے دوران پیشاب کا خطاہو جاناپایا جاتا ہے۔
    ٭-”کیوپرم میٹ “ کی کھانسی میں ایسی آواز آئے جیسے بوتل سے پانی انڈیلا جارہا ہے۔ایسی کھانسی ٹھنڈے پانی پینے سے بہتر ہوتی ہے۔
    ٭-کالی کھانسی جس میں سانس میں دقت ہواور بعض اوقات بے ہوشی پر منتج ہو تو ”کیوپرم مٹیلی کم“30 دوا ہے۔
    ٭-کالی کھانسی جو صبح کو شدت اختیار کرے جس میں بلغم کااخراج سفیددھاگے دار ہو”کوکس کیکٹائی“ 30دوا ہے۔
    ٭-”ڈروسرا“میں تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے جس کا اختتام الٹی پر ہو ۔ دورے رات کو ہوں، جیسے ہی آپ نے سر بستر پر رکھا کھانسی شروع یا آدھی رات کے بعدہو ۔ ناک کے نتھنوں کی سوزش میں جس کی بنیاد سلی مادہ ہو اس کی دوا”ڈروسرا“ ہے۔کھوں کھوں والی یا کالی کھانسی جس میں شدت آدھی رات کے بعد ہو اور جن میں ٹیوبرکولیس ہسٹری موجود ہوتو”ڈروسرا“ 30 کی ایک خوراک ایک ہفتے کے لئے کافی ہے۔”ڈروسرا“ کے بچے کی کھانسی رات کو شروع ہوتی ہے۔جیسے ہی اس نے سر تکیے پر رکھاکھانسی شروع ۔ ”ڈروسرا“ شدید تشنجی کھانسی کی بہترین دوا ہے۔اس کا دورہ کافی دیر تک رہتاہے اور آخر ابکائی پر ختم ہوتا ہے۔ بڑی مقدار میں میوکس خارج ہو۔ اس کی کھانسی میں اضافہ صبح چھ سے صبح سات بجے ہوتا ہے ۔ ”ڈروسرا“ میں تشنجی کھانسی چھاتی کی گہرائی میں ہوتی ہے۔کھانسی لانے کی شدید رغبت نرخرے میں پائی جاتی ہے۔ کھانسی کی تحریک اتنی شدید ہوتی ہے کہ سانس پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ووپنگ کف(کھوں کھوں والی کھانسی )کی بنیادی دوا ہے۔کھانستے وقت پسلیوں کے نیچے(کوکھ) کو تھامنا پڑے۔تکلیف میں اضافہ رات کو۔کھانسی خشک بھی ہو سکتی ہے اور اشتعال انگیز ہوتی ہے۔
    ٭-”ڈلکامارا“ میں موسم کی تبدیلی کے دنوں نزلہ بہت پھیلتا ہے ۔اگر مریض کی دیگر علامتیں واضح نہ ہوں لیکن ہر موسم کی تبدیلی پر بیمارپڑ جائےں تو اس کے لئے مفید ہے۔ڈلکامارا میں خشک زکام ہوتا ہے اور ناک مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔گاڑی زرد رطوبت ناک میں جم جاتی ہے۔ذرا سی سردی بھی لگ جائے تو نزلہ عود کر آتا ہے اور ناک سے خون بھی نکلتا ہے۔
    ٭-بخار کے بعد کھانسی پائی جائے تو”اریڈیکشن مدر ٹنکچر“استعمال کریں ۔ Eridiction Q
    ٭-”یوفریشا “میں ایسی کھانسی پائی جاتی ہے جو صبح بیدار ہونے پرہو اور اس وقت تک رہے جب تک کہ آپ دوبار لیٹ نہ جائےں۔
    ٭-”یوپیٹوریم پرفولیٹم“میں ملیریا بخار کے دبنے کے نتیجے میں شدید پُر جوش کھانسی پائی جاتی ہے۔
    ٭-”یوپیٹوریم پرفیولیٹم “ میں آگے جھکنے سے کھانسی میں بہتری آتی ہے۔
    ٭-”فیرم فاس“ میں ابتدائی سٹیج کی سانس کی نالیوں کے انفیکشن پائے جاتے ہیں۔یا سردی سے جو سر کو لگنے سے چھاتی میں اترے اورکان متاثر ہوں ۔سانس کی نالیوں کی سوزش یا کان کی سوزش پائی جائے۔بچوں کی کھانسی میں عام طور پر استعمال ہوتی ہے جو بخار سے شروع ہو ۔چہرہ دہکتا ہوا ہو۔سانس کی نالی میں پر درد کھانسی کا رجحان ۔بلغم میں خون کی لکیر یا ناک سے خون کا آنا ۔ اس کے اندر بھاری آواز والی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔
    ٭- ماہواری سے قبل ہونے والی کھانسی میں ”گریفائٹس “دوا ہے۔
    ٭- بعد دوپہر،چھ بجے سے دس بجے تک ووپنگ(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی) ہو تو ہائی پیریکم دوا ہے۔
    ٭-”ہائیوسمس “ کی کھانسی خشک ،اعصابی اور تشنجی ہوتی ہے۔رات کو ہوتی ہے۔اُٹھ کر بیٹھ جانے سے بند ہو جائے۔بیلاڈونا میں بھی مریض اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ،لیکن اس سے اس کو سکون نہیں ملتا۔ہائیوسمس رات کی کھانسی میں جس کے ساتھ بلغمی اخراجات پائے جائیں بہترین دوا ہے۔”مینگنانم“کے اندر کھانسی میں لیٹنے سے بہتری آتی ہے۔اُٹھ کر بیٹھ جانے سے تکلیف میں اضافہ ہو تا ہے۔”کونیم“ کی کھانسی خشک اور اذیت دینے والی ہوتی ہے۔جس میں اضافہ لیٹنے سے ،شام کو اور رات کو ہوتا ہے۔بولنا اور ہنسنا اس کی کھانسی میں اضافہ کر دیتا ہے۔اس کی سوزش اور ہیجان سانس کی نالی اورپھیپھڑے کو جانے والی سانس کی نالی میں پائی جاتی ہے۔”اوپیم“میں مشکل کھانسی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پررات کو اذیت دینے والی ہوتی ہے۔اخراجات کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر برنٹ نے اس کی بارہا تصدیق کی ہے۔ ایسی تشنجی کھانسی جو رات کوہو اور اس سے اخراجات کم مقدار میں پائے جائیں اوپیم نیند کو محفوظ بنا دیتی ہے۔”لاروسیرسس“ تپ دق کے مریضوں کی خشک اور اذیت دینے والی کھانسی میں بہت مفید ہے۔”اریلیا ریسی موسا“ نے ایسی تشنجی کھانسی جو رات کو آئے اس کی رغبت گلے اور چھاتی کے ساتھ ہو۔ کھچائو کے ساتھ پہلی ہی نیند میں پائی جائے۔مریض شدت کی وجہ سے اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔”نفتھالین“ڈاکٹر کارٹئیر ایسی کھانسی میں جوتشنجی ہو اورہوا کی نالی اور نرخرے کی شدید سوزش کے نتیجے میں ہوتجویز کرتے ہیں ۔
    ٭-”ہیپر سلف“ ایسی کھانسی میں جو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے ،حتیٰ کہ ہاتھ بستر سے باہرنکل جانے پرہو ۔صبح اور رات کو جب کہ موسم ٹھنڈا ہو۔ ایسی کھانسی جو ٹھنڈی ،خشک ہوا میں گھومنے سے آئے۔ بھاری آواز والی کھانسی ۔ گہری کتا کھانسی ۔ آواز میں کھردرا اور بھاری پن ۔ کھانستے وقت خرخراہٹ والی میوکس کی آواز سنی جائے ۔ ”ہیپر سلف“میں بھاری آواز والی کھانسی،ڈھیلی ، خرخراہٹ والی کھانسی جس میں اضافہ صبح کے وقت ہو۔دم گھٹنے والی چوکنگ کھانسی۔آواز کے فقدان کے ساتھ ۔گرم ہوا میں بہتری آئے۔ جسم کے کسی حصے کے کمبل سے باہر نکلنے سے یا ٹھنڈک سے تکلیف میں اضافہ ہو۔سیدھا بیٹھنے سے اور سر کو پیچھے کی طرف موڑنے سے بہتری آتی ہے۔


