primekunst.com

Category: جڑی بوٹیاں

جڑی، بوٹیاں، سبزیاں پھل وغیرہ کے متعلق معلومات۔

  • پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    پودینہ قدرت کا انمول تحفہ

    راحت نسیم سوہدروی

    کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پودینہ کی چائے ، دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے ، دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے ، بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔
    پودینہ جسے ہمارے ہاں عام طور پر کھانوں کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پودینہ کی چٹنی کو بطور ہاضم و لذت موسم گرما میں متوسط و غریب گھرانوں میں بطور سالن استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پودینہ قدرت کی عطا کردہ بہت سی خصوصیات سے مالا مال ہے۔

    افعال و خواص

    اطباء نے پودینہ پر بہت تحقیقات کی ہیں اور اس کے درج ذیل غذائی و دوائی فوائد کی نشاندہی کی ہے۔ پودینہ نظام ہضم سے متعلقہ امراض میں مفید ہے۔ غذا کو ہضم کرتا ہے اور ریاح کو خارج کرتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے۔ پیٹ پھولنا، درد ہونا، کھٹی ڈکاریں آنا، جی متلانا اور قے ہونا میں فائدہ مند ہے۔ پودینہ الرجی( زود حساسیت) میں بہت موثر تدبیر ہے ، پتی اچھلنا(چھپاکی) الرجی کی ایک قسم ہے جس میں جسم میں کسی جگہ یا کئی جگہ خارش ہوتی ہے پھر سرخ دھبے ( دھپڑ) بن جاتے ہیں جو تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس تکلیف میں پودینہ سبز دس پتے ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر روزانہ رات سونے سے قبل، بیس یوم تک استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پودینہ خون سے فاسد مواد کو خارج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یرقان میں بھی استعمال کرایا جاتا ہے۔ جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت و جگر کا فعل سست ہو اور اس سبب بھوک اچھی طرح نہ لگتی ہو ، رنگت زرد رہتی ہو یا ان عوامل کے سبب خون کا دباؤ( بلند فشار خون) بڑھ جاتا ہو۔ ان کے لئے یہ جوشاندہ بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ یہ نسخہ محترم شہید پاکستان حکیم محمد سعید کا معمول مطب بھی تھا۔
    ہوالشافی: ریان (سونف) چھ گرام، پودینہ خشک چھ گرام، مویز منقی نو گرام، آلو بخارا خشک پانچ دانہ، آدھے گلاس پانی میں ڈال کر جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے۔ اگر موسم گرما ہو تو یہ نسخہ رات کو پانی میں بھگو دیں صبح مل چھان کر نوش جاں کریں۔ یہ عمل بیس یوم تک کافی رہے گا۔
    اسہال (دست آنا) اور ہیضہ میں پودینہ کے پتوں کو نمک لگا کر کھانا یا اس کی چٹنی کا استعمال مفید ہے اور اس کا جوشاندہ بھی اچھی تدبیر ثابت ہوا ہے۔ پودینہ سبز 60 گرام یا پودینہ خشک 10 گرام، دارچینی 3 گرام ، الائچی کلاں 3 گرام ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیا جائے۔
    پودینہ میں تریاقی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ خصوصاً بچھو، بھڑ، چوہے وغیرہ کے کاٹنے پر پودینہ پیس کر لیپ کیا جا سکتا ہے۔ جو خواتین ماہانہ ایام کی کمی کے عارضہ میں مبتلا ہوں وہ پودینہ کی چائے استعمال کریں۔ پودینہ بلغم کو پتلا کرتا ہے اور مسکن ہے۔ پودینہ سے طب کے کئی مرکبات تیار کئے جاتے ہیں جن میں جوارش پودینہ، قرص پودینہ، جوارش انارین اور عرق پودینہ شامل ہیں۔ یہ مرکبات اور ادویہ معدہ کی خرابی کے امراض میں بہت موثر ہیں۔

    پودینہ کی چائے

    پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، کھانسی، زکام میں کیا جاتا ہے۔ دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے۔ گیس کی شکایت ختم اور آنتوں کو صاف کرتی ہے۔ بہت لذیذ اور خوشبو دار ہوتی ہے۔ نظام ہضم کی اصلاح کرتی ہے۔ متلی کی صورت میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیں۔ پودینہ کی چائے سانس کی نالی کی سوجن، برونکائٹس ، درد سر اور کھانسی زکام میں مفید ہے۔ ایک کپ چائے دن بھر کی تھکن ختم کر دیتی ہے ، آنتوں کو صاف کرتی ہے جس سے سانس میں ناگوار بو کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔

