primekunst.com

Category: سبزیاں

سبزیاں اور ان کے فوائد کےبارے میں ، سزیاں صحت کے بہت ضروری ہیں۔

  • قدرتی ڈیٹاکس سمودی | قوت مدافعت بڑھانے، وزن کم کرنے اور جسم صاف کرنے کا طریقہ

    قدرتی ڈیٹاکس سمودی | قوت مدافعت بڑھانے، وزن کم کرنے اور جسم صاف کرنے کا طریقہ

    قدرتی ڈیٹاکس سمودی

    قوت مدافعت بڑھانے، وزن کم کرنے اور جسم کو ڈیٹاکس کرنے کا بہترین طریقہ

    آج کے دور میں بہت سے لوگ مختلف بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ غیر صحت مند خوراک، ذہنی دباؤ، آلودہ ماحول اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہے۔ اس صورتحال میں انسان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خوراک میں ایسی غذائیں شامل کرے جو جسم کو قدرتی طور پر صحت مند بنائیں۔

    قدرتی ڈیٹاکس سمودی ایک ایسا غذائی مشروب ہے جو جسم کو وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے۔ یہ سمودی جسم کو ڈیٹاکس کرنے، قوت مدافعت بڑھانے، ہاضمہ بہتر بنانے اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    اگر اس سمودی کو روزانہ غذا کا حصہ بنا لیا جائے تو یہ نہ صرف جسم کو صحت مند رکھتی ہے بلکہ کرونک بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


    اس مضمون میں آپ کیا سیکھیں گے

    • ڈیٹاکس سمودی کیا ہے
    • جسم کو ڈیٹاکس کرنے کا طریقہ
    • قوت مدافعت بڑھانے والی سمودی
    • وزن کم کرنے والی سمودی
    • سمودی بنانے کا طریقہ
    • انٹرمیٹیٹ فاسٹنگ کا طریقہ
    • صحت مند زندگی کے اصول

    ڈیٹاکس سمودی کیا ہے؟

    ڈیٹاکس سمودی ایک قدرتی غذائی مشروب ہے جو پھلوں، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ جسم کو وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہے اور جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    ڈیٹاکس سمودی کا باقاعدہ استعمال:

    • قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے
    • نظامِ ہاضمہ بہتر کرتا ہے
    • وزن کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے
    • جلد کو صحت مند اور صاف بنانے میں مدد دیتا ہے

    جسم کو ڈیٹاکس کرنے کا طریقہ

    انسانی جسم روزانہ مختلف زہریلے مادوں کا سامنا کرتا ہے جیسے:

    • آلودہ ماحول
    • مصنوعی خوراک
    • کیمیکل والے مشروبات
    • ذہنی دباؤ

    ان عوامل کی وجہ سے جسم میں فاضل مادے جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً جسم کو ڈیٹاکس کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    قدرتی ڈیٹاکس سمودی اس عمل میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس میں شامل سبزیاں اور پھل جسم کو صاف کرنے میں مدد کرتے ہیں۔


    قوت مدافعت بڑھانے والی سمودی

    قوت مدافعت انسانی جسم کا وہ نظام ہے جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر مدافعتی نظام کمزور ہو جائے تو انسان جلدی بیمار ہو جاتا ہے۔

    یہ سمودی درج ذیل اجزاء پر مشتمل ہے:

    • ہلدی
    • ادرک
    • بروکلی
    • پالک
    • مالٹے کا رس

    یہ اجزاء جسم کو اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتے ہیں جو بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔


    وزن کم کرنے والی سمودی

    یہ سمودی وزن کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے کیونکہ:

    • فائبر زیادہ ہوتا ہے
    • کیلوریز کم ہوتی ہیں
    • میٹابولزم بہتر ہوتا ہے

    یہ پیٹ کی چربی کم کرنے کے طریقوں میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔


    ہاضمہ بہتر کرنے کے طریقے

    ہاضمہ درست نہ ہو تو جسم کو مکمل غذائیت حاصل نہیں ہو پاتی۔

    اس سمودی میں شامل اجزاء:

    • ادرک
    • پودینہ
    • اجوائن
    • سیب

    یہ اجزاء گیس اور اپھارہ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔


    جلد کو صاف کرنے کے قدرتی طریقے

    جلد کی خوبصورتی بھی صحت کا اہم حصہ ہے۔

    اس سمودی میں شامل:

    • گاجر
    • پپیتا
    • سیب

    یہ جلد کو غذائیت فراہم کرتے ہیں اور چہرہ چمکدار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔


    قدرتی ڈیٹاکس سمودی کی مکمل ترکیب

    قدرتی ڈیٹاکس سمودی

    اجزاء

    تازہ ہلدی: 5 گرام
    تازہ ادرک: 5 گرام
    کالی مرچ: 1 چٹکی
    بروکلی: 20 گرام
    پالک: 25 گرام
    سلاد کے پتے: 20 گرام
    دھنیا: 5 گرام
    پودینہ: 5 گرام
    کھیرا: ½ عدد
    گاجر: ½ عدد
    سیب: ½ عدد، چھلکے سمیت
    پپیتا: 20 گرام
    میتھی دانہ: ½ چائے کا چمچ، رات کو بھگویا ہوا
    اجوائن: صرف ایک چٹکی
    لیموں کا رس: ½ لیموں
    پانی: 1 گلاس

    اختیاری

    اگر کمزوری ہو تو: ½ کیلا
    اگر شوگر، فیٹی لیور یا وزن زیادہ ہو تو: کیلا نہ ڈالیں
    ناریل پانی: ہفتے میں 2 تا 3 بار، روزانہ نہیں۔


    سمودی بنانے کا طریقہ

    1۔ تمام پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو لیں۔
    2۔ انہیں چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔
    3۔ تمام اجزاء کو بلینڈر میں ڈال دیں۔
    4۔ پانی اور ناریل کا پانی شامل کریں۔
    5۔ اچھی طرح بلینڈ کریں یہاں تک کہ ہموار سمودی تیار ہو جائے۔


    سمودی استعمال کرنے کا طریقہ

    • اس مقدار سے تقریباً 8 گلاس سمودی تیار ہوگی۔
    • صبح نہار منہ پینا شروع کریں۔
    • شام 6 یا 7 بجے تک استعمال کریں۔

    کرونک بیماریوں کے مریضوں کے لیے غذائی ہدایات

    کرونک بیماریوں کے مریضوں کو کچھ عرصہ کے لیے درج ذیل چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے:

    • گوشت
    • مچھلی
    • دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء
    • انڈے

    اپنی غذا میں زیادہ شامل کریں:

    • سبزیاں
    • پھل
    • قدرتی سمودیز

    اسی طرح کچھ عرصہ کے لیے روٹی اور چاول بھی ترک کیے جا سکتے ہیں۔


    ہفتہ وار سمودی ڈیٹاکس طریقہ

    ہفتے میں دو دن (جمعہ اور منگل) کو ڈیٹاکس دن رکھا جا سکتا ہے۔

    ان دنوں میں:

    • زیادہ تر خوراک سمودی پر مشتمل ہو
    • جسم کو ہلکی غذا ملے

    لیکن باقی دنوں میں بھی سمودی کا استعمال جاری رکھا جا سکتا ہے۔


    بیماریوں سے شفا کے لیے انٹرمیٹیٹ فاسٹنگ

    انٹرمیٹیٹ فاسٹنگ صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔

    • رات کا کھانا آٹھ بجے سے پہلے کھائیں
    • اگلے دن تک کھانے سے پرہیز کریں

    اگر ممکن ہو تو:

    • اگلے دن دوپہر 12 بجے تک فاسٹنگ

    اگر یہ ممکن نہ ہو تو:

    • صبح 10 یا کم از کم 8 بجے تک کھانے سے پرہیز کریں

    فاسٹنگ کے دوران:

    • قہوہ
    • نیم گرم پانی
    • لیموں والا پانی

    استعمال کیا جا سکتا ہے۔


    صحت مند زندگی کے بنیادی اصول

    قدرتی غذا

    زیادہ قدرتی غذائیں استعمال کریں۔

    پانی زیادہ پئیں

    پانی جسم کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

    ورزش کریں

    روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی کریں۔

    نیند پوری کریں

    اچھی نیند صحت کے لیے ضروری ہے۔


    اکثر پوچھے جانے والے سوالات

    کیا ڈیٹاکس سمودی روزانہ پی جا سکتی ہے؟

    جی ہاں، قدرتی اجزاء سے تیار سمودی روزانہ پی جا سکتی ہے۔

    ڈیٹاکس سمودی پینے کا بہترین وقت کیا ہے؟

    صبح نہار منہ۔

    کیا یہ وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے؟

    فائبر اور غذائیت کی وجہ سے وزن کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔

    کیا شوگر کے مریض یہ سمودی پی سکتے ہیں؟

    پھلوں کی مقدار کم رکھ کر ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔


    نتیجہ

    ہلدی، ادرک، بروکلی اور دیگر سبزیوں سے تیار قدرتی ڈیٹاکس سمودی جسم کو صاف کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    اگر اسے صحت مند طرز زندگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ قدرتی صحت کے حصول کا بہترین طریقہ بن سکتی ہے۔

  • میتھی دانے کے فائدے

    میتھی دانے کے فائدے

    میتھی قدرت کا بہترین تحفہ

    سارہ اسماعیل

    میتھرے یا میتھی دانے ہمارے کچن میں روزمرہ استعمال ہونے والا قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے جو دوائی کے طور پر ہزاروں سال سے استعمال ہو رہا ہے۔ کئی وٹامنز اور منرلز پر مشتمل اس کم قیمت لیکن بے بہا فوائد رکھنے والی چیز کا اصل وطن افریقہ ہے ، لیکن اب یہ ساری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔ قدیم یونان میں گھوڑے جب بیمار ہوتے اور کسی خوراک کو منہ نہ لگاتے تو یہ اس کے پتے کھانے کے بعد تندرست ہونے لگتے تھے۔ اطباء کہتے ہیں کہ اگر اس کی افادیت کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں میتھی دانہ موجود نہ ہو۔

    نزلہ و زکام کے لیے

    نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال از حد مفید ہے۔ صبح و شام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کر کے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

    بالوں کی خوبصورتی کے لیے

    لمبے ، گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ، اس مقصد کے حصول کے لیے (ایلوویرا) کو درمیان سے اس طرح کاٹیں کہ دونوں سرے جڑے رہیں۔ اس گھیکوار میں میتھرے بھر کر دھاگے سے باندھ کر ہفتہ، دس دن فریج میں رکھ دیں ، اس کے بعد میتھرے گھیکوار سے نکال کر کڑوے تیل میں جلالیں۔ یہ تیل انشاء اللہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ آزمودہ اور آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جو بھی تیل آپ بالوں کے لیے استعمال کرتی ہیں ، اس میں میتھرے ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور پندرہ دن بعد وہ تیل استعمال کرنا شروع کریں ، بالوں کو سیٹ کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے میتھرے کا ابلا ہوا پانی لگا کر رول کرنے سے بالوں میں گھنگھریالا پن آ جاتا ہے اور بال سیاہ چمکدار، گھنے اور لمبے ہو جاتے ہیں۔

    کھانے میں اس کا استعمال

    اس کو اچار میں استعمال کریں یا پیس کر آٹے میں شامل کر کے روٹی بنا لیں یا سبزیوں اور دالوں میں ملائیں۔ غرض ہر ڈش میں اس کی خوشبو بہت اچھی لگتی ہے۔ کڑھائی گوشت یا ٹماٹر گوشت میں میتھرے اور ثابت دھنیا ایک ایک چمچ بھون کر پیس کر ڈالیں (جب کہ ہنڈیا تیار ہو چکی ہو) اور ایک نئے لذیذ ذائقہ کا لطف اٹھائیں۔ مصالحہ والی بریانی میں بھی چند دانے پیس کر ڈال کر دیکھیں اور اچار گوشت تو اس کے بغیر بنتا ہی نہیں۔