    ٭- ایسی کھانسی جس کا تعلق متلی سے ہو۔”اپی کاک“ 30 دوا ہے۔
    ٭-”اپی کاک“میں دم گھٹنے والی کھانسی،کھوں کھوں کرنے والی کھانسی ، ساتھ چوکنگ والی کھانسی یا بطخ کی طرح ٹک ٹک کی آوازوالی کھانسی(اس کا مقابلہ اینٹی مونیم ٹارٹ،ڈروسرا سے بھی کیا جا سکتا ہے)۔کھانسی مسلسل اور شدید جو ہر سانس کے ساتھ ہو۔چہرہ نیلاہو جائے۔خرخراہٹ والی کھانسی ،لیکن اخراجات معمولی ۔ کھانسی کے ساتھ متلی یا ناک سے خون کا آنا۔خراٹے سے سانس لینا والی کھانسی جو ہر سال لوٹ آئے۔ایسے لوگ جن کو اپیکاک کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں کھانسی مسلسل پائی جاتی ہے۔جس کو سکون الٹی آنے سے آتا ہے ۔ متلی کے نتیجے میں پیاس کا فقدان ۔اس کا بچہ کھانسی کی وجہ سے مزاجاً بدتمیز ہو جائے۔
    ٭-”کالی بائیکرام“ میں بلغم گاڑھی چمٹنے والی۔کھوں کھوں کرنے والی ۔کھانسی جو نرخرے کی پچھلی جانب زخمی کر دے ۔”کالی بائیکرام“میں بھاری آواز ساتھ تکلیف دہ آواز کے ساتھ آنے والی کھانسی۔ کھل کر سفید یا پیلے اخراجات ۔یہ اخراجات چپکنے والے اور دھاگے دار(رسی کی طرح کے)۔کھانسی کی آواز ایسی جیسے پیتل کے برتن سے آتی ہے۔شام کو تکالیف میں اضافہ جوف سینہ میں دردجو کندھوں کی طرف بڑھے پائے جاتے ہیں۔
    ٭-”کالی کارب“ میں ایک طرف لیٹنے سے سانس لینے میں دقت پائی جاتی ہے۔
    ٭-کالی کارب “ میں تمام چھاتی حساس ہوتی ہے ۔ کھانسنے سے ایک چھوٹا سابلغم کاسخت ڈھیلا نکلے۔کھانسی صبح تین بجے بیدار کر دے۔
    ٭- کسی بھی قسم کی کھانسی جو رات دو سے تین بجے کے درمیان بڑھے”کالی کارب“ 30 دوا ہے۔
    ٭-انفلوئنزا اور ٹھنڈ سے بچنے کے لئے بطور احتیاطی تدبیر”کالی آئیوڈائیڈ‘6 بہترین دوا ہے۔
    ٭-”لائیکوپرسی کم “میں دمہ جو گرد سے بڑھے ۔
    ٭- ”لیکسس“ کی کھانسی خشک،تشنجی اور دم گھٹنے والی دوروں کی شکل میں ہوتی ہے۔ اخراجات کم ہوں لیکن حساسیت بڑھی ہوئی۔نرخرہ میں دبائوسے،نیند کے بعد اور کھلی ہوا میں تکالیف بڑھیں۔ اس کی میوکس چپک جائے جو باہر نہ نکلے۔ایسی پریشان کر دینے والی کھانسی جو دل کی عضوی بیماریوں کے نتیجے میں ہو ۔ اس میں ناجا بھی مفید ہے۔”ڈلکامارا“ میں بھی تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے۔ اس کے اخراجات بے ذائقہ ،کھل کر جو نرخرہ اورسانس کی نالی میں پائے جائیں۔کھانسی کے دورے طویل جن میں اضافہ نمدار موسم میں ہوتا ہے۔”کاسٹی کم“ کی کھانسی خشک جو اندر سے خالی ہو۔میوکس چھاتی سے شدت سے چپکی ہوئی ،ٹھنڈا پانی کھانسی میں کمی پیدا کرے۔اسی طرح کی تشنجی اعصابی کھانسی کیوپرم میں بھی پائی جاتی ہے۔اس میں اکثر اوقات چوتڑوں میں دردیں بھی پائی جائیں۔دردیں زیادہ تر بائیں طرف ہوتی ہیں۔کھانسی کے دوران بلاارادہ پیشاب نکل جائے۔”سلیشیا اور نٹرم میور“ کے اندر بھی ”کاسٹی کم “ کی طرح پیشاب کے خطا ہونے والی علامت پائی جاتی ہے۔کاسٹی کم کامریض میوکس نکالنے کے لئے زیادہ گہرائی میں نہیں کھانس سکتا۔اسی طرح لیکسس میں بھی چپکی ہوئی بلغم پائی جاتی ہے۔کاسٹی کم میں آواز میں بھاری پن صبح کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔”سینی گا“ میوکس کے کھل کر آنے میں مفید ہے۔اس میں کھانسی سے قبل اور بعد چھاتی میں جلن پائی جاتی ہے یہ سینی گا کی عمدہ علامت ہے۔
    ٭-”لائیکوپوڈیم“میں کرانک کھانسی پائی جاتی ہے۔ ایسے لڑکے جو کرانک کھانسی سے مایوس ہوں دوا ہے۔
    ٭-”میفائٹس“ایسی کھانسی جوساری رات بڑھے’ ’میفائٹس“ 3X دوا ہے۔ تھکاوٹ جو نڈھال کر دینے والی مشقت سے ہو تو دوا ہے ۔ ڈاکٹر فرینگٹن کے مطابق اگر اس کو چھوٹی طاقت میں دیا جائے تو یہ اعصابی نظام کو تقویت دیتی ہے اور تھکاوٹ کو دور کر دیتی ہے۔
    ٭-انفلوئنزا کے بعد کی خشک ،تشنجی اور شدیدکھانسی میں ”میفائٹس“ مفید ہے۔
    ٭-کھانسی کے پرانے مریضوں کے لئے ”میفائٹس“3X استعمال کریں۔
    ٭-نیچے لیٹ جانے سے کھانسی میں بہتری آئے تو”مینگنانم“ دوا ہے ۔
    ٭-اگرکھانسی صرف رات کو ہو تو” مرکیورس “دوا ہے۔
    ٭-لگا تار کھانسی جسے اُلٹی کرنے سے بہتری آئے تو ”میزریم“ دوا ہے۔
    ٭-سورج کی روشنی سے حساسیت اور چھینکیں ظاہر ہوں تو”نٹرم میور“ بہترین دوا ہے۔
    ٭-”نکس وامیکا“میں خشک کھانسی،گدگدی کرنے والی ،تھکا دینے والی،صبح کے وقت کھانے اور پینے کے بعد اس میں شدت ہوتی ہے۔
    ٭-اگرکوئی مریض نزلہ زکام کی کیفیت میں مسلسل مبتلا رہے جیسے ابھی تکلیف ختم ہوئی اور پھر دوبارہ شروع ہو گئی ہو تو ایسے مریض کو ہفتہ میں ایک بار خالی پیٹ ”نائٹرک ایسڈ“ 200 میں استعمال کروائیں۔
    ٭-”فاسفورس“ کی کھانسی نرخرہ میں اری ٹیشن کی وجہ سے اُٹھتی ہے ۔ فاسفورس کی کھانسی میں اضافہ دورانِ گفتگو یا آواز کے استعمال سے ہوتا ہے۔ اس میں گلا متاثر ہوتا ہے جس سے بولنا مشکل ہو۔یہ شروع میں خشک اوراپنی جگہ مضبوطی سے ٹکی ہوئی ،چھاتی خشک محسوس ہوتی ہے۔پھر پیپ دار،چپکنے والی میوکس خارج ہوتی ہے ۔ ٹھنڈا برف والا پانی پینے کی شدید طلب ۔ ٹھنڈی ہوا کی تبدیلی سے تکلیف میں اضافہ۔اس کے ساتھ معدے کی یا جگرسے تعلق رکھنے والی کھانسی ، خون کی کمی سے تعلق رکھنے والی کھانسیاں اور ہو بہو اس قسم کی کھانسیاں پائی جاتی ہیں۔”فاسفورس“ میں خشکی کی طرف رغبت والی کھانسی۔تھکاوٹ پیداکرنے والی کھانسی ۔ شدید ہلا دینے والی کھانسی۔کھانستے وقت پیٹ اور چھاتی کو تھامنا پڑے ۔کھانسی سے کانپے۔ہنسنے سے ،بولنے سے، یاکھانے سے کھانسی میں اضافہ۔”فاسفورس “میں کھانسی جو اکثر سر کو ٹھنڈ لگنے سے ہو اور چھاتی پر اثر کر جائے۔گدگدی نرخرہ میں گرم کمرے سے ٹھنڈی ہوا میں جانے سے بڑھے ۔مریض ٹھنڈا ،ساتھ برف والے مشروبات کی پیاس۔ تشویش میں مبتلا ، اعصابیت کا شکار۔بائیں طرف لیٹنے سے کھانسی کا بڑھنا۔چھاتی پر بھاری پن کا احساس پایا جاتا ہے۔فاسفورس ،بیلاڈونا کے بعد بہتر کام کرتی ہے۔ ”بیلاڈونا“درد،نرمی اوربخار کو دُور کر دیتی ہے۔اس کے بعد فاسفورس آواز میں کھردراپن اور آواز میں نرمی پیدا کر دیتی ہے۔خشک کھانسی ”بیلاڈونا“ کی ایک اہم علامت ہے۔
    ٭- ”پرٹیوسن“(یہ ایک نوسوڈ ہے)ووپنگ کھانسی کی یہ ایک بہترین دوا ہے۔اس میں چہرہ نیلا ،نرخرہ میں گدگدی سے کھانسی بڑھتی ہے ۔جب ساری ادویات ناکام ہو جائیں تو اس کو بھی آزمائیں ۔
    ٭- ”پلسٹیلا “میں خشک کھانسی جو رات کو لیٹنے سے بڑھے اور اُٹھ کر بیٹھنے سے بہتر ہو جائے۔دن کو نرم کھانسی جس کے اخراجات پیلے اور سبز ہوں ۔اس کا مریض گرمی بہت محسوس کرتا ہے ،کھلی ہوا پسندکرتا ہے ،اس کے باوجود پیاس بالکل نہیں ہوتی ۔”پلسٹیلا“ کی کھانسی رات کو خشک اور صبح کوڈھیلی ہوتی ہے ۔کھانسی سے بطخ کی طرح کٹ کٹ کی آواز آئے،نامعلوم آواز والی کھانسی کبھی شروع ہو جائے ،کبھی ختم ہو جائے۔تکالیف میں اضافہ رات کو اور نیچے لیٹنے سے آئے۔نتیجتاً مریض اُٹھ کر بیٹھ جائے ۔ یا اضافی سرہانہ استعمال کرے۔ چھاتی میں درد محسوس ہو۔ کھانسنے سے پیشاب فوارے کی طرح خطا ہو جائے۔گرم کمرے میں داخل ہوتے ہی یا گرم ہوا میں سانس لینے سے کھانسی شروع ہو جائے۔مریضہ ہمدردی چاہے ۔ بچہ رونے والا اور ساتھ چمٹنے والاہوتا ہے۔تازہ ہوا اس کی مدد کرے ۔اور بند کمرے میں تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ ”پلسٹیلا“ کی مریضہ جتنی زیادہ نرم طبیعت ہوتی ہے۔ اس کی میوکس اتنی ہی زیادہ پیلی ہوتی ہے۔نرخرے کے کھچائو میں بہتری کھانے سے آتی ہے۔
    ٭- ”رومیکس کرسپس “میں خشک،شدیدلگاتارکھانسی جو گلے میں سرسراہٹ کی وجہ سے ہو۔کھانسی اس وقت بند ہوتی ہے جب آپ سر کو کمبل میں ڈھانپ لےں ۔لیکن ہوا دوبارہ کھانسی کو بحال کر دیتی ہے ۔
    ٭-”رومیکس کرسپس“میں شدید خشک کھانسی جو کھانس کھانس کر تھکا دے بہترین دوا ہے۔اس کو 30 طاقت میں استعمال کریں۔
    ٭-کھانسی جو شام کو شدت اختیار کرے۔”سینی گا“ 30دوا ہے۔
    ٭-کالی کھانسی جس کا انجام سردی میں پسینہ کے ساتھ تشنج اوراُلٹیوں پر ہو ”سینی گا“ 30دوا ہے۔
    ٭-انفلوئنزا کے بعد اعصابی کمزوری جو فلو کے بعدبھی بہتر نہ ہوں تو اس کی دوا”سکیوٹیلیریا لیٹریفولیا“دوا ہے۔
    ٭-”سپونجیا ٹوسٹا“ میں کھانسی خشک اور سخت ہوتی ہے۔جو خشک اور ٹھنڈے موسم میں شدید ہوتی ہے۔ سانس میں آواز اس طرح آتی ہے جیسے آری سے پائن بورڈ کو کاٹنے سے آتی ہے۔خشک کھانسی جو اونچی آوازمیں پڑھنے سے،گانے سے ،بولنے سے بڑھے۔کھانسی کے ساتھ ناگوار بد بوآئے ۔ آواز کا بیٹھ جانا۔کھانسی خشک،کتا کھانسی،بھاری آواز والی کھانسی۔آدھی رات سے پہلے اور سانس لینے کے دوران کھانسی میں اضافہ ہو۔چھاتی کی گہرائی میں ایک ایسا مقام ہوتاہے جواس نہ رکنے والی کھانسی کا ذمہ دارہوتا ہے۔گلے میں پلگ ہونے کا احساس۔گرم اشیاءکھانے ، پینے سے بہتری آئے۔سر کو نیچے کی طرف کر کے لیٹنے سے اضافہ ہو تا ہے۔