    جی متلانا یا قے آنا

    جن لوگوں کو جی متلانے یا قے آنے کی شکایت ہو جائے وہ پودینہ دس پتے اور چھوٹی الائچی دو عدد کے ساتھ پانی میں جوش دے کر چھان کر پی لیں ، شکایت جاتی رہے گی(انشاء اللہ)روغنی اور دیر ہضم ثقیل اشیاء کے استعمال کے بعد ٹھنڈی بوتلوں کی جگہ پودینہ اور لیموں کی چائے مفید ہے۔

    بد ہضمی

    بد ہضمی، اپھارہ، ریاحوں کی صورت میں پودینہ کا رس پانی میں ملا کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔

    پتھری گردہ و مثانہ

    بتھوے کی سبزی میں پودینہ ڈال کر کھانے سے پتھری کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا ایک ماہ تک کریں یا فائدہ ہونے تک۔

    پودینہ کا شربت

    پودینہ کی بڑی گڈی دھو لیں۔ اس کے بعد ایک کپ شکر اور پانچ عدد لیموں کا رس نچوڑ لیں اور اس آمیزے کو دو گھنٹہ تک اسی طرح رکھا رہنے دیں پھر جگ میں بھر لیں اور برف ڈال کر اس میں ادرک کا سرکہ20گرام اور پودینہ کی چند پتیاں ڈال کر پیس لیں یہ نہایت خوش ذائقہ شربت ہو گا جو دل و دماغ کے لئے مفید ہے۔

    گیس ریاح

    بو علی سینا نے پودینہ کا کھانا اور چبانا ریاح و گیس کے لئے مفید قرار دیا ہے۔

    ایک حکایت

    پودینہ کے متعلق درج ذیل حکایت سے اس کی تاریخی حیثیت واضح ہوتی ہے نیز یہ کہ قدیم حکماء بھی اس سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ قدیم یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ نتھا ایک یونانی دوشیزہ کا نام تھا جس کا حسن و جمال قابل رشک تھا وہ یونانی دولت کے دیوتا (پلوٹو) کی محبوبہ تھی اور اسے پلوٹو کی اہلیہ پروسہ پائن ( ہندو عقائد کے مطابق دولت کی دیوی) نے حسد اور رشک کی بناء پر ایک نبات میں بدل دیا تھا اور اسی نبات کو لاطینی میں نتھا جبکہ اردو میں پودینہ کہتے ہیں۔ یونانی اطباء میں سے حکیم ساؤ فرطس نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اہل چین و جاپان بھی دو ہزار سال سے پودینہ کے خواص سے واقف ہیں۔ ماہرین طب نے جو تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق یہ ایک اہم نبات ہے جو دوائی کے اعتبار سے استعمال ہوتی ہے اور بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں کثیر مقدار میں غذائی استعمال ہے اور اس کا سالن و سلاد خوشبو دار اور ہاضم چٹنی کے طور پر موسم گرما کی دوپہروں میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔

    محافظ حسن

    پودینہ حسن کا محافظ بھی ہے۔ چہرے کے داغ دھبے ، کیل مہاسوں سے نجات کے لئے تازہ پودینہ خالص سلاد کے ساتھ پیس کر متاثرہ مقامات پر لیپ کیا جاتا ہے۔ چند دنوں میں داغ دھبے ، کیل مہاسے صاف ہو کر جلد کا رنگ نکھار دیتے ہیں۔ اتنی خصوصیات کا حامل عطیہ خداوندی پودینہ دعوت دیتا ہے کہ اس کے غذائی اور دوائی فوائد حاصل کریں۔
    ٭٭٭

  • 1لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    1لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    لیموں سے پچاس بیماریوں کا آزمودہ علاج

    علی، لاہور
    عربی لیبک /لیبو
    فارسی لیبک /لیبو
    سندھی لیمو
    انگریزی Lemon