    سوجن اور بادی کے لیے

    جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاؤں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے یعنی چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھرے ضرور استعمال کریں۔ عورتوں میں سن یاس کے بعد پائے جانے والا ڈپریشن اور پسینے کی زیادتی کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے لیے یا تو اس کا پانی ابال کر پی لیں یا چاول بناتے وقت اس کی پوٹلی ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیں۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض اگر 25 گرام میتھی دانہ اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیں تو اس سے شوگر لیول اور کولیسٹرول اعتدال پر آ جاتا ہے۔
    ٭٭٭

  • کریلے کی شفا یابی

    کریلے کی شفا یابی

    کریلے کی شفا یابی

    پروفیسر عنایت اللہ
    ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبداللہ شاہ آیا کر تے تھے۔ عمر میں سو سال سے اوپر تھے ، مگر چست اور توانا۔ روزانہ تین چار میل پیدل چلتے۔ ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی، باریک لفظوں والا قرآن پاک پڑھتے ، کمر جھکی نہیں تھی۔ دانت بالکل سلامت تھے ، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جا تی۔ دوپہر کے کھا نے میں شاہ صاحب صرف کر یلے کھا تے۔ طرح طر ح کے پکو ان کریلوں سے بنائے جا تے۔ با زار میں دستیاب نہ ہوتے تو ان کے لیے تلاش کر کے لائے جا تے۔ کچھ معتقد تو ایسے تھے کہ ہر مو سم میں کریلے اگا تے تاکہ شاہ صاحب کو کھانے میں کو ئی شکایت نہ ہو۔ شاہ صاحب کہا کرتے :” صحت کا راز کریلوں میں ہے۔ آج تک میرے بدن پر گرمی کے مو سم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی، خارش نہیں ہوئی۔ میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے۔ میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کر تا صرف دن میں ایک بار کریلے ضرور کھا تا ہوں۔ مجھے شو گر یا گنٹھیا کا عارضہ بھی نہیں ، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چا ر میل تک گرمی میں چل سکتا ہوں۔ ”
    موسم گرما میں کریلے بازار میں آسانی سے مل جاتے ہیں۔ انسانی جسم کے اندر فاسد مادے جمع ہوتے رہتے ہیں جو بعد میں نقصان کے جسم سے خارج کر دیتا ہے اور انتڑیاں صاف کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی خوبی ہے کہ پیٹ میں درد اور مروڑ نہیں ہونے دیتا۔ کریلوں کی کڑواہٹ دور کر نے کے لیے عموماً ان کی چھیل اور نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے۔ بیج پھینک دیے جا تے ہیں۔ بڑی بوڑھیاں آج بھی کر یلوں کو چھری سے کھر چ کر ان کے چھلکوں میں نمک لگا کر دھو لیتی ہیں۔ اور پھر تیل یا گھی میں تل کر چنے کی دال میں ملا دیتی ہیں۔ بھنی ہو ئی چنے کی دال اور کریلے کے چھلکے بڑے مزے کے بنتے ہیں۔ ان میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے مگر وہ جسم انسانی کے لیے بہت مفید ہے۔ اب تو ڈاکٹر بھی کریلے کا پانی تجویز کر نے لگے ہیں۔ پہلے طبیعت ایک یا دو تازہ کر یلے دھو کر آسمان کے نیچے رات بھر کے لیے رکھوا دیتے تھے اور صبح انہیں ثابت کوٹ کر ان کا پانی نہار منہ پلا تے تھے۔ معدہ خراب رہتا ہو، بھو ک کھل کر نہ لگتی ہو، گیس بہت زیادہ ہو، ہر وقت جسم میں ناتوانی کا احساس رہے یا ذرا سا کام کرنے سے تھکن ہو جائے اور ہا تھ پاؤں گرمی سے جلتے رہیں۔ صبح انھیں تو پنڈلیاں پتھر کی طر ح بھا ری اور بوجھل لگیں ، شوگر کی ابتدا ہو تو کریلے کا پانی پینے سے شفا مل جا تی ہے۔ جن کا مزاج بلغمی ہو، ان کے لیے کریلے بہت مفید ہیں۔ یرقان کے مریضوں کو بھی کھلائے جا تے ہیں۔ پتھری کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔ پیٹ میں کیڑے ہوں تو کریلے کھانے سے دور ہو جا تے ہیں۔ گنٹھیا کا مریض بھی انہیں کھا کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دمے کے عارضے والے بھی اس انتہائی عمدہ سبزی کے استعمال سے صحت یاب ہو جا تے ہیں۔ کریلا بلغم خارج کر کے مریض کو سکون دیتا اور اعصابی کمزوری دور کر تا ہے۔ لقوہ اور فالج کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں۔
    آج کل گرمیوں ، خصوصاً بر سات کے مو سم میں جلد پر دانے اور پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مختلف قسم کے پر کلی ہیٹ پاؤڈر وقتی طور پر سکون دیتے ہیں۔ اسی طر ح لوشن لگانے سے ٹھنڈک تو پڑ جا تی ہے مگر آرام نہیں آتا۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار کریلے پکا کر اس کا علاج گھریلو طور پر کر سکتی ہیں۔ ان کے استعمال سے چہرے کی جلد بھی صاف ہو جاتی ہے۔ کریلے کھا نے سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔ پیٹ میں پانی بھر جائے ، جگر بڑھ جائے تو دوا کے ساتھ ساتھ کریلے کھانے اور ان کا پانی اور کلو کا پانی پینے سے جلد ی فرق پڑتا ہے۔ جن لو گوں کا مزاج بہت گرم ہو ان کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ وہ کریلوں میں دہی ڈال کر اور ہرا دھنیا ملا کر پکائیں۔ کریلے میں وٹامن بی اور سی کے علاوہ فو لاد کیلشیم، فاسفورس اور پروٹین پائے جا تے ہیں۔ یہ ساری چیزیں انسانی صحت اور زندگی کے لیے بڑی اہم ہیں۔ خواتین یہ بات پڑھ کر بہت حیران ہوں گی کہ کریلا موٹاپے کو دور کرتا ہے۔ آپ اس کی سبزی بنا کر ہفتے میں تین بار کھائیں۔ بھا رت کے کچھ علاقوں میں کریلے سکھا کر ان کا سفوف طبیب کی ہدایت کے مطابق روزانہ کھلا یا جا تا ہے۔ اس کے استعمال سے وزن کم ہو تا ہے اور جلد چمکدار اور شفاف ہونے لگتی ہے۔ مختلف قسم کے جلد ی امراض خود بخود دور ہو جا تے ہیں۔ جن لو گوں کو ذیابیطس ہو، ان کے لیے کریلا موسمی اعتبار سے بہترین غذا ہے۔ اس میں انسولین قدرتی طور پر مو جود ہو تی ہے۔ کریلے کھانے سے خون میں شکر کی بڑھتی ہو ئی سطح نا رمل ہو جا تی ہے۔ اس کے رس میں تھوڑا سا شہد ملا کر پینے سے جگر کے امراض میں فائدہ ہو تا ہے۔ کریلے کا رس زیادہ کڑوا لگے تو تھوڑے بھنے ہوئے چنے کھانے سے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جا تا ہے۔ شوگر کے مریض بکرے کا قیمہ بھون کر علیٰحدہ رکھیں اور دو کریلے لے کر ان کا ہلکا سا کھرچ اور دھو کر توے پر برگر کی طر ح ہلکی آنچ پر سینک لیں۔ دونوں طرف سے سینک کر قیمے کے ساتھ کھائیں۔ اس سے فائدہ ہو گا۔ بعض جگہ خالص کریلے پکا نے کا رواج بھی ہے۔ کڑوے بہت ہو تے ہیں مگر صحت کے لیے نہایت مفید خیال کیے جا تے ہیں۔ کریلے پکا نے میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ گھی میں تلنے کے بعد اس میں پانی نہ ڈالیں۔ ذراسا پانی پڑ گیا تو ساری ہنڈیا کڑوی ہو جائے گی۔ سوکھے کریلے کا سفوف دو گرام سے زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔ ویسے بھی اپنے ڈاکٹر یا طبیب سے مشورہ کر نے کے بعد کھائیے۔
    ٭٭٭

  • میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی بطور غذا و علاج

    میتھی کے بے شمار فوائد

    میتھی دنیاپھر میں استعمال ہونے والی ایک بوٹی ہے۔ جسے عام طور  پر لوگ خوشبو کے لے استعمال کرتے ہیں۔ میتھی خوشبو کےساتھ ساتھ صحت کے لے بے شمار فوائد لیے ہوئے ہے۔
    میتھی کاشت کی جاتی ہے۔ میتھی جب تازہ ہو تو زیادہ خوشبو نہہں ہوتی۔ لیکن جب خشک ہو جاتی ہےتو اس کی خوشبو بہت بڑھ جاتی ہے۔احادیث میں بھی میتھی کا ذکر ملتاہے.
    میتھی کا استعمال صرف خوشبو اور ذائقہ کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ بے پناہ طبی فوائد بھی رکھتی ہے۔ میتھی پتوں کی صورت میں ہو یا بیج کی، یہ اپنے اندر متعدد مفید نیوٹرنٹس رکھتی ہے
    حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا. ’’میتھی سے شفا حاصل کرو ‘‘ایک اور حدیث میں حضرت محمد ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
    ’’میری امت اگر میتھی کے فوائد سمجھ لے تو وہ اسے سونے کے ہم پلہ خریدنے سے بھی گریز نہیں کرے گی‘‘۔

    ہندی ‘ اُردو ‘بنگالی ‘گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ، فارسی میں شملیت، پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے۔
    لا طینی زبان میں اس کا نام Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اچار کے مسالے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ یونانی اور آیورویدک دوائوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سالن پیشاب آور ہے۔ میتھی موسم سرما کے امراض ‘ کمر درد ‘تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔
    میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں۔ چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کے لیے اکثر اُبٹنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔
    × میتھی شوگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے. اس مقصد کے لیے آدھا چمچ روزانہ صبح شام استعمال کرین.
    ×میتھی پشاب آور ہے.
    × اگر گلہ درد کررہا ہو اور سوجن بھی ہو تو میتھی کا جوشاندہ پینے سے ٹھیک ہو جاتاہے.
    ×سانس کی تنگی کو ٹھیک کرتی ہے. اور کھانسی کی شدت کو بھی کم کرتی ہے.
    × پیٹ سے ہوا خارج کرتی ہے اور بواسیر کو کم کرتی ہے.
    × میتھی کے پتوں‌کو پستان پر لیپ کرنے سے دودھ بالکل منقطع ہو جاتاہے.
    ×میتھی کھانے سےحیض اور پیشاب کھل کر آتاہے اور مثانہ کو طاقت دیتی ہے.
    ×مثانہ کی سردی میں میتھی سب سے کامیاب دوا اور غذاہے.
    ×جوڑوں کا درد،ذیابطیس کا مرض دور کرتی ہے.
    ×اسے لگاتار کھانے سے سردی سے بخار اور اعصابی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے
    ×اس کے بیجوں کا سفوف ہاضمہ کے تمام امراض کو ختم کر دیتا ہے.
    ×درد کمر اور جگر کے درد کو ختم کرتی ہے اور شفاحاصل ہوتی ہے.
    ×اعصاب کو طاقت دیتی ہے اور جسم سے رعشہ ختم کر دیتی ہے.
    ×میتھی مسلسل کھانے سے سر درد ہو سکتی ہے.
    × میتھی گرم مزاج والوں کے لیے نقصاں دہ ہے. مگر اسے پالک ملا کر پکائے جائے تواس کی اصلاح ہو جاتی ہے.
    ×میتھی کے بیج کے سفوف کی پٹیاں باندھنے سے رسولی پھٹ جاتی ہے اور جذب ہوجاتی ہے.
    ×روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ 329 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ بھوک کو کم کرتا ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ابھی آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔
    ×میتھی کو شہد کے ساتھ ملاکر استعمال کرنے سے اسہال شروع ہوجاتے ہیں۔
    ×میتھی کے طبی خواص میں سب سے بڑا فائدہ ذیابیطس کے علاج میں مضمر ہے۔ اگر میتھی کے بیجوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح کے وقت اس کا عرق استعمال کیا جائے تو ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کا تناسب کم ہوجاتا ہے۔ –