    ٭-”سینگونیریا“خشک اور نمدار کھانسی جس کے نتیجے میں سوزش پائی جائے ایک مفید دوا ہے۔یہ خاص طور ٹی بی ہونے سے قبل والی حالت تپ دق والی سٹیج میں بہت مفید ہے۔اس کا میلان نرخرہ اورچھاتی کے اوپر والے حصے میں ہوتا ہے۔اس کے اخراجات زنگار رنگ کے سانس بدبودار ہوتی ہے۔اس کے اندر ڈھیلی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔لیکن اس کی میوکس مشکل سے نکلے۔یہ علامت ”کالی بائیکرام “میں بھی پائی جاتی ہے۔ایسی کھانسی جس کا تعلق جگر کی تکالیف کے ساتھ ہو،گلے میں خشکی پائی جائے۔سینگو نیریا اس کو نرم بنا دیتی ہے۔”اپی کاک“ کے اندر بھی ڈھیلی خرخراہٹ والی جوہر سانس کے ساتھ کھانسی پیدا ہو۔جس کے ساتھ دمہ،متلی اور اُلٹیاں پائی جاتی ہیں۔”سلیشیا“ میں بھی چھاتی میں خرخراہٹ پائی جاتی ہے۔مریض دیر تک کھانستا ہے اور تھوڑی سی میوکس نکلتی ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے۔
    ٭-ایسی کھانسی جو رات کو نیند سے بیدار کر دے تو” سیپیا “دوا ہے۔
    ٭-”سینگونیریا“میں خشک اور نمدار کھانسی جس کے نتیجے میں سوزش پائی جائے ایک مفید دوا ہے۔یہ خاص طور ٹی بی ہونے سے قبل والی حالت تپ دق والی سٹیج میں بہت مفید ہے۔اس کا میلان نرخرہ اورچھاتی کے اوپر والے حصے پر ہوتا ہے۔اس کے اخراجات زنگار رنگ کے، سانس بدبودار ہوتے ہیں۔اس کے اندر ڈھیلی کھانسی بھی پائی جاتی ہے۔لیکن اس کی میوکس مشکل سے نکلے۔یہ علامت ”کالی بائیکرام “میں بھی پائی جاتی ہے۔ایسی کھانسی جس کا تعلق جگر کی تکالیف کے ساتھ ہو،گلے میں خشکی پائی جائے۔سینگو نیریا اس کو نرم بنا دیتی ہے۔٭-”سینگونیریا“میں دمہ جو لوبان کے دھوئیں میں بڑھے ۔٭- ”سنگونیریا“ میں ایسی تشنجی کھانسی خاص طور پر بچوں کی جو اس وقت شدت اختیار کرے جب وہ نیند کے لئے ٹھنڈے کمرے میں جاکر سوئیں۔
    ٭-قبل از دوپہر ووپنگ(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی)ہوتو سیپیا دوا ہے۔
    ٭-سٹکٹا پلمونیریا“کے اندر مسلسل،کھردری ،بدمزہ ،شدید درد کے ساتھ لا حاصل تشنجی کھانسی پائی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں میں جواعصابی وجع المفاصل کے مریض ہوں اور گاوٹ میں مبتلا ہوں۔یہ قدرے شدید اور مزمن مریضوں میں بہت موئثر دوا ہے۔یہ عمر رسیدہ افراد میں بہت مفیدہے۔یہ اری ٹیشن کی شدت میں کمی کرتی ہے،سوزشی ٹشوز میں تسکین دیتی ہے۔سانس کی میوکس ممبران کی بڑھی ہوئی حساسیت کو کم کرکے بہترین نیند لاتی ہے۔
    ٭-”سلفر “کے مریض کے اندر تازہ ہوا کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔سا تھ دم گھٹنے والی کھانسی جس میں اضافہ رات کوہو ساتھ خون کا دورانیہ سر اور چھاتی کی طرف ہو۔ چہرے اور چھاتی میں جلن کا احساس، ہونٹ اور پپوٹے سرخ۔مریض نہانے کے بعدبرا محسوس کرے ، پاوں میں جلن،جسے آخر کار بستر سے باہر نکالنا پڑے۔ ٭-کھانسی کے نسخوں کے درمیان امیون سسٹم کو تیز کرنے کے لئے کبھی کبھی”سلفر“ کی خوارک دی جائے۔
    ٭-موسم سرما کی ایسی کھانسی جو عرق النساءکی تکالیف کے ساتھ ادل بدل کرآئیں تو ”سٹیفی سگیریا“ دوا ہے۔
    ٭-نرخرے کی نالی میں منہ اور حلقوم سے وہ رگ یا عصب جو دو حصوں میں بانٹتی ہے میں سانس میں رکنے کا احساس پایا جائے تو ”سفلی نم“ دوا ہے۔
    ٭-صبح اٹھنے کے بعد اور شام کو دم گھٹے تو ”سنا “دوا ہے۔
    ٭-پھیپھڑوں میں سانس کھینچنا میں کھانسی ہو ” سنا “دوا ہے۔
    ٭-اخراج بلغم سبز ،نمکین اورزیادہ مقدار میں ہو، شدت صبح کے وقت ہو تو” سٹانم “دوا ہے۔
    ٭-”سٹانم“ میں تنگ کپڑے پہننے سے کھانسی میں اضافہ پایا جاتا ہے۔
    ٭- کسی چیز کی مہک یا بو سے کھانسی بڑھے تو” سلفیورک ایسڈ“ دوا ہے۔
    ٭-رات کی کھانسی،چھاتی میں اجتماع خون اور ناک میں رکاوٹ ہو تو ”سمبوکس“دوا ہے۔
    ٭-سمبوکس نائیگرا“میں کھانسی گہری،خشک ہوتی ہے ۔تشنج کے اچانک حملے کے نتیجے میں آنے والے بخار کے بعد پیدا ہو۔
    ٭-پُردرد گلے میں جس کے ساتھ ہائی وائرل بخار ہو اور متوقع ادویات کام نہ کر رہی ہوں۔اسٹریپٹوکوکوسینم ایک ہزاردوا ہے۔
    ٭-مباشرت کے بعد کھانسی بڑھے تو ”ٹرنٹولاہسپانیہ“ دوا ہے۔
    ٭-” تھوجا “میں کھانسی جو صبح بیدار ہونے کے بعد اور شام کے بعدلیٹ جانے کے بعد ہوتی ہے۔
    ٭- ”وائی اولا اوڈراٹا “میں کھانسی خشک ،جس کے دورہ کا عرصہ لمبااور شدید ہوتا ہے ساتھ شدید سانس کی تنگی پائی جاتی ہے ۔
    ٭-گلے میں سرسراہٹ،جھنجلاہٹ میں ”وتھیا“مدر ٹنکچر“استعمال کریں۔
    ٭-اگر بدلتے موسم کے ساتھ تکلیف ہو تو اس کو” سلفر200اورکلکیریا کارب 200“ میں خالی پیٹ ہفتہ میں ایک بار دیں پھر ”لائیکوپوڈیم“کی ایک خوراک دے کر دوبارہ” سلفر200اورکلکیریا کارب 200“ دیں ۔انشاءاللہ یہ رجحان ختم ہو جائے گا۔ترتیب یہی رکھنی ہے کہ سلفر کے بعد کلکیریا کارب اور لائکوپوڈیم دیں۔
    ٭-دمہ کے شدید حملہ کی صورت میں مریض کا دم گھٹ سکتا ہے ۔مریض کوفوراً عمودی حالت میں بیٹھا دینا چاہیے اور اس کے بازو پھیلا دینے چاہیے جیسے کرسی پر بیٹھے ہونے کی صورت میں اس کے بازووں پر رکھ دینے چاہیے تا کہ چھاتی پر زور نہ پڑے۔مریض کے کمرے کو گرم اور مرطوب رکھنے کے لئے پانی کو ابلنے کے لئے رکھ دیں تا کہ کمرے میں نمی ہو جائے۔اور پھر فوراً ”ایکونائٹ“ 30 اور”اپی کاک“ 200 علیحدہ علیحدہ آدھے کپ پانی میں دس دس گولیاں ڈا ل کر ہر پندرہ منٹ کے وقفہ سے باری باری ایک ایک چمچ پلاتے رہیں بہتری آنے کی صورت میں مریض کو لٹا دیں اور دوا کا وقفہ بڑھا کر دو دو گھنٹے کر دیں۔ آرام نہ آنے صورت میں قریب ترین اسپتال یا نرسنگ سینٹر لے جائیں جہاں آکسیجن کا انتظام ہو۔
    ٭-”سٹانم“ میں دورانِ دن ،بلغم ڈھیلی(نرم) ساتھ بھاری سبز بلغم۔لیکن رات کو خشک ہوتی ہے۔چھاتی میں کمزوری یا چھاتی خالی محسوس ہو۔اس کی تکالیف آواز کو استعمال کرتے وقت ہو ،ہنستے ہوئے یا گاتے ہوئے ہوتا ہے۔گرم مشروبات کے ساتھ تکالیف میں زیادتی ہوتی ہے۔
    ٭-ان تین دواوں کا تگڑم جو دمہ میں بہت قابل بھروسہ ہیں۔(آرسینی کم البم،اپی کاک،نٹرم سلف) ہیں۔
    ٭-ورم حلق والی کھانسی جیسے سانس کی نالی تنگ ہو گئی ہو تو ان تین دواوں سے ایسی کھانسی کا کریکٹر تبدیل ہو جاتاہے۔(ایکونائٹ،سپونجیا،ہیپر سلف )ہیں۔
    ٭-جنرل کھانسی کا فارمولا(ایکونائٹ+آرسینی کم+ بیلاڈونا+مرکس سال+پلسٹیلا )ہے۔
    ٭-خشک کھانسی ہو تو یہ فارمولا بھی بہترین ہے۔ (برائی اونیا+ہیپر سلف+سپونجیا)ہے۔
    ٭-ایسی کھانسی جس میں خرخراہٹ ساتھ ہو لیکن میوکس باہر نہ نکل رہی ہو جس کو(ریٹلنگ کھانسی) کہتے ہیں۔یہ فارمولا(اینٹی مونیم ٹارٹ+آرسینی کم البم+اپی کاک) ملا کربہترین ہےں۔
    ٭-ایسی کھانسی جس میں اخراج نہ ہوتو”رسٹاکس“6 یا”برائی اونیا “ 6بہت مفید ہے۔لیکن ایسی کھانسی جس میں میوکس کا سااخراج ہو تو”جسٹیشیا “30 دوا ہے۔
    ٭-دن کے وقت ووپنگ کف(ہو ہو یا کھو کھو کرنے والی کھانسی)ہو تو برومیٹم،کیوپرم ،یوفریشیا دوائیں ہیں۔
    ٭-صبح کے وقت ووپنگ کف ہو تو اینٹی مونیم کروڈ،کلکیریا،سنا،ویریٹرم البم دوائیں ہیں۔
    ٭- بعد از دوپہر ووپنگ کف ہو تو)لائیکوپوڈیم،میورٹک ایسڈ اور سلفر( دوائیں ہیں۔
    ٭-بوڑھوں کی کھانسی جوموسم سرما میں ہو(امونیم کارب،کریازوٹم) دوا ہے۔
    ٭-جمائی لینا یا آنکھوں سے ایسا احساس کہ نیند آ رہی ہے ۔ ساتھ لگاتار کھانسی آئے تو( اینٹی مونیم ٹارٹ،نٹرم میور) دوائیں ہیں۔
    ٭-آگے جھکنے سے کھانسی بڑھے تو( کاسٹی کم،ڈیجی ٹیلس) دوا ہے۔
    ٭-کسی کی رفاقت یا صحبت(موجودگی) میں کھانسی بڑھے تو( ایمبرا گریسا، بریٹاکارب) دوا ہیں۔
    ٭-ایسی کھانسی جس کے ساتھ بد حواسی پائی جائے( کیڈ ی مم سلف ، سنا ، کیوپرم) دوائیں ہیں۔
    ٭-انفلوئنزا کے بعد آنے والی کمزوری میں )چائنا۔انفلوئنزینم،سکیوٹیلیریا لیٹریفولیا(مفید ہیں اس کے علاوہ ”ابراٹی نم،کالی فاس “بھی فائدہ دیتی ہیں۔
    ٭-دمہ کے حملہ کی صورت میں”گرینڈیلیا مدر ٹنکچر،پوتھاس مدر ٹنکچر،آئیڈوفارم 3Xاپی کاک ون ایکس استعمال کریں۔
    ٭-بلغم کا مشکل سے باہر نکلنا”بالسم پیرومدر ٹنکچر،سینی گا مدر ٹنکچردوا ہیں۔
    ٭-ٹانسلز کی شدید کرانک سوزش میں ”ایلنتھس، بریٹا کارب“ دوا ہیں۔
    ٭-کھانسی میں استعمال ہونے والا ایک مکسچر”ڈروسرا مدر ٹنکچر اور سپونجیا مدر ٹنکچر“ پانچ پانچ قطرے ملا کر دن میں چار بار شدت کی صورت میں زیادہ بار بھی لیا جا سکتا ہے۔
    ٭-کھانسی،بچوں کی کھانسی میں جس سے چھاتی میں خرخراہٹ ،اور اجتماع خون ہو (اینٹی مونیم ٹارٹ اور بیسی لینم) بہترین ہیں۔