    اس کا رنگ زرد اور کچے لیموں کا رنگ سبز ہو تا ہے۔ اس کا ذائقہ تر ش ہو تا ہے۔ اس میں سٹرک ایسڈ پا یا جا تا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے اعلیٰ قسم کاغذی لیموں کی ہے جس کا چھلکا کاغذ کی طر ح پتلا ہو تا ہے۔ اس کا مزاج سرد دوسرے درجے اور تر پہلے درجے ہو تا ہے۔ اس کی مقدار خوراک چھ ما شہ لیموں کا رس ہے جبکہ روغن لیموں کی مقدار ایک سے تین قطرے تک ہے۔ لیموں کے بے شمار فوائد ہیں

    لیموں کے فوائد

    (1) وٹامن بی اور سی اور نمکیات کی بہترین ما خذ ہے اس میں وٹامن اے معمولی مقدار میں پا یا جاتا ہے –
    (2 ) اس کا گودا اور رس دونوں مفید ہو تے ہیں –
    (3) یہ مفر ح اور سردی پہنچا تا ہے –
    (4 )دافع صفرا ہوتا ہے –
    (5 ) بھوک لگا تا ہے اور پیاس کو تسکین دیتا ہے –
    (6 ) متلی اور صفرا وی قے کو بے حد مفید ہے –
    (7) تا زہ لیموں کی سکنجبین بنا کر بخار میں پلا نے سے افاقہ ہوتا ہے –
    (8) ملیریا بخار کی صورت لیموں کو نمک اور مر چ سیاہ لگا کر چو سنا بخار کی شدت کو کم کر تا ہے –
    (9 )ہیضہ میں لیموں کا رس ایک تولہ، کا فو ر ایک رتی، پیا ز کار س ایک تولہ ملا کر دن میں تین یا چار دفعہ استعمال کرنے سے صحت ہو تی ہے (یہ ایک خوراک ہے )
    (10) خون کے جو ش کو ٹھیک کر تا ہے۔
    (11) معدہ اور جگر کو قوت دیتا ہے اور خاص طور پر جگر کے گرم مواد کا جاذب ہے –
    (12) لیموں کو کاٹ کر اگر چہرے پر ملا جائے تو چھائیاں اور کیل مہا سے ٹھیک ہو جا تے ہیں –
    (13)یر قان میں لیموں کے رس کا استعمال بے حد مفید ہے سکنجبین بنا کر دن میں تین بار استعمال کریں –
    (14)لیموں کے بیج اگر بریاں کر کے کھائے جائیں تو قے اوردستوں کو فور ی بند کرتے ہیں۔ لیکن بیجوں کو ہمیشہ چھیل کر استعمال کرنا چاہیے۔ بچوں کی قے اور دستوں میں بھی بے حد مفید ہے۔ اس کی خورا ک دو سے تین دانوں کا سفوف ہے –
    (15 ) کیڑے مکوڑوں کے زہر کے اثر کو لیموں کا رس پلا نے اور کا ٹی گئی جگہ پر لگا نا بے حد مفید ہوتا ہے اس سے زہر کا اثر دور ہو جا تا ہے –
    (16 ) لیموں کا سونگھنا نزلہ کو بند کر تا ہے –
    (17 ) اگر لیموں کے رس کو چاکسومیں حل کر کے جست کے بر تن میں رگڑ کر آنکھوں میں لگا یا جائے تو آشوب چشم کے لیے بے حد مفید ہے۔
    (18 )بینائی کی کمزوری، آنکھوں کی سرخی اور دھند وغیرہ کو دور کرنے کے لیے آب لیموں آدھ پا ؤ کانسی کے بر تن میں بانس کی لکڑی سے روزانہ چار گھنٹے تک رگڑتے رہیں۔ آٹھویں دن سرمہ کی مانند خشک ہو جائے گا۔ اگر تھوڑی بہت نمی رہ جائے گی تو پھر کم دھو پ میں خشک کر کے بطور سرمہ استعمال کر یں۔ بہت مفید ہے۔
    (19 ) تا زہ لیموں کے چھلکوں سے روغن لیموں تیار کیا جا تا ہے۔ جو کہ پیٹ کی گیس میں بے حد مفید ہے –
    (20 ) بیرونی ممالک میں لیموں کے چھلکوں سے مربہ بنا تے ہیں۔ جس کو ماملیڈ کہتے ہیں۔ جو بچوں کی پسندیدہ چیز ہے۔
    (21 ) لیموں کا اچار بڑھی ہوئی تلی کے لیے مفید ہوتا ہے –
    (22 ) چا و لوں کو ابا لتے وقت اگر ایک چمچہ لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیا جائے توچا ول خوش رنگ اور خوشبو دار بنتے ہیں –
    (23) روسٹ اشیا ء پر اگر لیموں نچوڑ کر کھا یا جائے تو کھا نے کا ذائقہ اچھا ہو جا تا ہے اور کھانا بھی جلدی ہضم ہو جاتا ہے –
    (24) مچھلی کی بو دور کرنے کے لیے اس پر لیموں مل کر رکھنا چاہیے اس سے مچھلی خوش ذائقہ بھی پکتی ہے –
    (25 ) لیموں کے چھلکوں سے دانت صاف کرنے سے کبھی دانت درد کی شکا یت نہیں ہو تی-
    (26 ) اگر نکسیر کثرت سے ہو تی ہو تو جس وقت نکسیر ہو رہی تو فوراً لیموں کے چند قطرے دونوں نتھنوں میں لٹا کر ڈالنے سے فوراً بند ہو جا تی ہے اور پھر دو با رہ کبھی نکسیر نہیں ہو تی-