  • نمونیا/ذات الجنب, PNEUMONIA

    نمونیا/ذات الجنب, PNEUMONIA

    *نمونیا  ایک موذی مرض۔ دنیا میں بیمار بچوں کو سب سے زیادہ ہلاک کرنے والی ظالم مرض کا نام ہے۔ یہ سب دنیا میں ہی پایا جاتا ہے*،اور دنیا کے صرف پانچ ملکوں میں جن میں دنیا کے چوالیس فیصد بچے رہتے ہیں، اور یہی ملک نمونیا کے زیادہ نشانہ پہ ہیں۔ہندوستان میں تنتالیس ملین، چین اکیس ملین، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور نئجیریا میں چھ چھ ملین۔اور اگر ترقی یافتہ ملکوں سے صرف برطانیہ کو ہی دیکھ لیں تو ہرسال برطانیہ میں 220،000 میں نمونیا کی تشخیص اور علاج ہوتا ہے۔
    *نمونیا ایک ایسا انفیکشن ہے* جو ہوا کے تھیلے/ پھیپھڑوں میں سوجن/ سوزش کرتا ہے۔یہ صرف ایک پھیپھڑے میں بھی ہو سکتا ہے،اس سوزش سے یہ ہوا کے تھیلے / پھیپھڑے،اپنے اندر مائع ، پیپ یا مواد  بھر سکتے ہیں، جس سے بلغم یا پیپ، پخار، سردی ہو سکتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔بیکٹیریا/ جراثیم، وائرس  فنگس/ پھپھوندی سمیت متعدد حیاتیات ، نمونیا کا سبب بن سکتے ہیں۔دنیامیںبچوں کی اموات کی سب سے زیادہ شرح نمونیا کے باعث ہوتی ہے۔ہر پانچ بیمار  بچوں سے ایک نمونیا سے مرجاتاہے۔ٌ
    *نمونیا آنے کے ذرائع ۔* *کمزوری قوت مدافعت کے باعث مرض جلد حملہ کرتی ہے*.
    *آپ کی ناک، سانسوں،میں رہنے والے بیکٹیریا، وائرس،آپ کے پھیپھڑوں میں پھیل سکتے ہیں* ، نمونیہ کی اقسام سے بیکٹیرئیل/جراثیمی نمونیا سب سے زیادہ سنگین ہوتا ہے، ان میں سب سے عام اسٹریپٹوکوکس نمونیہ ہے۔اور سب سے شدید نمونیا وہ ہے جو دونوں پھیپھڑوں میں ہوجاتا ہے اور بیکٹیریا وائرس اور فنگس بھی ملوث ہو چکے ہوں۔ 
    آپ نمونیا کی بیماری کیلئے کچھ جراثیموں کو براہ راست اپنی ناک سے سانس کے ذریعہ لے جاتے ہیں ۔آپ اپنے پھیپھڑوں میں منہ سے کھانا، مائعات، الٹی، یا سیال بھی نہ چاہتے ہوئے لے جاتے ہیں،یہ نمونیا کا مرغوب حملہ یا مرغوب آ بیٹھنے کا طریق  ہے،۔
    *نمونیا کی ابتدائی علامات یا نشانیاں*۔نمونیا کی ابتدائی نشاندہی میں، بخار ہو،  پسینہ آئے، سردی لگے ، سانس میں دشواری کا سامنا ہو ،تیز اور چھوٹے سانس آئیں ،گہری سانس لینے کی کوشش میں چھاتی کے درد سے سینہ  کا درد بڑھے،بھوک کی کمی، تھکاوٹ اور جسم درد ہو، توانائی کم لگے۔
    *بچوں کے لئے نمونیا خطرناک ہے ؟*
    *لفظ نمونیا کا مطلب ہے “پھیپھڑوں کے انفیکشن. “* اگرچہ گزشتہ نسلوں میں اس طرح کے انفیکشن انتہائی خطرناک تھے, آج زیادہ تر بچوں کو ایسی امراض سے آسانی سے   صحت مند کرایا جاسکتا ہے۔ اگر وہ مناسب طبی توجہ حاصل کرلیں (بہتر اور بروقت ٹھیک علاج ہو). نمونیا زیادہ  تر بچوں میں  ایک وائرل انفیکشن،  جراثیمی اثر اوپری سانس کی نالی کے انفیکشن سے پھیپھڑوں میں آتا ہے اور بیماری ترقی کرتی ہے۔

    *نمونیا  میں مبتلا بچے کو کیا کھانا کھلانا ہے* ؟اگر شیرخوار بچوں سے شروع کریں تو ماں کا دودھ پیتے بچے جلدی طاقت پا کر مرض سے نکل سکتے ہیں، اور یقینی بات ہے کہ ماں کا دودھ ہی دیا جائے، ماں کو بہتر خوراک مہیا کرکے۔ آپ کے بچے کی صحت کی دیکھ بھال کے لئے فراہم کیے جانے والے پانی ، سیب کا رس ، جلاٹین /ہڈیوں کی بغیر چکنائی یخنی وغیرہ ، کی  عمومی طور پہ سفارش کی جاتی ہے ۔ اپنے بچے کو کھانے کی وہ اشیاء دیں جو کہ وہ آسانی سے ہضم کرسکتا ہو ۔ جب آپ کا بچہ ایک بار ٹھوس غذائیں کھانا شروع ہو جاتا ہے ، تو اسے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹھیک کھانے کی طرف لا کر اکثر /بار بار کھانا کھلائیں۔

    *نمونیا۔ نمونیا پھیپھڑوں میں ایک انفیکشن ہے*۔ اس سے سانس لینے میں دشواری ، بخار ، کھانسی اور خرخراہٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ نمونیا کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے ، لیکن بچوں اور کم عمر بچوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ان کے مدافعتی نظام ابھی تک پوری طرح سے تیار نہیں ہوئے ہیں۔*کیا بخار کے بغیر بچے کو نمونیا ہوسکتا ہے؟* کچھ بچوں میں ہلکے نمونیا نمونیا چلتے پھرتے نمونیا کی قسم ہونے سے، بچوں گھر میں رہنے (لیٹے رہنے) سے  زیادہ بیمار محسوس نہیں ہوتے ، لیکن ان میں  مندرجہ ذیل بیماریاں / علامات ہو سکتی ہیں،کم درجہ کا بخار ، خشک کھانسی،  سانس میں دقت ہوسکتے ہیں،۔*****دنیا میں بچوں کا سب سے بڑی قاتل بیماری  کیا ہے؟* * *نمونیہ دنیا بھر میں بچوں کی موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔* ہر سال ، اس بیماری سے پانچ سال سے کم عمر کے بچے ایک تخمینے کے مطابق 1.4 ملین بچے ہلاک ہوجاتے ہیں ، جو پوری دنیا میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات کا 18 فیصد ہیں۔۔ایک جائزہ کے مطابق نمونیا نے ہی، کسی دوسرے بیماری سے زیادہ بچوں کو ہلاک کیا* – ایڈز ، ملیریا اور خسرہ  کی مشترکہ اموات سے زیادہ، ہر سال نمونیا سے 2 ملین سے زیادہ بچے فوت ہوجاتے ہیں ، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں 5 سال تک کےبچوں میں سے 5 اموات سے ایک نمونیا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہوتے ۔ پھر بھی ، اس بیماری پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
    *کیا بخار کے بغیر بچے کو نمونیا ہوسکتا ہے؟* کچھ بچوں میں ہلکے نمونیا نمونیا چلتے پھرتے نمونیا کی قسم ہونے سے، بچوں گھر میں رہنے (لیٹے رہنے) سے  زیادہ بیمار محسوس نہیں ہوتے ، لیکن ان میں  مندرجہ ذیل بیماریاں / علامات ہو سکتی ہیںکم درجہ کا بخار ، خشک کھانسی،  سانس میں دقت ہوسکتے ہیں،۔*****
    طاہر ہومیو ہیلتھ گروپسڈاکٹر نصیر احمد طاہر۔ نیوپورٹ،سائوتھ ویلز یوکے+44 7825 302750صرف ٹیکسٹ میسیج کی سہولت ہے ،فون نہیں کریں،شکریہ۔Dr Naseer A Tahir. Newport, South Wales. UK.*****

    *خاموش نمونیا کیا ہے؟*
    *یہ ایک چلتا پھرتا نمونیا ہے*جو ایک طبی اصطلاح تو نہیں مگر اس کے افعال و کردار کی وجہ سے اسے کہا جاتا ہے،یہ ایک بیکٹیریا یا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ، (جیسا کہ بار بار بتایا گیا  ہے)،اکثر ایک عام جراثیم جسے مائکوپلازما نمونیا کہا جاتا ہے، ایسا ہلکا سا نمونیا بھی آپکو کھانسی بخار سردرد، سینہ کی درد، ہلکی ہلکی سردی لگنا وغیرہ بھی آپکو تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے۔
    *کیا نمونیا ایک ماہ بعد واپس ہو سکتا ہے؟*نمونیا سے چونکہ صحت مند ہونے میں ایک  وقت لگ سکتا ہے، کچھ لوگ اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتے ہوئے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور  کچھ لوگوں کو اس مرض کی علامات سے یا کمزوری سے سے نکلنے میں مہینہ بھر بھی لگ جا تا ہے۔(بہتر  علاج ،دیکھ بھال خوراک بھی معنی رکھتی ہیں)۔زیادہ تر لوگ ایک مہینہ بھر اس مرض کی تھکاوٹ مین گھرے رہتے ہیں / متاثر رہتے ہیں۔*****
    *اچھی خوراک**نمونیا میں مبتلا لوگوں کے لئے*پروٹین سے بھرپور غذا مفید ہے، مغزیات/ گری دارمیوے، بیج پھلیاں، ادرک ، لہسن، ہلدی، کالے چنے کا شوربا، پالک کا سوپ،دلیہ جس میں دودھ بہت کم ہو،اور کھجور یا گڑ ملایا  ہو، انجری بھی اچھی ہے، ہلکی کافی، ہلکی چائے، یا سبز چائے، مرغی یا بطخ/ ٹرکی کا بون بروتھ (ہلکی آنچ پہ ہڈیوں اور سبزیوں کے ساتھ آٹھ سے 18 گھنٹے پکی پوئی یخنی ) سفید گوشت  ، ٹھنڈے پانی کی مچھلیاں جیسے  سارڈائنز ,  سامن،  کھانے سے سوزش دور کرنے اور تباہ شدہ خلیات کو مرمت کرنے کیلئے اچھی ہیں،۔ پھلوں میں وٹامن سی والے پھل کھائیں، سنگترہ، کیوی، سٹرابھری، رسبھری، اور پپیتہ جن جن سے آپ کو کھانسی نہ آتی ہو،  
    *ہم ڈاکٹر سے پہلے نمونیا کیلئے کچھ کرسکتے ہیں۔*بخار اتاریں، مگر اس بار برف والے پانی کاتولیہ/ پیڈ ماتھے پہ نہیں رکھیں، بالکل ہلکا گرم پانی کا تولیہ رکھیں، پانی زیادہ پیئیں، ڈاکٹر سے پوچھے بنا نہ اینٹی بائیوٹک دھڑادھڑ لیں  نہ کھانسی کی بازاری دوائیں، کیونکہ کھانسی سے آپکی بلغم نکال کر آپکو فائدہ ہوگا، البتہ ادراک کا پانی پانچ چمچ اور دو چمچ گھر والا کھانے کا تیل،ڈھکنے دے کر ایک ڈیڑھ منٹ تڑک کر دو بڑےچمچ  شہد ملا کر ایک منٹ مزید ہلائیں اور آنچ بند کردیں،یہ چاٹنا مفید ہے اور آدھ چمچ آدھ کپ گرم پانی میں ملا کر پینا فائدہ دے گا، نیم گرم مشروب اور سوپ بہتر ہیں، قوت مدافعت بڑھائیں،  دارچینی، الائچی ادرک، پودینہ، اور ایک لونگ کو تین کپ پانی میں ابال کر اسے تین بار پینا مفید ہے، گھریلو دیسی اشیاء سے لہسوڑی یا املتاس کی چٹنی، بنفشہ، ملٹھی،بھی مفید ہیں بلغم نکانے کیلئے، لہسوڑی کی چٹنی کو لعوق سپستان بھی کہتے ہیں۔گلے کی خراش اور سوجن کیلئے ہلدی ایک کھانے کا چمچ بڑے گلاس پانی میں ابال کر اسے آدھا رہ جانے پہ آگ بند کرکے، اس میں ایک بڑا چمچ شہد اور ایک وٹامن سی ہزار ملی گرام کی گولی ڈال کر کسی بڑے کپ میں انڈیل لیں، ہلدی تو ساری ہی نیچے بیٹھ جائے گی۔ یہ ایک سے  دو چمچ ہر 30 منٹ بعد لے سکتے ( عمر کے لحاظ  سے ) بہت مفید ہے گلے کیلئے۔ اپنے پھیپھڑوں کی ورزش کرائیں ایک ناک کا نتھنا بند کر کے دوسری طرف سے دس گیارہ گہرے سانس لیں، بچوں سمیت سب کا سر اور چھاتی باقی جسم سے اونچا رکھنے  سے آپ بہتر سو سکتے ہیں، اور مرض بگڑنے کا اندیشہ کم ہے،،میتھی دانہ ، یوکلپٹس  اور پودینہ کا قہوہ۔ اور بھی کچھ گرم تاثیر والا جوشاندہ قہوہ  قوت مدافعت بڑھا کر آپکو جلد سکون دلا سکتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لوگ بچوں کے نمونیہ کیلئے، ہینگ تیل میں تڑک کر ،کمر اور چھاتی پہ لگاتے تھے،انڈوں کا تیل لگاتے تھے، گرم مصالحہ کی کچھ چیزوں کو تیل میں جلا کر لگاتے تھے ۔۔
    کچھ احتیاط کی ضرورت ہے:۔
     سیگریٹ نوشی اور دھواں بالکل ہی نہ ہو ، بالکہ ہوا نمی والی بہتر ہے، ناک اور چھاتی کی خشکی کیلئے۔ باتیں کرنا سکول کا کام کرنا نہ چھوڑیں ،( بستر پہ رہ کر ہی )تو کمزوری جلد نہ آئے گی۔*معالجہ بالمثل / ہومیو پیتھک دوائیں بھی عمومی طور پہ لوگ گھروں میں رکھتے ہیں اور جنہوں نے رکھی ہوتی ہیں انکو اپنے مزاج ،کی دوائیوں کا علم ہوتا ہے۔ ایسے میں برائی اونیا ابتدائی طور پہ سب کو یاد ہوتی ہے، میں نے دیکھا ہے فاسفورس،اینٹی مونیم کروڈ، ہیپر سلفر بچوں کو ہلکی پوٹینسی اور دیگر دوائیں، کاسٹیکم، پلساٹیلا، کلکیریا کارب، کالی بائیکروم، بھی عام لوگ گھروں میں رکھتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں، جو نقصان نہیں دیتی ہیں، ڈاکٹر سے پوچھ لینا انتہائی مناسب عمل ہے۔۔۔ مفید ادویات کا کچھ ذکر آخر میں ہے۔  
    *خوراک جو پھیپھڑوں کی بیماری میں اچھی نہیں،۔*
     گوشت کے فروزن پارچے،(*** حرام گوشت) عمررسیدہ جانوروں کے گوشت، ہاٹ ڈاگ، کباب، مصالحے لگا رکھا گوشت،جن میں نائیٹریٹس / کیمیائی مصالحے لگائے ہوتے ہیں ،زیادہ نمک۔ (کچھ پکا ہوا کھایا جاسکتا ہے چھڑک کر کھانا بہتر نہیں)، ایک چٹکی نمک بھی زیادہ ہے، نمک مسائل پیدا کرسکتا ہے،دودھ اور دودھ سے بنی چیزیں بھی اچھی نہیں،پھول جیسی سبزیاں،(گوبھی بندگوبھی بروکلی کیل اور ایسی پھول نما سبزیاں)تلے ہوئے کھانے  ، کاربونیٹڈ مشروبات (سوڈا واٹرز)،کھٹے مشروبات، نقصان دہ ہوسکتے ہیں،
    ہر قسم کی خوراک ،آپکے لئے یا آپکے بچے کیلئے آپ کے ڈاکٹر بہتر بتا سکتے ہیں، اور مدد کرسکتے ہین علاج سمیت، کہ کیسے اس مرض سے اپ یا اپکی فیملی جلد باہر نکل سکتے ہیں، یہ عمومی سچائیاں ہیں جو آپکے لیئے مختلف،بھی ہوسکتی ہیں۔ایسی معلومات اور  یہ مضمون شعور  یا، معلومات افادہ عامہ ،کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے۔ اصل میں آپکا معالج ہی آپکی طبیعت کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ میں آخر میں کچھ مفید ہومیوپیتھک ادویات کا ذکر کرونگا مگر ان سے آپکی کونسی دوا ہے ؟ یہ فیصلہ آپکا  ماہر ہومیو پیتھ ہی کرے گا ۔لیکن مجھے فیڈ بیک کا انتظار تو رہے گا ، لیکن بہتر مشوروں،اور معلومات کی،بھی،پزیرائی کی جائے گی۔ڈاکٹر نصیر احمد طاہر۔ نیوپورٹ سائوتھ ویلز یوکے ۔
    کچھ مفید ہومیوپیتھک ادویات کا ذکر جو نمونیہ میں بہت اچھی مانی جاتی ہیں:۔REMEDY  OPTIONS