    (27 ) وزن کم کرنے کے لیے لیموں کا رس دو چمچے ، شہد دو چمچے ایک گلا س پانی میں ملا کر صبح نہار منہ پینا بہت مفید ہے۔ دو ہفتے کے مسلسل استعمال سے وزن میں خاصی تبدیلی آ جا تی ہے۔ اگر سر دی کا موسم ہو تو نیم گرم پانی میں شہد اور لیموں حل کر کے پئیں –
    (28 ) سر دھو نے کے بعد اگر لیموں کا رس ملا کر پانی دوبارہ با لوں میں لگا یا جائے اور تولیے سے خشک کر لیا جائے تو بالوں میں چمک آ جا تی ہے –
    (29 ) سلاد والی سبزیاں مثلاً پو دینہ وغیرہ اگر مرجھا جائیں تو لیموں کا رس ملا پانی ان پر چھڑکنے سے دوبارہ تا زہ ہو جاتی ہے –
    (30 )لیموں مصفی خون ہے –
    (31 ) سو ز ش اور پیشاب کی تکلیف کو فائدہ دیتا ہے –
    (32 ) داد کی جلدی بیماری پر اگر لیموں کا رس دس گرام، تلسی کے پتوں کار س دس گرام ملا کر لگانے سے ایک ہفتہ کے اندر درد جڑ سے غائب ہو جا تی ہے –
    (33 ) اگر کان بہتے ہوں تو ایک چٹکی سہا گہ کا سفوف کان میں ڈال کر پھر دو قطرے لیموں کے رس کے ڈالے جائیں تو کان بہنا بند ہو جائیں گے –
    (34 ) لیموں کا رس ایک چھٹانک معہ ہم وزن پانی ملا کر دن میں تین دفعہ غرارے کرنے سے منہ کی بد بو فوری طور پر ختم ہو جا تی ہے اگر کسی وجہ سے منہ کی بد بو دور نہ ہو تو پھر فوری طور پر دانتوں کے ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے اور دانتوں کی مکمل صفائی کروانی چاہیے –
    (35 ) خارش خشک و تر کی صورت میں لیموں کا رس پانچ گرام، عرق گلاب دس گرام اور چنبیلی کا تیل پندرہ گرام، تینوں ملا کر خارش والی جگہ پر لگانے سے چند روز میں افاقہ ہو جائے گا-
    (36 )درد گردہ میں لیموں کا رس دس گرام، سہا گہ ایک گرام، شورہ قلمی ایک گرام اور نو شا در ایک گرام، تینوں کو لیموں کے رس میں حل کر کے درد کے وقت استعمال کرنے سے فائدہ ہو تا ہے –
    (37 ) آگر آنکھ کا درد ہو تو نصف لیموں پر سندھور چھڑ ک کر اس طرف کے پیر کے انگوٹھے پر باندھنا ایک روز میں درد کو ختم کر دیتا ہے –
    (38 ) لیموں جراثیم کا خاتمہ کر تا ہے اگر بواسیری مسوں پر لگایا جائے تو وہ جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور پھوڑے پھنسیوں پر لگانے سے زخم جلدی مندمل ہو جاتے ہیں –
    (39 ) لیموں کا رس بیسن میں ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ، دھبے دور ہو جا تے ہیں –
    (40 ) لیموں کا رس بیرونی طور پر جلد کو نرم اور حسین بنا تا ہے –
    (41 ) بعض دفعہ لیموں کے رس کو شہد میں ملا کر چٹانے سے کھانسی ٹھیک ہو جا تی ہے –
    (42 )لیموں کا تا زہ رس سر سے لے کر پا ؤں تک پو ری جسمانی مشینری کو اوور ہال کر تا ہے اور اس کا اعتدال کے ساتھ استعمال صحت و مسرت کا ضامن ہے –
    (43 ) اگر دانتوں سے خون آتا ہو تو ایک عدد لیموں کا رس، ایک گلا س نیم گرم پانی اور شہد دو بڑے چمچے ملا کر روزانہ غرارے کرنے سے یہ بیماری دور ہو جاتی ہے اس کو پائیوریا کی بیماری بھی کہتے ہیں۔
    (44 )گرد ے اور مثانے کی چھوٹی مو ٹی پتھری کو لیموں کی سکنجبین نکال دیتی ہے –
    (45 )پیٹ ہلکا اور نرم کر تا ہے اور قبض کشا بھی ہو تا ہے –
    (46 )بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لیموں تیزابیت پیدا کر تا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ تیزابی ما دوں کو خارج کر تا ہے ، البتہ بہت زیادہ استعمال مناسب نہیں –
    (47 )سکروی کی مر ض ( یہ مر ض خون کی خرابی سے پیدا ہو تا ہے ) اس مر ض میں مسوڑھے سو ج جاتے ہیں ، جسم پر سیاہ داغ پڑ جا تے ہیں اور جسم میں مسلسل درد رہتا ہے ، لیموں کے مسلسل استعمال سے شفا ہو تی ہے –
    (48 ) لیموں میں فا سفور س، فولاد، پو ٹاشیم اور کیلشیم کی وافر مقدار ہو تی ہے جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہے۔