     هوالشافي 
    BRYONIA. This remedy is often indicated when a cough is dry and very painful. 
    CAUSTICUM. Bronchitis with a deep, hard, racking cough can indicate a need for this remedy. 
    PULSATILLA. 
    ANTIMONIUM TARTARICUM. …
    CALCAREA CARBONICA. …
    CAMPHOR….
    DULCAMARA. …
    HEPAR SULPHURIS CALCAREUM. …
    KALI BICHROMIUM.
    SILICEA… اور کچھ کھانسی میں مدد گار دوائیں:۔ACONITE NAPELLUS 
    ANTIMONIM TARTICUM
    BRYONIA ALBA 
    BELLADONNA 
    CHAMOMILLA 
    DROSERA 
    FERRUM PHOSPHORICUM 
    HEPAR SULPH CALCAREUM 
    IPECAC 
    KALIUM  SULPH
    NUX VOMICA 
    SPONGIA TOSTA 
    SULPHUR 
    Dr Naseer A Tahir of Newport,  South Wales,   UK.+44 7825 302750 only text tahirhomoeo@hotmail.com

  • دمہ علامات اسباب اورعلاج

    دمہ علامات اسباب اورعلاج

    دمہ کیاہے؟

    ٭ دمہ نظام تنفس میں‌خرابی کی وجہ سے سانس کا تنگی اور مشکل سے آنا دمہ کہلاتاہے. اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہے.اس ۔دمہ پھیپھڑوں میں ہوا کی نالیوں کی سوزش کی بیماری ہےمرض میں پھپھٹروں‌کی ہوا والی باریک نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں

    وجوہات:

    ٭دمہ سانس کی نالی کی پرانی سوزش سے ہوتا ہے جس سے سانس لینے کا عمل دشوار ہوجاتا ہے۔اس مرض کا آغاز عموما نزلہ زکام سے ہوا کرتاہے.

    ٭ گھروں میں بچھائے جانے والے قالین اور ان میں چھپا گرد دمہ کا باعث بنتے ہیں۔دھوئیں اور گرد غبار اگر پھپھڑوں میں‌چلا جائے. یا سردی لگنے سے . اور بسا اوقات دل کی خرابی یا پھیپھڑوں کے بعض امراض سے بھی ہو جاتاہے.

    اسی طرح کئی دوسرے امراض مثلا، ٹانسلز کا بڑھ جانا، رحم اور خصیۃ الرحم ، غم وغصہ بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں.قبض اور بدہضمی کی وجہ سےبھی یہ مرض ہو سکتاہے. موروثی طور پر بھی یہ بیماری منتقل ہوتی ہے.

     

    علامات

    علامات واضح ہیں، لیکن شاید تمام والدین اس کے بارے میں واضح نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اس حصے کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایک کرکے سب سے عام علامات کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جو بچوں یا بچوں میں دمہ کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔

    • سینے میں دباؤ۔
    • گھٹن کا احساس
    • سانس کے مسائل
    • ہوا کے بہت سے جھونکے۔
    • کھانسی، خاص طور پر رات کے وقت اور بیدار ہونے پر۔
    • کم توانائی اور تھکاوٹ کا احساس۔
    • غلط کیا ہے نہ سمجھنے پر چڑچڑا پن۔
    • سانس چھوڑنے پر گھرگھراہٹ۔
    • چوسنے میں دشواری۔
    • کھانے میں دشواری۔
    • آنکھوں کے نیچے سیاہ دھبے۔

    احتیاطی تدابیر:

    ٭عرف عام جن چیزوں کو بادی کہا جاتاہے۔ یہ ساری اشیا ان لوگوں کو جنہیں دمہ ہو کم استعمال کرنی چاہیے۔ جسیے دودھ دہی کا استعمال۔ دیکھا گیا ہے چاول کھانے سے بھی تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔دمہ کی روک تھا م دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ایک علاج اور دوسرے تدبیر۔تدبیر یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراًاسے چھوڑ دیں،بیڑی سگریٹ ،شراب،تمباکو ،نشہ آور ادویات کے استعمال سے پرہیز کریں،دھول مٹی اورہوائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے تحفظی اقدامات اختیار کریں

    پالتو جانوروں کو گھر سے اور سونے والے کمرے سے دور رکھیں۔

    بیڈ روم میں قالین نہ بچھائیں۔

    گھر کی صفائی میں زیادہ کیمیکل یا بلیچ استعمال نہ کریں۔

    جن لوگوں کو دمہ ہو انہیں کچھ عرصہ کےلیے دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں ترک کر دیںَ۔

    دمہ کا علاج

    دمہ کےعلاج رانا ڈاکٹر رانا سعید صاحب کے ساتھ

     

    ٭ تشخیص میں مریض کی بیماری کی کہانی (ہسٹری) بہت اہم ہے‘ خون بلغم کا معائنہ الرجی دیکھنے کیلئے زیادہ شدید درد میں اس کے ایکسرے بھی کیے جاتے ہیں۔

    جب بھی تکلیف زیادہ ہو تو فوری طور تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اصل وجہ ڈھونڈ کر علاج کرناچاہیے۔ دیسی اورہومیوپیتھک طریقہ علاج سے دمہ کو مکمل علاج کیا جاسکتاہے۔

    ادرک اور کالی ہریڑ6,6ماشہ کی تعداد میں معمولی ساکوٹ لیں۔ اس کے بعد انہیں پیالی بھر پانی میں اُبال لیں۔ بعد ازاں پانی میں شہد یا چینی ملا لیں۔ جس کسی کو پرانی کھانسی یا دمہ ہو، وہ یہ پانی پیئے انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔

    ادرک کا رس شہد کے ساتھ چاٹا جائے تو حلق صاف ہو جاتا ہے اورسینے میں جمع بلغم نکل جاتا ہے

     

     

  • کھانسی کالی

    کھانسی کالی

    کالی کھانسی
    Belladonna200+Bryonia200++Bacillinum200
    بیلاڈونا200+ برائی اونیا 200+ بیسی لینیم 200 تینوں‌ملا ہفتہ میں تین بار

    چارگرام عرق گاؤزبان لیں اس میں چینی ملا کر پی لیں۔ پرانی کھانسی کے لیے بہت مفید ہے۔

    منقی اور اس سے دوگنی مقدار میں چینی اور مغز بادام لے کر انہیں باریک پیس لیں۔
    صبح وشام چھ گرام کھا تے رہیں۔ ہر قسم کی کھانسی ختم ہو جائے گی۔

    بیس گرام گندم کو پانی میں جو ش دیں اور اس پانی کو چھان لیں ، اس میں ایک گرام نمک ملالیں۔
    اسے پینے سے کھانسی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

  • پھیپھڑوں میں پانی

    پھیپھڑوں میں پانی

    پھیپھڑوں میں پانی

    ۔برائی اونیا    200  1   BRYONIA
    سلفر  200 SULPHUR
    باری باری لیں۔

    ۔بربرس   کیو 2   BERBERIS       Q
    کارڈوس میری نس    کیو       CARDUS MARINUS   Q
    کریٹے گس   کیو       CRATAGUS       Q
    تیس تیس قطرے پانی میں ملا کر دن میں تین بار

    یا یہ نسخہ

    1.۔کلکیریا فلور   1000   CALCERIA  FLOR
    کونیم    1000    ملا کرCONIUM
    2۔سلفر       200         باری   SULPHUR
    آرسینک     200   باری  ARSENIC
    ہفتہ میں ایک بار

    3.۔فیرم فاس      6ایکس     FERUM PHOS   6X
    کالی فاس      6 ایکس    KALI PHOS     6X
    کلکیریا فاس    6 ایکس   CALC.PHOS     6X

    ملا کر روزانہ دن  مین تین بار

    یا یہ نسخہ

    انتھراسینم   200  INTHRASENUM
    آرنیکا   200  ملا کر   ARNICA
    تھوک کے ساتھ خون

    1.۔بیسی لینم  200  BACILLINUM
    برائی اونیا  200             BRYONIA

    تین دن روزانہ ایک بار                پھر ہفتہ وار

    2.۔سلفر  ۔ 30  SULPHUR
    روزانہ ایک بار

    منہ سے خون
    1.۔فاسفورس   1000    PHOSPHORUS
    ملی فولیم    1000    MILLEFOLIUM
    باری باری پندرہ دن کے وقفہ سے صرف دو خوراک نمبر 1 پہلے اور پھر 15 دن بعد دوسری