    نوٹ : لیکن ان تمام تر خوبیوں کے با وجود زیادہ مقدار میں لیموں کا استعمال نقصان دہ ہے ، لیموں کا تیز محلول دانتوں کے لیے مضر ہے اور لیموں کی زیادہ تر شی پٹھوں میں درد کا باعث ہو سکتی ہے ، لہذا اس کا مناسب حد تک یعنی اس کو مقررہ مقدار تک کھا نا ہی مفید ہے۔
    ٭٭٭

  • سرسوں دوا بھی شفا بھی

    سرسوں دوا بھی شفا بھی

    سرسوں دوا بھی شفا بھی

    (شکیل احمد، مانسہرہ)
    عربی : حرف الابیض
    فارسی: شف
    انگریزی: Mustard
    سرسوں کے بیج چھوٹے چھوٹے اور گول تلخ دانے ہوتے ہیں۔ جن کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں مثلاً سرخ، سیاہ، زرد اور سفید۔ اس کا مزاج گرم خشک درجہ سوم ہے۔ ان دانوں کا تیل نکالا جاتا ہے جسے سرسوں کا تیل کہتے ہیں۔ سرسوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
    -1سرسوں ثقیل اور ریاح پیدا کرتی ہے۔ -2پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔ -3سرسوں کے بیج پیشاب آور اور محرک باہ ہیں۔ -4کھجلی اور جسمانی خارش میں سرسوں کے پتے پکا کر کھانا اور سرسوں کا تیل لگانا مفید ہوتا ہے۔ -5اس کا ساگ پکا کر کھاتے ہیں۔ جو پیٹ کے کیڑے نکالتا ہے اور بلغم کو اور ریح کو دور کرتا ہے (جبکہ صرف سرسوں کے بیج ریح پید ا کرتے ہے۔ ) ساگ قبض کشا ہے اور مصفی خون بھی ہے۔ -6سرسوں کو تنہا یا ابٹن میں شامل کر کے جسم پر ملنے سے جلد صاف ہو جاتی ہے۔ -7یہ ورموں کو تحلیل کرتا ہے۔ وزن اور قد جلد بڑھاتا ہے۔ -8سرسوں کے بیج باہ کو طاقت دیتے ہیں۔ ان کو اگر آدھے ابلے ہوئے انڈے کے ساتھ کھایا جائے تو حد درجہ کے مقوی باہ ہیں۔

    سرسوں کے تیل کے فوائد:۔

    ٭ سرسوں کا تیل گھی کی بجائے کھانا پکانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ٭ مختلف مراہم تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ ٭ بال گرنے کی صورت میں نہانے سے پہلے سرسوں کے تیل سے سر کی مالش کرنی چاہئے اور پھر ایک گھنٹہ بعد غسل کرنا چاہئے۔ بعد میں بالوں کو ہاتھوں سے رگڑنا چاہئے۔ بال چند دنوں میں گرنا بند ہو جائیں گے۔ ٭ تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ سرسوں کا تیل جراثیم کش ہے۔ ٭ اس کو بدن پر مل لینے سے پسو کبھی نزدیک نہیں آتے۔ ٭ جہاں پرسرسوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے وہاں پر طاعون کا حملہ نہیں ہوتا۔ ٭ سرسوں کے تیل کی دو بوندیں اگر بطور نسوار ناک میں ڈال دی جائیں تو زکام اور نزلہ کی شکایت دور ہو جائے گی۔ ٭ اگر اس کی چند سلائیاں آنکھوں میں ڈال لی جائیں تو آنکھوں کے امراض کے لئے بے حد مفید ہے۔ ٭ جسم پر سرسوں کا تیل لگا لینے سے مچھروں کا ڈنک جسم پر اثر نہیں کرتا، بلکہ مچھر اور پسو قریب نہیں آتے۔
    ٭٭٭

  • ٹماٹر کے فوائد

    ٹماٹر کے فوائد

    لائکوپین زیادہ تر معاملات میں محفوظ ہے۔ لیکن لائکوپین سپلیمنٹس حمل کے دوران محفوظ نہیں ہو سکتے۔ لائکوپین پروسٹیٹ کینسر کی علامات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔لائکوپین کو ان مریضوں کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے جن کے پیٹ کے السر اور معدے کے دیگر مسائل ہوں۔ یہ مرکب کم بلڈ پریشر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات لینے والے افراد کو لائکوپین سے دور رہنا چاہیے۔ لائکوپین خون بہنے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے اور خون بہنے کی خرابی میں مبتلا لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

    ٹماٹر کے حسب ذیل فوائد ہیں:


    ٭ یہ بھوک لگتا ہے اور کھانے کو ہضم کرتا ہے۔
    ٭ قبض کشا ہے۔
    ٭ اگر بچوں کے ہاتھ پائوں ٹیڑھے ہوجائیں تو ٹماٹر کا رس متواتر پلاتے رہنے سے جلد آرام آجاتا ہے۔
    ٭ خون کی کمی‘ یرقان‘ ورم گردہ‘ ذیابیطس اور موٹاپے میں صبح نہار منہ ایک بڑا سرخ ٹماٹر استعمال کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ یعنی ٹماٹر پھل کی شکل میں استعمال کیا جائے۔
    ٭ ٹماٹر خون کو صاف کرتا ہے۔ جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے۔
    ٭ وہم اور وحشت کو ختم کرتا ہے۔
    ٭ قوت باہ کو بڑھاتا ہے۔
    ٭ طبیعت کو فرحت دیتا ہے۔
    ٭ گرمیوں میں اس کا استعمال گرمی اور حرارت کو ختم کردیتا ہے اس لیے اس کا گرمیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
    ٭ گرم سبزیوں کی تاثیر بدلنے کیلئے اس میں ٹماٹر کا اضافہ کیا جاتا ہے جس سے ان کی گرمی زائل ہوجاتی ہے۔
    ٭ مریض اور کمزور افراد کوٹماٹر کا استعمال بے حد مفید ہے۔
    ٭ دانتوں کو مضبوط بنانے اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ٹماٹر کا استعمال بہت ضروری ہے۔
    ٭ ٹماٹر کے جوس میں وہ تمام اجزاءپائے جاتے ہیں جو بچوں کی پرورش کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو روزانہ صبح ایک ٹماٹر دھو کر کھلانا بہت مفید ہوتا ہے۔
    ٹماٹر کا رس بچوں کی پرورش اور دانتوں کی حفاظت کرتا ہے۔
    ان مائوں کیلئے ٹماٹر کھانا بے حد نفع بخش ہوتا ہے جن کے بچے شیرخوار ہوتے ہیں۔ اس سے ماں کا خون صاف ہوجاتا ہے اور نتیجتاً اس کا اچھا اثر بچے کی صحت پر پڑتا ہے۔
    لہٰذا انہیں ہر صبح ٹماٹر ضرور کھانا چاہیے۔
    ٭ حاملہ خواتین کیلئے صبح صبح ایک ٹماٹر کا جوس بہت مفید ہے۔ اس سے ان کا معدہ درست کام کرتا رہتا ہے اور قے اور متلی وغیرہ کی شکایت بھی دور ہوجاتی ہے۔
    ٭ ہمیشہ صحت مند رہنے کیلئے ضروری ہے کہ دوپہر کے کھانے کے ساتھ مولی‘ چقندر‘ سلاد اور ٹماٹر کا استعمال ضرور کیا جائے۔
    ٭ کچا ٹماٹر کھانے کی صورت میں کچھ دیر پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے تاکہ ٹماٹر میں موجود تیزابی مادے معدے میں بغیر پانی پیئے اپنا کام بخوبی سرانجام دے سکیں۔
    مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ ٹماٹر کے چند نقصانات بھی ہیں۔
    ٭ ٹماٹر بادی اور بلغم پیدا کرتا ہے۔
    ٭ تپ دق کے مریضوں کیلئے ٹماٹر مفید نہیں ہے۔
    ٭ سینے اور گلے کے امراض والے مریض کیلئے ٹماٹر فائدہ مند نہیں۔
    ٭ گردہ کی پتھری والے مریض بھی ٹماٹر استعمال نہ کریں۔
    ٹماٹر زکام پیدا کرتا ہے۔
    ٭ پیٹ میں ٹماٹر سے نفخ پیدا ہوتی ہے۔