    اگر خون بند نہ ہوتو

    فاسفورس      1000   PHOSPHORUS
    دس دن کے وقفہ سے چند خوراکیں

    خون کی نالیوں میں رکاوٹ اور شوگر
    1۔آرنیکا  1000    ARNICA
    ایک خوراک۔چند دن کے بعد نمبر 2
    2.۔سورانیم    1000   PSORANIUM

  • کھانسی علامات ،  ہومیوپیتھک اور گھریلو علاج

    کھانسی علامات ، ہومیوپیتھک اور گھریلو علاج

    کھانسی کیا ہے ؟

    کھانسی(Cough) ایک فِطری عمل ہے جس کے ذریعے سانس کی نالیوں، پھیپھڑوں اور گلے میں جمع ہونے والے مواد کی صفائی ہوتی ہے۔تقریباً ہرچھوٹے،بڑے،مردوعورت کو وقتاً فَوقتاً کھانسی ہوتی رہتی ہے۔

    کھانسی کی مختلف اقسام

    (1)خشک کھانسی یہ بغیر بلغم کی ہوتی ہے، کھانستے وقت دھچکاسالگتاہےجس کی وجہ سےگلےپر زورپڑتاہے۔اس کا علاج اگرنہ ہوتوپھیپھڑوں میں زخم پیدا ہوسکتاہے۔اسے معمولی سمجھ کرچھوڑدینا آگےجاکرنقصان دےسکتا ہے۔ 

    (2)بلغمی کھانسی بلغمی کھانسی کےشکار ہونے والوں میں بڑی تعدادبچّوں اور بزرگوں کی ہوتی ہے۔

     (3)پرانی کھانسی کھانسی اگرسات یا آٹھ ہفتوں تک برقرار رہےتواسے پرانی کھانسی کانام دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک سبب تمباکو نوشی بھی ہے۔ یہ کبھی کبھار مہینوں تک چلی جاتی ہے لہٰذا ایسی صورت میں لازمی علاج کروائیں۔ 

    (4)شدید کھانسی جب مسلسل دو تین منٹ تک کھانسی ہوتی رہےاسے شدید کھانسی کہا جاتاہے۔یہ پھیپھڑوں کی سوزش(سوجن،ورم) وغیرہ کی وجہ سےہوتی ہے۔ 

    (5)کالی کھانسی یہ وہ بلغمی کھانسی ہےجوجراثیم کی وجہ سےہوتی ہے۔عموماً بچّوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سےسانس لینے کے راستےاور پھیپھڑوں میں انفیکشن پیدا ہوتا ہے اورکبھی تو سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ علاج کے بعد بھی ہلکی ہلکی باقی رہتی ہے۔اس کی علامات میں سے لگاتار کھانسی آنا اورچہرے کا رنگ بدل جانا ہے۔

     کھانسی ہونےکےاسباب :

    جن وجوہات کی بنا پر اکثرکھانسی ہوتی ہے، ان میں سے چند یہ ہیں :سردی لگنا، گردو غبار ہونا،نزلہ،زکام اور بخار ہونا، ناک کی ہڈی کابڑھ جانا، T.B ہونا، گلے کا خراب ہونا،سگریٹ پینا، حلق میں سوزش ہونا، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں خرابی پیدا ہونا،تلی ہوئی چیزیں کھانا،ترش یا مرچوں والی چیزیں کھانا،کبھی دل اور معدےکی بیماریوں کی وجہ سے بھی کھانسی ہوتی ہے۔ 

    موسم اور احتیاط 

     جوافراد دائمی کھانسی یا سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں ان کو موسمِ سرما اور بہار میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیو نکہ ان موسموں میں پھیپھڑوں کی نالیوں میں بلغم جمع ہوتاہے جو نزلہ اور زکام کےساتھ ساتھ پھیپھڑوں میں انفیکشن کا بھی سبب بن جاتا ہے۔ بسااوقات شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہر نہیں نکلتا ۔

     غذا و پرہیز

     آلو، چاول، گوبھی، پراٹھا، مونگ پھلی، کولڈ ڈرنک وغیرہ سےبچنےکی کوشش کریں اور ادرک، لہسن، مچھلی، کالے چنے کا شوربہ، گوشت کا شوربہ، کدو وغیرہ زیادہ استعمال کریں۔

    چند مفید ادویات ہومیو پیتھک ادویات کھانسی کےلیے

    خشک کھانسی میں استعمال ہونے والی ادویات میں ایکونائٹ ، بیلاڈونا ، برائی اونیا ، فاسفورس ،کاسٹی کم، سپونجیا وغیرہ وغیرہ ہیں۔

    ٭- بلغمی کھانسی جس کی بلغم سفید اور شفاف ہو، دوائیں آرسینی کم البم ،یا کالی میور ہے۔اگر بلغم پیلی اور سبز ہوتو اس کی دوا ہیپر سلف،کالی بائیکرام ہیں۔

    ٭- ایسی کھانسی جس کا تعلق متلی سے ہو۔”اپی کاک“ 30 دوا ہے۔

    ٭-”ایکونائٹ“ میں لگاتار مختصر،خشک کھانسی ۔ کھردری آواز والی کھانسی ۔چھاتی میں خشکی۔ہرسانس کو اندر کی طرف کھینچتے وقت دم گھٹتا ہوا محسوس ہو۔رات کو انزائٹی ،بے چینی میں اضافہ جوٹھنڈی ہوا میں گھومنے کے بعدہو پائی جاتی ہے۔

    کھانسی اگر اچانک ہو جائے ، منہ اور گلا خشک ہو اور مریض اس اچانک حملہ سے خوفزدہ ہو تو ایکونائٹ 1000+آرسینک+بیلاڈنا 100 آدھا گھنٹہ کے وقفہ سے 2 بار اگر ہر وقت بے چینی لگی رہے تو آرسینک کو آزمانا چاہیے۔ ایسا مریض جو آرسینک کا تقاضا کرے لیکن خشک کھانسی اور چھینکیں گرمی سے بڑھیں تو آرسینک آیوڈائیڈ مفید ہو گی۔ جو کمی خون کے مریض کے لئے بھی بھی مفیدہے۔

    خشک کھانسی کے ساتھ اگر نچلے جبڑے اور گلے کے غدود بڑھے ہوئے ہوں۔ لیٹنے سے چکر آئیں تو برومیم دیں۔

    جب سردیاں گرمیوں میں تبدیل ہو رہی ہو تو اکثر نزلاتی تکلیفوں میں برائیونیا کام آتی ہے جو 200 طاقت میں اچھا کام کرتی ہے۔ اس موسم میں اگر کالی کھانسی یا عام تشنجی کھانسی اور دمہ ہو جائے تو ڈروسرا لازمی دوا ہوگی۔ نمدار موسم بھی ڈروسرا کی تکلیفیں بڑھتی ہے۔

    ٭-”برائی اونیا“کا مریض پیاسا ،چڑچڑا،کھانسی خشک ،چھاتی زخمی محسوس ہو، کھانستے وقت چھاتی کو تھامنا پڑے تا کہ تکلیف نہ ہو۔کھانسی تمام جسم کو ہلا کر رکھ دے ۔بچہ چھلانگ مار کر بستر سے اُٹھ جائے اورگہرا سانس لینے کی تگ ودو کرے۔ اس کا مریض زود حس ہوتا ہے، حرکت سے ،کھانے یا پینے سے،اس کے بعدتکلیف میں اضافہ ہو ۔ پیاسا ہوتا ہے ۔ٹھنڈے پانی کی طلب۔کھوں کھوں کی آواز سے ساتھ خشک کھانسی جو بالآخر الٹی پر ختم ہوپائی جاتی ہے۔

    گرم مزاج مریض کی خشک کھانسی جو بلغمی کھانسی بن جائے اور گلے میں پیپ پڑنے کا رجحان ہو تو کلکریا سلف دوا ہو گی۔

    روٹھنے کی عادی لڑکیوں اور ہسٹیریائی مزاج عورتوں کی کھانسی میں اگنشیا Ignatia بہترین ہے۔

    ریومیکس کی کھانسی ضدی اور خشک ہوتی ہے۔ گلے میں سخت کھجلی ہوتی ہے، کھانسی لیٹنے سے بڑھتی ہے۔ اسے چیلی ڈونیم کے ساتھ ملا کر دینا بہترین نسخہ ہے۔ اگر یہ کام نہ کرے تو سلفر 200 اور رسٹاکس 200 باری باری دیں۔

    سپونجیا کی خشک کھانسی دل کے عارضہ سے تعلق رکھتی ہے۔ چھاتی سے آرا چلنے کی سی آواز آتی ہے۔

    ٭-”بیلاڈونا“ بچوں کی کھانسی میں بچہ کھانسنے سے پہلے چیختا ہے۔کھانسی بہت شدید ہوتی ہے۔بخار کی صورت میں چہرہ سرخ ۔ کھانسی کے ساتھ نرخرہ میں خشکی ۔گلے میں سرخی ساتھ نرخرہ میں چھیلن۔ کھانسی مختصر جس میں بھونکنے والی آواز آئے ،تشنجی ،جلن دار اور سنسناہٹ والی کھانسی ۔شدید کالی کھانسی (کھوں کھوں کرنے والی)نرخرے میں تشنج جس سے کھوں کھوں کرنااور سانس لینا مشکل ہو ۔ چہرہ سرخ،پتلیاں پھیلی ہوئی۔بچہ کھانسے سے پہلے چیخے ۔ کھانسی کا اختتام چھینکوں کے ساتھ ہو تا ہے ۔ خشک،تشنجی،با ربار تنگ کرنے والی کھانسی جیسے گلے میں گرد رکھی ہو ،رات کو شدت ہو کہ مریض بستر پر اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔

    ایسے بچوں کی خشک کھانسی میں ، جن کو پیٹکے کیٹروں کی شکایت اور نک کو انگلی سے کھجلانے کی عادت ہو، سائنا دوا ہو گی۔ اگر اس کےساتھ معدہ تیزابی ہو تو نکس وامیکا کارآمد ہے۔