  • سبز چائے کے بے شمار فوائد

    سبز چائے کے بے شمار فوائد

    آج کل سبز چائے کا استعمال نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں لیکن اس کا زیادہ استعمال نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے- سبز چائے میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہمارے لئے فائدہ مند ہیں اس کے علاوہ اس میں ایسی غذائی اجزاء ہیں جو ہر عمر کے افراد کے لئے فائدہ مند ہیں-
    سبز چائے کا استعمال کرنے والے افراد کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں سبز چائے کا زیادہ استعمال نہ کریں دن میں ایک سے دو کپ چائے پئیں اس سے زیادہ استعمال صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے- سونے سے پہلے کم از کم تین گھنٹے پہلے چائے پی لیں سبز چائے ہمیشہ کسی اچھے برانڈ کی ہی استعمال کریں اب ہم پہلے سبز چائے کے طبعی فوائد کو جاننے کی کوشش کریں گے اور اس کے بعد میں آپ کو اس کے کچھ نقصانات سے بھی آگاہ کروں گا ۔

    سبز چائے کے فوائد

    کینسر کے خلاف لڑتی ہے۔
    کولیسٹرول کو کم کرتی ہے۔
    دل کی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہے۔
    کھوڑ کو لگنے سے روکتی ہے۔
    ذیابیطس کو روکتی ہے۔
    وائرس کے خلاف لڑتی ہے۔
    ایک صحت مند خون کے سسٹم کو برقرار رکھتی ہے۔
    جسمانی کمیکل تبدیلیوں کو صحیح رکھتی ہے۔
    دانتوں کے خول کو مضبوط کرتی ہے۔
    الزائمر کی روک تھام کرتی ہے۔
    منہ کا میل اور بیکٹیریا کم کرتی ہے۔
    جلد صحت مند رکھتی ہے۔
    بدبودار سانس کو روکتی ہے۔
    جسم میں زہر پیدا کرنے والے جراثیم کو ختم کرتی ہے۔
    معدہ تیزابیت وجوہات اور علاج

    سبز چائے کے نقصانات:
    ٭اگر سبز چائے کو خالی پیٹ پیا جائے تو اس سے معدے کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ سینے کی جلن اور تیزابیت بھی ہو جاتی ہے سبز چائے کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بیس منٹ بعد ہی پیا کریں
    ٭سبز چائے کا استعمال حاملہ خواتین ہر گز نہ کریں
    ٭سبز چائے کے زیادہ استعمال سے جسم میں آئرن کی کمی ہو جاتی ہے کیونکہ یہ آئرن کو جسم میں جذب ہونے سے روکے رکھتی ہے
    ٭سبز چائے کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں کیفین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو نیند کے لئے نقصان دہ ہے ٭سبز چائے کا زیادہ استعمال سردرد کا سبب بھی بن سکتا ہے۔