    خشک کھانسی میں جو حنجرہ پر دباؤ ڈالے اور نیند کےدوران زیادہ ہو جائے ، لیکیسس بہت موثر ہے۔

    خشک کھانسی جو رات کو زیادہ ہو اور بچے سخت غصیلے اور ضدی ہوں ان کے ہر مرض کا علاج کیمومیلا ہے۔

    ٭-”میفائٹس“ایسی کھانسی جوساری رات بڑھے’ ’میفائٹس“ 3X دوا ہے۔ تھکاوٹ جو نڈھال کر دینے والی مشقت سے ہو تو دوا ہے ۔ ڈاکٹر فرینگٹن کے مطابق اگر اس کو چھوٹی طاقت میں دیا جائے تو یہ اعصابی نظام کو تقویت دیتی ہے اور تھکاوٹ کو دور کر دیتی ہے۔

    ٭-کالی کھانسی جس میں سانس میں دقت ہواور بعض اوقات بے ہوشی پر منتج ہو تو ”کیوپرم مٹیلی کم“30 دوا ہے۔

    ٭-”فاسفورس“ کی کھانسی نرخرہ میں اری ٹیشن کی وجہ سے اُٹھتی ہے ۔ فاسفورس کی کھانسی میں اضافہ دورانِ گفتگو یا آواز کے استعمال سے ہوتا ہے۔ اس میں گلا متاثر ہوتا ہے جس سے بولنا مشکل ہو۔یہ شروع میں خشک اوراپنی جگہ مضبوطی سے ٹکی ہوئی ،چھاتی خشک محسوس ہوتی ہے۔پھر پیپ دار،چپکنے والی میوکس خارج ہوتی ہے ۔ ٹھنڈا برف والا پانی پینے کی شدید طلب ۔ ٹھنڈی ہوا کی تبدیلی سے تکلیف میں اضافہ۔

    ”فاسفورس“ میں خشکی کی طرف رغبت والی کھانسی۔تھکاوٹ پیداکرنے والی کھانسی ۔ شدید ہلا دینے والی کھانسی۔کھانستے وقت پیٹ اور چھاتی کو تھامنا پڑے ۔کھانسی سے کانپے۔ہنسنے سے ،بولنے سے، یاکھانے سے کھانسی میں اضافہ۔”فاسفورس “میں کھانسی جو اکثر سر کو ٹھنڈ لگنے سے ہو اور چھاتی پر اثر کر جائے۔گدگدی نرخرہ میں گرم کمرے سے ٹھنڈی ہوا میں جانے سے بڑھے ۔مریض ٹھنڈا ،ساتھ برف والے مشروبات کی پیاس۔ تشویش میں مبتلا ، اعصابیت کا شکار۔بائیں طرف لیٹنے سے کھانسی کا بڑھنا۔چھاتی پر بھاری پن کا احساس پایا جاتا ہے۔

    ٭- ”رومیکس کرسپس “میں خشک،شدیدلگاتارکھانسی جو گلے میں سرسراہٹ کی وجہ سے ہو۔کھانسی اس وقت بند ہوتی ہے جب آپ سر کو کمبل میں ڈھانپ لےں ۔لیکن ہوا دوبارہ کھانسی کو بحال کر دیتی ہے

    ٭-”رومیکس کرسپس“میں شدید خشک کھانسی جو کھانس کھانس کر تھکا دے بہترین دوا ہے۔اس کو 30 طاقت میں استعمال کریں۔

    ٭-”سپونجیا ٹوسٹا“ میں کھانسی خشک اور سخت ہوتی ہے۔جو خشک اور ٹھنڈے موسم میں شدید ہوتی ہے۔ سانس میں آواز اس طرح آتی ہے جیسے آری سے پائن بورڈ کو کاٹنے سے آتی ہے۔خشک کھانسی جو اونچی آوازمیں پڑھنے سے،گانے سے ،بولنے سے بڑھے۔کھانسی کے ساتھ ناگوار بد بوآئے ۔ آواز کا بیٹھ جانا۔کھانسی خشک،کتا کھانسی،بھاری آواز والی کھانسی۔آدھی رات سے پہلے اور سانس لینے کے دوران کھانسی میں اضافہ ہو۔چھاتی کی گہرائی میں ایک ایسا مقام ہوتاہے جواس نہ رکنے والی کھانسی کا ذمہ دارہوتا ہے۔گلے میں پلگ ہونے کا احساس۔گرم اشیاءکھانے ، پینے سے بہتری آئے۔سر کو نیچے کی طرف کر کے لیٹنے سے اضافہ ہو تا ہے۔

    ٭-جنرل کھانسی کا فارمولا(ایکونائٹ+آرسینی کم+ بیلاڈونا+مرکس سال+پلسٹیلا )ہے۔

    ٭-خشک کھانسی ہو تو یہ فارمولا بھی بہترین ہے۔ (برائی اونیا+ہیپر سلف+سپونجیا)ہے۔

    ٭-ایسی کھانسی جس میں خرخراہٹ ساتھ ہو لیکن میوکس باہر نہ نکل رہی ہو جس کو(ریٹلنگ کھانسی) کہتے ہیں۔یہ فارمولا(اینٹی مونیم ٹارٹ+آرسینی کم البم+اپی کاک) ملا کربہترین ہےں۔

    ٭-ایسی کھانسی جس میں اخراج نہ ہوتو” رسٹاکس“6 یا”برائی اونیا “ 6بہت مفید ہے۔لیکن ایسی کھانسی جس میں میوکس کا سااخراج ہو تو”جسٹیشیا “30 دوا ہے۔

    ٭-کھانسی میں استعمال ہونے والا ایک مکسچر”ڈروسرا مدر ٹنکچر اور سپونجیا مدر ٹنکچر“ پانچ پانچ قطرے ملا کر دن میں چار بار شدت کی صورت میں زیادہ بار بھی لیا جا سکتا ہے۔

    ٭-کھانسی،بچوں کی کھانسی میں جس سے چھاتی میں خرخراہٹ ،اور اجتماع خون ہو (اینٹی مونیم ٹارٹ اور بیسی لینم) بہترین ہیں۔

    کھانسی کا گھریلو علاج

    شہد اور لیموں ملا لیں۔ اور تھوڑا تھوڑا سارا دن استعمال کریں۔
    دو چمچ لیموں کے رس لیں اور ایک چمچ اس میں شہد ملا لیں اور اس میں تھوڑی سے سبز مرچ ملا لیں۔ یہ کھانی کے علاوہ سوزش کے لیے بھی فائدہ مندہے۔
    اگر بچوں کو کھانسی ہو تو پیاز چھوٹا چھوٹا کاٹ کر ان کے بیڈ کے پاس رکھ دیں۔ اس سے ان کا گلا خشک نہیں ہو گا اور کھانسی بھی نہیں آئے اور یوں رات کو آرام سے سو سکیں گے۔
    ایک عدد لیموں لے کر درمیان سے کاٹ لیں۔ نمک اور کالی مرچ لگا کر چوسیں اس سے کھانسی کو بہت فائدہ۔
    ملٹھی صدیوں سے کھانسی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ آپ ایک چھوٹی سے شاخ چوسیں۔ یا پھر ملٹھی کا پوڈر کے ساتھ شہد اور لیموں بھی ساتھ ملا لیں۔ اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد استعمال کریں۔
    کھجور اور انجیر چار چار کی تعداد میں لے لیں۔ ایک لیٹر پانی میں ابالیں دن میں دو بار استعمال کریں۔
    مرغی کی یخنی پیار زیادہ تعداد میں ڈال کر بنائیں اور باربار پلائیں۔
    گاجر کا جوس گرم گرم کھانے کے بعد پیئں۔
    ادرک کو باریک باریک کاٹ لیں۔ایک چمچ اور اسی طرح ایک چمچ دارچینی پسی ہوئی ڈال کر ابالیں۔ بعد تھوڑا سا شہد اور لیموں ملا لیں۔ اور تھوڑا تھوڑا استعمال کریں۔
    سیب کا سرکہ اور شہد ہم وزن لے لیں۔ دونوں کو ملا لیں۔ رات کو سونے سے پہلے استعمال کریں۔ خشک کھانسی کے لیے بہت مفیدہے۔
    سبز چائے شہد ملاکر پئیں۔
    سونف کی چائے پئیں خشک کھانسی کے لیے بہت مفیدہے۔
    تھوم یا لہسن باریک کرکے ساتھ شہد بھی ملا لیں۔ ایک چمچ دن میں دو تین بار استعمال کریں۔
    ایک سیب، ایک عدد پیاز، 4 خشک کھجور اور 10 دانے کشمش ملا کر پانی میں ڈال کر ابالیں اور بعد میں مل کو ساری چیزوں کو ملا لیں۔ تین دفعہ ان چیزوں کو استعمال کریں۔

    ٹوٹکے کھانسی کے لیے خشک و عام

    ابلے ہوئے انڈے کی زردی لیں اور اسے شہد میں ملا کر کھائیں اس عمل سے سخت سے سخت کھانسی سے بھی شفاء نصیب ہوتی ہے
    سونے سے پہلے ٹخنوں پر وکس لگا کر سوئیں اس سے کھانسی میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی
    دوپیاز لے کر آگ پر بھون لیں جب اس کا بیرونی چھلکا جل کر کالا ہوجائے تو چھلکا اتار کر اندرونی حصہ رگڑ کر خوب باریک کرلیں اور چھان کر اس کا پانی الگ نکال لیں۔ پھر اس میں ہم وزن شہد ملالیں۔ یہ آمیزہ ایک چمچ صبح شام مریض کو دیں ۔حیرت انگیز طورپر کھانسی میں افاقہ ہوگا۔ –
    منقہ استعمال کروائیں یا کشمش
    ذرا سی ملٹھی کھانے سے کھانسی کافی حدتک کم ہوجاتی ہے –
    تازہ سیپ لے اس کا جوس نکال لیں اور شہد ملا کر پلائیں
    سوپ میں کالی مرچ اور ادرک اور لہسن پیاز، سونف میھتی کے دانے اور تھوڑی سی اجوائن بھی ملا کر پینے سے خشک اور دائمی کھانسی سے نجات حاصل ہوتی ہے

    یہ ایک معلوماتی پوسٹ ہے۔ علاج کی غرض سے اپنےڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ شکریہ